گم شدہ چیز – احکام و مسائل

گم شدہ چیز – احکام و مسائل

مولانااشرف علی قاسمی

استاذ تفسیر وفقہ المعہد العالی الاسلامی حیدر آباد

دین بے زاری اور دین سے دوری کے موجودہ ماحول میں بہت ساری باتیں ( جو شریعت اور آداب و اخلاق کی تھیں)بے حیثیت اور غیر اہم ہو کر رہ گئی ہیں ، ان میں سے ایک گم شدہ اشیاء کا مسئلہ ہے ، راستہ ، مکان ، آفس ، پبلک مقامات،مذہبی مقامات ، تفریحی مقامات ، ہوٹلس اور اسکولس میں گری پڑی چیزوں اور لاوارث سامان کا مسئلہ نہایت اہم تر ہے ،اس طرح کی چیزوں کو مال مفت اور مال غنیمت سمجھ کر ذاتی مصرف میں لانا ایک عام بات ہو گئی ہے اور ایک چیز چھوٹ جانے یا گم ہو جانے کے بعد تو اصل مالک کو اس سامان کو بھلا ہی دینا پڑتا ہے ، اس کی بھی زحمت گوارا نہیں کی جاتی ہے کہ کسی عالم سے اس سلسلہ میں رہنمائی حاصل کر لی جائے اور حق حقدار تک پہنچا دیا جائے ، چوں کہ اس سلسلہ میں بے تو جہی عام ہے، اس لیے ذیل کی سطروں میں تفصیل سے ان ہدایات کو جمع کر دیا گیا ہے ، جو قرآن اورحدیث سے ثابت ہیں۔

لقطہ – لغت اور اصطلاح شرع میں

گری پڑی چیزوں کے لیے فقہاء نے عام طور پر کتب فقہ میں ” لقطہ “ کا عنوان قائم کیا ہے، پہلے اس کی لغوی و شرعی حقیقت بیان ہو جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔

لغوی اعتبار سے کسی چیز کا زمین سے اٹھا لینے کا نام ”لقطہ “ ہے ، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سامان اور چیز سے ہو :

 أخذ الشئ من الأرض كل نثارة من سنبل أو تمر لفظ۔(۱)

شرعی اعتبار سے اس مال پر پر لقطہ کا اطلاق ہوتا ہے جو مالک سے گم ہو جائے اور دوسرا اس کو اٹھائے :

اي المال الضائع من ربه يلتقطه غيره ۔(۲)

اس کو ہم یوں بھی تعبیر کر سکتے ہیں کہ لقطہ وہ مال ہے جس کو انسان گر اہواد دیکھے اور امانتا اس کو اٹھا لے۔

حکم

حکم گرے ہوئے سامانوں کے اٹھانے کے سلسلہ میں فقہاء کی رائیں مختلف ہیں : امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ اگر آدمی کو اپنے اوپر مکمل اعتماد ہو کہ وہ اس مال کو اٹھا کر مالک کے پاس پہنچادے گا اور اس میں سے ذرا بھی خرد برد نہیں کرے گا، تو اس کا سامان اٹھالینا مستحب ہے ، لیکن اگر اپنے اوپر اعتماد نہ ہو تو اپنی ہی جگہ چھوڑ دینا مستحب ہے، لیکن اگر ڈر ہو کہ سامان کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے تو وہ ضائع ہو جائے گا اور کوئی ناعاقبت اندیش ہضم کر جائے گا، تو اس مال کو اٹھا لینا فرض ہے ، (۳) اور اگر صرف اسی ارادہ سے اٹھائے کہ اس کو اپنے استعمال میں لائیں گے تو اٹھانا حرام ہو گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’لا يأوى الضالة الاضال ‘‘ (۴)

گو کہ اس حدیث میں بھی دوسری صورتوں کی طرح غیر مالک کا اٹھانا پایا جا رہا ہے ، لیکن حکم میں فرق اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ شخص اس کو اپنے لیے لینا اٹھانا چاہتا ہے ، جب کہ مستحب اور فرض کی صورت میں اصل مالک کو دینے کے لیے اٹھانا ہے نہ کہ اپنے لیے ،اس صورت میں وہ امین ہے اور اپنے ذاتی استعمال کے ارادہ سے اٹھانے والا گویا کہ غاصب ہے ، پس غصب ہی کی طرح یہ بھی حرام ہے ، یہی حکم اس صورت میں بھی ہے کہ اگر بھولے بھٹکے اونٹ، گائے، بکری و دیگر پالتو جانوروں کو اپنی ذاتی استعمال کے لیے رکھ لے۔  (۵)

امام مالک کے نزدیک اگر جانتا ہو کہ اٹھانے والے سے اس مال میں خیانت ہو ہی جائے گی ، تو ایسی صورت میں اٹھانا حرام ہے اور ڈر ہو کہ کہیں شیطان کے بہکاوے میں اس کا غلط استعمال نہ کر بیٹھے تو مکروہ ہے ، اگر اپنے نفس پر مکمل اعتماد ہو کہ وہ اس کو مالک کے آنے تک پوری دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ حفاظت کرتا رہے گا، تو دو صورتیں ہیں ایک صورت تو یہ کہ اس مال کو دوسرے لوگ بھی دیکھ رہے ہوں ، دوسرے یہ کہ دوسرے لوگ نہیں دیکھ رہے ہوں ، اگر دوسرے لوگ دیکھ رہے ہوں اور ان کی طرف سے خیانت کا اندیشہ نہ ہو تو ایک روایت کے مطابق مستحب ہے ، دوسری روایت کے مطابق مکروہ ہے اور تیسری روایت کے مطابق مستحب صرف اس صورت میں ہے جب کہ اس کو ضرورت ہو۔ (۶)

امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ چھوڑ دینے کی صورت میں ضیاع کا ڈر ہو اور اپنے اوپر دیانت کا مکمل اعتماد ہو تو اٹھا لینا افضل ہے ، مشہور شافعی عالم ابو الخطاب نے اس کو اختیار کیا ہے ،امام شافعی کا دوسرا قول یہ ہے کہ بہر صورت اٹھانا واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءِ بَعْضٍ . (توبه :۷۱)

جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا دوست ہے تو ضروری ہے کہ اپنے دوست کے مال کی حفاظت کرے اور ضائع ہونے کے لیے یوں ہی نہ چھوڑ دے، مشہور تابعی سعید سعيد بن المسیب اور حسن بن صالح کی بھی یہی رائے ہے اور ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے تو عملاً ایسا منقول بھی ہے۔ (۷)

یہاں گرے ہوئے سامانوں کو چھوڑ دینا افضل ہے ، کیوں کہ رسول امام احمد کے یہاں کے اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

’’ضالة المؤمن حرق النار‘‘ (۸)

دوسری اس مسئلہ میں اپنے آپ کو کئی مشقتوں میں ڈالنا ہے : (۱) اکل حرام میں مبتلا کرنا (۲) اعلان کی زحمت اٹھانا (۳) امانت کو ادا کرنا ، ان تین مشکلات کو اٹھانے سے بہتر ہے کہ چھوڑ دیا جائے ۔

کون اٹھا سکتا ہے اور کون نہیں؟

حنفیہ ، حنابلہ اور شوافع کا راجح قول یہ ہے کہ گرا ہو ا سامان ہر شخص اٹھا سکتا ہے ، چاہے وہ مکلف ہو یا نہ ہو ، ذاتی شعور ہو یا نہ ہو ، اس لیے ان حضرات کے نزدیک بچہ ، مجنون ، سفیہ ، ذمی اور مسلمان ہر شخص اٹھا سکتا ہے ، احناف نے مجنون کا اس عموم سے استثناء کیا ہے اور ایک روایت کے مطابق معتوہ کا بھی ، کہ ان کا اٹھانا درست نہیں۔(۹)

جب کہ مالکیہ کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ اٹھانے والا آزاد ، مسلمان اور عاقل بالغ ہو ، اس لیے ان کے نزدیک بچہ ، غلام اور ذمی کا اٹھانا درست نہیں ہے ، بعض فقہاء شوافع کی بھی یہی رائے ہے۔ (۱۰)

جمہور کا خیال ہے کہ لقطہ کے باب میں جتنی روایات ہیں ، وہ سب عام ہیں ، کسی طرح کی تفریق نہیں ہے ، اس لیے ہر شخص لاوارث اور گرے ہوئے سامان کو اٹھا سکتا ہے ، دوسرے یہ کہ یہ عمل بھی شکار کی طرح ایک قسم کی کمائی ہے ، اور ان کا شکار کرنا بالاتفاق درست ہے ، پس ایسے ہی ان کا لقطہ اٹھانا بھی درست ہے۔ (۱۱)

مالکیہ کا خیال یہ ہے کہ لقطہ اٹھانا ایک قسم کی ولایت ہے ، جب کہ غلام ، آدمی اور بچہ کو حق ولایت حاصل نہیں، نیز لقطہ امانت ہے ، اور ذمی امانت کا اہل نہیں ، اس لیے ان وجوہ کے پیش نظر بچہ ، غلام اور ذمیوں کو ولایت حاصل نہیں ہے۔ (۱۲)

گواہ بنانا

جب گرے ہوئے سامان کو آدمی اٹھالے تو اس کو اس پر گواہ بنالینا چاہیے ، کیوں کہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :

 ” من وجد لقطة فليشهد ذوى عدل‘‘ (۱۳)

 گواہ بناتے وقت یوں کہے کہ میں نے گرا ہوا ایک لاوارث سامان پایا ہے ، جس کا بھی گم ہو گیا ہو اور وہ سامان تلاش رہا ہو ، اس کو میرے پاس بھیج دو یا میرا پتہ بتادو اور ہو سکے تو سامان کس طرح کا ہے کس کام میں آنے والا ہے ، اس طرح کی بعض صفتیں بھی بیان کر دے، کہ اس سے نزاع کے وقت سہولت ہو گی اور قاضی کے سامنے اپنا مکمل دفاع شہادت کے ساتھ کر سکے گا، گواہ بناتے وقت سامان کی مکمل تفصیلات بھی بیان نہ کرے ، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی دروغ گو اور دغا باز سامان کو غلط بیانی سے اٹھا کر لے جائے اور اصل مستحق اس سے محروم ہو کر رہ جائے۔

مالکیہ اور شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک گواہ بنانا مسنون ہے ، خواہ وہ جس نیت سے اٹھائے ، مالک بننے کے لیے یا حفاظت کے لیے ، بہر صورت اشہاد (گواہ بنانا ) مسنون ہے اور لقطہ کے اٹھانے کے لیے اشہاد شرط نہیں، لقطہ اٹھانے کے جواز کے باب میں اشہاد کے شرط نہ ہونے پر احناف بھی جمہور کے ہم خیال ہیں ، تاہم احناف کے نزدیک اشہاد صرف سقوط ضمان کے لیے واجب ہے ، نہ کہ لقطہ اٹھانے کے جواز کے لیے ، احناف کے مسلک کے اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اگر اٹھانے والے نے گواہ نہیں بنایا تھا اور سامان غائب ہو جائے تو اس کا تاوان اور جرمانہ دینا پڑے گا، لیکن اگر گواہ بنالیا تھا، لیکن اس کی کسی کو تاہی کے بغیر وہ چیز ضائع ہو گئی تو اس پر ضمان لازم نہیں ہو گا ، اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ضمان کے وجوب سے بچنے کے لیے پانے والے پر اشہاد واجب ہے ، بقول علامہ ظفر احمد تھانوی :

من أخذ اللقطة فليشهد عليها ، و إن لم يشهد و قال الآخر أخذته للمالك ، وكذبه المالك يضمن عند أبي حنيفة و محمد (۱۴)

اعلان کرنا

جمہور کے نزدیک گرے ہوئے سامانوں کے پانے کا اعلان کرنا واجب ہے ، چنانچہ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے ایک موقع سے سو دینار کی تھیلی پڑی ہوئی پائی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں اطلاع دیا اور دریافت کیا کہ اس کو کیا کیا جائے ؟ تو آپ ﷺ نے ایک سال اعلان کرنے کی ہدایت فرمائی۔

’’عرفها حولا‘‘  (۱۵)

 ” ایک سال تک اعلان کرو۔“

اس ارشادمیں آپ ﷺ نے اعلان کا حکم دیا، اصولِ فقہ کا عام قاعدہ ہے’’ الامرللوجوب ‘‘اس کے بموجب اس عمل کاواجب ہونا ثابت ہوتا ہے ، چاہے لیتے وقت خود مالک بننے کا ارادہ ہو یا اس کی حفاظت کے نقطۂ نظر سے لیا ہو ، بہر صورت اعلان کرنا واجب ہے۔

اکثر شوافع کی رائے یہ ہے کہ اگر خود مالک بننے کے ارادہ سے اٹھایا جائے تو اعلان کرنا واجب ہے ، لیکن اگر حفاظت کے خیال سے اٹھایا جائے تو اعلان کرنا واجب نہیں ، لیکن فقیہ العالم الاسلامی دکتور و ہبہ الزحیلی نے لکھا ہے کہ فقہاء شافعیہ کے نزدیک بھی معتمد علیہ قول بہر صورت اعلان کے واجب ہونے ہی کا ہے۔ اس طرح اس مسئلہ میں چاروں فقہاء کا اس پر اتفاق ہے:

 و به اتفقت المذاهب الاربعة على وجوب الاعلان عن اللقطة أو تعريفها۔  (۱۶)

اعلان کی مدت

جس نے بھی گرا ہو ا سامان اٹھایا اس پر ضروری ہے کہ اعلان کرے : جس کے روپئے یا کپڑے یا جو بھی چیز پایا ہو اس کا نام لے لے کر اعلان کرے کہ جس شخص کا بھی ہو ، علامات بتا کر لے جائے ، اعلان میں اس چیز کی کچھ اجمالی وضاحت بھی کر دے ، تاکہ حقدار رجوع ہو کر اور علامات بتا کر لے جاسکے ، مکمل تفصیلات کو اعلان میں بیان نہ کرے کہ اس میں کوئی غیر مستحق آدمی غلط بیانی سے کام لے کر مال اڑا لے جاسکتا ہے۔

یہ اعلان کتنے دنوں تک ہو ؟ اس سلسلہ میں امام مالک، امام شافعی ، امام احمد کی رائے ہے کہ اس کا اعلان مکمل ایک سال تک کرے، چاہے ، وہ سامان کم قیمت کا ہو یا زیادہ قیمت کا، یہی رائے محمد بن الحنفیہ کی ہے ، اگر دو آدمی نے مل کر پایا ہو تو تقسیم کر لے کہ چھ ماہ ایک اور چھ ماہ دوسرا اعلان کرے یا تین تین ماہ ہر ایک اعلان کرے، ایک سال سے کم کا اعلان صحیح نہیں، اس لیے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے جو حکم دیا تھا اس میں قلیل و کثیر کی کوئی تفریق نہیں تھی، روایت کے الفاظ ہیں :

من التقط شيئا فليعرفه سنة (۱۷)

امام ابو حنیفہ اور دوسرے مشائخ حنفیہ نے کم قیمت و بیش قیمت میں فرق کیا ہے ، اگر دس درہم یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان ہو تو ایک سال اعلان کرے، لیکن اگر اس سے کم مالیت کا ہو تو اتنے دن اعلان کر دے جن میں پانے والے کو محسوس ہو کہ اب صاحب سامان اس کو تلاش نہیں کریگا، تو اتنے دن اعلان کرنا کافی ہے، کم قیمت اور بیش قیمت میں اعلان کی مدت میں فرق کی بنیاد حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سودینار کی تھیلی پائی تھی، اس لیے آپ نے ایک سال اعلان کو حکم دیا اور یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ’’لقطۃ یسیرۃ“ اور بعض دوسری رویاتوں میں ” در ہما او حبل “ کے الفاظ ہیں ، وہاں آپ ﷺ نے تین دن اعلان کرنے کا حکم دیا (۱۸) مشہور حنفی عالم علامہ کا سانی لکھتے ہیں :-

’’يختلف قدر المدة لاختلاف قدر اللقطة إن كان شيئا له  قيمة تبلغ عشرة دراهم فصاعدا يعرفه حولاً و إن كان شيئا قيمته أقل من عشرة يعرفه أياما على قدر ما يرى۔‘‘ (۱۹)

حسن بن زیاد نے امام ابو حنیفہ سے ایک روایت یہ نقل کی ہے کہ اگر بڑی رقم ہو ، ( مثلاً سویا اس سے زیادہ درہم ہو ) تو ایک سال اعلان کرے، اگر دس سے کم اور تین درہم سے زیادہ ہو تو ایک مہینہ اعلان کرے ، اگر ایک درہم سے زیادہ اور تین درہم کے درمیان کی مالیت کا ہو تو ایک جمعہ اعلان کرے اور انہی سے منقول بعض روایتوں میں ہے دس دن اعلان کرے، اگر ایک درہم کی مالیت کا ہو تو تین دن اعلان کرے ،اگر اس سے بھی کم قیمت کا ہو تو صرف ایک دن اعلان کرے اور اگر معمولی چیز جس کی زیادہ اہمیت نہ ہو تو اس کا اعلان نہ کرے اور کسی محتاج کو صدقہ کر دے۔(۲۰)

امام محمد کی رائے عام مشائخ حنفیہ سے بالکل مختلف ہے اور صاحب ہدایہ نے ان کا قول جمہور کے موافق قرار دیا ہے کہ کم یا زیادہ کی تفریق کے بغیر پورے ایک سال اعلان کیا جائے :

وقدره محمد في الأصل بالحول من غير تفصيل بين القليل والكثير وهو قول مالك والشافعی ۔(۲۱)

 اور امام طحاوی ؒنے لکھا ہے کہ یہی احناف کا ظاہر مذہب ہے۔(۲۲)

اس مسئلہ میں خیال ہو تا ہے کہ اگر سامان اتنا قیمتی ہو کہ مالک سامان لمبی مدت تک تلاش کرتا رہے گا تو اس کی مدت پورے ایک سال اور اگر سامان کم قیمت کا ہو ، کہ کچھ دن تلاش کرے گا اور پھر اصل مالک تلاش کرنا چھوڑ دے گا تو اس میں مبتلی بہ کی رائے اور سامان کی قیمت کا لحاظ رکھا جائے گا، کہ کچھ سامان وہ ہوتا ہے جس کو مالک ا/ ۲ دن تلاش کرتا ہے ، پھر چھوڑ دیتا ہے، کچھ اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ ایک ایک دو دو مہینہ تلاش کرتا ہے ، پس اعلان کی مدت میں بھی اس کا لحاظ رکھا جائے گا۔

یہ بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ہر قیمتی چیز میں ایک سال کی مدت مکمل کرنی ضروری نہیں ہے، بلکہ چیز قیمتی ہو ، لیکن فور اخراب ہونے والا ہو تو اس کو خراب ہونے سے پہلے اعلان کر کے دیکھے ، کوئی مالک نہ مل سکے تو صدقہ کر دینا چاہیے ، ایک سال تک اعلان صرف انہی چیزوں میں ضروری ہے جو جلد خراب ہونے والا نہ ہو اور ایک سال تک باقی ہے بھی رہ سکے ، ورنہ جتنی مدت تک خراب ہونے کا اندیشہ ہو ، اس سے پہلے پہلے تک اعلان کرنا چاہیے اور خراب ہونے سے پہلے کسی محتاج اور ضرورت مند کو صدقہ کر دینا چاہیے ، کاسانی لکھتے ہیں :

’’إنما تكمل مدة التعريف إذا كان مما لا يتسارع إليه الفساد ، فإن خاف الفساد لم تكمل ويتصدق بها۔‘‘ (۲۳)

اعلان کا وقت اور جگہ

گم شدہ سامان کا اعلان دن میں کرنا چاہیے نہ کہ رات میں، کیوں کہ دن کے اوقات میں لوگ یکجا جمع ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے ہیں، اس طرح دن میں اعلان کرنے سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کا علم ہو گا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو علم ہونے سے اس کی شہرت ہو گی اور اس سے اصل مالک کو شدہ شدہ اطلاع مل جائے گی، جب کہ رات میں اعلان کرنے سے یہ بات پیدا نہیں ہو گی۔ (۲۴)

اعلان ایسی جگہ کرنی چاہیے جہاں سے اس سامان کو اٹھایا تھا، تاکہ اصل مالک کو وہاں پہنچنے میں سہولت ہو اور ہوتا بھی یہی ہے کہ جہاں سامان گم ہوتا ہے لوگ اس کو اکثر و ہیں تلاش کرتے ہیں اور ارد گرد کے لوگوں سے دریافت کرتے ہیں ، اس لیے اسی جگہ اعلان کرنے سے اصل مالک کا بہت جلد پتہ چل سکے گا، اگر اس جگہ پتہ نہ چل سکے تو ایسی جگہوں پر بھی اعلان کرنا چاہیے جہاں لوگ زیادہ تر جمع ہوتے ہوں، جیسے مساجد کے دروازے ، جمعہ کے دن، بازاروں میں ، شارع عام پر ، چوراستوں پر، جلسوں جلوسوں، محلوں، بس اسٹینڈوں اور  ریلوے اسٹیشنوں ، ان مقامات پر بھی اعلان کر لیا جاسکتا ہے ، آج کل لوگ مسجد میں گم شدہ چیزوں کا اعلان کرتے ہیں، یہ عمل درست نہیں؛ کیوں کہ مسجد عبادت کے لیے بنائی گئی ہےنہ کہ گم شدہ چیزوں کے اعلان کے لیےاور خود حدیث نبوی ﷺ میں اس سے منع فرمایاگیا ہے۔

’’من سمع رجلال ينشد ضالة في المسجد فليقل : لاردها الله إليه ، فإن المساجد لم تبن لهذا۔‘‘ (۲۵)

البتہ سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے پانے والے کو حکم دیا تھا کہ اندرونِ مسجد کے بجائے دروازہ پر اعلان کر دے، کہ اس سے حدیث کی خلاف ورزی لازم نہیں آتی۔

اعلان کتنی مرتبہ ہو ؟

لقطہ کا اعلان دن بھر کر تار ہے یا کبھی کبھی ؟ اس سلسلہ میں احناف کی کوئی صراحت راقم سطور کو نہیں مل سکی، البتہ دکتور و ہبہ زحیلی نے شوافع کے حوالہ سے لکھا ہے کہ سامان کھونے کے ابتدائی زمانہ میں چوں کہ اصل مالک زیادہ تلاش کر تا رہتا ہے ، اس لیے ابتدائی ایام میں ہر دن دو مرتبہ صبح اور شام اعلان کرے ، پھر کچھ دن بعد دن میں ایک مرتبہ ، پھر کچھ دنوں بعد ہفتہ میں ایک یا دو مرتبہ اور جوں جوں گم شدگی کی مدت لمبی ہوتی جاتی ہے مالک کی طلب بھی کم ہوتی جاتی ہے ، اس لیے لمبی مدت ہو جائے تو مہینہ میں ایک مرتبہ یا دو مرتبہ اعلان کرنا چاہیے۔

آج کل انفارمیشن ٹکنالوجی کا دور ہے ، ذرائع اشتہار بہت بڑھ گئے ہیں، اخبارات ، ٹی وی، ریڈیو، انٹر نیٹ ، لاؤڈاسپیکر وغیرہ، ظاہر ہے کہ گم شدہ چیز کی مالیت کے اعتبار سے اگر چیز قیمتی ہو تو ان جدید وسائل سے بھی مدد لیا جا سکتا ہے، بلکہ ان ذرائع سے گم شدہ مال کے اصل مالک کا پتہ لگانے میں بہت ہی سہولت ہو گئی ہے اور فقہاء نے اعلان کے لیے ایک سال کی جو مدت لگائی ہے اب بظاہر گو اس کی ضرورت بھی نہیں رہ گئی ہے، کیوں کہ ٹی وی ریڈیو اور لاؤڈ اسپیکر سے ہر شخص فورا اپنے گم شدہ سامان کے بارے میں جان سکتا ہے ، اگر چیز زیادہ قیمتی ہو تو ٹی وی، ریڈیو سے مدد لے کر اعلان کرنا ضروری ہے ، لیکن زیادہ قیمتی تو نہیں ، پھر بھی اس کی حیثیت مسلمہ ہو تو اخبارات سے بھی مدد لینا چاہیے ، اگر ان ذرائع کے استعمال سے بھی مالک کا پتہ نہ لگے تو ایک سال کے اعلان کی مدت لازمی ہے ، کیوں کہ حدیث میں اس کی صراحت آئی ہے فليعرفه سنة ، لہذا قیمتی چیز کو بہر صورت ایک سال تک اعلان کرنا چاہیے ، تاہم زیادہ قیمتی نہ ہو تو اخبارات کے ستے نرخ والے اشتہارات سے مدد لینی چاہیے اور اور اُردو اخبارات کے مسلمان ذمہ داروں کو بھی اس اہم دینی فریضہ کو نبھانے کے لیے مفت اشتہارات یا کم سے کم تر قیمت پر اشتہار اور اعلان کی سہولت دینی چاہیے ، تاکہ شریعت کا یہ مردہ اور بے حیثیت سمجھا جانے والا حکم معاشرہ میں زندہ ہو جائے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے میں سہولت ہو۔

اعلان کا خرچ

گم شدہ سامان کے اعلان اور اشتہار کے لیے جدید سہولتوں سے استفادہ کیا جائے یا نہ کیا جائے ، بہر صورت اس کے اعلان پر کچھ نہ کچھ اخراجات آئیں گے ہی، دریافت طلب بات یہ ہے کہ اس کے اخراجات کس پر ہوں گے ؟ پانے والے پر یا اصل مالک پر ؟

حنفیہ اور حنابلہ کی رائے ہے کہ اخراجات پانے والے پر ہوں گے ، کیوں کہ اعلان کرنا پانے والے پر واجب ہے نہ کہ اصل مالک پر۔مالکیہ کی رائے یہ ہے کہ اصل مالک کے ذمہ ہوں گے ، اب اس کے لیے دور استے ہیں ، ایک تو یہ کہ اعلان کا خرچ الگ سے دے دے اور اپنا سامان مکمل واپس لے لے ، دوسرے یہ کہ گرے ہوئے سامان ہی میں سے خرچ کے بقدر پانے والے کو دے اور اپنا بقیہ سامان واپس لے لے۔

شوافع کے نزدیک اعلان کے اخراجات قاضی شریعت بیت المال سے متعین کرے گایا اگر اس کی سہولت نہ ہو تو مالک کے نام پر قرض لے کر اعلان کرے گا اور قرض کی ادائی اصل مالک کے ذمہ ہو گی، (۲۶) یہ تو اس وقت ہے کہ جب بطور امانت کے لقطہ کو اٹھایا ہو ، لیکن اگر خود مالک بننے کے لیے اٹھایا ہو تو اعلان کے اخراجات اس پانے والے پر ہوں گے ، دکتور زحیلی نے تمام آراء نقل کرنے کے بعد اسی رائے کو معقول کہاہے :  هذا هو الرائی المعقول (۲۷)

لقطہ کا خرچ

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود سامان کی حفاظت کے لیے اخراجات آتے ہیں، مثلاً جانور ہو تو اس کے کھلانے پلانے کا خراج اور اس کے علاوہ دوسری چیزیں جو بے جان ہیں، لیکن ان کی حفاظت کے لیے بھی کچھ نہ کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے ، ایسے اخراجات کے بارے میں حنفیہ کی رائے ہے کہ اگر اس نے قاضی یا حاکم کی اجازت کے بغیر خرچ کیا ہو تو تمام اخراجات اس پر عائد ہوں گے ، مالک پر عائد نہیں کر سکتا، یہ تبرع ہے اور اس کو اس کا شرعا اختیار نہیں کہ مالک پر قاضی کی اجازت کے بغیر کچھ ذمہ داری ڈال سکے ، ہاں قاضی کی طرف سے اجازت ہو تو پھر وہ اصل مالک آجانے کی صورت میں اس سے پورا خرچ لے سکتا ہے ، ہاں اگر چیز ایسی ہو کہ اس میں کرایہ آسکتا ہو تو کرایہ پر لگا کر حاصل شدہ نفع سے اس کا خرچ برداشت کر لے اور اس سامان کی حفاظت کرے، اس صورت میں اصل مالک سے وہ کچھ بھی رجوع کرنے کاحق نہیں رکھتا۔

مالکیہ کی رائے ہے کہ حفاظت پر آنے والا خرچہ مالک سے ہی وصول کرے گا، شافعیہ اور حنابلہ کی رائے ہے کہ وہ خرچ نہیں لے سکتا ، ہاں اگر قاضی سے اس کی اجازت ے والے یا کسی کو گواہ بنا دے کہ اس کی حفاظت پر میرے یہ اخراجات آرہے ہیں، تو ایسی صورت میں امام شافعیؒ کا خیال ہے کہ آنے والے خرچ کو وہ اصل مالک سے لے سکتا ہے۔(۲۸)

مالک کو لوٹانے کی ضروری شرط

سامان کے اصل مالک کا پتہ چل جائے تو اس کو محض دعوی کی بنیاد پر سامان نہیں دیا جائے گا، جب تک کہ مکمل علامتیں اور نشانات نہ بتائے ، یا دو گواہوں کے ذریعہ ثابت کر دے کہ یہ مال اسی کا ہے ، اگر ثابت کر دے کہ مال اسی کا ہے یا علامات (۲۹) بتادے، تو اس وقت سامان پانے والا اس کو مال دے سکتا ہے اور بہتر ہو گا کہ اس پر ایک شخص کو ضامن بنادے کہ علامات بتانے ہی کی بنا پر اس کو سامان دیا گیا ہے ، اگر کوئی دوسر احقدار نکل آیا تو اس سے حاصل کرنا ضامن کی ذمہ داری ہو گی، اس بات پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔

تاہم اختلاف اس میں ہے کہ صرف علامت بتانے پر پانے والے کو لوٹانے پر مجبور کیا جائے گایا نہیں ؟ حنفیہ اور شافعیہ کی رائے ہے کہ گواہی پیش کیے بغیر صرف علامت بتانے پر سامان حوالہ نہیں کیا جائے گا، اس لیے کہ دعوی کیلئے بینہ ضروری ہے اور آپ اسے نے فرمایا :

’’لو يعطى الناس بدعواهم لادعى رجال أموال قوم و دماء هم لكن البينة على المدعى و اليمين على من أنكر۔‘‘ (۳۰)

لہذا بینہ پیش نہ کرے تو مال واپس کرنا ضروری نہیں ، تاہم اگر علامت صحیح صحیح بتایا ہو تو احناف کے نزدیک اور اسی مدعی کا مال ہونے پر کم از کم غلبہ ظن ہو تو شوافع کے نزدیک (۳۱) علامت سے مراد یہ ہے کہ سامان کا وزن، مقدار ، رنگ نوعیت، بندھا ہوا ہو تو رسی، پیک کیا ہوا ہو تو کارٹون کی کیفیت و نوعیت کی وضاحت کر دے جائز ہے کہ اصل مالک کو اس کا سامان دے دیا جائے ، (۳۲) مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک مدعی کے مال ہونے کا غلبۂ ظن ہو یا نہ ہو ، بہر صورت اس کو سامان حوالہ کرنے پر مجبور کیا جائے گا ، اور اس کے لیے بینہ کی کوئی ضرورت نہیں۔(۳۳)

لقطہ کے ضائع ہونے پر ضمان

لقطہ پانے والے کے قبضہ میں بطور امانت کے ہے ،اس لیے اگر اس سے مال ضائع ہو جائے اور اس میں اس کی کو تاہی کا دخل نہ ہو تو اس پر ضمان لازم نہیں اور اگر اس کی بد احتیاطی سے مال ضائع ہوا تو اس پر ضمان لازم ہو گا، ضمان لازم ہونے یا نہ ہونے کی تفصیل اس صورت میں ہے جب کہ لقطہ اٹھاتے وقت کسی کو گواہ بنالیا تھا، لیکن اگر گواہ نہیں بنایا تھا تو بہر دو صورت ضمان لازم ہو گا، چاہے اس کی کو تاہی و بداحتیاطی سے سامان ضائع ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔

اسی طرح اگر پانے والا اور صاحب لقطہ دونوں میں اتفاق رائے ہو کہ سامان کو مالک ہی کے لیے بطورِ حفاظت اٹھایا تھا تو یہ مال امانت کا شمار ہو گا اور ضائع ہو جانے کی صورت میں اس پر تاوان لازم نہیں ہوگا، اگر گواہ نہیں بنایا تھا اور دونوں میں کسی طرح کا اتفاق رائے بھی نہیں ہوا تھا کہ لینے والے نے کہا: میں نے بغرض حفاظت اٹھایا تھا اور اصل مالک اس کی تکذیب کرے تو ضائع ہونے کی صورت میں وہ اس کا ضامن ہو گا، یہ تفصیل امام ابو حنیفہؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک ہے ، دوسرے فقہاء کے نزدیک مذکورہ بالا کسی صورت میں وہ ضامن نہیں ہو گا کہ لقطہ ایک قسم کا مال امانت ہے اور امانت ضائع ہو جائے تو تاوان دینا نہیں پڑتا، محض گواہ نہ بنانے سے یہ پال امانت سے منتقل ہو کر قابل ضمان نہیں ہو سکتا اور گواہ نہ بنانے کی صورت میں بھی مال ودیعت ہونے کی تائید حدیث نبویﷺ سے ہوتی ہے، چنانچہ آپ علی نے فرمایا :

” إن جاء صاحبها وإلا فلتكن عندك وديعة ..

طرفین کے مسلک کے مطابق جب ضمان واجب ہو گا تو اس صورت میں تلف کردہ سامان مثلی ہو تو ضمان میں مثل دینا پڑے گا اور اگر مثلی نہ ہو تو اس کی قیمت دینی پڑے گی، قیمت ادا کرنے میں پانے کے دن کی قیمت کا اعتبار ہو گا، نہ کہ ادا کے دن کا۔(۳۴)

مال لقطہ اس کی جگہ رکھ دینا

طرفین کی ہی رائے کے مطابق اگر لقطہ اٹھانے والے نے سامان کو دوبارہ وہیں رکھ دیا جہاں سے اس نے اٹھایا تھا ، تاکہ اعلان اور ضمان و تاوان کی کلفت سے نجات پاسکے تو اس پر اب ضمان لازم نہیں ہو گا، بشر طیکہ پہلی مرتبہ اٹھاتے وقت کسی کو گواہ بنایا تھا، لیکن اگر گواہ نہیں بنایا تھا اور دوبارہ اسی جگہ اس سامان کو رکھ دیا اور وہ مال ضائع ہو گیا تو اس کو تاوان دینا ہو گا۔

امام ابو یوسفؒ کے نزدیک گواہ بنائے یا نہ بنائے ، کسی صورت میں بھی ضمان لازم ا نہیں ہو گا۔

مالکیہ کی مشہور رائے اور شافعیہ و حنابلہ کا مسلک یہ ہے کہ ایک مرتبہ اٹھانے کے بعد جب دوبارہ اسی جگہ رکھ دیا اور وہ مال ضائع ہو گیا تو اب اس کو تاوان دینا پڑے گا۔(۳۵)

لقطہ کا مالک ہونا

لقطہ کے اعلان کی جو مقررہ مدت ہے ، پوری مدت اعلان ہونے کے بعد بھی مالک کا پتہ نہ چل سکے اور نہ کوئی اس کو لینے آئے تو امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک پانے والا اس کا مالک ہو جائے گا اور وہ اس کے مال میں سے شمار ہو گا، چاہے وہ مالدار ہو یا فقیر ، بقول شوکانی :

ذهب الجمهور إلى أنه يجوز له أن يصرفها في نفسه بعد التعريف سواء كان غنيا أو فقيرا۔ (۳۵)

لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک اٹھانے والا مالدار ہو تو خود استعمال نہیں کر سکتا، بلکہ اس کو اسلامی بیت المال میں جمع کر دے اور اگر اسلامی بیت المال نہ ہو تو کسی محتاج کو دے دے، اپنے رشتہ دار ہی میں سے باپ یا بیٹایا بیوی یا کوئی اور ضرورت مند ہو تو اس کو بھی دے سکتا ہے ، ذاتی استعمال میں لانا درست نہیں ، ہاں اگر وہ خود محتاج ہو تو اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے۔

وإن كان فقيرا فلابأس أن ينتفع بها …… وكذا إذا كان الفقير أباه أو ابنه أو زوجته وإن كان هو غنيا۔ (۳۶)

لقطہ کا مالک بننے میں جمہور کے نزدیک ہاشمی اور غیر ہاشمی کا بھی فرق نہیں، لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک جس کے لئے صدقہ واجبہ اور زکوۃ حرام ہے اس کے لیے لقطہ بھی حرام ہے، مالدار اور ہاشمی کیلئے زکوۃ اور صدقات واجبہ حرام ہیں، پس ایسے ہی لقطہ بھی حرام ہو گا۔ (۳۷)

اگر دو یا اس سے زیادہ آدمی ایک سامان اٹھائیں تو وہ سب کے سب اس کے مالک ہوں گے، اگر ایک شخص نے صرف دیکھا یا د یکھ کر رہنمائی کی اور دوسرے شخص نے اٹھایا تو اٹھانے والا مالک ہو گا، دیکھنے والا نہیں ، اس لیے کہ لقطہ کا استحقاق لینے اور اٹھانے سے ہوتا ہے نہ کہ صرف دیکھنے سے۔(۳۸)

اگر اٹھانے والا مر جائے

علامہ ابن قدامہ نے لکھا ہے کہ اگر اٹھانے والا مر جائے اور لقطہ کا مال اس کے پاس موجود ہو تو اس کے ورثہ اس کی جگہ اعلان کریں گے ، اگر اعلان کا نصاب ایک سال پورا نہ ہوا ہو اور اگر ایک سال پورا ہو چکا تھا اور اصل مالک نہیں آیا تھا تو دوسرے اموال کی طرح ورثہ اس کے وارث ہوں گے ، اگر مرنے اور ورثہ میں تقسیم ہونے کے بعد اصل مالک آئے تو وہ میت کے ورثہ سے وصول کرے گا، اگر اس کا مال ختم ہو چکا ہو تو اصل مالک میت کا قرضدار ہو گا اور اس کے ترکہ سے اس کے قرض کی ادائیگی ہو گی ، مثلی ہو تو اس کا مثل دے کر ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی، اگر قرض زیادہ ہو اور ترکہ کم ہو تو دوسرے قرض خواہوں کےبرابر یہ بھی ہو گا۔(۳۹)

لقطہ میں تجارت

چوں کہ گری ہوئی چیزوں کا قبضہ قبضۂ امانت ہے ، اس لیے فقہاء لکھتے ہیں کہ اس کے لیے اعلان کی مدت میں تجارت میں لقطہ کے مال کو لگانا درست نہیں ، کیوں کہ تجارت میں نفع اور نقصان دونوں کا احتمال رہتا ہے ، اگر کہیں نقصان ہو گیا تو ذمہ داری اس پر آئے گی اور اٹھانے والے کی نا سمجھی کی وجہ سے وہ ضائع ہو گا، اس لیے تجارت درست نہیں ہے۔ (۴۰)

لقطہ پر انعام

اگر صاحب مال گم شدہ مال کے مل جانے پر انعام کا اعلان کیا ہو تو اس کا یہ اعلان بھی درست ہے اور اس انعام کا لینا بھی درست ہے ، قرآن کریم میں ہے کہ یوسف ؑ کے پیالہ گم ہو جانے پر کارکنوں نے انعام کا اعلان کیا تھا:

’’ولمن جاء به حمل بعير و أنا به زعيم‘‘ . (يوسف : ۷۲)

اسی طرح حدیث شریف میں ہے کہ چند صحابہ عرب کے ایک قبیلہ کے پاس تشریف لے گئے ، بستی والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی ، اس وقت ان لوگوں کو سخت بھوک لگی تھی، ایسی حالت میں ضیافت سے انکار بڑا گراں گزرا، اتفاق سے بستی کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا، بستی والوں نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تم میں سے کوئی اس جھاڑ پھونک سے واقف ہے ؟ صحابہ نے کہا کہ تم نے ہماری ضیافت نہیں کی ہے تو ہم بھی نہیں جھاڑیں گے ، ہاں اگر تم انعام مقرر کر دو تو اس درد کا مداوا ہم کر سکتے ہیں اور جھاڑ پھونک کر سکتے ہیں۔(۴۱)

ان نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ گم شدہ مال پر مالک کی طرف سے انعام کا اعلان کرنا اور پانے والے کا انعام قبول کرنا درست ہے۔

حرم کا لقطہ

جمہور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ گرے ہوئے سامانوں کے ان احکام میں حل اور حرم کا کوئی امتیازی فرق نہیں، جو احکام حل کے لقطہ کے ہیں وہی احکام حرم کے لقطہ کے ہیں، کیوں کہ اس باب میں جو رواتیں مروی ہیں وہ عام ہیں ، ان میں حل اور حرم کی تخصیص نہیں ، جب کہ امام شافعی کے نزدیک حرم کے لقطہ کی ایک امتیازی حیثیت اور امتیازی حکم ہے اور وہ یہ کہ اس مال کا اعلان ہمیشہ کرتا رہے گا، تا آنکہ اس کا مالک آکر اس سامان کو لے جائے ، حرم کا لقطہ مالک بننے کے لیے نہیں ہے ، بلکہ ہمیشہ ہمیش کی حفاظت کے لیے ہے ،اس سلسلہ کی روایات ملاحظہ ہوں :

 إن هذا البلد حرمة الله لا يلتقط لقطته إلا من عرفها .”

بخاری ہی کی دوسری روایت میں ہے :

” لا تحل لقطة الحرم إلا لمنشد  ”  (۴۲)

یعنی حرم کا لقطہ صرف اعلان کرنے ہی کے لیے ہے ، اس کے اعلان کی کوئی خاص مدت کی تحدید بھی نہیں کی گئی ہے ، حدیث کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرم کو عظمت بخشی ہے اور لوگوں کے لیے مرجع بنا دیا ہے ، ایک بار ہی نہیں بلکہ لوگ بار بار آتے ہیں ،اس لیے ہو سکتا ہے کہ اپنے سامان کی تلاش میں دوبارہ مکہ خود آئے یا کسی کو بھیج دے، پس گویا کہ اللہ نے اس کو مال محفوظ بنا دیا ہے (۴۳) اس لیے حرم کے لقطہ کا حکم عام لقطوں کا سا نہیں ہے۔

جمہور ان احادیث کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ حرم کے لقطہ کو صرف اعلان ہی کی نیت سے اٹھانا حلال ہے ، تملک کی نیت سے حلال نہیں ہے اور حرم کی تخصیص اس لیے ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہاں تو لوگ آتے جاتے رہتے ہیں ، اس کا مالک دوبارہ کہاں سے اور کیوں کر آئے گا، اس لیے اس مال کے لیے اعلان کی ضرورت ہی نہیں، چلو بلا اعلان اپنے قبضہ میں کر لیں، حدیث میں گویا بتایا گیا کہ لقطہ حرم کے لیے بھی اعلان کا حکم ہے۔(۴۴)

مندرجہ بالا سطور میں ان لفظوں سے متعلق تفصیلات تھیں جو جانوروں میں سے نہ ہوں، لیکن وہ لقطے جن کا تعلق جانوروں اور دوسرے جانداروں سے ہو ، ان جانوروں کا پکڑنا اور اپنی حفظ وامان میں رکھنا، تاکہ اصل مالک کو پہنچا سکے اور غلط ارادہ سے پکڑنے اور چرانے والوں کے دست ظلم سے بچا سکے ، حنفیہ کے نزدیک بھی درست ہے اور شافعیہ کے نزدیک بھی (۴۵) امام مالک کے نزدیک مکروہ اور ناپسندیدہ ہے ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ سے سونا چاندی جیسے گم شدہ اموال کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’اعرف وكاءها وعفاصها ثم عرفها ، فإن لم تعرف فاستنفقها ولتكن وديعة عندك ، فإن جاء طالبها يوما من الدهر فادها إليه و سأله رجل عن ضالة الإبل فقال مالك و لها ، دعها ، فإن معها حذاء ها و سقائها ترد الماء و تأكل الشجرحتى يجد ، و ساله عن المشاة ، فقال : خذها ، فإنما هي لك أو لأخيك أو للذئب ‘‘ (۴۶)

اس کے سیل مہر اور کاگ کو پہچان لو ، پھر ایک سال تک اعلان کرو، اگر تم اعلان کرو تو اس پر خرچ کرتے رہو اور وہ تمہارے پاس بطور امانت کے رہے ، پھر اگر کوئی تلاش کرنے والا آجائے تو اس کو دے دو ، اس درمیان ایک شخص نے آپ عالی سے بھٹکے ہوئے اونٹ کے بارے میں سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارا کیا ہے ؟ اس کو پکڑو نہیں بلکہ ) چھوڑ دو، (اس لیے کہ اپنی حفاظت آپ کرے گا کہ اس کے ساتھ ..

ہے ، پینے کی جگہ ہے ، پانی پئے گا اور گھاس کھائے گا، یہاں تک کہ اپنے مالک کے پاس پہنچ جائے گا ، پھر آپ ﷺ سے بکری کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو پکڑلے ، کیوں کہ وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑ کی ہے۔

ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا :

’’لا يأوى الضالة إلا ضال‘‘ (۴۷)

بھٹکے ہوئے کو بھٹکا ہوا ہی پنادے سکتا ہے۔

نیز فرمایا :

” إن ضالة المسلم حرق النار‘‘

مسلمانوں کا گم شدہ مال جہنم میں جلانے والا ہے۔

احناف اور شوافع کا یہ کہنا ہے کہ احادیث میں لفظوں کے اٹھانے کی یہ بات اُس زمانے کی ہے جب کہ لوگوں میں صلاح اور دیانت غالب تھی، اونٹ تنہا رہنے سے بھی خیانت کا اندیشہ نہ تھا ، اب چوں کہ حالات بدل گئے ہیں ، اب امانت و دیانت کا لحاظ عنقاء ہو گیا ہے ، اس لیے پکڑ کر رکھنے ہی میں حفاظت ہے ، اونٹ ہی کے حکم میں گھوڑا، بیل ، گدھا وغیرہ داخل ہیں ، البتہ بکری کو چھوڑنے میں چوں کہ پہلے بھی اور اب بھی اس کے ضیاع کا اندیشہ تھا، اس لیے اس کے پکڑ کر رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔(۴۸)

دارالحرب کا لقطہ

اگر لقطہ دار الحرب میں ملے اور وہ مال مسلم فوج کے درمیان ملا ہو تو ایک سال تک دار الاسلام میں اعلان کرے گا ، اگر کوئی مالک نہ ملے تو مال غنیمت میں شامل کر دیا جائے گا، ہو سکتا ہے کہ وہ مال کسی مسلمان کا ہو ، اس لیے در الحرب میں اعلان کے بجائے دار الاسلام میں اعلان کرنا چاہیے ، ہاں اگر امان اور ویزا لے کر غیر مسلم ملک گیا ہو تو اس غیر ملک میں اعلان کرنا چاہیے ، کیوں کہ امان لے لینے کے بعد اب اس ملک کے باشندوں کے اموال اب اس کے لیے حرام ہے۔

یہ فقہی جزئیات حضرات فقہاء کے زمانہ میں برمحل اور بر مواقع تھیں، کہ دنیا انہی دو خانوں دار الاسلام اور دار الحرب میں بٹی ہوئی تھیں، لیکن اب جب کہ عالمی اور بین الاقوامی حکومتی نظام میں بہت ساری تبدیلیاں آچکی ہیں اور کفر و اسلام کے درمیان جہاد اور تلواری جنگ کا تصور نہیں رہایا لوگوں نے فراموش کر دیا اور دنیا جمہوری اور غیر جمہوری خانوں میں بٹی ہوئی ہیں ، اس صورت حال میں مسلمان جہاں بھی کوئی گر ا ہو ا سامان پائے ضروری ہے کہ اس کا اعلان کرے، چاہے مسلم سر براہی والا ملک ہو یا غیر مسلم سر براہی والا ، اس کے لیے جائز نہیں کہ اس مال سے خود فائدہ اٹھائے۔

لقطہ کی زکوۃ

گرے ہوئے سامان جب تک اٹھانے والے کے ہاتھ میں ہے ، اصل مالک پر اس کی زکوۃ واجب نہیں ہے، اس لیے کہ نہ اس کی مکمل ملک میں ہے اور نہ اس کے قبضہ میں ہے کہ اس میں تصرف کر سکے ، اسی طرح اٹھانے والے پر بھی اعلان کی پوری مدت میں کبھی بھی زکوۃ واجب نہیں ، اگر صاحب مال در میان سال آجائے اور اپنا مال لے جائے تو اب گذشتہ ایام (مدت اعلان) کی زکوۃ نکال لے گا۔

ہاں اگر آخذ نے مالک بننے کے لیے اس کو اٹھایا تھا تو مدت اعلان کا بھی زکوٰۃ نکالنی ہو گی ، ہاں اگر اس مدت میں اصل مالک مال لینے آگیا تو اس سال کی زکوٰۃ اس پر ادا کرنا لازم نہیں اور اگر اٹھانے والے نے زکوۃ ادا کر دی تھی اور اب اصل مالک آیا ہو تو اصل مالک سے ادا کردہ زکوۃ کی رقم بھی وصول نہیں کر سکتا۔ (۴۹)

گرے ہوئے پھل

جو پھل گرے ہوئے ہوں، اس کی درج ذیل صورتیں ہو سکتی ہیں :

ا ۔       شہر و آبادی میں گرا ہو۔

۲۔      چہار دیواری میں گرا ہوا ہو اور پھل زیادہ دنوں تک رہنے والا ہو۔

۳۔ دیہات میں گرا ہوا ہو، اور (الف) پھل خراب ہونے والا نہ ہو ، (ب) خراب ہونے والا ہو۔

۴۔پھل درخت ہی پر لگے ہوئے ہوں۔

پہلی صورت میں پھل اٹھانا درست نہیں ، ہاں اگر صراحتہ یاد لالۃً مالک کی طرف سے اجازت ہو تو پھر استعمال کر سکتا ہے۔

دوسری صورت میں بھی مالک کی اجازت کے بغیر اس کا لینا درست نہیں ہے اور بعض حضرات کی رائے ہے کہ اگر صراحہ یاد لالہ ممانعت نہ ہو تو اس کے اٹھانے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

تیسری صورت میں پھل اٹھانا درست نہیں ہے، اگر خراب ہونے والا ہو تو بالا تفاق تمام ائمہ کے نزدیک اس کا اٹھا لینا درست ہے، جب تک کہ صراحت ممانعت نہ ہو۔

چوتھی صورت میں آبادی ہو یا غیر آبادی، چہار دیواری میں ہو یا باہر ، کسی بھی جگہ کا پھل توڑ نا درست نہیں ، سوائے اس کے کہ مالک اجازت دے یا یہ کہ پھل اتنا زیادہ ہو کہ اس میں سے لینے سے اس کو ذرا بھی ناگوار نہیں ہو گا تو وہیں باغ میں کھانا تو درست ہو گا، لیکن وہاں سے گھر لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ (۵۰)

آخری بات

گرے ہوئے سامانوں کے بارے میں اسلام کی جو تعلیمات ہیں ، اس کی یہ مختصر سی جھلکیاں ہیں ، ورنہ فقہ و فتاوی کے جو ذخیرے ہیں، چاہے فقہ حنفی کی ہوں یا دوسری فقہ کی، اس میں بڑی تفصیل اور وضاحت سے ان کے احکام و مسائل بیان کیے گئے ہیں، جو اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی کامل رہبری کا فریضہ انجام دیا ہے اور یہی وہ واحد مذہب ہے ، جس نے خالق کے حقوق کے ساتھ مخلوق کے حقوق کی مکمل رعایت و حفاظت کی ہے اور نہ صرف رعایت کی ہے بلکہ اس کی عمل داری میں سختی سے تاکید بھی فرمائی ہے ، لقطہ اور گری ہوئی چیزوں سے متعلق یہ ہدایات اس کا عملی نمونہ ہیں، یہ ستم ظریفی ہی کہی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں کے شرعی احکام سے واقفیت و جہالت کی وجہ سے بڑی کو تا ہیاں پائی جاتی ہیں اور حقوق العباد میں سے جن جن حقوق کو ضائع کیا جارہا ہے ، یہ بھی انہی میں ایک ہے۔

حوالے:

۱۔       لسان العرب، ج:۱۲، ص:۳۱۲

۲۔      الفقہ الاسلامی ، ج:۵، ص:۷۶۹

۳۔تبیین ،ج:۶،ص:۲۰۰،  بدائع،ج:۶،ص:۲۰۰، مبسوط،ج:۱۱،ص:۲

۴۔مسلم باب لقطۃ الحاجۃ، کتاب اللقطۃ ،ج:۳،ص:۱۳۵۱،       مسند احمد،ج:۳،ص:۱۱۷

۵۔      بدائع،ج:۵،ص:۲۹۵

۶۔      بدایۃ المجتھد، ج:۲،ص: ۳۳۶

۷۔مغنی المحتاج ، ج:۲،ص: ۴۰۶-۴۰۷

۸۔بیھقی ،ج:۳،ص: ۴۱۸

۹۔       المغنی، ج:۵،ص:۹۳

۱۰۔المغنی، ج:۵،ص:۹۳

۱۱۔      الموسوعات الفقھیہ،ج:۳۷،ص: ۳۱۲

۱۲۔حوالہ سابق

۱۳۔نیل الاوطار ،ج:۵،ص:۳۸۰

۱۴۔اعلاء السنن،ج:۱۲،ص:۱۸

۱۵۔مسند احمد، ج: ۲،ص: ۱۸۰

۱۶۔حوالہ سابق

۱۷۔الفقہ الاسلامی وادلتہ ، ج:۵، ص: ۷۷۵

۱۸۔مسند احمد، ج: ۴، ص: ۱۷۳

۱۹۔بدائع ، ج:۵، ص: ۲۹۸

۲۰۔دار قطنی :۴/۱۸۲

۲۱۔مختصر الطحاوی : ۱۳۹

۲۲۔ھدایہ :۲/۶۱۲، کتاب اللقطۃ

۲۳۔بدائع : ۵/۲۹۸

۲۴۔الموسوعات الفقھیۃ: ۳۷

۲۵۔بدائع: ۵/۲۹۸، المغنی : ۶/۳۲۱، مغنی المحتاج : ۲/۴۱۳، المدونۃ : ۶/۱۷۴، الفقہ الاسلامی: ۵/۷۷

۲۶۔مسلم عن أبی ھریرۃ: ۱/۳۹۷،        مجمع الزوائد : ۴/۱۷۰

۲۷۔الفقہ الاسلامی : ۵/۷۷۸

۲۸۔حوالہ سابق

۲۹۔الفقہ الاسلامی وادلتہ : ۵/۷۷۹

۳۰۔حوالہ سابق

۳۱۔نیل الاوطار: ۸/۲۰۵

۳۲۔بدائع: ۵/۲۹۸، تبیین الحقائق: ۲/۲۰۶، المھذب: ۱/۴۳۱

۳۳۔الفقہ الاسلامی وادلتہ : ۵/۷۸۰

۳۴۔نیل الاوطار: ۵/۳۳۱

۳۵۔فتح القدیر: ۶/۱۱۸،       المدونہ: ۶/۱۷۸،    بدائع: ۵/۲۹۸

۳۶۔الفقہ الاسلامی وادلتہ : ۵/۷۷۲

۳۷۔نیل الاوطار: ۵/۳۸۱

۳۸۔ھدایہ :۲/۶۱۹،         بدائع: ۵/۲۹۹

۳۹۔الموسوعات الفقھیہ: ۳۷

۴۰۔حوالہ سابق

۴۱۔المغنی: ۶/۳۴۹

۴۲۔المغنی: ۶/۳۳۹

۴۳۔حوالہ سابق

۴۴۔بخاری : باب اللقطۃ

۴۵۔الفقہ الاسلامی : ۵/۷۸۳

۴۶۔ھدایہ: ۲/۶۱۷

۴۷۔الفقہ الاسلامی : ۵/۷۸۳

۴۸۔مبسوط: ۱۱/۱۱، بدائع: ۵/۲۹۶

۴۹۔ابوداؤد: باب اللقطۃ

۵۰۔حوالہ سابق

Tags

Share this post: