کانسٹی ٹیوشن کوئیزاور’اسلامی معاشیات کے اعلی تعلیم کے مواقع ‘‘پرمحاضرہ

مجلس تحقیقات شرعیہ کی دواہم سرگرمیاں

کانسٹی ٹیوشن کوئیزاور’اسلامی معاشیات کے اعلی تعلیم کے مواقع ‘‘پرمحاضرہ

                                                                             رپورٹ :محمدعامر ندوی

                                                                             (باحث مجلس تحقیقات شرعیہ )

 مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماءکے زیر اہتمام طلبہ کی فکری بیداری، علمی وسعت اور عصری شعور کو جلا بخشنے کے لیے یوم آئین(Constitution Day) کی مناسبت سے ایک نہایت اہم اور بامقصد کوئز کمپیٹیشن کاانعقاد عمل میں آیا، یہ مقابلہ دراصل ندوہ کی ان روایات کا حصہ ہیں جن کے ذریعہ صرف نصابی تعلیم ہی نہیں ،بلکہ طلبہ کی ہمہ جہتی شخصیت سازی کو بھی بنیادی اہمیت دی جاتی ہے، یہ مقابلے خاص طور پر اس نیت سے ترتیب دیے گئے کہ طلبہ مدارس محض کتابی علم تک محدود نہ رہیں، بلکہ وہ اپنے اردگرد کے معاشرتی، سماجی، فکری اور قانونی و اخلاقی حالات و مسائل سے بھی واقف ہوں اور ان پر سنجیدہ انداز میں غور و فکر کرنے کے عادی بنیں۔کانسٹی ٹیوشن کوئز کا مقصد طلبہ میں آئینی شعور، شہری ذمہ داری اور اظہار خیال کی صلاحیت پیدا کرنا تھا،اس مقابلہ میں طلبہ سے ہندوستان کے آئین، شہری حقوق و فرائض، جمہوری اقدار اور سماجی ذمہ داریوں سے متعلق سوالات پوچھے گئے، اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مدارس کے طلباء نہ صرف دینی اعتبار سے باشعور ہوں بلکہ وہ اپنے ملک کے آئینی ڈھانچے، قانونی نظام اور شہری کردارسے بھی اچھی طرح واقف ہوں،اس کمپٹیشن کےذریعہ طلباء کے اندر یہ احساس پیدا ہوا کہ ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار ہندوستانی شہری ہونا بھی ان کی دینی و قومی ذمہ داری ہے۔

یہ مسابقہ محض مقابلہ بازی کے لیے نہیں تھا بلکہ ان کے پس منظر میں ایک گہرا تعلیمی اور تربیتی مقصد کارفرما تھا، آج کے دور میں مدارس کے طلبہ کا آئینی و شہری شعور سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، تاکہ وہ سماج میں ایک متوازن، باشعور اور مثبت کردار ادا کر سکیں۔مجلس تحقیقات شرعیہ کی جانب سے اس نوع کا پروگرام اس بات کی دلیل ہے کہ ندوۃ العلماء عصر حاضر کے تقاضوں کو ہمیشہ کی طرح آج بھی پوری سنجیدگی سے سامنے رکھے ہوئے ہے، اور ایسے رجال تیار کرنے کے لئے کوشاں ہے جو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت مسلمہ کی رہنمائی کر سکیں۔

اسلامی معاشیات پر محاضرہ

 10 جنوری، بروز سنیچر، دار العلوم کے تاریخی حیدر حسن ٹونکی ہال میںندوۃ العلماء کےعلمی و تحقیقی شعبہ مجلس تحقیقات شرعیہ کی جانب سے”ملک و ملت کے لیے اسلامی معاشیات کی اہمیت اور طلبۂ مدارس کے لیے اسلامی معاشیات میں اعلی تعلیم کے مواقع” کے عنوان سے ایک نہایت وقیع، بصیرت افروز اور فکر انگیز محاضرہ ہوا، دار العلوم میں اس طرح کا یہ پہلا محاضرہ نہیں تھا، بلکہ دار العلوم ندوۃ العلماء روز اول سے ہی "جدید نافع” کو اختیار کرنے کا داعی رہا ہے، اور اس پر عملی اقدام بھی کیا ہے، آج بھی دار العلوم کے فضلاء اندرون و بیرون ممالک میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق علمی، تحقیقی، سماجی، رفاہی اور سیاسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔یہ پروگرام ندوہ کے اس علمی و تحقیقی مزاج کی زندہ مثال تھا، جس کے تحت امت کو درپیش جدید مسائل و پیچیدگیوں پر شریعت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔

پروگرام کا آغاز دار العلوم ندوۃ العلماء کے استاذ مولانا ظفر الدین ندوی کی دل نشیں تلاوت قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد مولانا منور سلطان ندوی (رفیق علمی مجلس تحقیقات شرعیہ)نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت سنبھالی اور مجلس تحقیقات شرعیہ کی علمی سرگرمیوں، محاضرات اور تحقیقی خدمات کا تعارف کراتے ہوئے موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی، انہوں نے بتایا کہ اسلامی اقتصادیات اور اسلامی مالیات کاقدیم علمی ورثہ نہایت وسیع ،منظم اور مسلسل ہے،یہ ورثہ تفسیر،حدیث ،فقہ،کے علاوہ سیاست شرعیہ، حسبہ، خراج،بیت المال،تجارت اور معاشی اخلاقیات پرمحیط ہے، انہوںنے اس موقع پر عہدبہ عہد اہم کتابوں اور مصنفین کامختصرتعارف بھی پیش کیا۔

اس پروگرام کے مقرر خصوصی مفتی برکت اللہ قاسمی (ماہر اسلامی معاشیات، لندن) تھے، جنہوں نے اپنے نہایت جامع اور مدلل خطاب میں اسلامی معاشیات کی بنیادوں اور اس کی عملی ضرورت کو واضح کیا، انہوں نے فرمایا کہ اسلام میں فقہ المعاملات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے،کیونکہ حلال و حرام کا زیادہ تر تعلق انسان کے مالی و معاشی معاملات سے ہے، اگر مسلمان کو حلال آمدنی کے ذرائع کا علم نہ ہو تو حرام سے بچنا ممکن نہیں رہتا۔انہوں نے واضح کیا کہ اسلام کے حوالے سے قائم کیاجانے والاجدید معاشی نظام، بینکاری اور مالیاتی ادارے اگرچہ ظاہری طور پر پیچیدہ نظر آتے ہیں، مگر ان کی بنیادیں انہیں فقہی اصولوں پر قائم ہیں جنہیں علماء نے صدیوں سے بیوع، اجارہ، شرکت اور مضاربت جیسے ابواب میں پڑھا اور سمجھا ہے، اس لیے علماء کے لیے اس میدان میں قدم رکھنا دشوار نہیں، بلکہ وہ شریعت کی روشنی میں جدید معاشی معاملات کی درست رہنمائی فراہم کرنے کے سب سے زیادہ اہل ہیں۔

مفتی برکت اللہ قاسمی نے طلبہ کو اس میدان میں اعلی تعلیم کے مواقع سے بھی آگاہ کیا اور متعدد اداروں اور کورسز کا ذکر کیا، جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، حیدرآباد کے دو ادارے ’’النصیحہ‘‘ اور ’’البلاغ‘‘، برطانیہ کے اسلامی فائنانس کورسز، اور ’’المعاییر الشرعیہ‘‘ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے ممبئی کے چنداداروں کا بھی تعارف کرایا جہاں عملی طور پر جدید مالیاتی نظام کے تحت اسلامی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ اسلامی فائنانس کے اداروں میں شرعی مزاج رکھنے والے ماہرین کی شدید کمی ہے، اس لیے مدارس کے فضلاء کے لیے یہ ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ اس میدان میں آئیں اور امت کی معاشی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔

 مقرر خصوصی کے بعد مفتی عتیق احمد بستوی (سکریٹری مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء) نے اپنا صدارتی خطاب پیش کیا، انہوں نے نہایت فکر انگیز انداز میں فرمایا کہ آج کا پورا معاشی نظام بینکاری سے جڑا ہوا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ موجودہ بینکنگ نظام زیادہ تر سودی بنیادوں پر قائم ہے، ایسے میں مسلمان کے لیے حلال و حرام کی تمیز اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سودی نظام کا غلبہ ضرور ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلامی معاشیات کی کوئی گنجائش نہیں رہی، بلکہ یہ وہ وقت ہے جب علماء کو اس میدان میں آگے بڑھ کر اسلامی اصولوں کی روشنی میں متبادل نظام پیش کرنا چاہیے، ورنہ رفتہ رفتہ ہمارا ذہن بھی سودی نظام کے زیر اثر بنتا چلا جائے گا۔

مولانا نے طلبہ اور علماء کو ترغیب دی کہ وہ جدید معاشی نظام کا سنجیدہ مطالعہ کریں، دستیاب کتابوں، آن لائن وسائل اور ادارہ جاتی کورسز سے فائدہ اٹھائیں، اور اپنے آپ کو اس میدان میں ماہر بنائیں تاکہ وہ عملی دنیا میں شریعت کی درست رہنمائی کر سکیں، انہوں نے واضح کیا کہ یہ محض دنیاوی مفاد کے لیے نہیں بلکہ دین کی خدمت اور امت کی فکری و معاشی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔اس پروگرام میں دار العلوم ندوۃ العلماء کے اساتذہ، اختصاص کے طلبہ اور مجلس تحقیقات شرعیہ کے معاونین کی بڑی تعداد شریک رہی، حاضرین نے نہایت توجہ اور دلچسپی کے ساتھ خطابات سنے، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ موضوع ملت کے لیے کس قدر اہم اور وقت کی ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔آخر میں صدر محترم کی پراثر دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔

Tags

Share this post: