علامہ عبد اللطیف رحمانیؒ کی تصنیف

علامہ عبد اللطیف رحمانیؒ کی تصنیف

’’تاریخ القرآن‘‘ –  ایک مطالعہ

                                                                                      ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی

                                                                                 انچارج شعبہ علمی ،اسلامک فقہ اکیڈمی، نئی دہلی

یہ حقیقت ہے کہ قرآن کریم دنیا کے ایک بڑے خطہ میں آباد مسلمانوں کی ایک بنیادی مذہبی کتاب ہے، اور ایک ارب سے زیادہ افراد پر مشتمل قوم گاہے بگاہے اسے پڑھتی اور سنتی ہے، اس کتاب الہی کے مختلف گوشوں، پہلوؤں، صفات اور موضوعات کو ماہرین علوم قرآن اجاگر کرتے آئے ہیں، ان ہی میں سے ایک پہلو قرآن کی تدوین و ترتیب کی تاریخ کا بھی ہے، اس موضوع پر عربی کے علاوہ اردو میں بھی کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں، مثلا:

۱۔ تدوین قرآن:مولانا مناظراحسن گیلانی،ناشر:مکتبہ البخاری کراچی،سن اشاعت:۲۰۰۵،صفحات: ۱۳۶

۲۔ علوم القرآن: مفتی محمد تقی عثمانی، ناشر: مکتبہ دار العلوم کراچی ، سن اشاعت: ۱۴۱۵ھ، طبع جدید، صفحات: ۵۱۱

۳۔  جمع القرآن:علامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی، ناشر: الرحمن پبلشنگ ٹرسٹ کراچی ، سن اشاعت:  اکتوبر ۱۹۹۴، طبع دوم، صفحات: ۴۲۴۔

۴۔  جمع و تدوین قرآن:ڈاکٹر حافظ محمد عبد القیوم،ناشر:الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور، صفحات:  ۳۸۳

۵۔  تاریخ قرآن: ڈاکٹر محمد حمید اللہ (یہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں دیا گیا پہلا لکچر ہے جوکتاب ’’خطبات بہاولپور‘‘ میں شامل ہے)، صفحات: ۵۵۔

۶۔  قرآن مجید کا تعارف: مولانا صدر الدین اصلاحی، ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، سن اشاعت : ۲۰۱۳، صفحات: ۱۴۵۔

۷۔  تاریخ القرآن:پروفیسر عبد الصمد صارم ازہری، ناشر:ادارہ علمیہ لاہور، سن اشاعت:۱۹۶۳ء ، طبع دوم، صفحات: ۲۵۰۔

۸۔  جمع و تدوین قرآن: مولانا سید صدیق حسن ، ناشر: دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، صفحات:  ۸۰۔

۹۔  تاریخ قرآن:مولانا قاری شریف احمد، ناشر:مکتبہ شریفیہ کراچی، طبع سوم، سن اشاعت: مارچ ۲۰۰۸ء، صفحات:   ۳۳۹۔

۱۰۔  تاریخ القرآن: سید نذیر الحق قادری،ناشر:حمیدیہ پریس دہلی، سن اشاعت: ۱۹۳۲ء، طبع دوم، صفحات:    ۱۰۸

۱۱۔  تاریخ القرآن: پروفیسر محمد اسلم جیراجپوری، ناشر:مطبع فیض عام، علی گڑھ، سن اشاعت:۱۹۲۲، طبع دوم، صفحات: ۱۲۸

۱۲۔  تاریخ المصاحف: مولانا حکیم محمد عبد الشکور مرزاپوری، ناشر:ادریس المطابع برقی پریس دہلی، صفحات:  ۲۹

۱۳۔  تاریخ قرآن : مولانا عبد القیوم ندوی، ناشر:محمد سعید اینڈ سنز تاجران کتب کراچی،صفحات: ۱۷۸۔

۱۴۔تاریخ القرآن: مفتی عبد اللطیف رحمانی، ناشر:پروگریسیو بکس لاہور، سن اشاعت: ۱۹۸۳ء/۱۴۰۳ھ، صفحات: ۱۴۴

یہ آخری کتاب ہی ہمارے مطالعہ کا محور ہے، اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن مطبوعہ ۱۹۸۳ء ہمارے پیش نظر ہے، یہ کتاب چھوٹے سائز میں ۱۴۴/صفحات پر مشتمل ہے، تحریر خوشخط اور صفحات گل بوٹوں سے مزین اور جاذب نظر ہیں۔ شاہ ابو الخیر اکیڈمی دہلی نے اسے شائع کیا ہے، اس کا پہلا ایڈیشن ۱۹۱۹ء میں مصنف کی حیات میں ہی ۶۴/سال پہلے منظر عام پر آیا تھا، اس کے بعد یہ کتاب تقریبا نایاب ہوچکی تھی، پھر تلاش بسیار کے بعد شاہ ابو الخیر اکیڈمی دہلی نے اسے ۶۴/سال کے بعد شائع کرکے ایک اہم فریضہ ادا کیا، اس کے بارے میں شاہ ابو الحسن زید فاروقی نے لکھا ہے کہ:

 ’’اگر یہ نایاب کتاب بار دیگر طبع ہوجائے تو دل کو نہایت مسرت حاصل ہوگی، جمع کلام الہی کے سلسلہ میں ایسی مختصر، جامع اور پُر از حقائق و دقائق شاید ہی کوئی دوسری کتاب ہو‘‘۔

اس کتاب کی اہمیت پر مولانا ابو الکلام آزاد کے یہ الفاظ کافی ہوںگے کہ:

 ’’محترم مصنف کو اسلامی علوم پر ایسا عبور ہے کہ عالم اسلام کے علماء جدید بھی شاید نہ سمجھتے ہوں، اس رسالہ میں انھوں نے قرآن عزیز کی تاریخی بحث علمی عدالت عالیہ میں اس انداز سے اٹھائی ہے جس طرح ایک باصلاحیت وکیل مخالف فریق کے ناپاک ارادوں پر وار کرے اور اس کے پُر فریب تخیل کے ہر پیچیدہ موڑ پر سخت گرفت کرے، اور اپنے مقدمہ کی تکمیل میں کوئی کسر نہ چھوڑے‘‘۔ (۱)

          اس کتاب کی اہمیت کے تعلق سے ان دو اکابر کے اقتباسات نقل کرنے کے بعد اصل بحث کی طرف آتا ہوں کہ اصل کتاب صفحہ /۱۸ سے شروع ہوتی ہے، سب سے پہلے کتاب کا مقدمہ ’’تمہید‘‘ کے عنوان سے ۶/صفحات پر مشتمل ہے، اس میں مصنف کتاب نے دو امور پر خاص طور پر بحث کرنے کی بات کہی ہے: ایک تو یہ کہ قرآن کی تدوین کے تعلق سے جو شبہات اور اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کا تجزیہ کریںگے، اور دوسرے یہ کہ وہ احادیث و آثار جن کی آڑ لے کر مخالفین اسلام قرآن کی تدوین کے تعلق سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ان روایات کا بھی علمی تجزیہ پیش کریںگے۔

جو اعتراضات و شبہات عام طور سے کئے جاتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔  قرآن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یکجا نہیں ہوا تھا بلکہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یکجا کیا گیا تھا۔

۲۔  انجیل اور قرآن میں اس بات میں یکسانیت ہے کہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد جمع کیا گیا۔

۳۔  دو چار صحابہ کے علاوہ کوئی قرآن کا حافظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نہیں تھا۔

۴۔  قرآن کا بہت بڑا حصہ تلف ہوگیا، اس لئے کہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا تھا، اور موجودہ قرآن ایک ہی حرف پر ہے۔

۵۔  قرآن کی بعض بڑی سورتیں مختصر کردی گئیں۔

۶۔  بعض سورتیں قرآن سے نکال دی گئیں۔

۷۔  خلیفہ اول کے زمانہ میں بعض آیتیں لکھنے سے رہ گئیں جو خلیفہ سوم کے زمانہ میں لکھی گئیں۔

۸۔  قرآن کی آخری دو سورتیں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن میں داخل نہیں، لہذا ان کا قرآن سے ہونا یقینی نہیں۔

۹۔  قرآن کی موجودہ ترتیب پر سبھوں کا اتفاق نہیں، اس لئے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، اور ابن سعد رضی اللہ عنہ کے قرآن کی ترتیب اس کے خلاف تھی۔

اس کے بعد مصنف کتاب لکھتے ہیں:

 اگر ہمارے پاس ایسی شہادتیں موجودہوں جن سے پورے قرآن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لکھا جانا معلوم ہو یا دوچار کے سوا بہت سے حفاظ قرآن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجودہ ونا ظاہر ہوتا ہو، اور اسی کے ساتھ وہ تمام شہادتیں جن کی وجہ سے یہ شبہات ہوتے ہیں ، معتبر گواہوں کی ہوں تو ایسی حالت میں بھی قرآن میں اس قسم کے شبہات کی گنجائش ناممکن ہے۔(۲)

اس کے بعد ثبوت کے تعلق سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے یا کرتے ہوئے دیکھا ہے ان کے لئے کسی امر کے ثبوت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، البتہ جو لوگ اس شرف سے محروم ہیں ان کے لئے ثبوت کی تین صورتیں ذکر کی ہیں:

          ۱۔  تواتر، یعنی اس قدر گواہوں کے بیان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا یا کرنا ثابت ہو، جس کے بعد کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ثبوت متیقن اور قطعی ہوجائے۔

          ۲۔  آحاد، یعنی اس قدر گواہ نہ ہوں بلکہ دو ایک گواہوں سے ثابت ہو، اور ظاہر ہے کہ ایسے امور یقینی اور قطعی الثبوت نہیں ہوسکتے۔

          ۳۔  توارث و تعامل عامہ، یعنی وہ فعل و قول اس قسم کا ہو جس پر ہم نے تمام اپنے بڑوں کو عمل کرتے ہوئے یا کہتے ہوئے بلا کسی اختلاف کے دیکھا یا سنا ہو، یہاں تک کہ یہ سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو، جو امور اس طریقہ سے ثابت ہوں وہ بھی قطعی اور یقینی ہیں۔

          اور اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کی ہیں جیسے نماز و حج اور زکوۃ وغیرہ، اور کہا کہ قرآن کا سلسلہ متواتر ہے، اسی طرح انھوں نے واقعات کی دو قسمیں کی ہیں:  عمومی اور خصوصی۔

          واقعات عمومی:   وہ ہیں جن کا ظہور منظر عام پر اس طرح سے نمایاں ہو کہ اس کا علم بلاکسی رکاوٹ کے ہر شخص کو ممکن ہو، یہی وجہ ہے کہ اگر مطلع صاف ہو تو ایک دو کی شہادت چاند کے متعلق کافی ہے۔

          واقعات خصوصی:   وہ ہیں جو منظر عام پر اس طرح نمایاں نہ ہوں، اس طرح کے واقعات میں دو کی شہادت بھی کافی ہے۔

            اور قرآن کو واقعات عمومی میں سے شمار کیا ہے، اور پھر اسی طرح واقعات کی جانچ پڑتال کے تنقیدی اصول پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ (۳)

          اس کے بعد اصل کتاب شروع ہوتی ہے جس کے لئے عنوانات اور ذیلی عنوانات کی ایک طویل فہرست دی گئی ہے جن میں کچھ اہم عنوانات اس طرح ہیں:

(۱)  قرآن جن الفاظ اور ترتیب پر عہد نبی میں تھا اب تک ہے۔

(۲)  قرآن کے تحفظ کا ثبوت مسلمانوں کی عملی زندگی سے۔

(۳)  عہد نبوی میں ایسی چیز جس سے کاغذ کا کام لیا جاتا تھا۔

(۴)  قرآن مجید سے قرطاس کا ثبوت

(۵)  قرآن کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ترغیبات

(۶)  امام وہی ہو سکتا ہے جس کو قرآن زیادہ یاد ہو

(۷)  عہد نبوی کے ۳۷/حافظوں کا مختصر حال

(۸)  ابو موسی کی فوج میں ۳۰۰/حافظ تھے

(۹)  قرآن کی کتابت

(۱۰)  عہد نبوی میں قرآن لکھا گیا یا نہیں

(۱۱)  قراء سبعہ نے قرآن یاد کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تھا

(۱۲)  عہد نبوی میں ناظرہ خواں بھی تھے

(۱۳)  تمام سورتوں کی ترتیب وحی الہی سے ہے

(۱۴)  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری دو ختم زید اور ابن مسعود کی موجودگی میں کئے

(۱۵)  زید نے اپنا لکھا ہوا قرآن اسی آخری ختم کے وقت سنایا تھا

(۱۶)  موجودہ قرآن اسی آخری ختم کی ترتیب پر ہے (اور اس تعلق سے مصنف نے ۹/شہادتیں پیش کی ہیں)

(۱۷)  ان روایتوں کی تنقیح جن سے شبہ ہوتا ہے

(۱۸)  اشتباہ کی پہلی روایت

(۱۹)  معوذتین قرآن سے خارج ہے؟

(۲۰)  معوذتین سے متعلق ابن مسعود سے تین شخصوں کی روایت

(۲۱)  اشتباہ کی دوسری روایت

(۲۲)  سورتوں کی ترتیب صحابہ کی رائے پر ہوئی ہے؟

(۲۳)  اشتباہ کی تیسری روایت

(۲۴)  زہری کی حدیث کی سند

(۲۵)  زہری کے بیان میں اختلاف ہے اور دوسری صحیح روایت کے خلاف ہے

(۲۶)  عہد نبوی میں دس شخصوں نے پورا قرآن جمع کیا تھا

اس کتاب کے ۲۶۴/عنوانات و ذیلی عنوانات میں صرف چند عنوانات کو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے، ان عنوانات کو میں نے صرف اس لئے پیش کیا ہے کہ اس کتاب کا ایک رخ یا ایک پہلو آپ کے سامنے آجائے۔ اس طویل فہرست کو دیکھنے کے بعد میری اپنی رائے یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ عنوانات صاحب کتاب کی طرف سے نہیں قائم کئے گئے ہیں بلکہ بعد میں کسی نے ان عناوین کو مرتب کیا ہے، اس لئے کہ درمیان کتاب میں یہ عناوین درج نہیں ہیں بلکہ عبارات کو سامنے رکھ کر عناوین قائم کئے گئے ہیں، اور کتاب کے صفحات کے درمیان صرف ۳۵/عنوانات جلی حروف میں قائم کئے گئے ہیں۔

کتاب کی خصوصیت:

کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ شروع سے آخر تک کہیں بھی موضوع سے ہٹے نہیں ہیں اور اس کی بھرپور کوشش کی ہے کہ موضوع کے حدود اور دائرے میں رہیں، حتی کہ تمہید میں بھی قرآن کی تدوین و ترتیب سے متعلق ہی گفتگو کی ہے۔

مصنف کتاب نے کسی کلام یا کتاب کے یاد کرنے اور لکھنے اور محفوظ رکھنے کے چار اسباب بیان کئے ہیں:

۱۔  اس کے یاد کرنے میں کوئی مذہبی ثواب ہو اور مذہب کی طرف سے اس کی تاکید ہو۔

۲۔  کسی کتاب یا کلام کی یاد میں دنیاوی نفع کی امید دلائی جائے تو اس وجہ سے بھی وہ یاد کی جاتی ہے جیسے امتحان کی کتابوں کو یاد کرنا۔

۳۔  کسی کے متعلق دنیاوی ضرورت ہو یا اخلاقی یا مذہبی یعنی وہ قانون تمدن ہو یا مذہبی، تو اس کو بھی یاد کرلیتے ہیں اور اس کی نقلیں کرتے ہیں۔

۴۔  جو کلام نہایت عمدہ اور خوب ہو خصوصا جبکہ وہ زبان اور معنی دونوں کے حسن سے آراستہ ہو اور بلاغت و فصاحت کے اعلی زینہ پر ہو تو ایسا کلام بھی عام و خاص کی زبان پر ہوتا ہے۔

اور پھر لکھتے ہیں کہ جس کلام اور کتاب میں یہ چاروں باتیں جمع ہوجائیں تو کیا ان تمام وجوہ کا ایک جگہ جمع ہوجانا قرآن کے لکھنے اور یاد کرنے کے لئے روشن دلیل نہیں ، اور کیا اتنے اسباب کے جاننے کے بعد بھی اس وقت میں قرآن کے لاکھوں حفاظ کے ہونے میں شبہ ہوسکتا ہے، اور کیا یہ قطعی نہیں کہ اس بہت زیادہ تعداد میں اس وقت نسخے ہوںگے۔ (۴)

اس مقالہ کے شروع میں جو شبہات اور فہرست میں بعض عنوانات جو ذکر کی گئی ہیں ان پر صاحب کتاب نے بھر پور اور مفصل بحث کی ہے، احادیث و آثار اور عقلی انطباق کے ذریعہ اپنی رائے کو مدلل اور موثق بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی قرآن یکجا اور مدون و مرتب ہوچکا تھا اپنے اس قول کی تائید میں دسیوں حدیثیں پیش کی ہیں، جن میں سے ایک دلیل بخاری کی یہ روایت ہے:

عن انس قال: مات النبی صلی اللہ علیہ وسلم  و لم یجمع القرآن غیر اربعۃ: ابو الدرداء و معاذ بن جبل و زید بن ثابت و ابو زید، قال: و نحن ورِثناہ۔

 یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور ان چار کے سوا کسی نے قرآن جمع نہیں کیا تھا: ابو الدرداء، معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابو زید، اور ابو زید کے قرآن کا وارث میں ہوا (بخاری: فضائل القرآن) 

اور صاحب کتاب نے اس حدیث کے تحت لفظی اور تشریحی بحث تو کی ہی ہے، اس کے علاوہ بھی روایتیں و آثار ذکر کی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے علاوہ اور بھی صحابہ ہیں جنھوں نے پورا قرآن لکھا تھا، مثلا:

طبقات القراء للذہبی میں ہےکہ: جن صحابہ نے پورا قرآن یاد کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا وہ صحابہ کی ایک جماعت ہے جنھوں نے قرآن پڑھایا انھیں میں وہ سات قاری بھی ہیں جن کی سندوں سے لوگ قرآن پڑھتے ہیں، یعنی حضرت عثمان بن عفانؓ،  حضرت علیؓ،  حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت ابو موسی اشعریؓ، اور حضرت ابو الدرداء ؓ۔ (۵)

تہذیب التہذیب (۵/۱۱۲) میں ہے کہ حضرت عبادہ بن الصامت نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پورا قرآن لکھا تھا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں فلسطین بھیجا تھا کہ وہاں لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیں۔

اسی طرح حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کی سرزمین میں قرآن لے جانے کی ممانعت فرمائی (بخاری:کتاب الجہاد) ، اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ سفر کرتے وقت بھی قرآن ہمراہ لے جاتے تھے۔

الاتقان میں علامہ سیوطی نے مسند احمد اور سنن ابو داؤد سے نقل کیا ہے کہ طائف سے قبیلہ ثقیف جو مسلمان ہوگیا تھا آیا، اس میں ابو حذیفہ ثقفی بھی تھا، ان کا کہنا ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے معمول کے وقت سے باہر تشریف لانے میں تاخیر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج اس وجہ سے تاخیر ہوئی کہ قرآن کا ورد روزانہ مجھ سے رہ گیا تھا اسی کو پڑھنے میں دیر ہوگئی، تب اس ثقفی نے صحابہ سے دریافت کیا کہ آپ لوگوں کا کیا معمول ہے؟ صحابہ نے کہا: اول روز تین سورت، پھر پانچ، پھر نو، پھر گیارہ، پھر تیرہ، پھر تمام مفصل یعنی ق سے آخر تک ۔اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن مرتب اور جمع ہو گیا تھا … اور جو ترتیب اس ورد میں بیان کی گئی ہے یہ بعینہ وہی ترتیب ہے جو قرآن کی آج بھی ہے۔ (۶)

اسی طرح مصنف نے مختلف حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی بہت سے قرآن کے حافظ تھے ، جن میں سے ۳۷/صحابہ اور ۴/صحابیات کا ذکر تفصیل سے کیا ہے، ہم ذیل میں صرف ان کے اسماء گرامی لکھے دیتے ہیں:

صحابہ:    عبد اللہ بن عمرو بن العاص، قیس بن صعصعہ، سعد بن المنذر بن اوس، عبد اللہ بن عمر بن الخطاب، عقبہ بن عامر الجہنی، ابو الدرداء، تمیم داری، معاذ بن الحارث الانصاری، عبد اللہ بن سائب، سلیمان بن ابی حشمہ، ابی بن کعب، زید بن ثابت، معاذ بن جبل، سعد بن عبید بن نعمان انصاری، مسلمہ بن مخلد بن الصامت، عثمان بن عفان، عبد اللہ بن مسعود، سالم مولی ابی حذیفہ، ابو بکر الصدیق، علی بن ابی طالب، عمر بن الخطاب، طلحہ، سعد بن ابی وقاص، حذیفہ بن الیمان، ابو ہریرہ، عبادہ بن الصامت، ابو حلیمہ معاذ، مجمع بن حارثہ، فضالہ بن عبید، ابو موسی اشعری، عمرو بن العاص، سعد بن عبادہ، عبد اللہ بن عباس، ابو ایوب انصاری، عبد اللہ بن ذو البجادین، عبید بن معاویہ بن زید بن ثابت، ابو زید رضی اللہ عنہم۔

صحابیات:    عائشہ، حفصہ، ام سلمہ، ام ورقہ بنت نوفل رضی اللہ عنہن۔ (۷)

اسی طرح مصنف کتاب نے قرآن کی کتابت پر مختلف حوالوں سے تفصیلی گفتگو کی ہے اور الاستیعاب لابن عبد البر کے حوالے سے ایسے ۲۴/صحابہ کے نام لکھے ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے پڑھنے کا کام لیتے تھے جن کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں:

ابی بن کعب، زید بن ثابت، عبد اللہ بن سعد، ابو بکر، عمر، عثمان ، علی، زبیر بن العوام، خالد، ابان، سعید، حنظلہ، علاء، خالد بن ولید، عبد اللہ بن رواحہ، محمد بن مسلمۃ، عبد اللہ بن عبد اللہ بن سلول، مغیرہ بن شعبہ، عمرو بن العاص، معاویہ بن سفیان، جہم بن الصلت، معیقیب بن فاطمہ، شرجیل بن حسنہ، عبد اللہ بن ارقم الزہری (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ (۸)

عہد نبوی میں ہی قرآن کے جمع اور مرتب ہوجانے سے متعلق مصنف کتاب نے ثبوت کے طور پر یہ دلیل بھی دی کہ آخری رمضان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن دو بار ختم کئے اور اس میں ابن مسعود اور زید بن ثابت بھی برابر موجود رہے اور تمام و کمال قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ابن قتیبہ نے ’’المعارف ‘‘ میں زید بن ثابت کے احوال میں لکھا ہے:

کان آخر عرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم القرآن علی مصحفہ و ھو اقرب المصاحف من مصحفنا و قد کتب زید لعمر بن الخطاب۔

حضرت زید نے اخیر میں اپنا لکھا ہوا قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا اور زید کے اس قرآن کی ترتیب ہمارے قرآن کی تھی، اور زید نے حضرت عمر کے لئے بھی ایک قرآن لکھا تھا۔

صحیح بخاری کی کتاب فضائل القرآن کے باب ’’کان جبریل یعارض القرآن‘‘ میں ہے:

عن فاطمۃ:أسر إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم إن جبریل یعارضنی بالقرآن کل سنۃ و إنہ عارضنی العام مرتین ولا أراہ إلا حضر أجلی۔

فاطمہ نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رازداری کے طور سے مجھ سے یہ فرمایا کہ جبریل ہر سال قرآن کا ایک بار مجھ سے دور کرتے تھے مگر امسال دو بار کیا، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ آفتاب نبوت غروب ہوا چاہتا ہے۔

جس ترتیب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل سے اس آخر وقت میں دور کیا تھا وہی ترتیب قرآن کی آج تک مسلمانوں میں اور تمام اہل اسلام اس پر متفق ہیں۔ (۹)

اسی طرح عہد نبوی میں قرآن کے جمع ہونے میں ایک اشتباہ یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ جنگ یمامہ میں قراء شہید ہوگئے تھے، لیکن صاحب کتاب نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مشہور قراء میں سے سالم مولی ابی حذیفہ کے سوا کوئی قاری اس جنگ میں شہید نہیں ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد میں چار شخصوں کو تعلیم قرآن کی اجازت دی تھی اور لوگوں سے فرمایا تھا کہ ان چار سے قرآن پڑھیں:    ابن مسعودؓ، سالم مولی ابی حذیفہؓ، معاذ بن جبلؓ، ابی ّ بن کعبؓ، جن میں سے سالم شہید ہوئے اور تین موجود تھے۔

حضرت زید بن ثابتؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہی قرآن کو جمع کیا تھا اس پر انھوں نے بخاری کی یہ روایت ذکر کی ہے:

قال:سألت انس بن مالک رضی اللہ عنہ لک جمع القرآن علی عہد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال:أربعۃ کلھم من الانصار:ابی بن کعب و معاذ بن جبل و زید بن ثابت و ابو زید (بخاری، فضائل القرآن)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں انصار سے چار نے قرآن جمع کیا تھا:   ابی ، معاذ، زید، اور ابو زید۔

 ازالۃ الخفاء (۲/۲۷۳) میں شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں:

 جمع کرد قرآن را بحضور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و ترتیب دادہ بود آنرا لیکن تقدیر مساعد شیوع آن نشد، أخرج ابو عمرو عن محمد بن کعب القرظی قال:کان ممن جمع القرآن علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو حی، عثمان بن عفان و علی بن أبی طالب و عبد اللہ بن مسعود من المھاجرین و سالم مولی أبی حذیفۃ۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں قرآن کو ترتیب سے جمع کیا تھا، لیکن اس کی اشاعت نہ ہوئی۔ محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قرآن جمع کرنے والوں میں عثمان، علی، ابن مسعود، ابو حذیفہ بھی ہیں۔ (۱۰)

بہر حال تمام اعتراضات و شبہات کا جواب کتاب کے مصنف نے تفصیلی اور مدلل دیا ہے، البتہ چند باتیں قابل غور ہیں:

۱۔  مصنف نے جن احادیث پر کلام کیا ہے ان پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے اور ان احادیث پر دوسرے علماء و محدثین کی آراء اور اقوال بھی پیش نظر ہوں۔

۲۔  احادیث و آثار کی مکمل تخریج کی ضرورت ہے۔

۳۔  قرآن کی تدوین و ترتیب کی تاریخ پر جس تحقیقی انداز سے یہ کتاب لکھی گئی ہے اسے عمومی استفادہ کی غرض سے عام کرنے کی ضرورت ہے۔

۴۔  اس کتاب کو عربی و انگریزی میں لائے جانے کی ضرورت ہے کہ جن حضرات کی طرف سے قرآن پر اعتراضات کئے جاتے ہیں ان تک پہنچ سکے، اور اس لئے بھی کہ دنیا کو یہ معلوم ہوسکے کہ ہندستان میں بھی صاحب بصیرت اور اجتہادی کام کرنے والے افراد موجود ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مصنف نے اپنی بات کو تاریخی حیثیت اور احادیث و آثار سے مدلل کر کے اس طرح پیش کیا ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا فلسفی اور علم تاریخ کا ماہر بھی اسے رد نہیں کر سکتا۔ مولانا ابو الکلام آزاد کے بقول مصنف کا دماغ علم و دانش کا مخزن ہے، کتاب کے انداز نگارش سے یہ نکتہ بھی صاف صاف نمایاں ہے کہ وہ مہینوں لگاتار اس عنوان پر عمیق مطالعہ کے ساتھ ساتھ مطالعہ کرتے رہے ہیں، آگے لکھتے ہیں کہ ایک ایک سطر شہادت دے رہی ہے کہ جو کچھ پیش کیا گیا ہے ایمان دارانہ طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مصنف کا مختصر تعارف:

مفتی عبد اللطیف رحمانی  ؒکا تاریخی نام محمد منظور ہے۔ افضل گڑھ ضلع بجنور میں ۱۸۷۱ء/۱۲۸۸ھ میں پیدا ہوئے۔ ایک مدت تک اپنے والد کے ساتھ سنبھل میں رہے اس لئے سنبھلی بھی کہلاتے ہیں، مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا لطف اللہ علی گڑھی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، مولانا لطف اللہ صاحب سے پڑھنے کے بعد مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے بیعت ہوئے، اور حضرت مولانا سے حدیث مسلسل بالاولیہ حدیث الرحمۃ سنی اور حدیث شریف کی اجازت عامہ حاصل کی، مولانا موصوف کو حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے بھی حدیث کی اجازت حاصل تھی، گنج مراد آبادی کی وفات کے بعد مفتی صاحب مولانا سید محمد علی مونگیری کی صحبت سے فیضیاب ہونے لگے۔

ابتداء میں آپ نے مئو ضلع رائے بریلی میں تدریسی خدمات انجام دیں، پھر آپ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مفتی مقرر ہوئے، اور جب ندوہ نے دار العلوم کی بنیاد ڈالی تو آپ فروری ۱۸۹۹ء/شوال ۱۳۱۶ھ میں اس کے صدر مدرس مقرر ہوئے۔ ۱۳۲۴ھ میں مولانا سید محمد علی مونگیری کے ہمراہ حج کے لئے گئے اور پھر مکہ مکرمہ میں مولانا مونگیری کے اشارے پر اور مدرسہ صولتیہ کے مہتمم کے اصرار پر مدرسہ میں دو سال تک درس دیا۔ وہاں سے واپسی پر خانقاہ رحمانیہ مونگیر بہار میں قیام کیا اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگئے، اور پھر ایک عرصہ بعد ۱۹۱۷ء/۱۳۳۵ھ میں آپ کا تقرر عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد کے شعبہ دینیات میں ہوا، اور آپ نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ دونوں میں صدر و پروفیسر شعبہ دینیات کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔

تالیفات:

۱۔  تذکرہ اعظم (امام ابو حنیفہ کے حالات میں)، یہ کتاب سن ۱۹۱۴ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔

۲۔  تاریخ القرآن (یہ کتاب پہلی بار ۱۹۱۹ء میں اور دوسری بار ۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی)۔

۳۔  صرف لطیف  (طبع ۱۹۲۱ء)

۴۔  نحو لطیف  (طبع ۱۹۲۱ء)

۵۔  مبادئ علم منطق

یہ تینوں کتابیں عثمانیہ یونیورسٹی میں تدریس کے زمانے میں یونیورسٹی کے طلبہ کے لئے لکھیں۔

۶۔  الشرح اللطیف  (یہ ترمذی کی شرح ہے اور اب تک مخطوطہ ہے)

۷۔  لطف الباری (یہ تراجم صحیح بخاری کی شرح ہے اور اب تک مخطوطہ ہے)

مولانامرحوم کا انتقال ۱۰/دسمبر  ۱۹۵۹ءمطابق ۹/جمادی الثانی۱۳۷۹ھ میں ہوا، اور علی گڑھ میں مدفون ہوئے (۱۱)

٭ ٭ ٭

مراجع و مآخذ:

