اداریہ

اداریہ

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله سہ ماہی تحقیقات شر عیہ ندوۃ العلماء لکھنو کا پانچواں شمارہ پیش خدمت ہے ، جو اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۵ و کا شمارہ ہے ، اس طرح اس علمی اور تحقیقی رسالے کی عمر ایک سال ہو گئی، اللہ کا شکر ہے کہ ملک اور بیرون ملک کے اصحاب علم و تحقیق نےتحقیقات شرعیہ کے مضامین کو پسند کیا ۔ تحقیق و تصنیف سے دلچسپی رکھنے والوں نے اس رسالہ کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ اور ہمت افزا نۂ تأثرات اور تبصروں سے نوازا، اللہ تعالی تحقیقات شرعیہ کے وقار و اعتبار میں اضافہ فرمائے ، اور ہمیں بہتر سے بہتر علمی اور تحقیقی مضامین سے مجلہ کو آراستہ کرنے کی توفیق دے، اس کے لئے ہمیں علوم شرعیہ خصوصا فقہ اسلامی کے موضوعات پر لکھنے والے اصحاب تحقیق علماء و معتبر اہل قلم کی نگارشات کا برابر انتظار ہے، ان کے قلمی تعاون ہی سے یہ سہ ماہی مجلہ بحث و تحقیق کا سفر جاری رکھ سکتا ہے۔

اس شمارہ میں وقف کے موضوع پر ایک مقالہ اس فقیر کے قلم سے ہے، جس میں وقف کی شرعی حیثیت ،بنیادی احکام، تاریخی اور قانونی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہ موضوع خصوصی اہمیت کاحامل ہے۔ دراصل یہ ایک مقالہ ہے جو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے قسم الاختصاص کے طلبہ کے سامنے مورخہ ۲۳اکتوبر۲۰۲۵؁کوتوسیعی خطبہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا ، جس میں اختصاص کے تمام شعبوں ( تفسیر، حدیث ، فقہ ، دعوہ، ادب عربی) کے طلبہ نے شرکت کی اور طلبہ کے سوالات کا بھی حسب موقعہ جواب دیا گیا ۔ امید ہے یہ مقالہ پسند کیا جائے گا اور اس وقت ہندوستان میں وقف کے موضوع پر جو معرکہ برپا ہے اس کو سر کرنے اور مسئلہ وقف کی اہمیت اور نزاکت سمجھنے میں مدد ملے گی ۔

دوسرا مضمون المعہد العالی حیدرآباد کے استاد مولانا اشرف علی قاسمی زید مجدہم کا’’ گم شدہ چیز: احکام و مسائل‘‘ کے عنوان سے ہے ، یہ مضمون گم شدہ چیزوں سے متعلق شرعی احکام ومسائل کا بڑی حد تک احاطہ کرتا ہے ، مستند حوالوں کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ امید ہے کہ اہل علم کو پسند آئے گا ۔

تیسرا مضمون مولانا ڈاکٹر فہیم اختر ندوی زید مجدہم کے قلم سے ہے، جس کا عنوان ہے:’’تکثیری معاشرہ اور اسلامی شریعت ‘‘،جن ممالک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ آباد ہوتے ہیں جیسا کہ ہمارا ملک ہندوستان ہے ان میں خاص طور سے مسلمانوں کی کیا ذمہ داریاں ہیں وہ اپنے عقیدہ ،دین و شریعت پر کار بند رہتے ہوئے دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ کیا برتاؤ کریں اور اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں کسی طرح حصہ لیں ، ان کی دینی اور ملکی ذمہ داریاں کیا ہیں ۔ اس موضوع پر یہ مقالہ کتاب و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں بھر پور روشنی ڈالتا ہے ۔ ان شاء اللہ اسے پسند کیا جائے گا اور ہندوستان کے موجودہ حالات میں اس سے مسلمانوں کو راہ عمل ملے گی ۔

چو تھا مضمون مولانا محمد رضی الرحمن قاسمی(استاذجامعہ اسلامیہ ،کیرالا) کے قلم سے ہے جس کا موضوع ہے فکری انحراف : تعارف مسائل اور حل‘‘ ،یہ موضوع بھی اپنی جگہ بہت اہم ہے ، دور حاضر میں فکری انحراف کی مختلف شکلیں پائی جاتی ہیں ۔ ان سے واقف ہونا اور ان کے ازالہ کی تدبیریں کرنا دینی فریضہ ہے ، فاضل مقالہ نگار نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی ہے مرض اور علاج دونوں کی نشاندہی فرمائی ہے۔ امید ہے کہ یہ مضمون اپنے موضوع پر فکر انگیز اور مفید ثابت ہو گا۔ اور فکری انحرافات کے ازالہ میں معاون ہوگا۔

پانچواں مقالہ تحقیقات شرعیہ کے نائب مدیر مولانا منور سلطان ندوی کے قلم سے ہے جس میں مجلس احیاء المعارف النعمانیہ حیدر آباد کا بھر پور تعا رف کرایا گیا ہے ۔ اس مجلس کے بانی حضرت مولانا ابو الوفا افغانی رحمۃ اللہ علیہ تھے، جنہوں نے فقہ حنفی کی قدیم اہم کتابوں کی اشاعت کے لیے یہ ادارہ قائم فرمایا تھا، مولانا منور سلطان ندوی نے مجلس کے تاریخی پس منظر، اس کی سرگرمیوں اور علمی خدمات کا اس مقالہ میں بھر پور تعارف کرایا ہے ، امید ہے کہ یہ مقالہ قارئین کی معلومات میں خاصا اضافہ کرے گا اور اس کے ذریعہ فقہ حنفی کی بہت سی اہم کتابوں سے روشناس ہونے کا موقعہ ملے گا ۔

آخری مقالہ مولاناڈاکٹر صفدر زبیر ندوی ( اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا) کے قلم سے ’’علامہ عبد اللطیف رحمانی کی تصنیف تاریخ القرآن : ایک مطالعہ‘‘ کے عنوان سے ہے ،جو ایک ایسی کتاب کا تعارف کراتا ہے، جس سے عام طور سے اہل علم بھی واقف نہیں ہے۔ مولانا عبد اللطیف رحمانی اپنے دور کے ممتاز عالم اور محقق تھے۔ بڑی جامع شخصیت کے مالک تھے، تمام علوم اسلامیہ میں درک رکھتے تھے ان کی کتاب ’تاریخ القرآن‘ علوم القرآن کے موضوع پر ایک اہم کتاب ہے جو مدت سے فراموش کر دی گئی ہے۔ ان شاء اللہ اس مضمون کے ذریعہ اس کتاب کی افادیت اور اہمیت اہل علم کے سامنے آئے گی ۔ اور لوگ اس کتاب سے استفادہ کریں گے ۔

سب سے اخیر میں مجلس تحقیقات شرعیہ کے باحث عزیزم مولوی محمد عامرندوی کے قلم سے مجلس تحقیقات شرعیہ کے بعض سرگرمیوں کا تذکرہ ہے، اسے بھی شامل کر دیا گیا ہے ، تاکہ تحقیقات شرمیہ کے قارئین کے سامنے مجلس تحقیقات شرعیہ کی سرگرمیاں آتی رہیں، اور ندوۃ العلماء کےعلمی اور تحقیقی ادارہ کی سرگرمیوں سے اہل علم واقف ہوں ، اپنے قلمی تعاون اور مفید آراء سے نوازتے رہیں ۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ تحقیقات شرعیہ کا یہ شمارہ عند اللہ مقبول ہو،اور سابقہ شماروں کی طرح اس شمارہ کو بھی علمی حلقوں میں مقبولیت حاصل ہو، اور مجلس کے خدام آپ حضرات کی دعائیں حاصل کر سکیں ۔

Tags

Share this post: