مجلس احیاء المعارف النعمانیہ،حیدرآباد

مجلس احیاء المعارف النعمانیہ،حیدرآباد

ہندوستان میں علوم کی اشاعت کاایک روشن باب

                                                                             مولانامنورسلطان ندوی

                                                                                 استاذدارالعلوم ندوۃ العلماء

ہندوستان زمانہ قدیم سے علم ودانش،اورتہذیب وتمدن کاگہوارہ رہاہے،اس سرزمین سے متعددایسی علمی مجلسیں اور انجمنیں نمودار ہوئیںجن کے فیض سے ملک ہی نہیں بیرون ملک کے اہل علم بھی مستفیدہوتے رہے،انہی علمی اداروں میں ایک نمایاں نام مجلس احیاء المعارف النعمانیہ کا ہے، جن کی علمی وتحقیقی خدمات نہایت وقیع اور منفرد حیثیت کی حامل ہیں، اس ادارہ کی ضیاپاشیوں سے دنیائے علم منوروتاباں ہے،اس ادارہ کے ذریعہ ہی فقہ حنفی کے بعض بنیادی مصادرسے اہل علم پہلی بارروشناس ہوئے ،فقہ حنفی کی متعددکتابوں کی تصحیح وتحقیق اس ادارہ اور اس کے بانی کی جدوجہدکی رہین منت ہے،حیدرآباددکن میں قائم ہونے والے اس ادارہ کی شہرت کایہ عالم تھا کہ عالم اسلام کے علاوہ جرمن اور فرانس کے محققین بھی اس سے وابستگی کواپنے لئے شرف سمجھتے تھے۔

مجلس کاقیام

حیدرآباددکن کے معروف تعلیمی ادارہ جامعہ نظامیہ کے نامورفرزنداور مایہ نازاستاذمولاناابوالوفاافغانی رحمۃ اللہ علیہ( ۱۳۱۰ھ؁ ۔۱۳۹۵ھ؁ )جوبلندپایہ عالم دین تھے،اسلامی علوم بطورخاص تفسیروحدیث اور فقہ میں مہارت تامہ حاصل تھی،ان کے دل میں فقہائے احناف مثلا امام ابوحنیفہ،امام ایوسف،امام محمداور دیگر متقدمین فقہائے احناف کی تصانیف کی اشاعت کاخیال آیا،چنانچہ انہوں نے جامعہ نظامیہ کے چنداساتذہ کے سامنے ایسے ادارہ کی تجویزپیش کی،شرکاء کے اتفاق سے ایک علمی مجلس کے قیام کافیصلہ ہوا،اس مجلس کا نام مجلس احیاء المعارف النعمانیہ رکھاگیا۔

۳۰ربیع الثانی ۱۳۴۸ھ؁ مطابق ۴ستمبر ۱۹۲۹ء؁ کوبعدنماز جمعہ جامعہ نظامیہ میں اس علمی وتحقیقی ادارہ کی داغ بیل ڈالی گئی،مولاناابوالوفاافغانی اس ادارہ کے بانی صدروسرپرست قرارپائے۔(۱)

 مجلس کے بنیادی مقاصد

اس علمی ادارہ کابنیادی مقصد متقدمین فقہائے احناف مثلا امام ابوحنیفہ،امام ابویوسف،اور امام محمد ؒ کی تصانیف کی تحقیق واشاعت تھا، مولانا ابوالوفا افغانی ؒ نے مجلس سے شائع ہونے والی کتابوں کے مقدمات میں مجلس کے قیام کے مقاصد کوبیان کیاہے۔

مجلس سے شائع ہونے والی پہلی کتاب ’’النکت‘‘کے مقدمہ میں مولاناابوالوفاء افغانی ؒ تحریرفرماتے ہیں:

ولما اسسنا لجنۃ احیاء المعارف النعمانیہ لاشاعۃ کتب اصحابنا المتقدمین کالامام ابویوسف والامام محمد رضی اللہ عنہما فتشنا خزانۃ العالم لنظفر بکتبہم وراسلنا علماء بلاد شتی لیفیدونا بما لہم من علم تلک الکتب القیمۃ والجواہرالثمینۃ…۔(۲)

اسی طرح امام ابویوسف کی کتاب الاثار کے مقدمہ میں مجلس کے مقاصد کاذکراس طرح ہے:

اما بعد فان لجنتنا احیاء المعارف النعمانیۃ التی غرضہا اشاعۃ کتب المتقدمین من ائمتنا ارادت ان تنشر مسند الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان ابن ثابت الکوفی رضی اللہ عنہ تصنیف تلمیذہ القاضی الامام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری رضی اللہ عنہ۔(۳)

مولاناابوالوفاافغانی کی ایک تحریر دمشق سے شائع ہونے والے مجلہ ’’مجلۃ المجمع العلمی العربی‘‘ میں شائع ہوئی ہے،اس میں مولانانے مجلس کاتعارف ان الفاظ میں کرایاہے:

الفنا لجنۃ علمیۃ دعوناہا ’’مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ‘‘بمعاونۃ لفیف من العلماء والغرض منہا طبع المولفات لمتقدمی الاحناف مثل الامام ابی حنیفۃ وصاحبیہ وحسن بن زیاد والطحاوی والخصاف الکرخی والجصاص وغیرہم من الاعلام الذین لم یطبع کتبہم بعد ولم نقصد من وراء ذلک الا نشر الدین ولیس القصد التجارۃ۔ (۴)

دعوۃ الاخوان لاحیاء المعارف النعمان میں مجلس کے مقاصد کو ان الفاظ میں بیان کیاگیاہے:

۱۔متقدمین فقہائے احناف ومحدثین کے تصانیف غیر مطبوعہ کی طباعت واشاعت ۔

۲۔مذکورہ بالاتصانیف جوبالکل غلط طبع ہوئی ہیں یاطباعت کے بعد نایاب ہوگئی ہیں،ان کی تصحیح ،اور تحت قواعد مطابع ان کی مکرر طباعت واشاعت ۔(۵)

مجلس کی جانب سے شائع ہونے والی پہلی کتاب ’’کتاب العالم والمتعلم ‘‘کے اخیر میں مجلس کے معتمد مولوی اکبر علی صاحب کے حوالے سے مجلس کاتعارف درج ہے،جس میں مجلس کے مقاصد اور ترجیحی کاموں کاذکرہے،یہ کتاب ۱۳۴۹ھ؁ میں شائع ہوئی تھی،اس کی عبارت اس طرح ہے:

عام اہل اسلام کوعمومااور علماء احناف کو خصوصا خوشخبری دی جاتی ہے کہ حضرت امام الائمہ سراج الامہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے اصحاب کی اہم تصانیف جواب تک طبع نہیں ہوئیں،اور بالکل نایاب ہیں،ان کی طباعت واشاعت کی غرض سے ’’مجلس احیاء المعارف النعمانیہ ‘‘قائم کی گئی ہے،جوچند باخبرعلماء واصحاب کی ہمتوں اور کوششوں کانتیجہ ہے،للہ الحمد کہ سب سے پہلے کتاب کی اشاعت کی سعادت مجلس کے حصہ میں آئی ،وہ حضرت امام اعظم ؒ کی تصنیف ’’کتاب العالم والمتعلم‘‘ہے،اس کے بعد ان شاء اللہ ’’کتاب النفقات  ؒللخصاف ‘‘شائع ہوگی،نیزکتاب ادب القاضی للخصاف کی شرح ’’الصدرالشہید‘‘جامع کبیر للامام محمد بن الحسن الشیبانی اور مبسوط الامام محمد بروایت ابوسلیمان جوزجانی کی طباعت بھی پیش نظر ہے،امیدہے کہ اہل علم اور ارباب کرام مجلس ہذا کی اعانت فرمائیں گے۔ (۶)