۱۔  الجامع الصحیح: محمد بن اسماعیل البخاری، ناشر: دار الشعب قاہرہ، طبع اول، سن اشاعت : ۱۹۸۷ء/۱۴۰۷ھ۔

۲۔ سنن ابو داؤد: أبو داود سليمان بن الاشعث السجستانی، ناشر : دار الکتاب العربي ـ بيروت۔

۳۔ کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال: علاء الدين علي بن حسام الدين المتقي، تحقیق : بكري حياني/ صفوة السقا، ناشر : مؤسسة الرسالة، طبع پنجم، 1401ھـ/1981ء۔

۴۔ فتح الباري شرح صحيح البخاري: أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني، ناشر : دار المعرفة

۵۔ الاتقان فی علوم القرآن:    جلال الدین السیوطی،  تحقیق:    محمد ابو الفضل ابراہیم، ناشر :    وزارۃ الشؤون الاسلامیہ و الاوقاف و الدعوۃ و الارشاد، سعودی عرب،  سن اشاعت:    ۱۴۲۶ھ۔

۶۔إزالة الخفاءعن خلافة الخلفاء:    شاه ولي الله دهلوي، تصحيح و مراجعه : سيد جمال الدين هروي

۷۔ تہذیب التہذیب:    ابن حجر عسقلانی، ناشر:    دار الفکر بیروت، سن اشاعت:    ۱۹۸۴ءمطابق ۱۴۰۴ھ

۸۔ المعارف:    أبو محمد عبد الله بن مسلم بن قتيبہ الدينوري، تحقيق: ثروت عكاشہ، ناشر: الهيئة المصرية العامة للكتاب، قاهرہ، طبع دوم، ۱۹۹۲ء۔

۹۔ الاستيعاب في معرفة الأصحاب:    أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر ، تحقیق: علي محمد البجاوي، ناشر: مكتبة نهضة مصر، قاهرہ، ۱۳۸۰ھ/۱۹۶۰ء۔

۱۰۔ مفتاح السعادۃ و مصباح السیادۃ فی موضوعات العلوم:    احمد بن مصطفی طاش کبری زادہ، ناشر:    دار الكتب العلمية بيروت، طبع اول،۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵۔

۱۱۔ تذکرۃ الحفاظ:    محمد بن أحمد بن عثمان الذهبى،  دراسة وتحقيق: زكريا عميرات، ناشر:    دار الكتب العلمية بيروت، طبع اول، ۱۹۹۸ء/۱۴۱۹ھ۔

۱۲۔الطبقات الكبرى: محمد بن سعد أبو عبد الله البصري، تحقیق : إحسان عباس، ناشر : دار صادر، بيروت، طبع اول، 1968 ء۔   

۱۳۔ طبقات القراء : شمس الدین الذہبی،تحقیق:  ڈاکٹر احمد خان،  ناشر:   مرکز الملک فیصل للدراسات و البحوث الاسلامیہ،  طبع اول،  سن اشاعت:    ۱۹۹۷ء/۱۴۱۸ھ۔

۱۴۔ تاریخ الخلفاء: عبد الرحمن بن أبي بكر السيوطي، تحقيق : محمد محي الدين عبد الحميد، ناشر : مطبعة السعادة، مصر، طبع اول، ۱۹۵۲ء/۱۳۷۱ھ۔

۱۵۔ تاریخ القرآن:    مفتی عبد اللطیف رحمانی، ناشر:    شاہ ابو الخیر اکیڈمی، دہلی، طبع دوم، ۱۹۸۳ء۔

حوالہ جات:

۱۔ رحمانی، عبد اللطیف ، تاریخ القرآن، صفحہ:  ۱۶، ناشر: شاہ ابو الخیر اکیڈمی، دہلی، سن اشاعت: ۱۹۸۳ء، طبع دوم۔

۲۔حوالہ بالا ، ص ۱۹۔

۳۔ دیکھئے : حوالہ بالا، ص ۱۹۔۲۳۔

۴۔حوالہ بالا، ص ۴۶۔

۵۔حوالہ بالا، ص ۶۹۔۷۰۔

۶۔حوالہ بالا، ص ۷۲۔۷۳۔

۷۔ حوالہ بالا، ص ۴۸۔۵۳۔

۸۔حوالہ بالا ، ص  ۵۹۔

۹۔حوالہ بالا ، ص ۸۹۔

۱۰۔حوالہ بالا ، ص ۱۱۶۔۱۱۷۔

۱۱۔  تفصیل کے لئے دیکھئے :    حوالہ بالا، ص ۱۲۔۱۵۔

Tags

Share this post: