تکثیری معاشرہ اور اسلامی شریعت
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی
پروفیسر اسلامک اسٹڈیز، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد
’تکثیریت‘ (Pluralism) گو کہ دور جدید میں استعمال ہونے والی اصطلاح ہے، لیکن یہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے قدیم تصور ہے، اور اسلامی نصوص اور تاریخ اس سے خوب خوب آشنا ہیں۔ تکثیریت کے بالمقابل اصطلاح ’شناخت‘ (Identity) ہو سکتی ہے۔ یہ لفظ بھی اپنے استعمال کے لحاظ سے قدرے جدید، لیکن مفہوم کے اعتبار سے قدیم تصور ہے۔
تکثیریت کئی پہلوؤں سے ہوتی ہے۔ یہ لسانی بھی ہے، علاقائی بھی اور تہذیبی بھی۔ لیکن اس کا غالب مفہوم مذہبی تکثیریت ہے۔ اسے کثیر مذہبی، بین قومی اور مذہبی آزادی کی قدرے متفاوت اصطلاحات سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ شناخت اور تشخص کی اصطلاح نے بھی معاصر دور میں اہمیت اختیار کر لی ہے، اور تکثیریت کی گفتگو میں وہ پہلو بہ پہلو موجود رہتی ہے۔
اگر تکثیری معاشرت روادارانہ موقف اور لچیلے رویے کا متقاضی ہوتی ہے، تو شناخت اپنے موقف سے وابستگی اور اپنے رویے پر پختگی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اسلام ان دونوں کے تئیں واضح موقف رکھتا ہے۔ لیکن ان دونوں کے درمیان باریک لکیر ہی وہ سرحد ہے جہاں ایک کے ڈانڈے دوسرے سے ملنے لگتے ہیں، اور پھر وہ ابہامات، اشکالات اور اعتراضات کی بنیاد بننے لگ جاتے ہیں۔
تکثیریت پر اسلام کا موقف
اسلام تکثیری سماج کو فراخدلی کے ساتھ تسلیم کرتا ہے۔ چنانچہ ثقافتی اور لسانی تنوع کو قرآن کریم نے اللہ کی نعمت اور اس کی نشانی قرار دیا ہے:
’’ومن آیاتہ خلق السماوات والأرض و اختلاف ألسنتکم والوانکم ان فی ذالک لآیات للعالمین‘‘ (۱)
قرآن نے قوموں اور قبیلوں کے فرق کو رب العالمین کا منصوبہ بتا کر اسے باہمی تعارف کا ذریعہ بنایا ہے :
’’یا ایھا الناس انا خلقناکم من ذکر وانثی وجعلناکم شعوباً وقبائل لتعارفوا‘‘ (۲)
جہاں تک مذہبی فرق کا معاملہ ہے تو اسلام نے دین کی دعوت پوری ہمدردی اور حکمت وموعظت کے ساتھ دی ہے:
’’ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ‘‘ (۳)۔
(اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت اور خوش اسلوبی سے نصیحت کرکے دعوت دو)
لیکن اس میں کسی لالچ اور جبر کی گنجائش نہیں رکھی ہے:
’’لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی لا انفصام لھا، واللہ سمیع علیم‘‘ (۴)۔
(دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے ، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہوکر واضح ہوچکا ہے ، اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آئے گا ، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے)
دین ومذہب کا قبول کرنا انسان کے اپنے فیصلے اور دل کے اطمینان کے ساتھ جڑا ہے۔ اسلام کا موقف اس معاملہ میں اتنا واضح ہے کہ وہ دل کے اطمینان کے ساتھ زبان کے اقرار کو ہی مذہب کی قبولیت مانتا ہے، اگر دل کا اطمینان وانشراح نہ ہو تو محض زبانی اقرار واظہار اس کے نزدیک منافقت ہے۔ قرآن یہ بھی بیان کرتا ہے کہ دنیا میں سارے انسان ایک مذہب کے پیرو نہیں رہیں گے، یہی اللہ کی مشیت ہے، راہ حق وہی پا سکیں گے جن پر اللہ کی رحمت سایہ فگن ہو جائے:
’’ولو شاء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ ولا یزالون مختلفین، الا من رحم ربک ولذلک خلقھم‘‘ (۵)
(اگرتمہارا پرور دگار چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی طریقے کا پیرو بنادیتا، اور اب وہ ہمیشہ مختلف راستوں پر ہی رہیں گے ، البتہ جن پر تمہارا پروردگار رحم فرمائے گاان کی بات اور ہے ، اور اسی امتحان کے لئے اس نے ان کو پیدا کیا ہے )
مذہب کی قبولیت کے سلسلہ میں قرآن کریم کا یہ واضح موقف ہے۔ اس کے ساتھ قرآن کریم نے تمام بنی نوع انسان کو اللہ کی محترم مخلوق اور عزت وشرف کا مستحق قرار دیا: ’’ولقد کرمنا بنی آدم‘‘ (اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ہے) (۶)
قرآن کا عطا کردہ تکریم انسانیت جب تمام اولاد آدم کے لئے ہے، اور وہ مشیت الٰہی کے مطابق مختلف مذاہب سے وابستہ ہیں، تو قرآنی تکریم ان تمام اہل مذاہب کے لئے ثابت ہو جاتی ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے ہر جان کو یکساں محفوظ قرار دیا اور کسی بھی ایک انسان کے ناحق قتل کو تمام انسانیت کے قتل کے برابرقرار دیا:
’’من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعاً ومن احیاھا فکانما احیا الناس جمیعاً‘‘ (۷)۔
(جو کوئی کسی کو قتل کرے ، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لئے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو ، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوںکو قتل کردیا، اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی)
اس سے واضح ہوا کہ’ مذہبی تکثیریت‘ اسلام کے نزدیک تسلیم شدہ ہے، اور دعوت دین کے پہلو بہ پہلو مذہبی تکثیریت اور مذہبی رواداری جاری رہے گی۔
تکثیری معاشرت کی تفہیم
تکثیری معاشرت کو خوشگوار اور پر امن بنائے رکھنے کے لئے کچھ اصول اور ضوابط کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات ان اصول وضوابط کو شامل ہیں۔ یہ اصول وضوابط کچھ یوں ہو سکتے ہیں:
1۔ انسانی جان ومال کا تحفظ
2۔ باہمی تعاون وخیر خواہی
3۔ اختلاف فکر ونظر کاا حترام
4۔ مذہبی وثقافتی فرق کی آزادی
یہ چار بنیادی اصول تکثیری سماج میں خوشگواری اور امان کی فضاء قائم رکھ سکتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں یہ چاروں اصول بہت وضاحت اور تاکید کے ساتھ موجود ملتے ہیں۔
1۔ انسانی جان کے تحفظ اور احترام کی بابت قرآنی آیت ابھی اوپر مذکور ہوئی۔ انسانی مال بھی ناحق طریقہ پر کسی کے لئے حلال نہیں ہے، قرآن نے صاف کہا ہے: ’’ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل‘‘ (اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ) (۸)
نبی کریم ا نے فرمایا:
’’الا من ظلم معاہداً، او انتقصہ، او کلفہ فوق طاقتہ، او اخذ منہ شیئاً بغیر طیب نفس، فانا حجیجہ یوم القیامۃ‘‘ (۹)
(سن لو، جس نے کسی معاہدہ والے شخص پر ظلم کیا ، یا اس کا حق مارا، یا اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا، یا اس کی خوش دلی کے بغیر اس کا کوئی سامان لے لیا ، تو قیامت کے دن میں اس کی جانب سے فریق بنوں گا)
2۔ باہمی تعاون اور خیر خواہی کے بارے میں قرآن نے عام اصول دیا ہے: ’’وتعاونوا علی البر والتقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان‘‘ (۱۰)۔(اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر و، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کردو)
اور تمام اہل مذاہب کے ساتھ حسن سلوک ورواداری کے بارے میں قرآن نے حکم دیا:
’’لا ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین‘‘ (۱۱)
(اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ، اور تہمیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ کرو ، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)
3۔ اختلاف فکر ونظر کے احترام کی بابت قرآن کی یہ ہدایت موجود ہے:
’’ولو شاء ربک لآمن من فی الارض کلھم جمیعاً افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مؤمنین‘‘ (۱۲)۔
(اور اگر اللہ چاہتا تو روئے زمین پر بسنے والے سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کروگے تاکہ یہ سب مومن بن جائیں؟)
اور یہ بھی قرآن نے سکھایا :
’’ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علم‘‘ (۱۳)
(جن کو یہ لوگ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں تم ان کو برا نہ کہو، جس کے نتیجے میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو برا کہنے لگیں)
4۔ مذہبی آزادی کی بابت قرآنی ہدایات پچھلی سطور میں گذر چکی ہیں۔ یہ آیات قرآنی بھی اس مفہوم کی وضاحت کرتی ہیں:
’’وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر‘‘
(اور کہہ دو کہ : حق تو تمہارے رب کی طرف سے آچکا ہے ، اب جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے (۱۴)۔
اور ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ (تمہارے لئے تمہارا دین ہے ، اور میرے لئے میرا دین (۱۵)۔
قرآنی تعلیمات میں موجود خوشگوار تکثیری معاشرہ کے ا ن سنہرے اصولوں کی عملی صورت ہمیں بہت واضح طور پر نبی اکرم ا کے اس فیصلے اور تحریری دستور میں ملتی ہے جسے دنیا آج’ میثاق مدینہ‘ کے نام سے جانتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا دستوری معاہدہ ہے جس میں تکثیری سماج اور کثیر مذہبی معاشرہ کے اندر مذہبی آزادی، باہمی احترام اور جان ومال کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی گئی تھی۔
ملکی دستور میں تکثیریت
ہمارا ملک ہندوستان تکثیری معاشرت کا نمونہ ہے، یہ مختلف مذاہب کا گہوارہ اور متعدد ثقافتوں کا سنگم ہے۔ اس ملک میں تکثیری معاشرت اسی وقت خوشگوار اور پر بہار ہو سکتی ہے جب اس معاشرت میں ہر مذہب اور ثقافت کو اپنا تشخص محفوظ ملے، اور ہر ایک اپنی شناخت کے ساتھ تکثیریت کا حصہ بنے۔ جب ہی یہ کثرت میں وحدت اور تنوع کے ساتھ اتحاد وسالمیت کا مظہر ہوگا۔ یہ صورت نہ صرف ممکن اور مفید ہے بلکہ یہی سماج کی ضرورت اور ہر مذہب کی فطری دعوت ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر مذہب وثقافت کی انفرادیت اور اس کی بنیادی شناخت کو تحفظ دیا جائے، اس کا احترام کیا جائے، اور اس کی آزادی فراہم رکھی جائے۔ اور پھر یہ سارے مذاہب اور ثقافتیں اپنی اپنی انفرادی شناختوں کے ساتھ مجموعی وحدت کا حصہ بن جائیں، جو بہترین تکثیری معاشرت ہوگی۔
ملک کے دستور نے اسی نوعیت کو تسلیم کیا ہے اور اس کے تحفظ کی ضمانتیں فراہم کرنے کے لئے مختلف دفعات کے تحت ہدایات دی ہیں، جیسے دفعہ 25 میں مذہبی آزادی، دفعہ 29 اور 30 میں اقلیتی اداروں کے قیام اور انتظام کی آزادی، دفعہ 14 اور 15 میں ملک کے شہریوں کے درمیان کسی بنیاد پر بھید بھاؤ اور امتیاز برتنے پر پابندی، اور دیگر کئی دفعات میں علاقائی خصوصیات وثقافت کے تحفظ وفروغ اور ملکی وسائل وحقوق سے یکساں طور پر سب کے استفادہ کے مواقع کی فراہمی کی ضمانتیں رکھی گئی ہیں(۱۶)
اسلامی شناخت کے عناصر
تکثیری معاشرت کو نہ صرف تسلیم کرنے بلکہ اسے خوشگوار وپر امن بنانے کے بارے میں اسلام کے واضح موقف کی تفصیل اور اس کے کچھ دلائل سابقہ سطور میں پیش کئے گئے۔ اس نوع کی معاشرت میں انفرادی شناخت اور تشخص کا مسئلہ پوری قوت اور حساسیت کے اتھ ابھرتا ہے۔ کیونکہ بین مذہبی اور کثیر ثقافتی معاشرہ میں ایک دوسرے سے اثر پذیری تیز رفتار ہونے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں کسی قوم وگروہ کے اپنے مذہبی اور ثقافتی تشخص کے ختم ہو جانے، یا دوسری روایات میں گم ہو جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یوں تو یہ نوعیت کسی بھی مذہبی گروہ اور ثقافتی طبقہ کے لئے قابل تسلیم نہیں ہوتی ہے، لیکن اسلام کا مسئلہ اس حوالے سے زیادہ حساس اور گمبھیر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام توحید خالص کا مذہب ہے، اور وہ توحید کے مظاہر میں کسی ادنیٰ شرک کو گوارہ نہیں کرتا ہے۔ پھر اسلام ایک مکمل دین اور مستقل تہذیب ہے، دوسرے لفظوں میں اسلام میں دین اور دنیا کی تقسیم نہیں ہے، نہ یہ تصور ہے کہ جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو، اور جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو، بلکہ اسلام کے نزدیک جو قیصر کا ہے وہ بھی خدا ہی کا ہے، اور خدا کے احکام دین ودنیا دونوں کے لئے ہیں۔ پھر اسلام کی جامع اور پوری زندگی پر محیط تعلیمات نے ایک مستقل تہذیب کو وجود بخشا ہے، جس میں توحید کی روح، حلال وحرام کی پابندی، مستحسن اور مکروہات کی رعایت اور اسلامی آداب واخلاقیات کی صورت گری پائی جاتی ہے۔ توحید سے وابستگی، حرام وحلال کی پابندی اور آداب واخلاقیات سے آراستگی اسلام کا تشخص اور شناخت ہے، اور وہ تکثیری سماج میں اس شناخت کی بر قراری کے لئے بے حد حساس ہے۔ پس ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلام نے جس تکثیری معاشرت کو سند جواز ہی نہیں بلکہ اعتبار ووقار بخشا ہے، اس بین مذہبی سماج میں وہ کس طرح اورکیونکر اپنے تشخص کی برقراری کی راہیں متعین کرتا ہے، اور ان کے تحفظ کی کیا ضمانتیں پائی جاتی ہیں۔
اسلام کی بنیادی شناخت میں چار باتیں ضروری ہیں، بلکہ فرد کے اندر نفس اسلام ہی کی بقاء کے لئے وہ باتیں ضروری ہیں:
اول ۔ وحدانیت خداوندی:
فرد کی زندگی میںوحدانیت خدا وندی موجود ہو، یعنی وہ اپنے عقیدہ وایمان کی بنیادی باتوں سے آشنا اور ان سے پختگی کے ساتھ وابستہ ہو۔ عقیدہ میں توحید الٰہی، رسالت نبوی اور آخرت میں حساب و جزاء پر یقین داخل ہیں۔ توحید یہ ہے کہ اللہ تنہا تمام انسانوں اور کائنات کا خالق ومالک ہے، حیات وموت اور تقدیر ورزق اسی کے ہاتھ میں ہیں، حاجت روا اور مشکل کشا صرف وہی ہے، عبادت وپرستش صرف اسی کی ہوگی، اور اس کے کارخانۂ تدبیر وقدرت میں کسی دوسرے کا عمل دخل نہیں ہے۔ رسالت کا مطلب تمام نبیوں پر اجمالی ایمان کے ساتھ نبی اخر الزماں ا کی مکمل اتباع اور آپ کی لائی شریعت پر عمل آوری ہے۔ اور آخرت سے مراد روز جزا اور اس میں حساب وکتاب کے بعد آخری فیصلہ الٰہی پر یقین رکھنا ہے۔ اس اجمال کو ’توحید‘ کے ایک لفظ سے ہم تعبیر کر سکتے ہیں۔
دوم۔ حلال و حرام کا فرق
اسلامی شناخت کی دوسری بنیاد حلال وحرام کا فرق اور اس پر عمل ہے۔ اشیائے خورد ونوش، لباس کے ستر، شادی بیاہ کے رشتے، اور کاروبار ومعاملات میں کچھ چیزوں کو واضح طور پر اسلام نے حرام اور ممنوع قرار دے دیا ہے۔ ان کے علاوہ چیزوں میں اپنے ذوق، تنوع اور علاقائی وجغرافیائی فرق وپسند کی پوری آزادی دے رکھی ہے۔ تو شراب وخنزیر، منشیات ومردار، مرد وعورت کی شرمگاہ کے حصوں کی بے لباسی، محرم رشتہ داروں اور مشرکہ خواتین ومرد سے شادی نیز سودی معاملات، فحاشی کے کاروبار اور رشوت خوری ومالی بدعنوانی جیسی باتوں کو اسلام نے دو ٹوک منع کر رکھا ہے۔
سوم۔ فرائض و ارکان دین کی ادائیگی
اسلامی شناخت کی تیسری بنیاد فرائض اور ارکان دین کی ادائیگی ہے۔ ان میں مرد وعورت دونوں کے لئے پنج وقتہ فرض نمازوں اور جمعہ وعیدین کی ادائیگی، رمضان کے روزے وتراویح، زکاۃ کی ادائیگی، اور حج وعمرہ سے وابستگی ہیں۔
چہارم ۔ اسلامی اخلاقیات و آداب
چوتھی بنیاد اسلامی اخلاقیات اور آداب سے وابستگی ہے، جیسے دینی نام رکھنا، ملاقاتوں میں سلام ودعا کے الفاظ بولنا، مختلف طبعی ضروریات اور خوشی وغم کے واقعات وحادثات کے مواقع پر دعاؤں اور دعائیہ جملوں کا استعمال کرنا، مساجد کی موجودگی، گھروں کی سجاوٹ اور ماحول کو دینی رنگ اور ادائیگی فرائض سے ہم آہنگ رکھنا وغیرہ۔
یہ چار بنیادی امور اسلامی شناخت اور تشخص میں آتے ہیں۔ اسلام ان باتوں کو برتنے اور اپنانے ہی کا نام ہے۔ لہٰذا ان کی بقاء ہی اسلام کی بقاء ہے۔ اور کسی بھی بین مذہبی یاتکثیری معاشرت میں اسلام کا اپنا وجود ان باتوں کی موجودگی سے قائم ہوتا ہے۔
اسلامی اقدار کا تحفظ
اسلامی شناخت اور تشخص کا یہی تصور اسلامی اقدار ہیں، ان اقدار کو وقتاً فوقتاً خطرہ لاحق ہوتا رہتا ہے، تمام تر دستوری ضمانتوں کے بعد بھی اسلامی اقدار اور شناخت کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور مختلف حالات میں اس میں شدت آتی رہی ہے۔ دوسرے اسباب سے قطع نظر مذہبی تکثیریت اور مذہبی رواداری کے عنوان پر بھی اسلامی اقدار کو سنگین خطرہ درپیش ہونے لگتا ہے جس کے پیچھے وجہ تکثیریت کی غلط تفہیم یا پھر کسی ایک جانب سے مذہبی اور ثقافتی تنوع کے احترام کے بجائے اس میں خلط ملط کرنے کی شعوری کوشش ہوتی ہے۔ مسلم اقلیت کے لئے تکثیری سماج میں اسلامی اقدار سے محرومی اور دوری کا ماحول اس وقت زیادہ سنگین ہونے لگتا ہے جب اسلامی تعلیمات اور اس کی بنیادی شناخت کی ہدایات سے علمی نا واقفیت پائی جاتی ہو۔ بد قسمتی سے تعلیم یافتہ طبقہ کے ایک حصہ میں بھی اسلام کی ان تعلیمات سے نا آگہی پائی جاتی ہے، اور ان کی جانب سے سماجی، سیاسی اور ثقافتی سطح پر ایسے اقدامات اپنائے جاتے ہیں جو بظاہر مذہبی رواداری کے خوشنما نام سے ہوتے ہیں، لیکن دراصل وہ ثقافتی اور مذہبی تنوع کو ختم کر کے ایک مذہبی روایت پر عمل آوری ہوتی ہے۔ اور اس میں واضح طور پر شرکیہ مظاہر ، غیر اللہ کی پرستش، حرام ناطے، اور محرمات کے ارتکاب جیسے شنیع اعمال آجاتے ہیں۔ عوامی سطح پر جہاں دینی تعلیم کا فقدان ہے وہاں دیگر مذہبی طبقات کے ساتھ میل جول اور تہوار وغیرہ کے مواقع پر بھی اسلامی اقدار اور حدود کی پامالیوں کے واقعات ہونے لگتے ہیں، اور یہ سلسلہ آگے بڑھنے لگتا ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس نوع کی ملغوبہ سازی اور غیر فطری خلط ملط کے نتائج اچھے نہیں آتے ہیں۔ نہ صرف وہاں کشا کش پیدا ہوتی ہے، بلکہ مذہبی رواداری اور تکثیریت کو نقصان ہوتا ہے۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ بعض طبقات کی جانب سے بسا اوقات اس نوع کی بد بختانہ کوششیں فکری اور عملی سطحوں پر پورے شعور کے ساتھ انجام دی جاتی ہیں۔ یہ غلط تصور اور غلط روش نہ صرف ملک کی تکثیری معاشرت کے لئے نقصان دہ بن رہی ہے، بلکہ اسلامی اقدار کے تحفظ کا مسئلہ زیادہ توجہ کا حامل بن جا رہا ہے۔ اس غلط تصور وعمل پر بندش کے لئے دو سطحوں پر کام کی ضرورت ہے:
اول یہ کہ علمی اور فکری سطح پر مذاکرات اور تحریروں کے ذریعہ تکثیری معاشرت کے صحیح تصور اور قابل عمل صورت کی تشہیر وتائید کی جائے، یہ بتایا جائے کہ ہر مذہبی اکائی اور ثقافتی وحدت اپنی شناخت کے تحفظ کے ساتھ ہی بہترین تکثیریت کے قیام میں حصہ دار بن سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں ملکی دستور کے متعلقہ حصوں اور دفعات کو نمایاں کیا جائے، ساتھ ساتھ ملکی رہنماؤں اور سر براہوں کے وہ بیانات اور اقتباسات وتصورات بھی عام کئے جائیں جو اس مفہوم کی بابت پائے جاتے ہیں۔
دوسری سطح پر خود مسلمانوں میں اسلامی اقدار کے تحفظ کی تفہیم، اس کی حساسیت، اس کی وابستگی کی لازمیت اور اس کے لئے تعلیمی وتربیتی انتظامات کے کام ہیں۔ اس کام میں ملک کے طول وعرض میں موجود دینی مدارس، تربتی ادارے اور اصلاح کی تنظیمیں سر گرم عمل ہیں۔ ان کی تحسین کی جانی چاہئے۔
البتہ موجودہ حالات میں تکثیری معاشرت میں اسلامی اقدار کے تحفظ کے لئے درج ذیل خصوصی اقدام کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے:
1۔ مسلم نسل نو کو بالعموم اور عصری تعلیم گاہوں میں پڑھنے والوں کو بالخصوص اسلام کے بنیادی عقائد سے واقف کرانے کا اہتمام کیا جائے۔ خاص طور سے ملک کے تکثیری سماج میں مذہبی نوعیت کے جو پروگرام، تہوار اور تقریبات ہوتی ہیں، ان کی بابت اسلامی عقیدہ کی پابندی کی عملی صورت سے انھیں روشناس کیا جائے۔
2۔ اسلامی تہذیب وثقافت اور حلال وحرام سے آگاہی کے لئے مختصر مدتی تعلیمی پروگرام چلائے جائیں اور ان کا نظم ایسا ہو کہ تعلیم سے جڑے افراد بھی اس پروگرام سے استفادہ کر سکیں۔
3۔ موجودہ حالات کے تناظر میں عملی مثالوں کے ذریعہ اسلامی اقدار سے وابستہ رہتے ہوئے بین مذہبی ہم آہنگی کی تربیت دی جائے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت انسانی کردار کی بہتری کے لئے ضروری ہوتی ہے۔
4۔ جمعہ کے خطابات اور عمومی اصلاحی پروگراموں میں ان موضوعات کو اختیار کیا جائے اور عوام میں اس بابت بیداری لائی جائے۔
حوالہ جات:
۱۔ سورہ روم، آیت نمبر : 22
۲۔ سورہ حجرات ، آیت نمبر : 13
۳۔سورہ نحل، آیت نمبر : 125
۴۔سورہ بقرہ، آیت نمبر : 256
۵۔ سورہ ہود، آیت نمبر : 118
۶۔ سورہ اسراء، آیت نمبر : 70
۷۔سورہ مائدہ، آیت نمبر : 32
۸۔سورہ بقرہ، آیت نمبر : 188
۹۔ سجستانی ،ابو داؤد، سنن ابو داؤد، حدیث نمبر: 3052
۱۰۔سورہ مائدہ، آیت نمبر : 2
۱۱۔سورہ ممتحنہ، آیت نمبر : 8
۱۲۔سورہ یونس، آیت نمبر : 99
۱۳۔سورہ انعام، آیت نمبر : 108
۱۴۔ سورہ کہف، آیت نمبر : 29
۱۵۔سورہ کافرون، آیت نمبر : 6
۱۶۔بھارت کا آئین، اردو ترجمہ خواجہ عبد المنتقم، ایم آر ، پبلی کیشنز، نئی دہلی