مجلس کے بنیادی اراکین

مجلس احیاء المعارف النعمانیہ کی سرگرمیوں کوانجام دینے کے لئے دوطرح کی کمیٹیاں قائم کی گئیں تھیں،اول انتظامی کمیٹی،دوسری علمی کمیٹی،دونوں کمیٹیوں کے ارکان الگ الگ تھے۔

ارکان انتظامی

انتظامی کمیٹی پندرہ ارکان پرمشتمل تھی،اس کمیٹی کی نشست ہرماہ کے دوسرے جمعہ کوہوناطے پایاتھا،تمام کاموں کی نگرانی کی ذمہ داری اسی کمیٹی کے ارکان سے متعلق تھی،اسی طرح علمی کمیٹی کی تجویزکوقبول کرنے یانامنظورکرنے کااختیاربھی اسی کمیٹی کے پاس تھا۔(۷)

انتظامی کمیٹی کے ارکان جومجلس کے قیام کے وقت منتخب ہوئے تھے،ان کے اسماء درج ذیل ہیں:

۱۔مولاناسیدمحمود،مفتی جمعیت نظام محبوب،صدر

۲۔مولاناابوالوفا،استاذمدرسہ نظامیہ

۳۔مولاناقاضی میرانورعلی،شریعت پناہ بلدہ

۴۔مولانامحمد رحیم الدین،مفتی صدارت العالیہ

۵۔مولانامخدوم بیگ،استاذجامعہ نظامیہ،معاون جنرل سکریٹری

۶۔مولانامحمد اکبرعلی،معتمد

۷۔مفتی سید شاہ میراحمد علی

۸۔مولاناسیدمحمد حسین،خطیب کنک کوٹھی،معاون جنرل سکریٹری

۹۔مولاناحکیم ابونصرسیدشرف الدین،لکچررطبیہ کالج

۱۰۔مولاناحکیم محمد حسین،استاذجامعہ نظامیہ

۱۱۔مولانامحمد عبدالحمید،استاذجامعہ نظامیہ

۱۲۔مولانامحمد منیرالدین ،استاذجامعہ نظامیہ

۱۳۔مولاناحافظ محمد عبدالرحمن،خطیب مسجد باغ عامہ

۱۴۔مولانامحمد ابراہیم

۱۵۔حکیم ابوالفدا ء محمود احمد،جنرل سکریٹری۔(۸)

دعوۃ الاخوان میں مجلس انتظامی کے دس ارکان کے نام درج ہیں۔(۹)

ڈاکٹرسعید بن مخاشن نے ۱۳۵۶ھ؁ تا ۱۳۵۸ھ؁ اورپھر ۱۳۵۸ھ؁ میں منتخب ہونے والے مجلس انتظامی کے اراکین کی فہرست بھی ذکر کی ہے،جس میں کچھ نام توپہلی فہرست سے ہیں،اورکچھ نئے نام بھی ہیں۔(۱۰)

مجلس علمی کے اراکین

مجلس احیاء المعارف النعمانیہ کی دوسری کمیٹی جوعلمی کاموں کے لئے قائم کی تھی،اس کے ذمہ نادرمطبوعات کی تلاش وتحقیق،مخطوطات کی خریداری، نادرکتابوں کاعکس یانقل حاصل کرنا،مختلف نسخوں کاموازنہ،کتابوں کی تصحیح وتحشیہ،اور مراسلات جیسے علمی امورتھے۔(۱۱)

اس کمیٹی کی رکنیت ان اصحاب علم کو دی جاتی تھی جواپنے علم وفضل میں معروف ہوں،رکنیت کی مدت تین سال تھی۔

یہ کمیٹی دس ارکان پرمشتمل تھی،پہلی کمیٹی کے ارکان کے اسماء اس طرح ہیں:

 ۱۔مولاناابوالوفاافغانی،استاذجامعہ نظامیہ(صدر)

۲۔مولانامخدوم بیگ،استاذجامعہ نظامیہ

۳۔مولاناحکیم محمد حسین،استاذجامعہ نظامیہ

۴۔مولاناحبیب عبداللہ ،مصحح دائرۃ المعارف العثمانیۃ

۵۔مولانامحمد عبدالحمید،استاذجامعہ نظامیہ،(جنرل سکریٹری)

۶۔مولاناسیدمحمد عبدالرحمن،خطیب باغ عامہ

۷۔مولاناحافظ سیدحسن شاہ،دائرۃ المعارف العثمانیۃ

۸۔مولاناابوالخیرشاہ حسین،محاسب دائرۃ المعارف العثمانیۃ

۹۔مولانامحمد حمیداللہ،عثمانیہ یونیورسیٹی

۱۰۔مولانامحمد منیرالدین،استاذجامعہ نظامیہ۔(۱۲)

ملک کے نامورعلماء کامجلس سے تعلق ووابستگی

مجلس احیاء المعارف النعمانیہ کا علمی وتحقیقی منصوبہ بڑاغیر معمولی تھا جس کی وجہ سے قیام کے بعد ہی اسے غیرمعمولی شہرت حاصل ہوگئی،ملک کے ناموراورچنندہ علماء اس مجلس سے نہ صرف وابستہ ہوئے بلکہ اس علمی منصوبہ میں عملاشامل بھی ہوئے۔

امام العصرحضرت مولاناانورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اس ادارہ کے رکن بنے،اور اپنی جیب خاص سے ایک رقم بھی عطافرمائی،حضرت کے توسط سے مولانامفتی مہدی حسن شاہ جہاں پوری ؒ بھی اس ادارہ سے وابستہ ہوئے،اور کتاب الحجۃ علی اہل المدینۃ کی تصحیح وتقابل اوروتعلیق کی خدمت بھی انجام دی۔ (۱۳)

۱۳۵۰ھ؁ میں مولانایوسف بنوری ؒاس ادارہ کی مجلس عاملہ کے رکن منتخب ہوئے،اسی طرح نامورعالم دین مولاناعبدالرشید نعمانی ؒ بھی رکن بنائے گئے۔ (۱۴)

 مجلس کاتحقیقی منصوبہ

مجلس کے مقاصد کی تفصیل میں یہ بات گزرچکی ہے کہ امام ابوحنیفۃ ،ؒ ان کے تلامذہ اور متقدمین احناف کی ان کتابوں کی علمی تحقیق کے ساتھ طباعت مجلس کے قیام کابنیادی مقصد تھا،اس مقصد کی تکمیل کے لئے جن کتابوں کی طباعت کامنصوبہ بنایاگیاان کا تذکرہ مولاناابوالوفاافغانی ؒنے اپنے ایک مقالہ میں کیا ہے،ان کتابوں کے نام اس طرح ہیں:

امام ابویوسف ؒ کی تصنیفات مثلا امالی،جوامع،اختلاف الامصار،مسندامام ابوحنیفہ،نوارد(روایت بشربن الولید)

امام محمد کی مصنفات مثلا مبسوط،جامع کبیر،زیادات،زیادۃ الزیادات،سیرصغیر،سیرکبیر،کتاب الصلوۃ،امالی (کیسانیات) ہارونیات، جرجانیات، عمریات، رقیات، مسندامام ابوحنیفہ

امام ابویوسف ؒ کے تلامذہ مثلا ابوسلیمان،ابن سماعہ،ابن رستم،معلی،ہشام کے نوادر

امام ابویوسف کی کتاب الحجۃ علی اہل المدینہ

امام طحاوی کی مختصر،اختلاف العلماء،احکام القرآن

امام کرخی کی مختصر،جامع صغیر کی شرح،جامع کبیر کی شرح

امام خصاف ؒ کی کتاب ادب القاضی

امام جصاص کی جامع کی شرح،مختصرالطحاوی کی شرح،مختصرالکرخی کی شرح

ان کے علاوہ کتاب العلل،عیسی بن ابان کی الحجج،بشربن غیاث الریس کی کتاب الحجج۔ (۱۵)

مولوی مفتی رحیم الدین صاحب (رکن مجلس)نے دعوۃ الاخوان لاحیاء المعارف النعمان میںمتقدمین فقہائے احناف میں سے ۴۳مصنفین کی کتابوں کے نام درج کئے ہیں،ان کے علاوہ کتب متفرقہ کے عنوان سے تفسیر ، حدیث ، فقہ اور اصول کی پچیس سے زائد کتابوں کے نام درج ہیں۔( ۱۶)

ان تمام کتابوں کی تحقیق واشاعت مجلس کے بانی مولاناابوالوفاافغانی اور ان کے رفقاء کے پیش نظرتھی۔

مجلس کی علمی وتحقیقی خدمات

مجلس کی جانب سے تحقیق وتحشیہ کے ساتھ جواہم اور نادرکتابیں شائع ہوئیں ان کی تعداد ۱۶ہے،کتابوں کے نام اس طرح ہیں:

۱۔العالم والمتعلم

۲۔کتاب النفقات امام ابوبکر خصاف

۳کتاب الآثار امام ابویوسف

۴۔کتاب الرد علی سیرالاوزاعی

۵۔کتاب اختلاف ابی حنیفۃ وابن ابی لیلی

۶۔کتاب الاصل امام محمد بن حسن شیانی

۷۔جامع کبیر امام محمد بن حسن شیبانی

۸۔مختصرالامام الطحاوی

۹۔مناقب الامام ابی حنیفۃ وصاحبیہ

۱۰۔اصول الامام شمس الائمۃ السرخسی

۱۱۔النکت امام شمس الائمۃ السرخسی

۱۲۔کتاب الحجۃ علی اہل المدینۃ امام محمد

۱۳۔عقود الجمان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان

۱۴۔اخبارابی حنیفۃ واصحابہ قاضی ابوعبداللہ الصیمری

۱۵۔کتاب الآثار امام محمدبن حسن الشیبانی

۱۶۔التاریخ الکبیر امام بخاری(۱۷)

قاضی اطہرمبارک پوری ؒ نے مجلس کی مطبوعات کی تعداد بارہ ذکرکی ہے،قاضی اطہرمبارکپوری نے ان کتابوں کاتعارف بھی کرایاہے۔ (۱۸)

 مختلف ممالک کے محققین کی مجلس سے وابستگی

مجلس نے جس کام کاآغازکیااس کی اہمیت کااندازہ اس سے ہوتاہے کہ اس کی شہرت کادائرہ قلیل مدت میں ہی ہندوستان سے بڑھ کردنیاکے مختلف گوشوں میں پھیل گیا،مجلس کے علمی وتحقیقی منصوبہ کی پذیرائی ہونے لگی،ہندوستان کے علاوہ عالم اسلام کے چندنامورمحققین اسی طرح بعض دیگرممالک کے ممتازاصحاب علم بھی اس علمی وتحقیقی ادارہ کا حصہ بنے،اور اپنے علمی تعاون سے مجلس کوسرفرازکیا۔

مجلس کے دستورمطبوعہ ۱۹۶۳ء؁ میں اس بات کاتذکرہ موجود ہے کہ علماء ہندکے علاوہ حجاز، شام، ترکی، ایران،افغانستان،فرانس،جرمن اور دوسرے ممالک  کے محققین اس مجلس کی رکنیت قبول کررہے ہیں،اور اس کی علمی وتحقیقی سرگرمیوں میں تعاون کررہے ہیں۔(۲۰)

علامہ زاہدالکوثری مصرکے مایہ نازمحقق اور فقہ حنفی کے شناورتھے،وہ اس ادارہ کے رکن بنے،وہ نہ صرف استنبول کے علمی کتب خانوں کے نوادرات کوحاصل کرنے کاذریعہ بنے بلکہ مختلف کتابوں کی تعلیقات میں ان کاگرانقدرعلمی تعاون شامل رہا۔

علامہ زاہدالکوثری کے توسط سے قاہرہ میں شیخ رضوان محمد رضوان مجلس کے رکن اور قاہرہ میں مجلس کے وکیل منتخب ہوئے،ان کی کوششوں سے مجلس کی کتابیں قاہرہ میں شائع ہوئیں۔(۲۱)

علامہ شیخ محمد راغب طباغ،دارالکتب المصریہ کے مدیرشیخ اسعدبرادۃ،مکتبہ سلطان بایزید استنبول کے شیخ اسماعیل حقی،مصر کے قاضی شرعی ابوالاشبال احمد محمد شاکر،جرمنی کے ڈاکٹریوسف شخت،اور ڈاکٹرریٹرفل ایج جیسے نامور اہل علم مجلس سے وابستہ ہوئے۔(۲۲)

ان کے علاوہ شام کے نامورعالم ومحقق ابوالفتاح ابوغدۃ،فلسطین کے قاضی القضاۃ علامہ خلیل خالدی،مصرکے علامہ نورالدین محمد عتر،شیخ محمد رشاد عبدالمطلب،اور شیخ سعدمحمود خضرمجلس نے مجلس کی رکنیت قبول کی۔(۲۳)

ہندوستان کی علمی تاریخ میں یہ بات آب زرسے لکھنے کے لائق ہے کہ ہندوستان میں قائم ہونے والے ایک علمی ادارہ کی رکنیت مصر،شام، فلسطین، فرانس اور جرمن کے ناموراہل علم کو حاصل رہی ہے۔

مصروشام میں مجلس کے ذیلی دفاترکاقیام

مجلس کے زیراہتمام مخطوطات کی تحقیق کے بعد اس کی طباعت واشاعت کے لئے مولاناابوالوفاافغانی نے باضابطہ مصراورشام میں ذیلی دفاترقائم کئے، ایسے اہل علم مجلس کے وکیل یامعاون بنائے گئے جوطباعت واشاعت اور فروخت کتب کے نظام کودیکھیں۔

مصر میں مجلس کی تحقیق شدہ کتابوں کی طباعت واشاعت کے لئے ذیلی دفتر الجمیۃ التابعۃ لمجلس المعارف النعمانیۃ بمصر کے نام سے قائم ہوا،علامہ محمد زاہدالکوثری کے مشورہ سے شیخ رضوان محمد رضوان اس کے وکیل متعین ہوئے،ان کے بعد شیخ نورالدین عترمصرمیں مجلس کے وکیل بنائے گئے،مصر میں شیخ محمد رشادعبدالمطلب،سیدابونصرالحسینی،شیخ سعدمحمود خضرجیسے اہل علم اس جمیعت کی سرگرمیوں کو انجام دیتے تھے،شیخ رضوان محمد رضوان اور مصر میں مجلس کے دیگرمعاونین کے نام مولاناابوالوفاافغانی کے خطوط میں ان سرگرمیوں کاذکر موجود ہے۔(۲۴)

ان کوششوں کا عملی نتیجہ یہ ہواکہ مجلس سے تحقیق شدہ کتابیں مصرسے شائع ہونے لگیں،اس طرح متعددکتابیں مصرسے شائع ہوئیں،مولاناافغانی نے مصرمیں قائم مجلس کے ذیلی ادارہ کاذکرالنکت میں بھی کیاہے۔

مجلس کے زہراہتمام تحقیق وتحشیہ سے متصف ہوکر درج ذیل کتابیں مصرسے شائع ہوئیں:

۱۔کتاب الآثار امام ابویوسف

۲۔کتاب اختلاف ابی حنیفۃ وابن ابی لیلی از امام ابویوسف

۳۔کتاب الردعلی سیرالاوزاعی از امام ابویوسف

۴۔جامع کبیرامام محمد

۵۔مختصرالامام الطحاوی

۶۔مناقب الامام ابی حنیفۃ وصاحبیہ ابی یوسف ومحمد بن الحسن الشیبانی

۷۔اصول الامام شمس الائمہ السرخسی (۲۵)

شام میںمجلس کادفتر

مصرکی طرح حلب شام میں بھی مجلس کاذیلی دفترقائم ہوا،یہاں کے نامورعالم ومحقق شیخ ابوالفتاح ابوغدہ اس ادارہ کے وکیل منتخب ہوئے،شیخ ابوالفتاح ابوغدہ کے نام مولاناافغانی کے خط میں بھی اس کاذکر موجود ہے۔ (۲۶)

مجلس کے امتیازات

۱۔مجلس کاسب سے بڑاکارنامہ جس نے مجلس کوتاریخ کے صفحات میںشہرت عام اوربقائے دوام بخشاوہ فقہ حنفی کے بنیادی مصادرکی طباعت واشاعت ہے،مجلس کی کوششوں سے ہی فقہ حنفی کے اولین مصادرکی متعددکتابیں پہلی مرتبہ اہل علم تک پہونچ سکیں،یہ ایساکام ہے جس میں کوئی ادارہ اس کاہمسراور ثانی نہیں ہے،اس وقت کے اہل علم نے مجلس کی اس عظیم خدمت کی نہ صرف تحسین کی بلکہ اس اولیات کاکھلے دل سے اعتراف بھی کیا۔

مجلس کی دس سالہ رپورٹ میں اس بات کا تذکرہ موجود ہے کہ مجلس نے کتب ظاہرروایت کے علمی سرمایہ کو دوبارہ زندہ کرنے کاکام کیاہے، ڈاکٹر سعید بن مخاشن مجلس کی رپورٹ کے اس حصہ کواپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیاہے:

ان ہذا المجلس مع المجلس العلمی والمجلس الاداری لم یزل یواصل مسیرتہ بھدوء منذ عشر سنوان وان الاعمال التی قدمہا المجلس خلال ہذہ الفترۃ ستتجلی اہمیہتا فی الایام الآتیۃ وہذا جدیر بالذکر ان الفضل یرجع الی المجلس فی احیاء کتب ظاہرالروایۃ ولم یتحقق ذلک الا بفضل اللہ عزوجل وتوفیقہ الحمدللہ والمنۃ۔(۲۷)

۲۔مجلس کادوسرابڑاکارنامہ ان کتابوں کی طباعت ہے جواہل علم کی نظرسے اوجھل ہوچکی تھیں،بلکہ صحیح معنوں میں ناپیدسی ہوگئی تھیں،مجلس کی کوششوں سے وہ کتابیں پہلی مرتبہ زیورطبع سے آراستہ ہوئیں،اور تحقیق کے بعد اہل علم کی آنکھوں کاسرمہ بنیں،ایسی کتابوں میں امام ابویوسف کی کتاب الآثار،امام ابویوسف کی کتاب الردعلی سیر الاوزاعی، کتاب اختلاف ابی حنیفۃ وابن ابی لیلی،امام محمد کی جامع کبیر، امام سرخسی کی کتاب النکت،امام محمد کی شرح زیادۃ الزیادات ،مختصرالطحاوی اور کتاب الحجۃ علی اہل المدینۃ شامل ہیں۔

۳۔تیسرامتیازی پہلو تحقیق کااندازہے،مجلس کی تمام مطبوعات خواہ وہ پہلی مرتبہ شائع ہوئیں یاپہلے شائع ہوچکی تھیں،دوبارہ مجلس نے اشاعت کانظام بنایا،تمام مطبوعات تحقیق وتحشیہ کے بعد ہی شائع ہوئی ہیں،اکثرکتابوں کی تحقیق کاعمل مجلس کے موسس مولاناابوالوفاافغانی نے خود ہی انجام دیاہے۔

مولاناافغانی کی تحقیق کامنہج کیاتھا،اس بارے میں مولانانے اکثر کتابوں کے مقدمہ میں لکھاہے،،کتاب اختلاف ابی حنیفۃ وابن ابی لیلی میںبیان فرماتے ہیں:

فہذا الکتاب جلیل القدر عظیم الشان نادرالوجود احتج فیہ باحادیث وآثار مرفوعۃ وموقوفۃ مسندۃ ومنقطعۃ من بلاغاتہ ،فاحبت لجنۃ احیاء المعارف النعمانیۃ ان تنشر فلم نجد لہ الا نسخۃ واحدۃ فی الہند فارتاحت اللجنۃ ان اسعی فی تصحیحہ وشرح بعض غریب لغتہ وایضاح بعض مسائلہ ،وتخریج احادیثہ وتراجم رجالہ فقمت بہذہ المہمۃ علی قدر استطاعتی مع قصر باعی وقلۃ بضاعتی مستعینا باللہ تعالی فصححتہ بقدر وسعی وخرجت احادیثہ وعزوتہا الی مخرجیہا ماوجدت الی ذلک سبیلا ولا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا وترجمت رجال احادیثہ ناقلا من الکتب المشہورۃ فی فن الرجال کتہذیب التہذیب والخلاصۃ وتعجیل المنفعۃ ولسان المیزان وغیرہا ولم اترجم للصحابۃ الا نادرا لانہم کلہم عدول مشاہیر ومن ترجمت لہ من الصحابۃ انما ترجمت لہ فی ضمن تراجم ابنائہا للمناسبۃ او لعدم شہرتہم وشرحت غریبہ بمدد الکتب الشہیرۃ فی اللغۃ کالمغرب فی مصطلح الفقہ ومجمع بحارالانوارلغریب الحدیث وغیرہما۔(۲۸)

۴۔مولاناافغانی نے مخطوطات کی تحقیق میں نسخوں سے موازنہ پربڑی توجہ دی ہے،مولاناکا منہج یہ تھاکہ جس کتاب پرکام شروع کرتے اس کے نسخوں کو بڑی عرق ریزی کے ساتھ تلاش کرتے،مختلف نسخوں کو جمع کرتے ،ایک سے زائدنسخے موجود ہونے کی صورت میں جونسخہ صحت کے لحاظ سے زیادہ قابل اعتمادہوتااس کو اصل کتاب قراردے کر موازنہ کرتے،مخطوطات کو حاصل کرنے میں تلاش وجستجواور چھان بین کی جوروایت انہوں نے قائم کی ہے وہ عدیم المثال ہے،یہ تحقیق کاایسابلندمعیارہے جس کی تقلید آسان نہیں ہے۔

امام محمد بن حسن کی کتاب الاصل کومولاناافغانی نے ایڈٹ کیا،اس مخطوطہ کی تحقیق کے وقت مولاناکے پاس درج ذیل نسخے تھے:

ا۔ہندوستانی نسخہ،اس کے لئے’’ ہ‘‘ کارمزاختیارکیاگیا،مولاناافغانی کے بقول اس نسخہ میں تصحیف بھی ہے اور اسقاط بھی۔

۲۔احیاء المعارف النعمانیۃ کانسخہ،اس کے لئے’’ ز‘‘کارمزاستعمال ہواہے،یہ جامع ازہرکے نسخہ کانقل ہے۔

۳۔مکتبہ آصفیۃ کانسخہ،اس کے لئے’’ ص‘‘ کارمزاستعمال کیاگیاہے۔

۴۔مکتبۃ المدرسہ الاحمدیہ،حلب کانسخہ۔

۵۔نسخہ مکتبہ عاطف

مولانانے ازہروالے نسخہ سے کتاب الصلوۃ کاحصہ علامہ محمد راغب الطباع کو بھیجاتاکہ وہ نسخہ احمدیہ سے اس کاموازنہ کرکے بھیجیں۔

مولاناکی رائے کے مطابق ان نسخوں میںمکتب عاطف کانسخہ زیادہ بہترتھاچنانچہ اسی نسخہ کوبنیادبنایا۔

کتاب کی تصحیح کے لئے آستانہ میں مکتبہ مراد ملاکے نسخہ کی نقل،اسی طرح دارالکتب مصرکے نسخوں کی نقل حاصل کی گئی۔(۲۹)

جامع کبیرکے نسخوں کے بارے میں مولاناافغانی فرماتے ہیں:

جامع کبیرکے نسخوں کی تلاش شروع کی،توہندوستان کی لائبریریوںمیںاس کاکوئی نسخہ نہیں ملا،البتہ استانبول کے مکتبہ شیخ الاسلام ولی الدین آفندی اور دارالکتب المصریہ کی فہرست کتب میں یہ نسخہ ملا،دارالکتب المصریہ کانسخہ ناقص تھا۔(۳۰)

جب مجلس احیاء المعارف النعمانیہ کی علمی کمیٹی نے اس کتاب کواشاعت کے لئے منظورکیاتومولاناافغانی نے بھوپال اور ٹونک کاسفرکیا،وہاں عبدالرحیم صاحب زادہ کی لائبریری میں ایک نسخہ ملا،پھروہاں سے دہلی تشریف لے گئے،پھر پیشاور تاکہ مشایخ قادریہ کے مکتبات کودیکھ سکیں،اس پورے سفرمیں صرف ٹونک کانسخہ میسرآیا،نقل حاصل کرنے کے لئے دوبارہ ٹونک کاسفرکیا،وہاں کے کاتب نے مخطوطہ کی تحریرکودیکھ کرنقل کرنے سے انکار کردیا،چنانچہ مولانا افغانی نے اپنے ہاتھوں سے نقل کرناشروع کیا،اور تقریباستائیس دنوں کی مسلسل محنت اور جہدوجہدکے بعد مکمل نسخہ کونقل کرلیا،نسخہ حاصل کرنے کی جوخوشی مولاناکوہوئی اس کااندازہ مولاناکی اس تحریرسے لگایاجاسکتاہے،مولانااس واقعہ کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

فانی کنت اعمل طول النہار واطراف اللیل ورجعت مسرورا ببغیتی ظافرا بخزانۃ مکنونۃ من خزائن اسلافنا ودرۃ فریدۃ من دررہم الغالیۃ شاکرا لربی اعانتہ وتوفقہ قائلا:فزت ورب الکعبۃ بنعمۃ جلیلۃ ووجدت ورب محمد ضالۃ المومن وبغیۃ المسلم فللہ الحمد والمنۃ۔(۳۱)

مشہورجرمنی مشتشرق ڈاکٹریٹرسے اس مخطوطہ کے سلسلہ میں مراسلت بھی کی،اور ان کے واسطہ سے شیخ الاسلام ولی الدین آفندی کے مکتبہ کانسخہ حاصل ہوا۔

اس کے علاوہ مصرکے عالم شیخ محمد اسعدبرادہ بیگ سے مراسلت کی اور ان کے واسطہ سے دارالکتب المصریۃ کانسخہ حاصل کیا،اسی طرح نامورعالم شیخ محمد راغب طباغ جواللجنۃ العلمیۃ حلب کے رکن تھے،ان سے شرح العتابیہ حاصل کیا۔(۳۲)

ان تفصیلات سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ کس قدردقت ریزی کے ساتھ نسخوں کے مقابلہ کاعمل ہوتاتھا۔

مجلس کے بارے میں مشاہیرکے تاثرات

مولانازاہدالکوثری نے ایک خط میں لکھا:

میں آپ حضرات کی خدمت میں نہایت ہی شکریہ کے ساتھ اپنے احترامات اور اشتیاق کو پیش کر رہاہوں کہ آپ حضرات نے ہمارے ائمہ فقہاء اور سادات حنیفہ کی قدیم کتب کی طباعت کے اہتمام کے لئے ایک بہت بڑی مجلس علمیہ بنائی،خدا کرے کہ آپ اپنے اس عمل واجب کو جواس زمانہ میں چھوڑ دیا گیا ہے، اس کوقائم کردیں۔(۳۳)

فقہ شافعی کے ممتازعالم،عظیم محقق اور مصرکے قاضی ابوالاشبال احمد محمد شاکرمجلس کی خدمات کااعتراف کرتے ہوئے ایک خط میں لکھتے ہیں:

میں نے کتب متقدمین احناف رضی اللہ عنہم کے طباعت کے لئے قیام مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ کی اطلاع پائی تو میرے نفس میں رشک پیدا ہوا،یہ اتنابڑاکام ہے کہ جس سے ہرمسلمان صادق الایمان خوش ہوگا،اس لئے کہ اس کے قیام میں آثار سلف صالح کا احیاء اور اس کے علوم کی نشرواشاعت ہے … میں نے اس مبارک مجلس کاقیام کا تذکرہ اپنے استاذحضرت مجمع الفضائل مفتی دیارمصر محمد بخیت صاحب سے کیا،انہوں نے اس فائدہ بخش کام پر بے حد مسرت کااظہار کیااور فرمایاکہ میں بھی حتی الوسع آپ کی موقرمجلس کی خدمت کے لئے حاضرہوں،اور جوکام بھی مجھ سے ہوسکے میں اس کو پوراکرنے کی کوشش کروں گا۔(۳۴)

علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے مجلس کی علمی کاوشوں کوسراہتے ہوئے لکھاکہ

ہمارے لئے فخرکی بات ہے کہ ہمارے یہاںکے متعددعلماء اپنی علمی وتحقیقی کوششوں کی وجہ سے تحقیق کے کمال تک پہونچ گئے یہاں تک کہ وہ یورپ کے محققین کے برابرنظرآنے لگے،انہی چنندہ اہل علم میں مولاناابوالوفاافغانی بھی شامل ہیں۔(۳۵)

مولانایوسف بنوری ؒ لکھتے ہیں:

موصوف کی زندگی کا سب سے بڑاقابل صدفخرکارنامہ مجلس احیاء المعارف النعمانیہ جیسے ادارے کی تاسیس ہے،اس ادارے کااساسی مقصد یہ تھاکہ حضرات ائمہ کرام ،امام ابوحنیفہ ،ابویوسف ،محمد بن حسن الشیبانی رحمہم اللہ کی اصلی کتابوں کو مہیا کرکے تعلیقات ومقدمات کے ساتھ عمدہ سے عمدہ صورت میں شائع کیاجائے،اس کے بعد طبقہ ثانیہ وثالثہ کے ائمہ فقہائے احناف کی تالیفات کی خدمت کی جائے۔(۳۶)

مجلس کی جانب سے الجامع الکبیر کی تحقیق واشاعت پرماہنامہ معارف نے ان الفاظ میں ستائش کی:

مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ حیدرآباددکن جوفقہ حنفی کی امہات کتب کوچھاپنے کاکام بڑی محنت سے انجام دے رہی ہے،ابھی حال ہی میں اس نے امام محمد ؒ کی مشہور کتاب ’جامع کبیر‘چھاپ کر شائع کی ہے،کتاب کے مسودہ کے مصحح مولاناابوالوفاصاحب قندھاری ؒ نے جس طرح ٹونک (راجستھان)جاکر ستائیس دنوں میں اس کتاب کو اپنے ہاتھوں سے نقل کیااور مصروقسطنطنیہ سے اس کے عکسی نسخے منگواکر مقابلہ وتصحیح اور تحشیہ کی خدمت انجام دی وہ علماء سلف کی محنتوں کویاد دلاتی ہے۔(۳۷)

مولاناعبدالماجد دریابادی ؒ کتاب الآثار پرتبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

یہ مجلس قابل مبارکباد وصدرمجلس مولاناابوالوفاصاحب کی کوشش کہ موصوف نے کمال مشقت وقابلیت سے جدید طرز پرمرتب ومحشی کرکے اسے شائع فرمایا،مرتب کی محنت اور دیدہ ریزی کاندازہ فہرست کتاب کی ترتیب سے ہوسکتاہے،لیکن ان کی تلاش وتفحص اور ذوق علم کودیکھناہے تواس کاپتہ ان کے حواشی اور تعلیقات پرنظر کرنے سے چلے گا،جوشروع سے آخرتک بڑی کثرت کے ساتھ ہیں۔(۳۸)

مجلس کے مؤسس مولاناابوالوفاافغانی

مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ دراصل مولاناابوالوفاافغانی کاتخیل تھا،اس تخیل کوعملی پیکرعطاکرنے میں ان کے ساتھ متعدداہل علم قافلہ بحث وتحقیق میں شامل رہے،مگراصل کام مولاناافغانی نے ہی انجام دیا،مجلس کی تمام خدمات مولاناکے علمی وتحقیقی شان کے گواہ اور مولاناکی جدوجہدکی رہین منت ہیں۔

ڈاکٹرمحمد فضل اللہ شریف لکھتے ہیں:

حضرت علامہ کی ذات جواس ادارہ کی نہ صرف موسس ومحرک رہی بلکہ آپ ہی اس ادارہ کے سب کچھ تھے،آپ کی کاوشیں اس ادارہ کے لئے ناقابل فراموش تھیں،تصحیح ومقابلہ کی مشقت سے قطع نظر حواشی وتعلیقات جس کثرت سے آپ نے شامل کیاہے وہ یقینا جان فشانی کاکام ہے،حضرت علامہ نے مختلف قلمی نسخہ جات کی تلاش میں جو مشقت اٹھائی وہ آپ ہی کاحصہ تھا،نسخوں کی تلاش میں دوردرازمقامات کا تکلیف دہ سفر کیا،کہیں نسخہ ملا،کاتب کسی وجہ سے نہ مل پائے توخود ہی اس کی نقل فرمائی،اور اگر اس راہ میں کوئی پیچیدگی آئی تو بعض بااثر حضرات سے سفارش کراکر اسے دور کرنے کی کوشش کی۔(۳۹)

 مولاناابوالوفاافغانی ۱۰/ذی الحجہ ۱۳۱۰ھ؁ میں افغانستان کے شہرقندہارمیںپیداہوئے،آپ کااصلی نام سید محمود شاہ قادری ہے ، اور والد کا نام مولانا سیدمبارک شاہ قادری ہے،ابوالوفاکنیت ہے، اسی نام سے آپ کوشہرت حاصل ہوئی،آپ کاتعلق قندھارکے دینی وعلمی گھرانہ سے تھا، والد اور دادا دونوں علم دوست تھے،اورسلسلۂ قادریہ سے متعلق تھے۔

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدمحترم سے حاصل کی جوعالم دین تھے،اورانہی کے زیرسایہ پروان چڑھے۔

چودہ سال کی عمرمیں والدمحترم کاسایہ سرسے اٹھ گیا،اسی عمرمیںانہوں نے تحصیل علم کی خاطر ہندوستان کارخ کیا،اورسب سے پہلے گجرات پہونچے،(مولاناابوبکرمحمدہاشمی ؒ نے پہلے رامپورجانے کاجانے کاتذکرہ کیاہے،دیکھئے کتاب الآثار،ج۲،ص:۳۲۶) اوروہاں کے علماء سے اکتساب فیض کیا،اس کے بعدرامپورپہونچے ،اورمدرسہ عالیہ میں داخلہ لیا،یہاں معقولات ومنقولات کی بعض کتابیں پڑھیں،اس کے بعد ۱۳۳۰ھ؁ میں حیدرآبادپہونچے،جہاں آپ کی قسمت کاستارہ چمکنے والاتھا،آپ نے حیدرآبادکے مشہور تعلیمی ادارہ جامعہ نظامیہ میں داخلہ لیا،اس وقت اس ادارہ کی شہرت کا آفتاب نصف النہارپرتھا،جامعہ کے بانی مولاناانواراللہ فاروقیؒ علم ومعرفت کا مرکز تھے، مولانا افغانی نے مولاناانواراللہ فاروقی صاحب ؒسے خصوصی استفادہ کیا۔(۴۰)

جامعہ نظامیہ میں آپ نے تفسیر،حدیث ،فقہ ،قرأت میں مہارت حاصل کرکے سندفراغت حاصل کی،آپ کے اساتذہ میں مولاناانواراللہ فاروقی ؒ کے علاوہ مولانا عبدالصمدقندہاری افغانی، مولاناعبدالکریم افغانی ،مولانامحمدیعقوب ،مولاناحافظ محمدایوب ،مولانامفتی محمدرکن الدین وغیرہ شامل ہیں،ان کے علاوہ دیگر اساتذہ سے بھی فیضیاب ہوئے،بطورخاص مفتی رکن الدین ؒ سے فقہ میں مہارت حاصل کی،جبکہ علامہ سیدابراہیم رضوی سے ادب میں کمال پیدا کیا، شیخ محمدالیمانی کے پاس حفظ کی تکمیل کی اورقرأت میں کمال پیداکیا۔(۴۱)

جامعہ نظامیہ میں تعلیم کی تکمیل کے بعدوہیں استاذمقررہوئے ،اورطویل عرصہ تک تدریس سے وابستہ رہے،آپ نے خاص طورپرحدیث وفقہ اورعربی زبان وادب کادرس دیا،تدریس میں ترقی کرتے ہوئے آپ نائب شیخ الفقہ کے منصب تک پہونچے ،اس مدت میں بڑی تعدادمیں تشنگان علوم آپ سے سیراب ہوئے،جن میں بہت سے افرادمختلف علوم وفنون میں ماہرہوئے،اورجنہوں نے دین اورعلم دین کی بہترین خدمات انجام دیں۔

مولاناافغانی کومختلف علوم میں مہارت حاصل تھی،جس کااثرآپ کی تدریس میں بھی نمایاں نظرآتاہے،آپ کی تدریس کامنہج کئی لحاظ سے ممتازتھا، پروفیسر ڈاکٹر محمدسلطان محی الدین آپ کی فقہ کی تدریس کے طریقہ پرروشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

کان منہج دروسہ ومحاضراتہ منہجاعلمیاواسلوبا تحلیلیا مثل منہج الفقہاء الاعلام یبحث ابان الدرس عن المسائل الفقہیۃ المختلفۃ بین الائمۃ ویبین الاحکام المستخرجۃ من الآیات والآحادیث ویذکرادلۃ المذاہب وحججہا واسباب اختلاف الفقہاء فلا یقتصربذلک بل یحاکم محاکمۃ مبنیۃ علی النصوص واصول المذہب وکذلک یبذل جہدہ فی الدرس بتحقیق المتن والاسنادودفع التعارض والترجیح باحدالجانبین وتعضیدالمذہب الحنفی بآثارصحیحۃ وادلۃ قویۃ۔(۴۲)

 آپ اپنے گھرپرہرسنیچرکودرس دیاکرتے تھے،کہاجاتاہے کہ اس ہفتہ وارمجلس میں محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب’ زجاجۃ المصابیح ‘کا درس بھی دیا کرتے تھے،اس مجلس کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اس میں شہرکے ممتازاہل علم مثلاعثمانیہ یونیورسیٹی اورجامعہ نظامیہ کے اساتذہ شریک ہوتے تھے،اہم شرکاء میں ڈاکٹرعبدالستارخان،ڈاکٹرغلام محمد،پروفیسرعبدالغفارخان (اساتذہ عثمانیہ یونیورسیٹی)،جامعہ نظامیہ کے شیخ التفسیرمولاناحافظ ابراہیم خلیل،مولاناابوبکرمحمدہاشمی،مولانافاروق ہاشمی جیسے ممتازاصحاب فضل وکمال کے اسماء شامل ہیں۔(۴۳)

مولاناافغانی ؒ کواللہ تعالی نے بڑی صلاحیتوں سے نوازاتھا،بلاشبہ آپ ایک متبحرعالم تھے،مختلف علوم میں آپ کو کمال حاصل تھا،خصوصاحدیث وفقہ میں رسوخ حاصل تھا،فقہی متون پرآپ نے جوعظیم الشان علمی وتحقیقی خدمت انجام دی ہے وہ آپ کے تحقیقی ذوق کاآئینہ دارہے۔

شیخ عبدالفتاح ابوغدہ نے آپ کے تعارف میں جن القاب کااستعمال کیاہے ان سے آپ کے علمی قدوقامت کا اندازہ ہوتاہے،وہ لکھتے ہیں :

وہوالعلامۃ المحقق الفقیہ الاصولی المحدث الناقدالمقری السیدمحمودشاہ القادری الحنفی ابن السیدمبارک شاہ القادری الحنفی المشہوربابی الوفاالافغانی ذوالمآثرالباقیۃ والمناقب العالیۃ۔(۴۴)

مولاناابوبکرہاشمی صاحب لکھتے ہیں:

کان رحمہ اللہ مسندا لجمیع العلوم من القراء ات والتفسیرو الحدیث والفقہ وذا صیت فی الفقہ الاسلامی واحیاء کتب الائمۃ الکبار الحنفیۃ جمع من مکتبات العالم ونشر من لجنۃ احیاء المعارف النعمانیۃ ما ہو معروف عند العلماء المحققین۔(۴۵)

 پروفیسر ڈاکٹر محمدسلطان محی الدین آپ کے علمی منزلت پرروشنی ڈالتے ہوئے تحریرکرتے ہیں:

کان رحمہ اللہ عالمابارعامتضلعافی العلوم العقلیۃ والنقلیۃ وعلی الاخص فی الحدیث النبوی والفقہ الاسلامی کان لہ باع طویل فی القرا ء ات ونظم القرآن ورسمہ والتاریخ ایضا کان مستحضرافی الاصول وفروع المذاہب وقدانتہت الیہ رئاسۃ المذہب الحنفی  فی الدکن وکان لہ مشارکۃ تامۃ فی العلوم العربیۃ من النحووالصرف وعلوم البلاغۃ والمنطق والفلسفۃ القدیمۃ وکذلک کان عندہ ذخیرۃ وافرۃ من التاریخ الاسلامی والتاریخ العالمی ایضاویذکراحیانا الوقائع والحوادث التاریخیۃ بادق تفاصیلہابالشواہدوکان لہ آراء خاصۃ حول التاریخ والجغرافیاالعالمی وکان واسع الاطلاع علی وقائع الاسروالجالیات والرجال واحوالہم وانسابہم فہومنقطع النظیرفی زمانہ لغزارۃ علمہ وفضلہ واستقامۃ عملہ۔(۴۶)

مولاناڈاکٹرمسعوداحمداعظمی لکھتے ہیں:

مولاناافغانی کی شخصیت بہت سے ظاہری وباطنی اورعلمی واخلاقی اوصاف وکمالات کامجموعہ تھی،علم وفضل میں ان کاپایہ نہایت بلندتھا،ادب وتاریخ اورفقہ وحدیث میں سندکادرجہ حاصل تھا،بالخصوص فقہ حنفی کے ساتھ ان کاشغف مثالی تھا،علم کے لئے انہوں نے دنیاکوتج دیاتھا،عیش وآرام اورراحت وآسائش ان کے لئے متروکات سخن کے درجہ میں تھیں،شادی نہیں کی،اورپوری عمرتجردکی حالت میں گزاردی۔ (۴۷)

مولانایوسف بنوری ؒ لکھتے ہیں:

افغانستان وقندھار کایہ مایہ نازعالم جس نے حیدرآباد دکن کواپناگہوارہ علم بنالیاتھا،ان کے کمالات وصفات کے بیان کے لئے دفتر چاہئے،وہ فقہ حنفی کے امام تھے،قدمائے حنیفہ کی کتابوں کے حافظ تھے،امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں کے عاشق تھے،جس دیدہ ریزی سے ان ائمہ کی کتابوں کودنیاکے گوشہ گوشہ سے جمع کرکے ان کی حفاظت کرتے تھے،اور پھران کی اشاعت کے انتظامات کرتے تھے،آج کی دنیا اس کا اندازہ لگانے سے بھی قاصرہے،زہدوتقوی کایہ پیکر مجسم جس مقام پرپہونچاتھا یہ عیش پرست دنیااس کاتصور بھی نہیں کرسکتی،ورع وخشیت کاجو درجہ ان کانصیب تھاعصر حاضر کاگمان بھی وہاں نہیں پہونچ سکتا۔(۴۸)

مولاناافغانی جہاں علم وتحقیق کے لحاظ سے بلندمقام پرفائزتھے،وہیں اخلاق ،ورع وتقوی کے اعتبارسے یکتائے روزگار تھے،مولانایوسف بنوری ؒ ان کے اوصاف وکمالات کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مرحوم صحیح معنی میں عالم باعمل تھے،قرآن کے حافظ تھے،عشرہ قرأت کے عالم تھے،تجویدوقرأت میں دوکتابوں کے مصنف تھے،رات کو جب اٹھتے تھے تو جب تک وضو کرتے تھے اور نماز کی تیاری کرتے تھے دردناک فارسی اشعار پڑھتے تھے اور خوب رویاکرتے تھے،پھرتہجد میں طویل طویل قیام کرتے تھے،اور درد ناک لہجے میں اس والہانہ اندازمیں قرآن کریم کی قرأت کرتے کہ سننے والوں کوتڑپادیاکرتے تھے،اور بسااوقات آہ وبکاکی کیفیت طاری ہوتی تھی،صبح کی نماز کوپڑھایاکرتے ،طوال مفصل کی بڑی سورتیں پڑھتے تھے،اور کبھی کبھی نماز میں حفص رحمہ اللہ کے علاوہ بقیہ قرأت سبعہ میں سے کوئی قرأت پڑھاکرتے تھے۔

مدرسہ نظامیہ حیدرآباد دکن میں عرصہ دراز تک مدرس اوراستاذرہے تھے،بعد میں معمولی سی پنشن ہوگئی تھی،بس اس حقیر سی پنشن سے قوت لایموت کی زندگی بسر کرتے تھے،کبھی کسی رئیس جاگیردارکانہ کھاتے تھے،نہ کسی حیدرآبادی رئیس وجاگیردار کی دعوت قبول کرتے تھے،وہ جاگیردار جو صالحین میں شمار ہوتے تھے ان کے یہاں بھی چائے کاایک گھونٹ تک نہیں پیا،باوجوداس کے یہ تمام روساء وجاگیرداران سے ایسی عقیدت رکھتے اور ان کاایسااحترام کرتے تھے کہ عقل حیران ہے،کمال یہ ہے کہ کبھی ان روساء کے یہاں جایاکرتے تھے لیکن نہ چائے پیتے نہ پانی۔ (۴۹)

۱۳/رجب ۱۳۹۵ھ؁ میں آپ کاانتقال ہوااورمقبرہ نقشبندیہ مصری گنج حیدرآبادمیں مدفون ہوئے۔

مراجع:

۱۔دعوۃ الاخوان لاحیاء معارف النعمان،مرتب:مولاناالحاج مولوی مفتی عبدالرحیم صاحب رکن مجلس،مطبع اعظم اسٹیم پریس،حیدرآباد

۲۔حضرت علامہ ابوالوفاافغانی ؒ،اہل نظر کی نظر میں،مرتب:محمد فصیح الدین نظامی،طبع:آر ایس پروسیس،لکڑی کا پل ،حیدرآباد،۲۰۰۰ء؁

۳۔دکن میں اسلامی علوم کی خدمات،مرتبین :مولاناڈاکٹرفہیم اخترندوی،ذیشان سارہ،انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی،طبع:۲۰۲۳ء؁

۴۔مآثرومعارف، ص:۳۷۰، مولاناقاضی اطہرمبارکپوری،ندوۃ المصنفین،اردوبازارجامع مسجد دہلی،مارچ ۱۹۷ء؁

     حوالے:

۱۔الجامعۃ النظامیۃ ومساہمتہا فی الادب العربی،ص:۲۸۳،مجلس احیاء المعارف النعمانیہ،ص:۱۸

۲۔مقدمہ النکت،شمس الائمۃ السرخسی،تحقیق :ابوالوفاالافغانی

۳۔مقدمہ کتاب الآثار لابی یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری،تحقیق: ابوالوفاالافغانی

۴۔مجلۃ المجمع العلمی العربی ،جلد۱۲،۱۹۳۲ء؁،ص:۴۴۲،بحوالہ مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ،ص:۱۱۸

۵۔دعوۃ الاخوان لاحیاء المعارف النعمان،مرتب :مفتی عبدالرحیم ،ص:۲۱

۶۔مولانامحمد فصیح الدین ،مولانا افغانی اہل نظرکی نظر میں،ص:۳۰،،طبع:آر ایس پروسیس،لکڑی کا پل، حیدرآباد، ۲۰۰۰ء؁

۷۔مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ،ص:۵۲

۸۔دستورمجلس احیاء المعارف النعمانیہ،۱۳۵۲ھ،ص:۱۴،بحوالہ مجلس المعارف النعمانیۃ،ص:۵۳

۹۔دیکھئے دعوۃ الاخوان لاحیاء معارف النعمان،ص:۲۱

۱۰۔چھ سالہ کارکردگی رپورٹ،ص:۸،بحوالہ مجلس المعارف النعمانیۃ،ص:۵۶

۱۱۔چھ سالہ کارکردگی رپورٹ، ص:۵، بحوالہ مجلس المعارف النعمانیۃ،ص:۵۷

۱۲۔دستورمجلس احیاء المعارف النعمانیۃ،ص:الف،دس سالہ کارکردگی رپورٹ،ص:۵،بحوالہ مجلس المعارف النعمانیۃ،ص:۵۸

۱۳۔بنوری،مولاناسیدمحمد یوسف،یادرفتگاں،ص:۱۶۲،مطبع:مکتبہ بینات ،کراچی

۱۴۔یادرفتگاں،ص:۱۶۳

۱۵۔مجلۃ المجمع العلمی العربی ،جلد۱۲،۱۹۳۲ء؁،ص:۴۴۲،بحوالہ مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ،ص:۱۱۷

۱۶۔دعوۃ الاخوان لاحیاء معارف النعمان،ص:۲۱

۱۷۔مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ،ص:۱۳۷

۱۸۔مبارکپوری، مولاناقاضی اطہر مآثرو معارف، ص:۳۷۰،،ندوۃ المصنفین،اردوبازارجامع مسجد دہلی،مارچ ۱۹۷ء؁

۱۹۔مجلس کے دستورمطبوعہ ۱۹۶۳ء؁،ص:۵،بحوالہ مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ، ص:۱۱۳

۲۱۔یادرفتگاں،ص:۱۶۲

۲۲۔دس سالہ کارکردگی رپورٹ،ص:۶،بحوالہ مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ، ص:۵۹

۲۳۔مجلس احیاء المعارف النعمانیۃص:۱۱۴

۲۴۔مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ،ص:۸۱تا۸۶،یادرفتگان،ص:۱۶۲

۲۵۔مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ،ص:۹۰،ص:۱۱۱

۲۶۔مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ،ص:۹۰،ص:۱۱۱

۲۷۔مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ، ص: ۱۷۸

۲۸۔اختلاف ابی حنیفۃ وابن ابی لیلی،ص:۵۔۶

۲۹۔کتاب الاصل،محمد بن حسن الشیبانی،ج۱،ص:۹۔۱۳

۳۰۔مقدمہ الجامع الکبیر ،ص:۵۰

۳۱۔مقدمہ الجامع الکبیر ،ص:۵

۳۲۔الجامع الکبیر،ابوعبداللہ محمد الحسن الشیبانی،ص:۵۔۷

۳۳۔مولاناافغانی اہل نظرکی نظر میں،ص:۶۷

۳۴۔مولاناافغانی اہل نظرکی نظر میں،ص:۷۱

۳۵۔چھ سالہ کارکردگی رپورٹ ،ص:۹،بحوالہ مجلس احیاء المعارف النعمانیۃ،ص:۲۵۷

۳۶۔یادرفتگان،ص:۱۶۲

۳۷۔ماہنامہ معارف،جمادی الثانی،۱۳۵۷ھ؁

۳۸۔ہفتہ روزہ صدق،لکھنؤ،یکم جنوری ۱۹۳۸ء؁

۳۹۔دکن میں اسلامی علوم کی خدمات،مضمون :ڈاکٹرمحمد فضل اللہ شریف

۴۰۔ملخص ازعلماء العربیۃ ومساہمتہم فی الادب العرب فی العہدالآصفجاہی، ص: ۲۷۰

۴۱۔ملخص ازعلماء العربیۃ ومساہمتہم فی الادب العرب فی العہدالآصفجاہی، ص: ۲۷۰ ،کتاب الآثارللامام محمد،ج۲،ص:۳۲۶،مضمون شیخ ابوبکرمحمدالہاشمی

۴۲۔علماء العربیۃ ومساہمتہم فی الادب العرب فی العہد الآصفجاہی، ص:۲۷۲

۴۳۔ملخص ازعلماء العربیۃ ومساہمتہم فی الادب العرب فی العہدالآصفجاہی ص:۲۷۲

۴۴۔عبدالفتاح ابوغدہ،العلماء العزاب الذی آثروا العلم علی الزواج،ص:۱۲۳،مکتبۃ المطبوعات الاسلامیۃ، بیروت ،لبنان

۴۵۔کتاب الآثار للامام محمد، ج۲،ص:۳۲۷

۴۶۔علماء العربیۃ ومساہمتہم فی الادب العرب فی العہدالآصفجاہی،ص:۲۷۱

۴۷۔اعظمی،ڈاکٹرمسعوداحمد ،حیات ابوالمآثر،ج۱،ص:۵۴۷،مطبع:مرکزتحقیقات وخدمات علمیہ،مئو، ۲۰۰۰ء ؁

۴۸۔یادرفتگاں،ص:۱۶۰

۴۹۔یادرفتگاں، ص:۱۶۱۔ ۱۶۲

Tags

Share this post: