وقف کاشرعی، تاریخی اور قانونی جائزہ

وقف کاشرعی، تاریخی اور قانونی جائزہ

وقف ترمیمی بل ۲۰۲۵؁ء کے بعد ہندوستان میں اوقاف کا مستقبل

                                                                          مولاناعتیق احمد بستوی

                                                                             استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

وقف کی مشروعیت اور اہمیت

اسلام میں انفاق فی سبیل اللہ( راہ خدا میں مال خرچ کرنا ) کی بڑی  اہمیت ہے، قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر راہ خدا میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، اس کا حکم دیا گیا ہے اور اس پر اجر وثواب کے عظیم وعدے کئے گئے ہیں، اسلام میں اس پر زور دیا ہے کہ اپنا ردّی اور بیکار مال راہ خدا میں خرچ کرنے کے بجائے اپنے وہ مال اللہ کے راستہ میں خرچ کرو جو بہتر ہو، پسندیدہ ہو، اور تم اسے اپنے لئے محفوظ رکھنا چاہتے ہو، اسلام نے مال خرچ کرنے کی مختلف شکلیں طے فرمائی ہیں، اللہ کی راہ میں مال کا یہ خرچ کرنا مختلف عظیم فوائد کے لئے ہوا کرتا ہے، جن لوگوں کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو ان پر سال گزرنے پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے، زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے، جس کا پورا نظام کتاب و سنت اور فقہ اسلامی میں مذکور ہے، زکوٰۃ کے علاوہ فقراء ، مساکین ، محتاجوں ، یتیموں ، مریضوں اور پریشان حال افراد کے مختلف ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مال خرچ کرنا اسلام کی اہم تعلیمات میں ہے، افراد اور سماج کی فلاح و بہبود اور تعلیم وتربیت کے فروغ و ترقی نیز دوسرے دینی اور سماجی کاموں کے لئے مالوں کو خرچ کرنا آخرت میں نجات اور فلاح و کامرانی کا ذریعہ ہے۔

راہ خدا میں مال خرچ کرنے کی اعلیٰ ترین صورت یہ ہے کہ انسان اپنی زمین، جائداد، مکان، دکان وغیرہ کو کسی کارخیر کے لئے اس طرح مختص کردے کہ وہ قیمتی جائداد یا زمین اس کی ملکیت سے نکل کر راہ خدا کے لئے مخصوص ہوجائے،اور اس کی آمدنی اور اس کی منفعت اس مد میں خرچ ہو جس کے لئے اس کو مخصوص کیا گیا ہے، شریعت کی اصطلاح میں اسے وقف کہا جاتا ہے، اس کے لئے حبس کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی تھی، وقف کی مشروعیت اور اہمیت کتاب و سنت سے ثابت ہے، امام شافعی کے بقول : وقف اسلام کی خصوصیات میں سے ہے۔

امام شافعی اپنی مشہور کتاب ’’کتاب الام‘‘ میں لکھتے ہیں:

ولم یحبس أھل الجاہلیۃ فیما علمت دارا ولا أرضا تبرراً  بحبسھا، وانما حبس أھل الاسلام۔ (۱)

میری معلومات کی حد تک اہل جاہلیت نے کوئی گھر اور زمین وقف کو نیکی سمجھ کر وقف نہیں کیا، ہاں اہل اسلام نے اوقاف کئے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ بات بہت سے حضرات نے نقل کی ہے، امام نوویؒ نے تہذیب الاسماء واللغات جلد ۴؍ص ۱۹۴ میںاور ابن ملقن نے’’ الاعلام بفوائدعمدۃ الاحکام‘‘ ج۷ ؍ص ۴۳۰میں اس بات کو امام شافعی کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ اوقاف کا یہ نظام اس وسعت اور نافعیت کے ساتھ کسی قوم میں اور کسی مذہب میں موجود نہیں تھا اور نہ اب موجود ہے، اوقاف کی دینی اہمیت اور نافعیت ہی کی وجہ سے عہد نبوی ہی سے اوقاف کا جو مبارک سلسلہ شروع ہواوہ بڑھتا چلا گیا، اور دینی تقاضوں اور سماجی ضروریات کے پیش نظر مختلف قسم کے اوقاف قائم کئے گئے ، ان سے نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ سارے انسانوں کو اور جانداروں کو بیش از بیش منافع حاصل ہوئے۔

جن آیات اور احادیث سے وقف کرنے کی ترغیب ہوتی ہے، ان میں سے ایک حدیث نبوی یہ ہے:

اذامات الانسان انقطع عملہ الا من ثلاثۃ ، صدقۃ جاریۃ أو علم ینتفع بہ من بعدہ او ولد صالح یدعو لہ۔(۲)

جب انسان کا انتقال ہوگیا، تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے، مگر تین چیزیں :صدقۂ جاریہ یا وہ علم جس سے اس کے بعد کے لوگ نفع اٹھائیں یانیک اولاد جو اس کے لئے دعا کریں۔

 اس حدیث میں صدقۂ جاریہ سے مراد وقف ہے، وقف ہی میں یہ شکل ہوتی ہے کہ اس کے کارخیر کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لوگ اس کے مال سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں، اسلام نے وقف پر جس عظیم ثواب کا وعدہ کیا ہے، اور یقین دہانی کرائی ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے ہر وہ مسلمان جو مالی حیثیت سے بہتر ہوتا ہے، اور اپنا قیمتی مال کسی نیک کام کے لئے مختص کرسکتا ہے، وہ اپنا مال خدا کی راہ میں ضرور وقف کرتا ہے۔

مقصد وقف میں تنوع

 اسلام نے وقف کا دائرہ بہت وسیع رکھا ہے، تمام دینی سماجی اور فلاحی کام اس کے دائرے میں آتے ہیں، مساجد تو وقف ہوتی ہی ہیں،مدارس ، خانقاہیں ، اسپتال اور شفا خانے ، مسافروں کے ٹھہرنے کی سرائیں ، یتیم خانے مختلف قسم کے دینی اور عصری تعلیمی ادارے ، فقراء مساکین کے مختلف ضروریات کو پورا کرنے والے اوقاف غرضیکہ کوئی نیک کام ایسا نہیں ہے جس کے لئے مسلمانوں نے اوقاف نہ قائم کئے ہوں، جن سے انسانوں بلکہ جانوروں کو بھی فائدہ پہنچتا رہا۔

حضرت مولانا عبدالروؤف رحمانی مرحوم نے اپنی کتاب’’ اوقاف کا روشن و تابناک سلسلہ‘‘ میں جو حکیم عبدالحمید مرحوم کی مدد سے شائع ہوئی تھی اوقاف کے مسائل، اس کے تاریخی تسلسل اور دور قدیم اور دور جدید کے متنوع اوقاف پر تفصیل سے روشنی ڈالی، اپنی اس کتاب میں انھوں نے داکٹر مصطفیٰ سباعی مرحوم کے مجلہ ’’المسلمون‘‘ دمشق میں شائع شدہ مضمون کے حوالے سے متنوع اوقاف کا ذکر کیا ہے، جس کی تعدادد انیس ہے، ان کامطالعہ کرکے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی اہم دینی سماجی اور فلاحی کام اوقاف کے دائرہ سے باہر نہیں تھا، نمبر ۱۸؍اور نمبر۱۹ میں جن عجیب و غریب اوقاف کا ذکر کیا گیا ہیء، ان کا مطالعہ دلچسپی کا باعث ہوگا۔

۱۸-ایک عجیب و غریب وقف اور بھی تھا جس کی آمدنی سے چینی کے برتن رکھے جاتے تھے، جن نوکروں سے راستے میں چینی کے برتن ٹوٹ جاتے تھے وہ اپنے آقا کی ناراضگی سے بچنے کے لئے یہاں آتے اور یہاں سے اسی قسم کا برتن لے لیتے اور ان کے آقا کو خبر تک نہ ہوپاتی تھی۔

۱۹- لطافت حسن و نازک خیالی انسانی ہمدردی اور جذبۂ عالی کے اعتبارسے اس سے بھی بڑھ کر ایک وقف وہ تھا جس کی آمدنی سے اسپتال میں ایسے آدمی مقرر ہوتے تھے جو مریضوں کے وارڈ میں وقتا فوقتا جایا کریںاور مریضوں کے پاس سے گزرتے ہوئے باہم سرگوشیاں کریں کہ اب تو اس کی صحت اچھی خاصی معلوم ہوتی ہے، شاید دو ایک روز میں اب اس کووارڈ چھوڑنے کی اجازت مل جائے، یہ گفتگو کچھ اس انداز میں ہوتی کہ مریض اس کو سن سکے اور اس کی صحت پر نفسیاتی اعتبار سے اچھا اثر  پڑ سکے۔(۳)

واقعہ یہ ہے کہ اسلام کا نظام اوقاف انسانی اور سماجی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے، ہر دور میں ا وقاف سے برابر بے شمار تعلیمی رفاہی، طبی ضرورتیں پوری ہوتی رہی ہیں، اسلام نے وقف کے نظام کو اتنی وسعت دی ہے کہ وقف کرنے کے لئے مسلمان ہونے کی بھی شرط نہیں لگائی  ہے، غیر مسلم بھی دینی، سماجی یافلاحی کاموں کے لئے وقف کرسکتے ہیں اوران کا وقف اسلامی شریعت کے اعتبار سے معتبر ہوگا،حتی کہ وہ مساجد کے لئے زمینیں بھی وقف کرسکتے ہیں اور ان کی تعمیر کراسکتے ہیں، مکاتب ومدارس اور خانقاہوں پر بھی وقف کرسکتے ہیں، ہندوستان کی تاریخ ایسی مثالوں سے معمور ہے، بہت سے ہندو راجاؤں نے اپنی مسلمان رعیت کے لئے مساجد وغیرہ تعمیر کیں اور دیگر دینی کاموں کے لئے اوقاف قائم کئے جس طرح ہندوستان کے مختلف مسلم سلاطین اور حکمرانوں نے اپنی ہندو رعیت کے مذہبی کاموں کے لئے جائیدادیں معافیاں اور جاگیریں عطا کیں جن کے کاغذات آج بھی بہت سے مندوروں میں موجود ہیں۔

وقف کی شرعی و تاریخی حیثیت

قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی:

’’لن تنالوا البر حتیٰ تنفقوا مما تحبون وما تنفقوا من شییٔ فان اللّٰہ بہ علیم۔‘‘( ۴)

تم لوگ نیکی اس وقت تک ہرگز نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنے پسندیدہ مال میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو بھی خرچ کروگے اللہ اس سے واقف ہے۔

اس آیت کے نزول کے بعد خاص طور سے صحابہ میں اپنا بہترین مال دین کے بہترین کام میں خرچ کرنے کا جذبہ پیدا ہوا، اور متعدد صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے بہترین مال کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے کار ثواب میں خرچ کرنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ طلب کیا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بہترین جائدادوں کو وقف کرنے کا مشورہ دیا۔

ابوبکر جصاص رازی نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابوطلحہ انصاری کے پاس ایک نفیس باغ تھا، جس کا نام بیرحاء تھا، انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول: میرا وہ باغ جو فلاں جگہ ہے، وہ اللہ کے لئے ہے، اگر میں اسے خفیہ رکھنا چاہتا تو اس کا اعلان نہ کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسے اپنے قرابت داروں کے لئے کردو۔(۵)

ابوطلحہ انصاری کا یہ واقعہ صحیح بخاری میں بھی الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ موجود ہے۔(۶)

اسی طرح کا دوسرا واقعہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ہے، انھیں خیبر میں نخلستان کے لائق بہت عمدہ زمین حاصل ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوکر یہ مشورہ طلب کیا کہ اس زمین کو کس کار خیر کے لئے مخصوص کیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمین کو وقف کرنے کا مشورہ دیا، اس واقعہ کی تفصیل صحیح بخاری کی اور صحیح مسلم کی متعدد روایات میں آئی ہے، صحیح بخاری کی ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عرضداشت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ کا جواب اور حضرت عمرؓ کا عمل اس طرح بیان کیا گیا ہے:

’’یارسول اللّٰہ! انی أصبت أرضا بخیبرلم أصب مالا قط أنفس عندی منہ ، فما تأمرنی؟ فأجابہ: ان شئت حبست أصلھا وتصدقت بثمرتھا، فجعلھا عمر لاتباع ولاتوھب، ولا تورث، تصدق بھا علیٰ الفقراء و المساکین وابن السبیل   و  فی الرقاب و الغزاۃ  فی سبیل اللّٰہ، والضیف، لاجناح علی من ولیھا أن یاکل منھا بالمعروف وأن  یطعم صدیقا غیرمتمول منہ۔

وجعل الولایۃ علی وقفہ ھذا لنفسہ ، فاذا توفی فالی حفصۃ بنت عمر ام المومنین ثم الی الاکابر من آل عمر۔(۷)

حضرت عمرؓ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول !مجھے خیبر میں ایسی زمین حاصل ہوئی ہے کہ میرے نزدیک اس سے بہترمال مجھے کبھی حاصل نہیں ہوا ،آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر تم چاہوتواصل زمین کو محبوس کرلو اور اس کی آمدنی کو صدقہ کردو، چنانچہ حضرت عمرؓ نے وہ زمین اس طرح کردی کہ نہ اس کی بیع جاسکتی ہے نہ اسے ھبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں میراث جاری ہوسکتی ہے، حضرت عمرؓ نے اس کی آمدنی کو فقراء و مساکین ، مسافرین، گردن چھڑانے نیز مجاہدین اور مہمانوں کے لئے صدقہ کردیا……

حضرت عمرؓ نے اس وقف کی تولیت اپنے پاس رکھی،، اور اپنی وفات کے بعد کے لئے حضرت حفصہ ام المومنین رضی اللہ عنہماکو متولیہ مقرر کیا، ان کے بعد اپنے خاندان کے بڑے لوگوں کو متولی مقرر کیا۔

حضرت عمرؓ نے اس زمین کا وقف نامہ اپنے دور خلافت میں تحریر فرمایا، اس موقع پر انھوں نے کچھ مہاجر اور انصار کو بلایا ، وقف نامہ تیار کرایا، اور ان حضرات کو گواہ بنایا، جب اس کی خبر عام ہوئی تو مہاجر اور انصارمیں ے بہت سے لوگوں نے اپنا مال اس طرح سے وقف کیا، نہ اس کی خریداری ہوسکتی ہے، نہ اس کو ھبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسمیں میراث جاری ہوسکتی ہے۔(۸)

اسلام میں پہلا دینی وقف مسجد قباء ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے دوران مدینہ پہنچنے سے پہلے قباء میں قیام پذیر ہوئے، اور وہاں ایک مسجد کی تعمیر فرمائی، پھر مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد آپ نے پہلے ہجری سال میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کرائی، یہ دوسرا دینی وقف تھا، اس کی تفصیل کتب سیرت میں ملتی ہے۔

بے شمار صحابہ نے جنھیں اللہ نے مالی وسعت دی تھی دل کھول کر مختلف دینی اور سماجی کاموں کے لئے زمین ، جائداد باغات اور قیمتی اموال وقف کئے، اوقاف پر لکھی گئی کتابوں اور کتب احادیث و سیرت میں جن صحابہ کے اوقاف کا ذکر آتا ہے، ان میں سے چند حضرات یہ ہیں: حضرت عثمان بن عفان ، حضرت علی بن طالب ، حضرت زبیربن العوام، حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت، ام المومنین حضرت عائشہ، حضرت اسماء بنت ابی بکر، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت خالد بن الولید، حضرت جابر بن عبداللہ ، حضرت سعد بن عبادہ، حضرت عقبہ بن عامر، حضرت عبداللہ بن الزبیر، وغیرہ(۹)

وقف کی مشروعیت اور اس کے عظیم کار خیر ہونے پر امت کا اجماع ہے، علامہ ابن قدامہ مقدسی حنبلی اپنی کتاب ’’المغنی‘‘ میں لکھتے ہیں:

وقال جابر رضی اللّٰہ عنہ: لم یکن احد من اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذو مقدرۃ الاوقف، وھذا اجماع منھم فان الذی قدر منھم علی الوقف وقف و اشتھر ذلک فلم ینکرہ احد، فکان اجماعا۔(۱۰)

حضرت جابر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے جو بھی صاحب استطاعت تھا اس نے وقف کیا، یہ ان کی طرف سے اجماع ہے، کیونکہ جو حضرات وقف پر قدرت رکھتے تھے ، انھوں نے وقف کیا، اور یہ بات مشہور ہوگئی ، لیکن کسی صحابی نے اس پر نکیر نہیں کی، لہٰذا یہ صحابہ کا اجماع ہوگیا۔

عہد نبوی سے جائداد، زمین، عمارت اور قیمتی اموال مختلف نیک کاموں کے لئے وقف کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ ہمیشہ بڑھتا ہی رہا، اور مختلف ملکوں ، علاقوں اور مختلف ادوار میں حالات اورلوگوں کی ضرورتوں کے پیش نظر جہاں بھی مسلمانوں کی آبادی ہوئی اوقاف قائم ہوتے گئے اور ان سے انسانی سماج کی دینی، تعلیمی، رفاہی، ترقیاتی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں، نظام اوقاف اسلام کی ایسی خصوصیت ہے جس کی نظیر دوسری قوموں میں نہیں ملتی ہیں، یہ ان کے مذہب اور تاریخ کا ایسا روشن پہلو ہے، جس کا اسلام کے معاندین بھی اعتراف کرتے ہیں، بعد کے ادوار میں مسلمانوں کو دیکھ کر دوسری اقوام میں بھی اوقاف کے طرز کا کام کرنے کا رجحان پیدا ہوا، انھوں نے بھی اپنے دینی کاموں اور بعض رفاہی مقاصد کے لئے اپنے مال مخصوص کئے، لیکن ان کے یہاں نہ تو اتنی کثرت ہے اور نہ اتنا تنوع ہے۔

غیر مسلم بھی وقف کرسکتا ہے

یہاں اس بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ اسلام کے ابتدائی لٹریچر میں خصوصا کتب سیرت میں عہد نبوی کے جن اوقاف کا بہت اہمیت سے ذکر ہے، ان میں سے ایک یہودی جس کا نام ’’مُخیریق‘‘تھا اس کے سات باغات کا تذکرہ آتا ہے، امام ابوبکر خصاف کی ’’احکام الاوقاف‘‘ کے مقدمہ میں اس کا ذکر اس طرح آیا ہے:

وأول وقف من المستغلات الخیریۃ عرف فی الاسلام وقف النبی صلی اللّٰہ علیہ وھو سبعۃ حوائط بالمدینۃ کانت لرجل یہودی اسمہ (مخیریق) وکان محبا ودودا للنبی صلی اللہ علیہ وسلم و قاتل مع المسلمین فی وقعۃ أحد وأوصیٰ ان أصبت أی قتلت فأموالی لمحمد یضعھا حیث أراہ اللّٰہ تعالیٰ وقد قتل یوم أحد و ھو علی یہودیتہ، فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم : مخیریق خیر یہود، وقبض النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم تلک الحوائط السبعۃ،  فتصدق بھا، أی: وقفھا ثم تلاہ وقف عمر بن الخطاب۔(۱۱)

خیراتی جائدادوں میں سے اسلام میں پہلا وقف خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وقف ہے، یہ مدینہ کے ایک یہودی مخیریق کے سات باغات تھے، یہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حد درجہ محبت کرتا تھا، اس نے مسلمانوں کے ساتھ غزوۂ احد میں جنگ میں شرکت کی اور وصیت کی کہ اگر میں اس جنگ میں قتل کردیا گیا تو میرے مال محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہیں، اللہ ان کے دل میں جہاں صرف کرنے کا خیال ڈالیں وہاں صرف کریں، چنانچہ اپنی یہودیت پر باقی رہتے ہوئے یہ یہودی غزوۂ احد میں قتل کردیا گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخیریق سب سے بہتر یہودی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ساتوں باغات پر قبضہ کیا اور انھیں وقف کردیا اس کے بعد حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے وقف کرنے کا معاملہ پیش آیا۔

وقف امام ابوحنیفہ کے نزدیک

امام ا عظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے کہ وہ وقف کے جواز ہی کے قائل نہیں ، لیکن متاخرین حنفیہ نے یہ بات ثابت کی ہے کہ امام صاحب جواز وقف کے قائل ہیں، لزوم وقف کے قائل نہیں ہیں، اور جہاں تک مساجد کا مسئلہ ہے وہاں امام صاحب بھی لزوم کے قائل ہیں، دیگر تمام ائمہ فقہ وقف کے جواز اور وقف کئے جانے کے بعد اس کے لزوم کے قائل ہیں، امام مالک ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے، خود ائمہ حنفیہ میں سے امام ابویوسف اور امام محمد وغیرہم لزوم کے قائل ہیں، اور فقہ حنفی میں انہیںکے قول پر فتویٰ ہے، وقف خواہ کسی بھی نیک کام کے لئے کیا گیا ہو ، جمہور فقہاء کے نزدیک منعقد اور لازم ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ تمام شرطیں پائی جائیں جو وقف کی صحت کے لئے ضروری ہیں،لہٰذا وقف کی مشروعیت کتاب و سنت کے ساتھ اجماع امت سے بھی ثابت ہے۔

وقف کے تفصیلی مسائل میں ائمہ مجتہدین کے درمیان کچھ اختلافات ہیں، اور ہر ایک کے اپنے کچھ دلائل ہیں، لیکن وقف کا کار ثواب ہونا اور لاز م ہونا امت کا متفقہ موقف ہے، جس سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔

اسلامی فقہ اکیڈمی نے اپنے دسویں فقہی سیمینارمنعقدہ ۲۱-۲۴ جمادی الثانی مطابق ۲۴-۲۷؍ اکتوبر ۱۹۹۷؁ء حج ہاؤس ، ممبئی میں مسائل اوقاف پر جو فیصلے کئے اس کی ابتدائی دو دفعات یہ ہیں:

(۱):اسلام میں نیکی کے کاموں اور خیراتی مقاصد کے لئے زمین ، جائداد اور مال وقف کرنا بہت بڑا کار ثواب اور صدقۂ جاریہ ہے، اس لئے مسلمان جس ملک اور جس علاقہ میں بھی آباد ہیں نیک کاموں کے لئے زمین، جائداد اور مال وقف کرتے ہیں، ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ بہت پرانی ہے، سینکڑوں سال سے مسلمان ہندوستان کے ہرعلاقہ میں آباد ہیں، اس لئے ہندوستان کے ہر صوبہ اور علاقہ میں مختلف دینی اور رفاہی و خیراتی مقاصد کے لئے مسلم اوقاف موجود ہیں، ان اوقاف کی حفاظت ، انھیں ترقی دینا اور ان کی آمدنی وقف کرنے والوں کے مقاصد کے مطابق خرچ کرنا نیز اوقاف کی املاک سے غاصبانہ قبضہ ختم کرنا ہندوستانی مسلمانوں اور حکومت ہند کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔

(۲): اوقاف کے بارے میں اسلام کا اصل نقطۂ نظر یہ ہے کہ اوقاف دائمی ہوتے ہیں، اس  لئے عام حالات میں ان کو فروخت کرنا یا منتقل کرناجائز نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کاوقف کے بارے میں ارشاد ہے:’’ لاتباع ولا توھب ولا تورث‘‘(نہ فروخت کیا جاسکتا ہے، نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے، اور نہ اس میں وراثت جاری ہوسکتی ہے)لہٰذا اوقاف کی جائدادوں کو حسب سابق باقی رکھتے ہوئے انھیں نفع آور اور مفید بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے، اور اس سلسلہ میں ایسے قانون بننے چاہئیں جس سے اوقاف کی جائداد کاپورا تحفظ ہو اور وقف کرنے والوں کے مقاصد کی رعایت کے ساتھ اوقاف کی افادیت اور نافعیت میں اضافہ ہو۔(۱۲)

وقف بائی یوزر(وقف بالاستعمال)

بہت سے اوقاف ایسے ہوتے ہیں جن کی تحریری دستاویز نہیں ہوتی، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس نے یہ زمین یا عمارت وقف کی تھی؟ نہ اس پر کسی کی ملکیت ثابت ہوتی ہے، لیکن زمانۂ دراز سے کارخیر میں استعمال ہونے کی وجہ سے اسے وقف مانا جاتا ہے، اسلام میں وقف کی صحت کے لئے نہ تو اس کی دستاویز(وقف نامہ) لکھنا ضروری ہے، نہ ہی حکومت کے کاغذات میں ان کا اندراج لازمی ہے، زبانی طور پر بھی وقف کیا جاسکتا ہے اور یہ شکل بھی ہوسکتی ہے کہ ایک شخص اپنی زمین میں مسجد تعمیر کرکے اس میں لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دے دے، اور وہ مسجد بلا روک ٹوک نماز کے لئے استعمال ہوتی رہے، خواہ مالک زمین نے زبانی طور پر وقف کے الفاظ استعمال نہ کئے ہوں، تو بھی شریعت کی نگاہ میں اسے وقف مانا جاتا ہے، اور اس پر وقف کے احکام جاری ہوتے ہیں۔

وقف کے ثبوت کے لئے جو شہادت مطلوب ہوتی ہے اس میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ سننے کی بنیاد پرمشاہدہ کے بغیر گواہی دیدی جائے، کسی مسجد ، مدرسہ، قبرستان کے بارے میں یہ بات اگر سنی گئی ہے کہ وہ وقف ہے، اس کے مالک نے اس کو وقف کیا تھا تو سننے والا اس کی گواہی دے سکتا ہے، فقہاء کے یہاں جن چیزوں میں سننے کی بنیاد پر گواہی دی جاسکتی ہے، ان میں وقف بھی ہے، اور فقہ اسلامی کے ساتھ ہندوستانی قانون پر وقف بائی یوزر (وقف بالاستعمال) کا اعتبار کیا گیا ہے، مشہور فقیہ شیخ مصطفیٰ احمد زرقاء رحمۃ اللہ علیہ احکام الوقف میں ’’ شہادۃ التسامع‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

شہادۃ التسامع :تقبل الشہادۃ فی اثبات أصل الوقف، ولو کانت مبنیۃ علی التسامع دون المعاینۃ ومعنی التسامع ھنا، أن یکون الشاہد إنما تحمل العلم بوقفیۃ المال سماعا من الناس الثقات بأنہ وقف، ولم یکن حاضرا عندما وقفہ واقفہ، ولم یسمع لفظ الوقف من فمہ

فیجوز لکل من علم بوقفیۃ المال سماعاً من الناس: أن یشہد بوقفیتہ، وتقبل شہادتہ قضاء، سواء صرح فی شہادتہ بأنہ إنما یشہد عن تسامع، أو لم یصرح، بل اقتصر علی مجرد الشہادۃ بأنہ وقف.

والنظر الفقھی فی ہذا الاستثناء، یستند إلی الضرورۃ، لأنہ لو اشترط لصحۃ الشہادۃ علی الوقف، أن یکون الشاہد قد حضر مجلس الواقف نفسہ، وسمع عبارتہ بنفسہ، لأدی ذلک إلی انقطاع ثبوت الأوقاف القدیمۃ التی انقرضت فیہا طبقات واقفیہا ومعاصریہم، فقد یمضی علی بعض الأوقاف مئات السنین، ثم یختلف علی وقفیتہا وتکون مشہورۃ بین الناس ویحتاج إلی إثباتہا قضاء عند الاختلاف علیہا أو غصبہا، فلولا قبول إثباتہا بشہادۃ التسامع، لأدی ذلک إلی بطلان سائر ہذہ الأوقاف القدیمۃ والتغلب علیہا لانقراض شہود الواقف الأصلیین.

والوقف یتعلق بہ حق العامۃ، لأن بہ  جھۃ بر دینیۃ أو خیریۃ، إما حالاً وامامآلاً کما رأینا فی شرائط صحتہ، فیحتاط فی إثباتہ، ویفتی بما ہو أنفع فیہ (۱۳)

سننے کی بنیاد پر گواہی( وقف بائی یوزر)

اصل وقف ثابت کرنے میں گواہی قبول کی جاتی ہے، اگرچہ یہ گواہی سننے پر مبنی ہو مشاہدہ پر مبنی نہ ہو، سننے پر مبنی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ گواہ کو کسی مال کے وقف ہونے کا علم قابل اعتمادلوگوں سے یہ سن کر ہوا کہ یہ مال وقف ہے وقف کرنے والے کے وقف کرنے کے وقت وہ موجود نہ رہا ہو اورنہ اس نے واقف کے منھ سے وقف کے الفاظ سنے ہوں۔

لہٰذا ہر وہ شخص جو لوگوں سے سن کر کسی مال کے وقف ہونے کا علم رکھتا ہو، اس کے لئے یہ جائز ہے کہ اس کے وقف ہونے کی گواہی دے اور قاضی کے یہاں اس کی گواہی قبول کی جائے گی، خواہ اس نے گواہی میں یہ صراحت کی ہو کہ وہ سننے کی بنیاد پر گواہی دے رہا ہے، یا یہ صراحت نہ کی ہو بلکہ اس مال کے وقف ہونے کی محض گواہی دینے پر اکتفاکیا ہو۔

اس استثناء کی فقہی بنیاد، ضرروت ہے کیوں کہ اگر وقف کے بارے میں گواہی کی صحت کے لئے یہ شرط لگادی جائے کہ گواہ خود واقف کی مجلس میں موجود رہاہو اور براہ راست اس کے الفاظ سنے ہوں تو اس کے نتیجہ میں ان قدیم اوقاف کا ثبوت ختم ہوجائے گا، جن کے وقف کرنے والوں کے طبقات ومعاصرین ختم ہوچکے ہوں،بعض اوقاف کے بارے میں سینکڑوں سال گذر جانے کے باوجود ان کے وقف ہونے میں اختلاف رونما ہوتا ہے، جب کہ ان کا وقف ہونا لوگوں کے درمیان مشہور ہوتا ہے،اور اختلاف کی صورت میں قاضی کے یہاں وقفیت ثابت کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے یا ان کو غصب کئے جانے کی صورت میں معاملہ عدالت میں آتا ہے، تو اگر سننے کی بنیاد پر گواہی دینے سے اوقاف ثابت کرنے کو قبول نہ کیا جائے گا تو اس کے نتیجہ میں یہ تمام قدیم اوقاف باطل ہوسکتے ہیں اور ان پر غلبہ قائم کیا جاسکتا ہے کیونکہ واقف کے اصل گواہ ختم ہوچکے ہوتے ہیں۔

اور وقف سے عامۃ الناس کا حق متعلق ہوتا ہے چوں کہ ان میں دینی یا خیراتی نیک کام کی جہت ہوتی ہے، یا تو فوری طور پر یا انجام کار کے طور پر، جیسا کہ ہم نے وقف کی درستگی کی شرطوں کے بارے میں بحث کرتے ہوئے دیکھا ہے، لہٰذا وقف کے ثابت کرنے میں احتیاط کی جائے گی اور اس چیز پر فتویٰ دیا جائے گا جو وقف کے لئے زیادہ نفع بخش ہو۔

وقف کی قانونی حیثیت

اوقاف کے انتظام و انصرام کا معاملہ بہت اہم اور نازک ہوتا ہے، اسلامی شریعت نے اس پہلو پر بھرپور توجہ دی ہے، عام طور سے متولی کی ذمہ داری ہوتی ہے، کہ وہ واقف کے طے کردہ مقاصد وقف کی روشنی میں پوری دیانتداری اور خدا ترسی کے ساتھ اوقاف کا انتظام وانصرام کرے، وقف قائم کرنے والا خود بھی اس کا متولی ہوسکتا ہے، اور تولیت کی ذمہ داری کسی اور کے بھی سپرد کرسکتا ہے، واقف وقف نامہ میں تولیت کے بارے میں کچھ نشاندہی بھی کرسکتا ہے، اور اس کی ہدایات کا حتی الامکان خیال رکھنا ضروری ہوگا، اسلامی حکومت میں اوقاف پر عمومی نگرانی خلیفہ یا سلطان کی ہوتی تھی، اوقاف کی نگرانی کے لئے حکومت اصحاب علم، دیانتدار افراد کو متعین کرتی تھی، جو اوقاف کی جائداد، املاک، اس کی آمد و صرف کی نگرانی کرتے تھے، کہ اوقاف کی جائدادوں میں خردبرد تو نہیں ہورہی ہے، متولی اس میں کوئی ناجائز تصرف تو نہیں کررہا ہے، اس کی آمدنی مصارف وقف میں خرچ ہورہی ہے، یا نہیں، اگر متولی ناجائز تصرفات کرتا تھا تو اسے معزول کرکے دوسرے امانتدار شخص کو متولی بنایا جاتا تھا۔

اوقاف کی نگرانی کا کام بعض ادوار میں قاضیوں کے ذمہ رہا ہے، اور بعض خلفاء اور سلاطین نے اوقاف کی نگرانی کے لئے مستقل افراد متعین کئے، جو ناظر اوقاف کہلاتے تھے، اوقاف کا مستقل محکمہ تھا، جو اوقاف کے مسائل کو دیکھتا تھا، اور اسلامی قانون کے مطابق انھیں چلاتا تھا۔

خلاصہ یہ ہے کہ اپنی زمین ، جائدا د اور قیمتی اموال کو وقف کرنا اگرچہ ایک انفرادی عمل ہے، جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور آخرت میں  میں اجر پانے کی نیت سے کیا جاتا ہے، لیکن چونکہ وقف کرنے کے بعد مال موقوفہ اور اس کی آمدنی سے ان لوگوں کا حق متعلق ہوجاتا ہے، جن کی بھلائی کے لئے واقف نے وقف کیا ہے، اور وقف کرنے والے کے مالکانہ حقوق ختم ہوجاتے ہیں، اس لئے وقف ایک اجتماعی چیز بن جاتی ہے، جس سے ان لوگوں کے حقوق وابستہ ہوجاتے ہیں جن کے لئے وقف کیا گیا ہے، اور اسلئے حکومت کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اوقاف کی نگرانی کے لئے اور وقف کرنے والوں کی منشاء کے مطابق اس کی آمد و صرف کا انتظام کرنے کی ذمہ داری سنبھالے۔

جن ممالک میں مسلمان اقتدار سے محروم ہوگئے، خواہ وہاں کسی دوسری قوم کی حکومت قائم ہوگئی، یا ملکی اور قومی حکومت قائم ہوئی، جس پر تمام باشندگان ملک کا حصہ ہوتا ہے، ان میں اسلامی اوقاف کی نگرانی اور اس کا انتظام و انصرام ایک پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے، دین کے وہ احکام جو اجتماعی نظام کے بغیر انجام نہیں پاسکتے، ان کے انجام دہی میں بڑی پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے، اور ان کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے، انھیں میں سے اوقاف کا مسئلہ بھی ہے، ہندوستان میں انگریزوں کے تسلط کے بعد یہاں کے اوقاف کامسئلہ بہت مشکلات کا شکار ہوگیا، مغلیہ سلطنت کے زوال اورخاتمہ کے بعد اوقاف پر بڑی تباہی آئی۔

 ۱۸۵۷؁ء کی جنگ آزادی جس کو انگریزوںنے غدر کا نام دیا، اس میں چونکہ مسلمان بہت نمایاں تھے، اور انھوں نے اس جنگ میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا، اس لئے جب انگریزوں نے حالات پر قابو پایا، اور ہندوستان پر ان کا کنٹرول مکمل ہوا تو انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف بہت سی انتقامی کاروائیاں کیں، انھیں میں ایک کاروائی مسلم اوقاف کو برباد کرنے اور ناجائز قبضہ کرنے کی بھی تھی، جن کی تفصیل بہت طوالت چاہتی ہے، جس کا یہ موقع نہیں ہے، خلاصہ یہ کہ ملک کے مختلف حصوں میں برطانوی حکومت اور ان کے کارندوں نے اوقاف کی بہت سی جائدادوں اور اداروں پر ناجائز قبضے کئے،ان کی وقف کی حیثیت کوختم کیا، اور مختلف دوسرے کاموں میں ان کا استعمال کیا، لیکن پھر بھی ایسے بہت سے اوقاف تھے، جنہیں انگریزوں نے ختم نہیں کیا، بلکہ انھیں باقی رہنے دیا، جیسے مساجد اور درگاہیں وغیرہ، ان کا انتظام و انصرام بھی قانونی تحفظ چاہتا تھا، اور حکومت کی مدد کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں تھا ، اس لئے مسلمانوں کا جوطبقہ انگریزوں سے قریب تھا اور دینی و ملی مسائل کا شعو رکھتا تھا، اس نے کوشش کی کہ حکومت برطانیہ کو اوقاف کے بارے میں ایسی قانون سازی پر آمادہ کرے جس کے ذریعہ بڑی حد تک اوقاف کا تحفظ ہوسکے اور وقف املاک ماضی کی طرح دینی اور سماجی کاموں کی انجام دہی کا ذریعہ بنی رہیں۔

ذیل میں چند ان قوانین کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو اوقاف کے بارے میں برطانوی دور حکومت میں مرکزی یا صوبائی سطح پر پاس ہوئے اور رو بہ عمل آئے۔

اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا کی طرف سے ایک اہم سیمینار ۲۴ تا ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۹۷؁ء کو بمبئی میں منعقد کیا گیا تھا اس کا ایک موضوع اوقاف بھی تھا، اس سیمینارکے لئے جناب عبدالرحیم قریشی مرحوم ایڈوکیٹ صدرکل ہند مجلس تعمیر ملت حیدرآباد وسیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’’قانون وقف- تاریخ ، مقاصد اور اہم نکات کا مختصر جائزہ‘‘ کے موضوع پر ایک قیمتی مقالہ تحریر کیا تھا، جو فقہ اکیڈمی کی شائع کردہ کتاب ’’اوقاف‘‘ میں شامل ہے، موصوف انگریز کے غلبہ کے بعد صورت حال کے تحت لکھتے ہیں:

 ’’یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ انگریزوں کا دہلی پرمکمل قبضہ ۱۸۵۷؁ء سے بہت پہلے شاہ عالم ثانی کے دور حکومت میں ۱۸۰۳؁ء میں ہوچکا تھا، انگریزوں کی مدد سے ہی شاہ عالم ثانی نے دہلی کا تخت حاصل کیا تھا، اور اس کے بعد اکبر شاہ ثانی انگریزوں کا صرف وظیفہ خوار تھا، ان حالات میںاوقاف کی صورت حال مزید ابتر ہونے لگی،انگریزوں نے بھی اس میں مداخلت سے احتراز کیا، لیکن ۱۸۱۰؁ء میں انگریزوں نے بھی جب اس ابتری کو بڑھتے ہوئے دیکھا تو اوقاف اور عطیات کے تحفظ کے مقصد سے فورٹ ولیم(کلکتہ) کے ماتحت تمام علاقوں کے لئے ایک قانون ریگولیشن Ragulation xix of 1810پاس کیا، اس کے ابتدائیہ میں یہ مقاصد بیان کئے گئے۔

’’……کہ انڈومینٹس کو معطی کے حقیقی منشاء اور مرضی کے مطابق استعمال کیا جائے اور ……عوام کے استعمال اور سہولت کے لئے پلوں ، سرایوں، کٹھروں اور دیگر عمارات کی جو حکومت یا افراد کے صرفہ سے تعمیر کئے گئے ہوں، نگہ داشت اور مرمت کی جائے……‘‘

انڈومنٹس کے بارے میں اس ابتدائیہ میں یہ وضاحت کردی گئی کہ اس سے مراد مساجد ، ہندو منادر ، تعلیمی اداروں (کالجز) کی مدد اور دیگر مقدس اور منفعت بخش اغراض کے لئے سابقہ حکومتوں یا افراد کی جانب سے دی گئی اراضیات ہیں۔

اس ابتدائیہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ۱۸۱۰؁ء تک تعلیمی اداروں کی اوقافی جائدادیں بڑی تعداد میں موجود تھیں اور پلوں، سراؤں ، کٹھروں وغیرہ کی قابل لحاظ تعدادا ایسی تھی جو وقف تھے، ۱۸۱۷؁ء میں ایسا ہی قانون فورٹ سینٹ جارج (مدراس)کے تحت کے علاقوں میں نافذ کیا گیا(ریگولیشن ۷ بابت ۱۸۱۷ء مدراس) ان قوانین کے ذریعہ ان تمام اوقاف کی عام نگرانی و نگہداشت بورڈ آف ریونیواور بورڈ آف کمشنرس کے تحت کردی گئی۔‘‘( اوقاف ص ۴۸۲-۴۸۳)

قریشی صاحب مرحوم مزید لکھتے ہیں:

’’۱۸۶۳؁ء میں یہ پالیسی بدل دی گئی، اور اس نظریہ کے تحت کہ ہندؤوں اور مسلمانوں کے مذہبی اداروں کے ساتھ ایک عیسائی حکومت کا تعلق بے قاعدہ اور خلاف مصلحت ہے، برطانوی حکومت ہند نے قانون  Act XX of 1863کے ذریعہ ۱۸۱۰؁ء اور ۱۸۱۷؁ء کے قوانین منسوخ کردئے گئے اور ہندومسلم مذہبی اوقاف کو حکومت کی نگرانی سے خارج کردیاگیا ،،لیکن حکومت نے ان تمام اوقاف کو اپنے تحت رکھا جن کے مقاصد بالکلیہ مذہبی نوعیت کے نہیں تھے، اس قانون کے ذریعہ مذہبی اوقاف اور خیراتی (charitable)اوقاف کے درمیان فرق پیدا کیا گیا، خیراتی اوقاف کو حکومت نے اپنے تحت رکھا اور مذہبی اوقاف کو مکمل طور پر متولیوں کے حوالے کرنے کے لئے شرط یہ قرار دی گئی کہ یہ وقف صرف مذہبی اغراض کے لئے قائم کیا گیا ہو، یہ قانون اوقاف کی بڑی تباہی کا باعث بنا، سرکاری نگرانی اٹھ جانے سے متولیوں نے من مانی شروع کردی اور اوقاف کو اپنی ذاتی جائیداد کی طرح بیچنا اور منتقل کرنا شروع کردیا،اور انگریزوںنے ان اوقاف کو جو تعلیمی اغراض کے لئے قائم کئے گئے تھے اور ملک کے گوشے گوشے بلکہ تقریبا ہر بڑے شہر میں پائے جاتے تھے، اپنے تحت لے کر ایک پالیسی کے تحت ان کو ختم اور ہڑپ کرنا شروع کیا، جس سے مسلمانوں کی تعلیم کا اس وقت کا نظام ٹوٹ پھوٹ کر رہ گیا، اور جس ملت میں تعلیم و خواندگی ، مرد و خواتین میں عام تھی، اس میں ناخواندگی بڑھتی گئی،اور یہی کیفیت پیدا کرنا انگریزوں کی پالیسی تھی، ۱۸۸۰؁ء میں خیراتی اوقاف کے لئے خیراتی اوقاف قانون Charitable Endowment Act 1890 پاس کیا گیا، لیکن اس وقت تک کئی اوقاف ختم ہوچکے تھے، ان کی وقف کی حیثیت ختم کردینے سے خیراتی اوقاف ٹرسٹ بن گئے اور ختم ہوتے گئے، کیونکہ ٹرسٹ میں دوامی برقراری کا کوئی تصور نہیں۔(۱۴)

مشہور برطانوی مورخ ڈبلیو ڈبلیوہنٹر نے اپنی کتاب ’’ہمارے ہندوستانی مسلمان‘‘میں مسلم اوقاف پربرٹش حکومت کی زیادتیوں کابرملااعتراف کیاہے،اور مسلمان ہندکے برٹش انڈین گورنمنٹ سے ناراضگی کاایک سبب قراردیاہے،ان کے دواقتباسات پیش ہیں:

بہر حال ان مقدمات کو تو حق بجانب ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن مسلمانوں کے اس الزام کا جواب نہیں دیا جا سکتا کہ ہم نے ان کے تعلیمی اوقاف کا نا جائز استعمال کیا، اس حقیقت کو چھپانے سے کیا فائدہ کہ مسلمانوں کے نزدیک اگر ہم اس جائیداد کو جو اس مصرف کے لیے ہمارے قبضے میں دی گئی تھی، ٹھیک ٹھیک انتظام کرتے تو بنگال میں ان کے پاس آج بھی نہایت اعلی اور شاندار تعلیمی ادارے موجود ہوتے،۱۸۰۶؁ء میں ہگلی کا ایک دولت مند مسلمان فوت ہو گیا، اس نے اپنی جائیداد کا بہت بڑا حصہ مصرف خیر کے لیے چھوڑا تھا، لیکن تھوڑے ہی عرصے میں اس کے دو امانت داروں نے آپس میںجھگڑنا شروع کر دیا، ۱۸۱۰ ؁ء میں معاملہ بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا کہ ایک دوسرے کے خلاف بددیانتی کے مقدمات دائر ہو گئے، اس پر ضلع کے انگریز کلکٹر نے عدالت کے فیصلے تک اس جائیداد کو اپنے قبضے میں لے لیا، یہ مقدمات ۱۸۱۶؁ء تک چلتے رہے، آخر کار گورنمنٹ نے ان دونوں امانتداروں کو بے دخل کر دیا اور جائیداد کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا، ایک امانت دار تو خود گورنمنٹ بن بیٹھی اور دوسرا امانت دار وہ جسے مرضی کے مطابق نامزد کیا گیا ہو، اگلے ہی سال اس ساری جائیداد کا دوامی پٹہ لکھا گیا اور ہر دوامی پٹہ دار سے ایک معقول رقم حاصل کر لی گئی، ان ادا شدہ رقوم کی میزان مع اس آمدنی کے جو دوران مقدمہ میں جمع ہوتی رہی ایک لاکھ ستاون ہزار پونڈ(کالج کی عمارت اسی رقم سے بنائی گئی تھی) ہے، (تقریبا ۲ لاکھ روپے) مزید برآں ۱۲ ہزار پونڈ تقریبا ڈیڑھ لاکھ) سے کچھ اوپر کی رقم وہ جو اس وقت تک جائیداد مذکورہ کی سالانہ آمدنی سے بچائی گئی۔

جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں یہ وقف مصرف خیر کے لیے کیا گیا تھا اور اس کے مصارف وصیت نامہ میں درج بھی تھے مثلا بعض مذہبی فرائض اور رسوم کی ادائیگی، امام باڑہ یعنی ہگلی کی عظیم الشان مسجد کی مرمت، ایک قبرستان، بعض وظائف اور اسی قسم کے دوسرے مذہبی ادارے وغیرہ وغیر ہ۔ (۱۵)

بہرحال ان مقدمات کو تو حق بہ جانب ٹھہرایاجاسکتا ہے لیکناس بد دیانتی کے الزام پر زیادہ کچھ لکھنا تکلیف دہ ہے کیونکہ اس کی تردید کی کوئی صورت نہیں، مسلمان علانیہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے انگریزوں ہی نے مسلمان امانت داروں کی بدعنوانیوں سے فائدہ اٹھایا اور ان کے بڑے بڑے مذہبی اوقاف کو کا فرحکومت کے ہاتھ میں دے دیا جو اسے مصرف خیر کے بجائے جیسا کہ مسلمان وصیت کنندوں کا اصلی مقصد تھا ایک ایسے ادارے پر خرچ ہو رہے ہیں جس سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، یوں ان کی ابتدائی غلطی اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے، کہا جاتا ہے کہ چند سال ہوئے اس انگریزی کالج کے ۳۰۰ طلباء میں سے ایک فیصد بھی مسلمان نہ تھے اور یہ شرمناک تناسب اس وقت سے بتدریج کم ہو رہا ہے لیکن مسلمانوں کے دلوں میں اس بے انصافی کا خیال بدستور باقی ہے، ایک سول افسر جس نے اس معاملے کا بغور مطالعہ کیا ہے لکھتا ہے، مجھے یقین ہے کہ اس حقارت اور بے عزتی میں مبالغہ سے کام لینا بہت ہی مشکل ہے جو برٹش حکومت نے خود اپنے طرز عمل سے پیدا کر رکھی ہے۔ (۱۶)

ملک کی آزادی سے پہلے جب ہندوستان کی تمام قومیں مل کر ملک کی آزادی کے لئے جد وجہد کررہی تھیں اسی زمانہ سے مسلمان علماء ، قائدین اور سیاسی رہنما اس بات پر غور و خوض کررہے تھے کہ ملک کو آزادی ملنے کے بعد جو حکومت قائم ہوگی، اس کے کیا خد و خال ہوں گے، شہریوں کے کیا کیا بنیادی حقوق اور ذمہ داریاں ہوں گی، ملک کے تما م شہریوں کو خواہ ان کا مذہب اور ان کا رنگ و نسل کچھ بھی ہو، کس طرح امن و امان، معاشی اور سیاسی سرگرمیوں کی آزادی ہوگی اور مسلمان علماء اور قائدین اپنے مذہبی حقوق کے لئے خاص طور سے فکر مند تھے، انھیں میں سے اوقاف کا مسئلہ بھی تھا جس کاحال ایسٹ انڈیا کمپنی اور برٹش حکومت کے دور میں بہت خراب ہوچکا تھا اور بے شمار اوقاف ضائع ہوچکے تھے، جمعیۃ علماء ہند جو کانگریس کے شانہ بشانہ جنگ آزادی کی لڑائی میں شریک تھی، اور ملک کے تمام شہریوں کے حقوق کے ساتھ مسلمانوں کے مذہبی ، سیاسی اور سماجی حقوق کے لئے کوشاں اور فکر مند تھی، اس نے ملک کی آزادی کے بعد اوقاف کے نظام کے بارے میں جو عظیم خواب دیکھا تھا وہ جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ میں محفوظ ہے۔

انگریزوں کے دور حکومت میں جمعیۃ علماء ہند کے متعدد اجلاسوں میں خطبات صدارت اور منظورکردہ تجاویز میں اوقاف کا مسئلہ اہمیت کے ساتھ لایا گیا ، جمعیت علماء ہند کے اجلاس پشاور۱۹۲۷؁ء میں صد ر اجلاس علامہ انور شاہ کشمیری نے مسلم اوقاف کے تعلق سے جو گفتگو فرمائی وہ اس وقت کے حالات کی عکاسی کرتی ہے، ہم علامہ کشمیری کے درد و سوز کو اجاگر کرتے ہیں، موصوف فرماتے ہیں:

تحفظ اوقاف مسلمین

اس وقت جن مسائل کی طرف مسلمان رہنماؤں کی توجہ منعطف ہونی ضروری ہے ان میں سے ایک اہم مسئلہ اسلامی اوقاف کی صحیح تنظیم کا ہے، کیونکہ تجر بہ شاہد ہے کہ اسلامی اوقاف کی لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ سالانہ آمدنی اپنے صحیح مصرف میں صرف ہونے کی بجائے خود غرض متولیوں کے تنور شکم کی آگ بجھا رہی ہے، یا امور خیر کی جگہ فواحش و معاصی میں بے دریغ صرف کی جارہی ہے۔

علمائے اسلام نے بیان کیا ہے کہ طریقۂ وقف اسلامی خصوصیات میں سے ہے، دور جاہلیت میں اس کا وجود نہیں تھا اور وقف کی حقیقت یہ ہے کہ واقف اپنی مملوکہ جائداد کو خدا تعالی کے پاس امانت رکھ دے اور اس کی آمدنی کو صدقہ کر دینے کی منت مان لے کہ قیامت تک وہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچاتا ر ہے اور اسلامی مہمات اس کی آمدنی کی مدد سے انجام پذیر ہوتی رہیں، مسجدیں تعمیر کی جائیں یا خانقا ہیں، مہمان خانے، مسافر خانے، مدارس اسلامیہ، کنویں، پل اور ہر قسم کی رفاہ عام کی چیزیں بنائی جائیں اور مسلمانوں کی اس فائدہ رسانی کے ساتھ ساتھ واقف کو ہمیشہ ہمیشہ ثواب پہنچتا ر ہے۔

علماء نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ واقف کے اغراض کی حفاظت نصِ شارع کی طرح ضروری ہے، وقف کی اس عظیم الشان حیثیت کی وجہ سے آج بھی عالم اسلام میں بایں ہمہ نکبت و افلاس کروڑوں روپے کی جائداد کے اوقاف موجود ہیں، اور مسلمانوں کی فراخدلی اور بلند حوصلگی کی زبان حال سے شہادت دے رہے ہیں   ؎

از نقش و نگار در و دیوار شکستہ      آثار پدید است صنادید عجم را

(شکستہ دیوار کے نقش و نگار سے شاہان عجم کے آثار نمایاں ہیں۔)

مگر افسوس کہ اسلام کی اس عظیم الشان قربانی کی یاد گاروں یعنی اوقاف اسلامیہ کو طامع اور حریص متولیوں اور غیر متدین و خائن نظار نے اپنی خواہشات نفسانیہ کی جولانگاہ بنارکھا ہے اور اغراض واقفین کو درہم برہم کر دیا، آج اوقاف کی یہ حالت ہے کہ ان متولیوں کے خود غرضانہ تصرفات دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں پہچان سکتا کہ یہ اوقاف ہیں یا شخصی اور خالص مملو کہ جائدادیں۔

ہم نے ایک مقولہ سنا تھا کہ وقف تین پشتوں کے بعد مِلک بن جاتا ہے، ہم نے تو اپنی عمر میں اوقاف کی یہ حالت بلکہ صرف یہی حالت دیکھی، شکم پرور متولی اوقاف کے مصارف واقعیہ کے بارے میں بالکل شاعر کے اس قول پر عامل ہیں  ؎

ہیزم زمن دارد و روغن از تو      خوردن زمن و لقمہ شمردن از تو

( یعنی مجھ سے ایند ھن لیتا ہے اور تم سے روغن، مجھ سے غذا لیتا ہے اور تم سے لقمے شمار کرواتا ہے۔)

اسی خیال اور اسی طرز عمل سے اکثر اوقاف ذاتی جائداد بن گئے ہیں اور اگر مسلمانوں نے قومیت اسلامیہ کے مقومات یعنی اوقاف کی طرف سے اسی طرح غفلت برتی تو وہ دن دور نہیں کہ اوقاف کی حیثیت ،و قف کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔

تا ہم ابھی موقعہ ہے کہ اگر اوقاف کی صحیح تنظیم کر لی جائے اور متولیوں کے حساب رکھنے اور حساب فہمی کا طریقہ متعین ہو جائے اور جماعت مسلمین متولیوں سے باز پرس کرتے رہیں اور متولیوں کا تعیین اہلیت اور استحقاق کی بنا پر کیا جائے اور جب کوئی خیانت یا غفلت معلوم ہو تو ان سے تولیت کے اختیارات چھین لئے جائیں یا تولیت ہی موقت طور پر دی جایا کرے اور دوسرے یا تیسرے سال نیا متولی منتخب کیا جائے اور اوقاف کے لئے اہل صلاح و علم میں سے ارکان منتخب کر کے نگراں مجالس مقرر کی جائیں جو اغراض واقف کی رعایت اور وقف کی حفاظت کے فرائض سر انجام دیں۔

چونکہ وقف میں عبادت اور صدقہ کی حیثیت ہے اس لئے یہ خالص مذہبی حیثیت رکھتا ہے اور اس لئے ضرورت ہے کہ اس کے انتظام میں اہل اسلام اور اہل علم کے سوا اور کوئی طاقت دخیل نہ ہو تا کہ اسلامی احکام کی مخالفت کا اندیشہ باقی نہ رہے۔(۱۷)

ملک کی آزادی کے بعد مسلمان علماء اور قائدین اور ملی درد رکھنے والوںکی اوقاف کی حفاظت اور اوقاف کے نظم ونسق کی درستگی کے لئے فکر مندی اور کوشش بڑھتی گئی،جمعیت علماء ہند کی تائید اور اشارے سے مولوی محمد احمد کاظمی نے وقف بل کا مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جس کی بعض حلقوں کی طرف سے مخالفت ہوئی، جمعیت علماء ہند نے اس مسودہ قانون وقف پر غور کرنے کے لئے کمیٹی بنائی اور کمیٹی کی طرف سے اس کی تائید کے بعدمجلس عاملہ ۱۱-۱۲ اکتوبر ۱۹۵۲؁ء میں اس بل کی حمایت میں تفصیلی تجویز منظور کی، جس کا متن یہ ہے۔

مولوی محمد احمد کاظمیؒ وقف بل کی حمایت کی اپیل

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ تمام صوبوں کے اوقاف کی حالت کا اندازہ لگانے اور بمبئی وقف بورڈ کے انتخاب کی غلطیوں پر غور و فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ان سب کو تا ہیوں کا علاج صرف یہ ہے کہ مولوی محمد احمد کاظمی صاحب کے اس وقف بل کی حمایت کی جائے، جو آئندہ پارلیمنٹ میں پیش ہونے والا ہے اور جو ہر قسم کی افراط و تفریط سے محفوظ ہے۔ اس بل میں نہ تو واقف کی تصریحات کے خلاف کرنے کی کوئی دفعہ ہے اور نہ انتخاب میں نمائندگان کی کوئی حق تلفی ہے؛ بلکہ جمعیت علمائے ہند۔ جو ہندستان کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت ہے۔ اس کو بھی سولہ میں سے صرف چار نشستیں دی گئی ہیں۔ اس سے اس بل کا حقیقی مقصد اور نمائندگی کا صحیح مطلب آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتا ہے کہ اس بل میں کتنی لچک رکھی گئی ہے اور ہر فرقے اور ہر طبقے کی نمائندگی کا کتنا خیال رکھا گیا ہے اور متولیوں کو ہر قسم کی نامناسب اور غیر مآل اندیشانہ کاروائیوں سے بچایا گیا ہے۔ ایسی حالت میں۔ جب کہ ملک میں زمین داری سسٹم کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اگر کوئی مؤثر اور ہمہ گیر قانون، وقف کی نگرانی کے لیے نہ بنایا گیا، تو تمام ملک کے اوقاف تباہ و برباد ہو جائیں گے۔

جو لوگ کاظمی صاحب کے اس بل پر دانستہ یا نا دانستہ اعتراض کر رہے ہیں، اس جلسہ کی قطعی رائے ہے کہ وہ یا تو ملت اسلامیہ کے مفاد سے بالکل غافل اور بے خبر ہیں اور یا جان بوجھ کر ملت اسلامیہ کے مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مجلس عاملہ کا یہ جلسہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ جو حضرات اسلامی اوقاف سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اوقاف کی آمدنی کو واقف کی شرائط کے موافق صحیح مصرف میں خرچ کرنے اور متولیوں کی نا جائز دست برد سے بچانے کے خواہش مند ہیں، وہ اپنے حلقہ اثر میں کاظمی صاحب کے بل کی تائید کریں اور اس بل کو قانون کی شکل دلانے میں ہر قسم کی جد وجہد کریں اور اپنی رائے کو جلد سے جلد اپنی صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت کے پاس بھیجیں۔

وقف بل کے اردو تراجم

اس وقت میرے پیش نظر۱۹۲۳ ؁ء کے وقف بل ایکٹ کا اردو ترجمہ ہے، یہ ترجمہ ایک غیر مسلم وکیل شیوناتھ سنگھ ایڈوکیٹ مراد آباد نے کیا ہے، یہ ترجمہ ۱۹۲۵؁ء میں شائع ہوا ہے، ترجمہ کے ساتھ اس قانون کی تشریحات اور عدالتی نظائر بھی ہیں، کسی حد تک اس قانون کی تیاری کے مراحل اور تاریخ کا بھی اس میں تذکرہ ہے، تمہیدی صفحات کے بعد اصل ایکٹ شروع ہوتا ہے، جس کے صفحہ اول پر تحریر ہے:مسلمان وقف ایکٹ -ایکٹ نمبر ۴۲،  ۱۹۲۳؁ء:

(جاری فرمودہ مجلس واضع آئین و قوانین کشور ہند) گورنرجنرل اجلاس کونسل نے اس ایکٹ کو بتاریخ اگست ۱۹۲۳؁ء منظور فرمایا۔

اس کے صفحات کی مجموعی تعداد ۷۸ ہے۔

کتاب کے سرورق میں مترجم نے یہ کتاب محمد یعقوب علی خاں صاحب بہادر رئیس اعظم سنبھل وکیل و آنریری مجسٹریٹ مرآداباد کے نام سے منسوب کی ہے، مترجم نے اپنے دیباچہ میں جن حضرات کا شکریہ ادا کیا ہے، وہ تینوں مسلمان مولوی اور ہائی کورٹ کے وکیل تھے۔

ترجمہ اس زمانہ کے اعتبار سے سلیس اور رواں ہے اور اتنا آسان ہے کہ عام اردو خواں دفعات قانون کے مقاصد کو بآسانی سمجھ سکتا ہے، آج کل قانونی کتابوں کے جو تراجم شائع ہور ہے ہیں، ان میں عمومی طور پر یہ کمزوری ہوتی ہے کہ مترجمین کو اردو زبان پر عبور نہیں ہوتا اس لئے ان تراجم سے قانون کے مقاصد کو سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے، بسا اوقات اصل قوانین جو انگریزی یا ہندی میں ہوتے ہیں ان کی طرف مراجعت ضروری ہوتی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ کتاب کے دیباچہ اور انتساب سے واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان کی عدالتوں میں مسلمان، جج اور وکیل کی حیثیت سے سرگرم تھے اور ان کی اچھی شہرت تھی، مترجم کتاب نے جو مرادآباد کا باشندہ اور ایڈوکیٹ تھے، اس ترجمہ کا انتساب جناب مولوی محمد یعقوب علی خان صاحب بہادر کے نام کیا ہے، جو سنبھل کے بڑے رئیس ،مشہور ایڈوکیٹ اور مرادآباد کے اعزازی مجسٹریٹ تھے، اور دیباچہ کے اخیر میں جن تین حضرات کا ذکر کیا ہے( جناب مولوی محمد سبطین احمد نگینوی، جناب مولوی محمد راشد صاحب اور جناب مولوی محمد عبدالمجید خاں صاحب)

یہ تینوں حضرات LLBاور صوبہ ممالک متحدہ آگرہ واودھ ہائی کورٹ کے وکلاء تھے، ہر ایک کے نام کے ساتھ مولوی کا سابقہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تمام حضرات عالم دین تھے، اور ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے تھے۔

ملک کی آزادی کے بعد بھی ہندوستان کی عدالتوں میں مسلم وکلا کی اچھی خاصی تعداد تھی اور ان میں بہت سے حضرات وہ تھے جو صف اول کے وکلاء میں شمار ہوتے تھے اور قانونی باریکیوں پر ان کی پکڑ بہت مضبوط تھی،ججز ان کے دلائل اور بحثوں سے متاثر ہوتے تھے اور ان کی قدر کرتے تھے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کی آزادی کے بعد رفتہ رفتہ عدالتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کا فیصد اور معیار دونوں گھٹتاگیا، جس کے مختلف اسباب ہیں ان کا تفصیل سے جائزہ لینے اور اسباب کا تدارک کرنے کی شدید ضرورت ہے، جنھوں نے مسلمانوں کو ملک کی عدالتوں میں پچھڑے پن کا شکار بنادیا، ان میں سے کچھ کا تعلق حکومت و اقتدار سے ہے اور کچھ کا تعلق مسلمانوں کی پست ہمتی اور مسلسل جد وجہد سے گریز سے ہے۔

علماء تو تقریبا قانون کے میدان سے کنارہ کش ہوچکے ہیں، مسلمانوںکاکسی بھی میدان میں پیچھے ہٹتے رہنا اور دوسرے اقوام پر کلی اعتماد کرنا انتہائی ضرر رساں ہے، حالات جتنے بھی مشکل ہوں جو قومیں آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتی ہیں، اس کے مطابق منصوبہ بندی ، جد وجہد اور قربانی دیتی ہیں وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی ہیں۔

۱۹۹۵؁ء کا وقف ایکٹ وہ پہلا ایکٹ ہے جو آزادی کے بعد پورے ملک کے لیے بنایا گیا پھر اس میں ترمیمات وقتا فوقتا پارلیمنٹ کے ذریعے کی جاتی رہیں، آخری جامع ترامیم ۲۰۱۳؁ء میں منظور ہو ئیں اور انہیں ۱۹۹۵؁ء کے ایکٹ میں مناسب جگہوں پر شامل کر لیا گیا، وقف قانون ۱۹۹۵؁ء،۲۰۱۳؁ء، تک کی وقف ترمیمات کے ساتھ انگریزی اور ہندی میں شائع ہوتی رہتی ہیں، اس کا ایک اردو ترجمہ ۲۰۱۶؁ء میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی نے شائع کیا ہے، یہ ترجمہ خواجہ عبدالمنتقم نے کیا ہے جو۲۱۴ صفحات پر مشتمل ہے ۱۹۹۵ء کا قانون وقف مع ترمیمات ایک سوتیرہ دفعات پر مشتمل ہے جو کہ کتاب کے صفحہ ۹۴ پر مکمل ہو جاتا ہے، اس کے بعد چند مزید قوانین کا ترجمہ بھی شامل کتاب ہے جو اوقاف ہی سے متعلق ہے، مثلا جموں و کشمیر وقف۲۰۰۱؁ء جو صفحہ۵ ۹ سے شروع ہو کر صفحہ ۱۴۱ پر ختم ہوتا ہے اس میں کل ۴۹ دفعات ہیں۔

 اس کے بعد جموں و کشمیر مصرحہ اوقاف اور مصرحہ وقف جائداد (انتظام اور ضابطہ بندی) ایکٹ ۲۰۰۴؁ء شامل ہے جو کتاب کے صفحہ ۱۴۳سے شروع ہو کر۱۵۵ پر مکمل ہوتا ہے اس میں کل ۲۸ دفعات ہیں۔

اس کے بعد درگاہ خواجہ صاحب ایکٹ ۱۹۹۵؁ء (اس وقت تک کی ترمیمات کے ساتھ) شامل کتاب ہے، یہ قانون خاص طور سے خواجہ شاہ معین الدین اجمیری کی درگاہ سے متعلق ہے، جو صفحہ ۱۵۷ سے شروع ہو کر صفحہ ۱۶۶ پر مکمل ہوتا ہے۔

اس کے بعد مرکزی وقف کونسل قواعد۱۹۹۸؁ ء ہے جو صفحہ ۱۶۷ سے شروع ہو کر صفحہ۱۷۶ پر مکمل ہوا، اس کے بعد وقف جائیداد پٹہ قواعد ۲۰۱۴؁ء ہے جو صفحہ۱۷۷ سے شروع ہو کر۱۸۹ تک چلا گیا، اس میں کل۲۶ دفعات ہیں، چند صفحات میں اہم نظائر عدالت شامل کتاب ہیں جو اوقاف ہی سے متعلق ہیں، اس کا آغاز صفحہ ۱۹۱ سے اور اختتام صفحہ ۲۰۱ پر ہوتا ہے۔

اس کے بعد ایک مختصر ضمیمہ ہے جس کا عنوان ہے’’ وقف جائیداد (ناجائز قبضہ کرنے والوں کی بے دخلی) بل ۲۰۱۴؁ء کے اہم نکات‘‘ یہ صرف تین صفحات پر مشتمل ہے صفحہ ۲۰۳ تا۲۰۵، سب سے آخر میں چند صفحات اوقاف سے متعلق اصطلاحات کے بارے میںہیں، جو صفحہ ۲۰۷ سے شروع ہو کر ۲۱۳ پرختم ہوتا ہے، ان اصطلاحات کو سمجھنا قانون کی اس کتاب کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے بہت ضروری ہے میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ انگریزی زبان میں وقف قوانین کوصرف اس وجہ سے نہیں سمجھ سکتے، کیونکہ اردو ہی ان کی زبان ہے ان کے لیے یہ کتاب وقف کے موضوع پر بہت اہم اور معاون ہے۔

وقف قوانین آزادی کے بعد

ملک کی آزادی سے پہلے انگریزوں کے دور میں اور ملک کی آزادی کے بعد پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اوقاف سے متعلق جو بھی قوانین منظور ہوئے یا جو بھی ترمیمات پا س ہوئیں وہ عام طور سے مسلمانوں کے مشورہ سے انجام پائیں، ایسٹ انڈیا کمپنی اور حکومت برطانیہ نے قانون سازی کرتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا کہ اوقاف کا مسئلہ چونکہ خالص مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور ان کے دین سے جڑا ہوا ہے اس لئے اسے ایوان قانون ساز میں پیش کرنے اور پاس کرنے سے پہلے مسلمان علماء، ماہرین قانون اور دانشوروں سے خاص طور سے مشورہ کرلیا جائے اور ان کے مشوروں کی روشنی میں اوقاف کے قوانین اور ا ن کی ترمیمات مرتب اور منظور کرائی جائیں، اس لئے صوبائی اور ملکی سطح پر جو بھی قوانین پاس ہوئے، یا ان میں ترمیمات منظور کی گئیں، ان میں بتدریج اوقاف کے مقاصد، ان کی حفاظت اور ترقی میں اضافہ ہوتا گیا، اور قانون سازی کا یہ سفر بہتر سے بہتر کی طرف جاری رہا، مثلا۱۹۹۵؁ء میں مرکز کی سطح پر جو قانون وقف پاس ہوا، اور جو جموں و کشمیرچھوڑ کر باقی پورے ملک میں رفتہ رفتہ نافذ ہوا اس کی تیاری میں مسلمانوں کا بھرپور حصہ رہا، اور طویل مشاورت کے بعد اسے آخری شکل دی گئی، ایسا نہیں ہوا کہ مسلمانوں کو نظر انداز کرکے حکومت نے بالا ہی بالا وقف کا قانون مرتب کراکر مسلمانوں پر تھوپ دیاہو، اور قانون سازی کے مرحلے میں ان کی بھرپور نمائندگی نہ ہوئی ہو۔

۱۹۹۵؁ء کے وقف قانون میں جو خامیاں رہ گئیں تھیں انھیں دور کرنے کے لئے آوازیں اٹھتی رہیں، اور اس میں ۲۰۱۰؁ء میں کچھ ترمیمات ہوئیں لیکن ان میں بڑے پیمانے پر ترمیمات جن سے وقف قانون مزید بہتر بنا اور وقف کو تحفظ فراہم کرنے والے کئی اہم شقیں شامل کی گئیں، وقف کا یہ ترمیماتی بل ۲۰۱۳؁ء میں پارلیمنٹ سے پا س ہوا۔

۲۰۱۳؁ء کے وقف ترمیماتی بل کی تیاری میں آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور جمعیت علماء ہند نے بھرپور حصہ لیا تھا، یہ میرے سامنے کی بات ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے دہلی آفس میں یا دہلی میں کسی اور جگہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے طویل مشاورتی نشستیں ہوتیں،جن میں چند ممتاز علماء ا ور ماہرین قانون شریک ہوتے ، اور کبھی کبھی رحمان علی خان ( جو اس وقت وزیر تھے اور وقف قوانین کے لئے بڑے سرگرم تھے) بھی شریک ہوتے، اور مسودہ قانون کی ہر ہر دفعہ اور اس کے ہر ہر لفظ پر تبادلہ خیال اور گفتگو ہوتی، اس میں ترمیم و اضافہ کیاجاتا، اس طرح بورڈ کی کمیٹی نے اس مسودہ کو فائنل کیا اور تقریبا اسی شکل میں ۲۰۱۳؁ء کاقانون وقف (جو زیادہ ترترمیمات پر مشتمل تھا) پاس ہوا، حالانکہ بورڈ کی تجویز کردہ بعض ترمیمات اس میں شامل نہ ہو سکیں، جس کا بورڈ کے ذمہ داران کو شکوہ تھا۔

اوقاف کے چیلنجزاور مسائل

جناب زفر احمد فاروقی صاحب جو یوپی کے سنی وقف بورڈ کے چئیرمین ہیں انھوں نے اگست ۲۰۱۶؁ء میں اسلامی فقہ اکیڈمی کی دعوت پر وقف کے موضوع پر ہونے والے سیمینار ’’ہندوستان میں اوقاف چیلنجز اور مشکلات‘‘ میں یوپی کے سنی اوقاف کی صورت حال اور مسائل کے بارے میں جو مضمون لکھا تھا اس کا ایک حصہ یہاں پیش کیاجاتا ہے، جس سے اوقاف کو درپیش مسائل کا اندازہ ہوتا ہے۔

صوبۂ اترپردیش اس لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے کہ یہاں پر اوقاف کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ پچیس ہزار ہے، جو کہ ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے، اتنی بڑی تعداد میں اوقاف ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان اوقاف میں اترپردیش کے لگ بھگ ساٹھ فیصد قبرستان و مساجد شامل ہیں، اور وقف بورڈ میں درج اوقاف کے لحاظ سے ان کا تناسب لگ بھگ ۹۰ فیصد ہے، ظاہر ہے کہ اتنی کثیر تعداد میں اوقاف کا ہونا اور ان کا انتظا م و انصرام اپنے آپ میں خود ایک بڑا چیلنج ہے، جب کہ ساتھ ہی دیگر مسائل بھی درپیش ہوں، حالانکہ وقف بورڈ کے ذریعہ ان اوقاف کو منظم کرنے میںبہتیرے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، مگر ان میں سے جو اہم مسائل ہیں، ہم ان پر ہی روشنی ڈال رہے ہیں۔

سب سے اہم مسئلہ ان اوقاف کو ناجائز قابضین سے بچانا اور اگر ناجائز قبضہ ہے تو اسے خالی کرانا اور ان اوقاف کا تحفظ ہے، او ر اس سلسلہ میں مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تردد نہیں ہے کہ اس میں وقف بورڈ کلی طور پر ناکامیاب رہا ہے، حالانکہ اس کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ وقف بورڈ میں عملہ کی کمی اور اس کے علاوہ ضلع انتظامیہ کی سطح پر وقف بورڈ کے مراسلوں درخواستوں کے تئیں ضلعی حکام کا سوتیلا رویہ ہے، وقف بورڈ میں عملہ کو بڑھانے کی اور وقف بورڈ کے احکامات و مراسلات پر فوری کاروائی کے لئے گو کہ سیاسی قیادت نے بہت ایماندارانہ کوشش کی ، لیکن صوبہ کی افسر شاہی ان ساری کوششوں میں ایک بلند اور مضبوط دیوار کی طرح حائل رہی، اور اسی افسر شاہی کا تعصبانہ رویہ سنی وقف بورڈ کے لئے اپنے آپ میں خود ہی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

وقف ایکٹ ۱۹۹۵؁ء میں ۲۰۱۳؁ء میں کی گئی ترمیمات کی وجہ سے اوقاف کے ناجائز قبضوں کو ہٹانے کے عمل میں اور پیچیدگی آئی ہے، جب کہ اس نئے ترمیم شدہ طریقہ کار کا خاطرخواہ کوئی فائدہ اب تک نظر نہیں آیا ہے، بلکہ پورا مرحلہ پہلے سے زیادہ دشوار ہوگیا ہے۔

ایک اہم مسئلہ محکمہ آثار قدیمہ کے دائرہ کار میں آنے والی اوقاف کی جائدادوں کا ہے، جس میں سب سے اہم آگرہ میں واقع تاج محل ہے، جس کے متعلق محکمہ آثار قدیمہ نے اس  کے وقف ہونے سے ہی انکار کردیا ہے، اور وقف بورڈ میں اندراج کے احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔

ایک اہم مسئلہ قوم کے دیانتدار اور ایماندار افراد کی اوقاف کے معاملات میں حد درجہ کی عدم دلچسپی ہے، جو اس درجہ پر پہنچ چکی ہے، کہ وقف بورڈ کے ذریعہ درخواست کرنے پر بھی اوقاف کے انتظام سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اوقاف کے انتظام میں ایسے لوگ جڑ جاتے ہیں جن کی نیتوں میں فتور ہے، اورجن کی وجہ سے اوقاف کو بجائے فائدہ کے، نقصان ہی ہوتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ قوم کے ایماندار افراد اوقاف کی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کا انتظام کریں اور اس کا واحد حل، قوم کے علماء و اکابرین کے پاس ہے، جو قوم کے دیانتدار و ایماندار افراد کو یہ تلقین کرسکتے ہیں، کہ وہ اوقاف کے انتظام و حفاظت میں بڑھ پڑھ کر حصہ لیں۔(۱۸)

دہلی کے اوقاف

اگست ۲۰۱۶ ؁ء میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے ’’ہندوستان میں اوقاف -چیلنجز اور مشکلات‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کیا تھا، اس میں جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے ناظم اعلیٰ مولانا عبدالرزاق صاحب دہلی نے اوقاف پر مختصر رپورٹ پیش کی تھی، اس کا ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو:

آخر غور کیجئے کہ دہلی میں مسلمانوں کی وقف کی ہوئی کتنی قیمتی جائیدادیں ہیں، ان میں سے کتنی جائیدادیں دوسروں کے قبضے میں ہے، کتنی جائیدادوں پر ڈی ڈی اے کا تسلط ہے اور آج کتنی جائیدادیں تیزی کے ساتھ حکومت کی نظر بد اور دہلی وقف بورڈ کی لا پرواہی، مجرمانہ غفلت اور سست روی کی وجہ سے ڈی ڈی اے، ایم سی ڈی، این ڈی ایم سی ایل این ڈی اور محکمہ آثار قدیمہ کے قبضے میں جارہی ہیں، عام مسلمانوں کی ضائع ہوتی اس وراثت کا آخر کون ذمہ دار ہے حکومت وقت کے ساتھ ساتھ کیا دہلی وقف بورڈ، اس کا ہر آنے والا چیئر مین سی ای او اور اس کی تشکیل دی جانے والی کمیٹیاں نہیں ہے؟ جو مہینے دو مہینے میں صرف اس لیے بیٹھتی ہیں کہ فلاں امام کو نکال دیا جائے، فلاں کو نوٹس بھیج دیا جائے اس کا تبادلہ وہاں کر دیا جائے اور اس کا یہاں سے وہاں ٹرانسفر کیا جائے یا فلاں کرائے دار کے کرائے میں کچھ حذف اور اضافہ کر دیا جائے اور بس۔

 دہلی میں مہرولی کا علاقہ وہ خاص مقام ہے جو ماضی میں کسی وقت سلطانوں اور شاہوں کا دارالسلطنت ہوتا تھا، جس کی وجہ سے وہاں قلعہ نما اور اس جیسی بڑی اور قدیم عمارتیں اور محلات، حویلیاں، محل سرا ئیں، بارہ دریاں اور نہایت عالی شان باغیچہ اور خوبصورت مساجد کا گو یا ایک شہر آباد تھا اور وہ آج تمام قدیم اور مبارک یادگاریں ویران ہیں، غیروں کے قبضے میں ہیں، یا پھر محکمہ آثار قدیمہ اور ڈی ڈی اے وغیرہ انہیں اپنی دسترس میں لیے ہوئے ہیں، اس علاقے مہرولی میں بیگم پور کی وہ قدیم مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی یادگار تاریخی شاہی مسجد بھی ہے جو اگر دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد سے بڑی نہ ہو، کم از کم اس کے برا بر ضرور ہے مگر ویران ہے جو ئے باز، شرابی، اسمیک پینے والوں کی پناہ گاہ اور اوباشی وعیاشی کے اڈے میں تبدیل ہے، الامان والحفیظ، اسی طرح مسجد قوت الاسلام مہر ولی، مسجد محمدی قلعہ، سری مسجد کھڑ کی گاؤں، مسجد کا لوسرائے، مسجد کوٹلہ فیروز شاہ دہلی گیٹ، مسجد جمالی کمالی مہرولی، مسجد موٹھ ساؤتھ ایکس ٹیشن نئی دہلی، مسجد شیخ یوسف قتال، مسجد عرب سرائے، مقبرہ ہمایوں نظام الدین، مسجد کوٹلہ مبارک پور، مسجد بارہ دری، مسجد شیخ سرائے نئی دہلی، مسجد مخدوم سبزواری، حوض خاص مسجدادھ چنی اروند مارگ نئی دہلی، مسجد ماضی مشہور بہ جناتی مسجد، مسجد خیر المنازل، چڑیا گھر متھراروڈ، مسجد شیر شاہ سوری پرانا قلعہ، مسجد صفدر جنگ، مسجد قدسیہ باغ کشمیری گیٹ، مسجد عیسی خان بستی حضرت نظام الدین، مسجد فخر المساجد کشمیری گیٹ وغیرہ وغیرہ شاہجہانی جامع مسجد دہلی اور مسجد فتح پوری جیسی تاریخی اور بڑی بڑی مساجد ہیں، جو اسی دہلی کی سرزمین پر قلعہ معلی کی طرح کھڑی اپنی بے بسی اور ویرانی پر آج بھی خون کے آنسو بہا رہی ہیں، ان کے علاوہ اور بھی بے شمار مساجد دہلی کے مختلف علاقوں میں ہوٹل، اسکول، گھر، مکان، دوکان، آفس، سنستھان یہاں تک کہ مندر اور گر جا گھروں میں تبدیل ہو کر کفر و شرک کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں، جہاں ایک اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت ہونی چاہیے تھی، وہاں اصنام گری اور بت پرستی کا بازار گرم ہے، آخر اس تمام تر تباہی کا ذمہ دار حکومت وقت اور محکمہ اوقاف اور اس کے ذمہ دار حضرات نہیں تو اور کون ہے۔ اگر اپنے ذہنوں اور سوچ وفکر میں تبدیلی اور تحریک پیدا کر کے قوم وملت کی امانت اور خوف خدا کو ملحوظ رکھ کر کوشش اور کاوشیں کی جائیں تو جائیدادوں کی آمدنی اور اللہ کے ان گھروں یعنی مساجد کی آبادی کی برکت سے ایک بڑا نہ سہی کوئی چھوٹا انقلاب مسلمانوں کے معاشرتی ماحول میں ضرور آ سکتا ہے۔ (۱۹)

قانون سازی کے بارے مین موجودہ مرکزی حکومت کا رویہ

مرکز کی مودی حکومت جو دس سال کی مدت پورا کرنے کے بعد اپنے اقتدار کاگیارہویں سال بھی گزار چکی ہے، وہ جب سے بر سر اقتدار آئی ہے ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو کاری ضرب لگا رہی ہے، اس کی تمام پالیسیوں اور اقدامات کا ایک نمایاں پہلو مسلمانوں کو ذلیل اور پست کرنا ہے اور مسلمانوں کے مذہبی اور سماجی، اقتصادی اور سیاسی حقوق کو پامال کرنا ہے۔

یہ حکومت مختلف اوقات میں پارلیمنٹ سے ایسے قوانین پاس کرتی رہی ہے، جن سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق پامال ہو رہے ہیں، ان کے دستوری حقوق بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، اور ایسے قوانین لانے سے پہلے نہ تو مسلمانوں سے مشورہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی کوئی بات سنی جاتی ہے۔ صاف طور سے محسوس ہوتا ہے حکومت مسلمانوں کو پست کرنا چاہتی ہے۔ اور ملک کی اکثریت کی فسطائی طاقتوں، مسلم مخالف تنظیموں اور ناسمجھ نوجوانوںمیں یہ احساس پیدا کرنا چاہتی ہے کہ ہم نے مسلمانوں کو پست کر دیا، ان کو نیچا دکھایا، بلکہ انھیں نمبر دو کا شہری بناد یا تاکہ ہندوووٹ بڑی تعداد میں بھاجپا کی جھولی میں آجائے، اور ہندو مسلم منافرت کا ماحول پیدا کر کے بھاجپا الیکشنوں میں فتحیاب ہو سکے۔

تین طلاق کے سلسلے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ۲۰۱۷ ؁ء میں آنے کے بعد اس فیصلے کونا کافی سمجھ کر حکومت نے مسلم خواتین سے ہمدردی کے نام پر طلاق کے سلسلہ میں ایک قانون کو پارلیمنٹ سے پاس کراناضروری سمجھا، مسلم خواتین سے ہمدردی کے نام پر حکومت کے ذمہ داروں اور گودی میڈیا نے گھڑیال کے آنسو بہائے، اورہندوستانی مسلمانوں خاص طور سے مسلم خواتین کی شدید مخالفت کے باوجودیہ قانون پاس کر دیا اور اسلام نے میاں بیوی کے در میان نباہ نہ ہو پانے کی صورت میں رشتہ نکاح ختم کرنے کا جو آسان طریقہ مسلم فیمیلیزکو دے رکھا ہے اس پر پابندی عائد کر دی گئی، بلکہ اسے جرم قرار دے دیا گیا، اور مسلم خواتین کو مجبور کیا گیا کہ وہ ناگزیر حالات میںنکاح سے علیحد گی کے لئے سرکاری عدالتوں کا راستہ اختیار کریں، اور اپنے دین وایمان، وقت اور سرمایہ سب کو برباد کریں۔

۲؍ اپریل۲۰۲۵؁ء کو این ڈی اے سرکار نے وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر کے تیرہ، چودہ گھنٹے کی محنت کے بعد تقریباً دو بجے رات میں پاس کرالیا، دستور کی متعدد وفعات کو پا مال کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے مذہبی اور سماجی حقوق پامال کرتے ہوئے عددی اکثریت کی بنا پر حکومت ہند نے رات کے اندھیرے میں یہ بل پاس کر ایا، ۳ ؍ا پر پل کو آدھی رات کے بعد راجیہ سبھا میں یہ بل پاس کر ایا گیا، اور ۴؍اپریل کو صدر جمہوریہ سے دستخط کروا کر اسے قانونی شکل دے دی گئی۔

 موجودہ مرکزی حکومت کی ایک ذہنی بیماری یہ ہے کہ یہ باشندگان ملک کو نادان اور نا سمجھ مان کر ان کے مختلف طبقات اورا کا ئیوں کے لئے قانون سازی کرتی ہے۔جس طبقہ یا کمیونٹی کے لئے قانون سازی کرنا چاہتی ہے انھیں نا سمجھ قرار دے کر ان سے گفت و شنید اوران کی موافقت کے بغیر محض اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر قانون سازی کر دیتی ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کے وہ طبقات جن کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے، وہ اس سے ناراض ہوتے ہیں، اگر یہ طبقات قانون سازی کے دوران مسودہ قانون سے عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہیں یا ان میں کچھ تبدیلیاں چاہتے ہیں تو حکومت انھیں مسترد کر دیتی ہے اور یہ تاثردیناچاہتی ہے کہ یہ لوگ نا سمجھ ہیں اور اپنے مفاد کو بھی نہیں سمجھتے۔

تقریباً دو تین سال پہلے کسانوں کے لئے حکومت ہندنے تین قوانین کے مسودہ تیار کرکے پارلیمنٹ میں پیش اور پاس کرا دئے، جبکہ کسانوں کی تنظیمیں اس کی مخالفت کرتی رہیں اور قوانین کو کسانوں کے لئے سخت نقصاندہ اور کسانوں کے حقوق کی پا مالی قرارد یتی رہیں، لیکن حکومت نے ان کی ایک نہیں سنی اور انھیں قانونی شکل دے کر ہی دم لیا،کسان ان قوانین کو مسترد کرانے اور اپنے بعض دوسر ے مطالبات کو منظور کرانے کے لئے تحریک چلانے پر مجبور ہوئے، حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی، ایک سال سے زیادہ مدت تک کسانوں کی پر زور تحریک چلی، بالآخر دباؤ میں آکر حکومت ان زراعتی قوانین کو واپس لینے پر مجبور ہوئی۔

قوانین وقف اور وقف ترمیمی بل ۲۰۲۵ ؁ء

وقف اسلامی قانون کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی بنیاد کتاب و سنت پر ہے، اپنی جائداد کوہمیشہ کے لئے کسی نیک کام کے لئے مختص کر دینا وقف ہے، اسلامی فقہ کی تمام کتابوں میں وقف کا مستقل باب ہوتا ہے، جس میں وقف کے تفصیلی احکام درج ہوتے ہیں، اسلامی تاریخ میں زمین جائداد وقف کرنے کا سلسلہ عہد نبوی سے شروع ہوا اور مسلمان جہاں بھی آباد ہوئے انھوں نے مساجد ،مدارس، خانقاہوں، مسافر خانوں اور تعلیم وغیرہ کے مقاصد کے لئے اپنی جائدادوں کو وقف کیا،ہندوستان میںبھی یہ سلسلہ اسی وقت سے شروع ہوا جب مسلمان اس ملک میں آ کر آباد ہوئے، ہندوستان میںاقتدار میں آنے سے پہلے مسلمانوں کی اوقاف (مساجد، مدارس،مسافر خانے وغیرہ) موجود تھے، جیسا کہ تعلیم یافتہ حضرات کو معلوم ہے، ان اوقاف کا نظم وانتظام کرنے کے لئے انگریزوں کے زمانے میں وقف کے کچھ قوانین منظور کئے گئے، ان قوانین کو مرتب کرنے میں ہمیشہ سے مسلم علماء ،قضاۃ اور اسلامی قانون کے ماہرین کا بنیادی حصہ رہا ہے۔

ہندوستا ن کے وقف قوانین خواہ انگریزوں کے زمانے کے ہوں یا ملک کی آزادی کے بعد انڈین پارلیمنٹ کے منظور کردہ، ان سب کو اسی طرح مرتب کیا گیا کہ مسلمانوں کے مستند علماء اور ماہر ین قانون کی مدد سے ان کی تشکیل اور ڈرافٹ سازی ہوئی، مسلمانوں کی مرضی کے بغیر وقف کا کوئی قانون ان پر تھوپا نہیں گیا،۲۰۱۳؁ء میں وقف قوانین میں جو ترمیمات اور اضافے ہوئے وہ سب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بور ڈاور جمعیت علماء ہنداور دیگر مسلم تنظیموں اور جماعتوں سے مشاورت اور اتفاق کے بعد کئے گئے، حتی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ان سے مکمل اتفاق کیا، اور ان کی طرف سے بھی اختلافی آواز نہیں اٹھی۔

موجودہ وقف ترمیمی بل جو پہلی بار۸؍ اگست ۲۰۲۴؁ء کو انڈین پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا، اس کے بارے میں ہندوستان کے معروف علماء مشائخ اور اہم مسلم تنظیموں (آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت علماء ہندوغیرہ) سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا،جب کہ وقف مسلمانوں کا مذہبی مسئلہ ہے۔ اور شریعہ ایپلیکیشن ایکٹ ۱۹۳۷؁ء میںجن دس چیزوں کو بڑی وضاحت کے ساتھ اس قانون میں شامل کیا گیا ہے، ان میں سے ایک اہم ترین چیز وقف بھی ہے، اورشریعہ ایپلیکیشن۱۹۳۷؁ء اگر چہ برطانوی حکومت کے زمانہ میں پاس کرایا گیاقانون ہے، لیکن اب بھی وہ ہندو ستانی مسلمانوں پر نافذ ہے، اور حکومت ہند اس کوماننے اور قانونی حیثیت دینے پر مجبور ہے، اس سے بڑی دھاندلی اور زیادتی کیا ہوگی کہ وقف جو اسلامی شریعت کا ایک اہم حصہ ہے اسکے بارے میں قانون سازی کرتے وقت مسلمان علماء، ما ہر ین قا نون اور اہم مسلم جماعتوں، اور تنظیموں سے کوئی مشورہ نہ کیا جائے، بلکہ ان کی بھرپوراور مکمل مخالفت کے باوجود اسے قانونی شکل دی جائے،اور یہ نعرہ لگایا جائے کہ مسلمانوں کی بھلائی کے لئے یہ قانون لارہے ہیں، مسلمان خواتین اورپسماندہ مسلمانوں کے ساتھ مرکزی حکومت اور بھاجپا کی صوبائی حکومتوںکا رویہ روز روشن کی طرح واضح ہے، مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا ظلم و ستم کارویہ اختیار کیا جارہا ہے،مسلمانوں کی مساجد مدارس اور اوقاف پر حملے ہورہے ہیں، ان کے مکانات مختلف بہانوں سے بلڈوز کئے جار ہے ہیںکہ مسلمانوں کی جان، مال، آبرو کسی چیز کو تحفظ حاصل نہیں ہے،جمعۃ الوداع اور عید الفطر کے موقع پر یوپی کی یوگی سرکار نے سختی سے پابندی لگائی،مسلمان سڑکوں پر اور پبلک مقامات پر نماز نہیں پڑھ سکتے، بلکہ اپنے گھروں میں اور گھروں کی چھت پر بھی نماز ادا کر نا ان کے لئے ممنوع ہے،جب کہ کا نوڑ یاترا کے موقع پرنیشنل ہائے وے کا ایک حصہ کا نوڑیوں کے لئے مخصوص کر دیا جاتا ہے، اور ان پر نہ صرف گلپوشی کی جاتی ہے بلکہ انھیں اس یاترا کے دوران غیر قانونی کاموں کی کھلی اجازت دی جاتی ہے اور وہ جہاں چاہتے ہیں توڑ پھوڑ کرتے ہیں، دکانوں اور ٹھیلوں کونقصان پہنچاتے ہیں، ایسی حکومت مسلمانوں کے خلاف مستقل محاذ آراء ہے اور انھیں ہر طرح نقصان پہنچاتی ہے، اور اپنی ہر الیکشنی مہم کے درمیان اس کے قد آور لیڈران، بشمول وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ مسلمانوں کے خلاف تقریریں کرتے ہیں اور مسلما نوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے والا ماحول بناتے ہیں تا کہ انھیں زیادہ سے زیادہ ہندو ووٹ ملے، انہیں یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کرنا، امن وامان کا درہم برہم کرنا ہے، اور ملک کی سلامتی کے تانے بانے کو خطرے میں ڈالنا ہے۔

ایسی سیاسی پارٹی اور سیاسی قیادت جب مسلمان خواتین یا مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کی ہمدردی کے نام پر پار لیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں کوئی قانو ن لاتی ہیں اور گودی میڈیا اور اس پارٹی کے لیڈر ان چیخ چیخ کریہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی خیر خواہی اور ان کا بھلا کرنے کے لئے خاص طور سے مسلم خواتین اور پسماندہ طبقات کو ان کا جائز حق دلانے کے لئے یہ قانون لارہے ہیں، توپوری دنیا کو حیرت ہوتی ہے اورلوگ اس ستم ظریفی پر ہنستے ہیں۔

۴؍ اپریل ۲۰۲۵؁ء کو صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد جو وقف بل قانون بن چکا ہے،اس کی داستان بڑی المناک ہے، اوریہ قانون مسلمانوں کے مذہب و عقیدہ، ان کی شریعت ان کے آئینی اور قانونی حقوق پر کھلا ہوا ڈاکہ ہے،جسے مسلمان کسی حال میں قبول نہیں کر سکتے ۔

۸؍ اگست ۲۰۲۴؁ء کو پہلی بار یہ وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا،اپوزیشن کی شدیدمخا لفت نیز این ڈی اے حکومت کی پارٹنر بعض سیکولرپارٹیوں( JDU,TDPوغیرہ)کے ممبران بھی اس بل کے شدید مخالف تھے، اس لئے حکومت مجبور ہوئی کہ اس بل کو JPC کے حوالہ کر دیا جائے،جے پی سی کے ارکان بھارتیہ جتنا پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں (کانگریس، سماجوادی پارٹی وغیرہ)نیز این ڈی اے کی حلیف پارٹیوں کے ارکان تھے، JPC نے نہ صرف یہ کہ اپنے ارکان کی میٹنگیں کی، بلکہ ملک کے بڑے حصے میں جاکر مسلم تنظیموں، اداروں اور متعلق اور غیر متعلق لوگوں کی رائے لی،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، جمعیت علماء ہند نے اس بل کا تفصیلی جائزہ لے کر اس بل میں شامل خلاف شریعت اور خلاف دستور دفعات کی نشاندہی کی ،انھیں حذف کرنے، یا ان میں مناسب ترمیمات کرنے کا مشور ہ دیا، اپوزیشن پارٹی کے جے پی سی  ممبران نے بھی  JPC کی میٹنگوں میں اپنا اختلافی نوٹ زبانی یاتحریری طور پر بار بار کمیٹی کے سامنے پیش کیا، لیکن JPC کے چئیرمین جگدمبکا پال نے سبھی میٹنگوں ،مذاکرات اور تبادلہ خیالات کے بعد دوبارہ جو بل تیار کیا اس میں اپوزیشن کے ممبران پارلیمنٹ اور مسلم تنظیموں اور اداروں کی تجاویز اورآراء کوکوئی جگہ نہیںدی گئی۔

اوربھاجپانے پوری ضد اورہٹ دھرمی کے سا تھ بل کو اس شکل میں دوبارہ پیش کیا اورپاس کرایا جس طرح اگست ۲۰۲۴؁ء میں پیش کیا تھا اور اپنی عددی اکثریت اور طاقت کے بل پر پار لیمنٹ اور راجیہ سبھا سے منظور کرا لیا۔ مسلمانوں نے اس بل کے تعلق سے جو کروڑوں ایمیل بھیجے تھے یا خطوط لکھے تھے یا تفصیلی عرضد اشتیں پیش کی تھیں ان سب کوردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا تھا، اور وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجونے بل پیش کرتے ہوئے اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں پارلیمنٹ ہاوس کو گمراہ کیا اور بے سرو پیرکی باتیں کہتے رہے، اورباربار انھوں نے اس بات کو دہرایاکہ یہ بل مسلمانوں کی ترقی کے لے لایا گیا ہے اور اس سے مسلمان خواتین، مسلم پسماندہ طبقات کو بڑا فائدہ پہنچے گا ۔

واقعہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا میںاپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اس بل کی دھجیاں اڑاد یں اور اس بل میں دستور کی مختلف دفعات خاصی طور سے بنیادی حقوق کی دفعات کی جو خلاف ورزیاں ہیں، انھیںپوری طرح سے واضح کر دیا، لیکن پارلیمنٹ میں فیصلے دلیل اور برہان کی بنیاد پر تو نہیں ہوتے، بلکہ ووٹوں کی اکثریت کی بناپر ہوتے ہیں، حکومت ہندنے اپنی حلیف پارٹیوں کو جواپنی سیکولر شبیہ کی وجہ سے اور مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کی وجہ سے اس مسلم مخالف بل پر حکومت کے ساتھ متفق نہیں تھی، چھ سات ماہ کی مدت میں سودے بازی کر کے اس بل کی حمایت پر آمادہ کر لیا، ان کی خواہش پربعض جزوی ترمیمات کیں،جن کا بل کے مزاج ومذاق پر کوئی گہرا اثر پڑنے والا نہیں تھا تاکہ انھیںکہنے کے لئے یہ رہ جائے کہ ہم نے فلاں فلاں ترمیمات کرا کے ہی بل سے اتفاق کرلیا ہے۔ حکومت کو پورے طور سے معلوم ہے کہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ملک کے انصاف پسندشہری بھی اس بل میں شامل خلاف دستور دفعات کی وجہ سے اس بل کی تائید میں نہیں ہیں، لیکن حکومت نے اپنے منصوبے کے مطابق مسلمانوں کو کاری زخم لگانے کے لئے ان کی مساجد مدارس اور مختلف قسم کے اوقاف کو خورد برد کرنے کے لئے اور انھیں مکمل طور پر حکومت کے کنڑول میں لانے کیلئے یہ بل پاس کروایا ،اور وزیر داخلہ امت شاہ نے شدید تحکمانہ لہجہ میں یہ دھمکی دے ڈالی کہ اس بل کے منظور ہونے کے بعد جو لوگ اسے قبول نہیں کریں گے ہم ان کو برداشت نہیں کریں گے جب کہ بہت پرانی بات نہیں ہے،تینوں زرعی قوانین لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے پاس ہونے اور قانونی شکل اختیار کرنے کے باوجود انھیں کسانوں کی مستقل تحریک کی وجہ سے واپس لینا پڑا تھا،حالانکہ اس تحریک کے قائدین پر بھی حکومت کے وزراء اور کارندوں نے ملک دشمن اور خالصتانی ہونے کا الزام بار بار عائد کیا۔

اب ہم ۴؍ اپریل ۲۰۲۵؁ء کوقانون کی شکل اختیار کر نے والے وقف ترمیمی بل کی مختلف خلاف شریعت اور خلاف دستور دفعات کے جائز ہ پر آتے ہیں:

(۱)۲۰۲۵ ؁ء کے وقف قانون ترمیمی ایکٹ میں جو اب قانون بن چکا ہے وقف کرنے والے کے لئے یہ شرط لگا دی ہے کہ وہ مسلمان ہو، اور کم ازکم پانچ سال تک اسلام پر عمل کرچکا ہو، ۲۰۱۳ ؁ء کے قانون وقف میں وقف کرنے والے کا مسلمان ہوناشرط نہیں ہے، غیر مسلم بھی وقف کرسکتا ہے اور اسلامی قانون کے اعتبار سے بھی وقف کرنے والے کا مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے، غیر مسلم بھی دینی، رفاہی، تعلیمی کاموں کے لئے وقف کرسکتا ہے، حتیٰ کہ وہ مسجد و مدرسہ کے لئے بھی وقف کرسکتا ہے، جو خالص دینی کام ہے، یہ شرط نہ صرف عدل و انصاف اور اسلامی قانون کے خلاف ہے، بلکہ دستور ہند کے بھی خلاف ہے، باشندگان ملک کے ساتھ کھلی ہوئی نابرابری ہے، ہندؤوں کے مندر ، مٹھ اور مذہبی اداروں کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ ہندو ہی اس کے لئے کوئی چیز دان دے سکتے ہیں یا زمین جائیداد دے سکتے ہیں، اسی طرح عیسائیوں کے مذہبی اداروں یا سکھوں کے مذہبی اداروں میں مال یا جائیداد دینے کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ اسی مذہب کاماننے والا ہی دان کرسکتا ہے، اور اپنا مال دے سکتا ہے ، پھر اوقاف ہی کے لئے یہ پابندی کیوں لگائی جارہی ہے۔

ہندوستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ مسلمان حکمرانوں اور مال داروں نے ہندو مندروں ، مٹھوں اور مذہبی عبادت گاہوں کے لئے جائیدادیں اور مال دیا، اورانصاف راجاؤں اور نیک دل برادران وطن نے مسجدوں اور مدرسوں کے لئے زمینیں دیں، یا ان کی مالی مدد کی۔

ستم بالائے ستم یہ ہے کہ وقف کرنے کے لئے صرف اتنی شرط نہیں ہے کہ وقف کرنے والا مسلمان ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ پانچ سال سے اسلام پر عمل پیرا ہو، یعنی پہلے اسے حکومت سے سرٹیفیکٹ حاصل کرنا پڑے گا کہ وہ پانچ سال سے اسلام پر عمل کررہا ہے، تب وہ وقف کرسکتا ہے، حیرت یہ ہے کہ قانون میں ایسی غیر معقول دفعات ترقی کے اس دور میں لگائی جارہی ہیں جب کہ ہندوستان ’’وشوگرو‘‘ بننے کا خواب دیکھ رہا ہے اور اس کے دعوے کئے جارہے ہیں، دستور ہند نے ہر عاقل بالغ شہری کو اپنے مال میں تصرف کی جو آزادی دے رکھی ہے، وقف ترمیمی بل کی یہ دفعہ اس کے بالکل بر خلاف ہے، افسوس تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے عبوری فیصلہ میں اس دفعہ کو کلیۃً خارج نہیں کیا، بلکہ حکومت کو یہ ہدایت دی کہ اس کا طریقۂ کار طے کرے۔

(۲) بے شمار مسلم اوقاف ہیں جن پر مرکزی حکومت یا صوبائی حکومتیں ایک مدت سے قابض ہیں، اوقاف کی زمینوں پر مدت سے ان کا قبضہ ہے، عالیشان عمارتیں اور دفاتر کھلے ہیں، جب کہ پختہ کاغذات اور سرکاری اندراجات کے مطابق وہ اوقاف کی جگہیں ہیں، اس لئے وقف ترمیمی قانون میں ان تمام اوقاف کو وقفیت سے خارج کردیاگیا ہے،  جو مرکزی یا صوبائی حکومتوں کے قبضہ و تصرف میں ہیں، اور ایسے تمام اوقاف وقف بورڈ کے ریکارڈ سے نکال دئے جائیں گے اور انھیں حکومت کی ملکیت تسلیم کیا جائے گا، جہاں بھی محکمہ اوقاف اور حکومت کا تنازعہ ہوگا، وہ جگہیں اور عمارتیں حکومت کی ملکیت مانی جائے گی۔

(۳)اسی طرح آثار قدیمہ کے تحت آنے والی عمارتیں خواہ وہ مساجد ، قبرستان یادرگاہیں ہوں وہ سب اوقاف سے خارج ہوجائیں گی، اور محکمۂ آثار قدیمہ کی ملکیت قرار پائے گی، اس نئے قانون کے تحت رفتہ رفتہ آثار قدیمہ میں شامل بے شمار مساجد ہیں ( جہاں اب تک نمازیں ہوتی تھیں) ان میںنمازوں پر پابندی عائد کردی جائے گی اور ان سب کو محکمۂ آثار قدیمہ کی ملکیت قرار دیا جائے گا، اس سے زیادہ ظلم و جبر اور دھاندلی کیا ہوسکتی ہے ؟قانون سازی حکومت کے ہاتھ میں ہے اس لئے وہ جس چیز کو چاہے قانون بنا کر اپنی ملکیت میں لے سکتی ہے۔

(۴)بہت سے اوقاف زبانی ہوتے ہیں اور زبان سے کیا ہوا وقف بھی شرعا معتبر ہے، ان سے بھی زیادہ اور بکثرت وہ اوقاف ہیں جو مدت دراز سے بطور وقف استعمال ہوتے چلے آرہے ہیں، مثلاً وہ مسجدیں ہیںیا مدرسے یا قبرستان ہیں جن کے واقفین کا پتہ ہی نہیں ہے، لیکن کافی مدت سے وقف کے مصارف میں ان کا استعمال چلا آرہا ہے، جسے وقف بائی یوزریا وقف بالاستعمال کہا جاتا ہے،اوقاف کے تمام قدیم قوانین میں وقف بائی یوزر کو قانونی حیثیت حاصل تھی، اور سپریم کورٹ نے بھی اس سلسلے میں فیصلے کئے ہیں، لیکن موجودہ وقف ترمیمی بل میں اسے مکمل طور سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی ، ۲۰۲۴ ؁ء میں جوبل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا، اس میں تووقف بائی یوزر کو سرے خارج کردیا گیا تھا، اور اس کی قانونی حیثیت ختم کردی گئی تھی، لیکن ۲۰۲۵ ؁ء میں جو بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا اس میں اس قانون سے پہلے کے وہ تمام اوقاف جو وقف بائی یوزر میں آتے ہیں، انھیں وقف تسلیم کیا گیا، لیکن اس نئے قانون کے بعد جو اوقاف قائم ہوں گے ان میں وقف بائی یوزر کو غیر قانونی قرار دیا گیا ، لیکن پہلے کے وہ اوقاف جو استعمالی اوقاف( وقف بائی یوزر ) ہیں ان کو قانونی حیثیت دینے کے ساتھ ایک استثناء بھی کردیا گیا، جو انتہائی خطرناک ہے، نئے قانون میں کہا گیا ہے ، وہ موجودہ وقف وقف بائی یوزر جائیدادیں جو وقف ترمیمی ایکٹ ۲۰۲۵؁ء کے نفاذ سے پہلے یا اس کے نفاذ کے وقت بطور وقف بائی یوزر درج ہوچکی ہیں، وہ وقف جائیدادوں کے طور پر بر قرار رہیں گی،(سوائے ان جائدادوں کے جو مکمل یا جزوی طور پر تنازع میں ہوں یا سرکاری جائیداد ہوں) بظاہر اس ترمیمی وقف قانون میں پرانی وقف بائی یوزر جائیدادوں کو وقف تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اس میں تین ایسی باتیں شامل کی گئی ہیں جن کی وجہ سے قدیم وقف بائی یوزر جائیدادیں بڑے پیمانے پر اوقاف سے نکل جائیں گی:

(الف) یہ شرط لگائی گئی ہے کہ وہ جائیداد بطور وقف بائی یوزر درج ہوچکی ہوں، واقعہ یہ ہے کہ وقف بائی یوزر کی قدیم جائیدادوں میں بہ مشکل پندرہ فیصد جائیدادیں ہوں گی جن کا وقف بورڈ میں یا سرکاری کاغذات میں باقاعدہ اندراج ہو، لہٰذا جن جائیدادوں کا باقاعدہ اندراج نہیں ہے، وہ سب وقف ہونے سے خارج ہوجائیں گی۔

 (ب) جن جائیدادوں کے بارے میں مکمل یا جزوی طور پر تنازع ہو ان کو بھی اوقاف کی فہرست سے خارج کردیا گیا، اس طرح جن لوگوں کی اوقاف کی جائدادوں پربری نظر ہے، انھیں اشارہ دے دیا ہے، کہ وہ تنازع کھڑا کرکے جائیدادوں کی وقفیت کو ختم کرادیں اور اپنا جائز قبضہ کرلیں۔

 (ج) اوقاف کی جو جائیدادیں سرکاریں قبضہ میں میں ہوں ان پرمرکزی سرکار یا صوبائی سرکاروں نے قبضہ کررکھا ہو، وہ بھی وقف بائی یوزر سے خارج ہوگئیں اور ان پر سرکاروں کی قانونی ملکیت قائم ہوگئی۔

(۵) وقف کے قدیم قانون میں اوقاف کی جائیدادوں کو لیمیٹیشن ایکٹ سے مستثنیٰ رکھا گیا گیا تھا، یعنی وقف کی جائیداد پر قبضہ کرنے والے کی قبضہ کی مدت خواہ لیمیٹیشن ایکٹ میں درج مدت سے زیادہ ہوچکی ہو تو بھی وقف بورڈ اس کے انخلاء کے لئے عدالتی کاروائی کرسکتا تھا ،موجودہ وقف قانون میں اس استثناء کو ختم کردیا گیا ہے اور متعینہ مدت کے گزرنے کے بعد مقبوضہ وقف جائیدادوں کے انخلا کی عدالتی کاروائی نہیں ہوسکتی ، اس طرح اوقاف پرناجائز قبضے کے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں، جب کہ مسلمانوں کے علاوہ دوسری مذہبی اکائیاں (ہندو سکھ، عیسائی) ان کی مذہبی املاک کے بارے میں لیمیٹیشن ایکٹ سے استثناء کا قانون ابھی موجود ہے، یہ کھلی ہوئی بے انصافی اور دوہرا معیار ہے، جسے اس قانون میں روا رکھا گیا ہے۔

(۶) دوسرے مذاہب کے مذہبی اداروں کا نظم و نسق کرنے والے ٹرسٹ اور سوسائٹیوں میں قانونی طور پر ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ اس میںدوسرے مذہب کے افراد کو شامل کیا جائے، ہندو مندروں کے بڑے بڑے ٹرسٹ میں یا سکھوں کے کوئی ادارے ہوں جو ان کے مذہبی مقامات یا اداروں کا نظم و نسق کرتے ہیں، کسی میں بھی کسی دوسرے مذہب کے ارکان کو شامل کرنا قانونی طور پر لازم نہیں کیا گیا ہے، لیکن ۲۰۲۵ ؁ء کا وقف ترمیمی بل اس معنی میں بھی ایک عجوبہ ہے کہ سینٹرل وقف بورڈ اور صوبائی وقف کونسل میں کچھ ہندو ارکان کی شمولیت لازم قرار دی ہے جب کہ دوسری طرف اس نئے قانون کے مطابق کوئی غیر مسلم خواہ ہندو ہو یا سکھ ،عیسائی اب وقف نہیں کرسکتاہے، اور اس کا کیا ہوا وقف قانوناً معتبر نہیں ہوگا، اس سے بڑی ناانصافی اور دھاندلی کیا ہوگی، اس نئے وقف ترمیمی قانون میں سینٹرل وقف بورڈ اور صوبائی وقف کونسل کے ارکان حکومت کی طرف سے نامزد کئے جائیں گے، انتخاب کے ذریعہ نہیں آئیں گے، (جیسا کہ قدیم قانون وقف میں تھا) اور بہت سے ارکان کی نامزدگی میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہو بلکہ حکومت غیر مسلموں سے بھی نامزدگی کرسکتی ہے، اس طرح وقف بورڈ اور وقف کونسل میں غیر مسلموں کی اکثریت ہونے کا کھلا اندیشہ تھا افسوس یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے عبوری فیصلہ میں اس دروازے کو بند نہیں کیا، بلکہ یہ تعیین کردی کہ غیر مسلم ارکان چار اور تین کی تعداد میں ہوں گے۔

وقف ایکٹ ۲۰۲۵؁ءکے چند خطرناک نکات ایک نظر میں

خاگر کوئی ادارہ یا ٹرسٹ وقف جیسے مقصد کے لیے بنایا گیا اور کسی فلاحی قانون کے تحت چل رہا ہو تو وہ وقف نہیں مانا جائے گا، چاہے عدالت نے اسے وقف قرار دیا ہو ۔

خ متولی کی زبانی تقرری ختم کر کے شرعی اجازت ورواج کی مخالفت کی گئی ہے جس عرف کو آئین کی دفعہ 13-3- اے قانون کا درجہ دیتی ہے۔

خپانچ سال سے اسلام پر عمل پیرا رہنے کی مبہم شرط کے ذریعے مسلمانوں کو وقف کرنے نہ دینا آئینی مساوات ( آرٹیکل (14) کی خلاف ورزی ہے ۔

خ اگر وقف کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی نزاعی قرار پائے تو اسے وقف تسلیم نہیں کیا جائے گا، اور حکومت کے دعوے کے تحت آنے والی زمین کو بھی وقف نہیں مانا جائے گا (اور اس کا فیصلہ ٹریبیونل کے بجائے حکومت کے افسران کریں گے )۔

خ ان دونوں شرطوں کے ساتھ، وقف بائی یوز رایسا ہوگا گویا کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ ہوں۔

خ رجسٹرڈ وقف بائی یوزر پر کوئی بھی تنازع ہوتے ہی فوراً اسے غیر وقف قرار دے کر صدیوں پرانے اوقاف کو خطرے میں ڈال دیا گیا۔

خ وقف علی الاولاد کرنے کے باوجود وراثت جاری رکھ کر وقف علی الاولاد کی شرعی حیثیت کو ختم کر دیا گیا۔

خ رجسٹرڈ اوقاف کے دستاویزات دوبارہ چھ مہینے کے اندر جمع کرنے کو لازم کرنا عملی مشکلات اور وقف کو مٹانے کے مترادف ہے۔

خزمین کے سرکاری یا غیر سرکاری ہونے کا فیصلہ خود سرکاری افسر کرے گا، گویا کوئی اپنے ہی مقدے کا جج بن بیٹھے گا؟

خ محض تنازع کے دعوی سے وقف کی حیثیت ختم ہو جائے گی، جو مذہبی آزادی اور جائیداد کے تحفظ کے آئینی اصولوں کی سنگین پامالی ہے ۔

خ وقف کی زمین پر موجود سو سال سے زائد پرانی عمارتوں کو، خواہ وہ مسجد ، مزار یا کوئی اور تعمیر ہو، آثار قدیمہ قرار دے کر وقف کی فہرست سے خارج اور اس کی شرعی و قانونی حیثیت ختم کرنے کا راستہ کھول دیا گیا ہے ۔

خقبائلی علاقوں کی وقف زمینیں اب وقف نہیں مانی جائیں گی، چاہے وقف چودہ سو سال پہلے ہی کیوں نہ کیا گیا ہو ،اور تمام دستاویزی ثبوت بھی موجود ہوں ؛ یوں قبائلی مسلمانوں کے لیے وقف کا دروازہ عملاً بند کر دیا گیا ہے۔

خ سروے کمشنر کے اختیارات کلکٹر کے سپردکر کے تنازعات میں سرکاری تعصب کو فروغ دیا گیا۔

خ ریاستی حکومت کو تین مہینے میں تمام اوقاف کی تفصیلات پورٹل پر ڈالنے کا حکم ہے، ورنہ سر کا رقبضہ کرلے گی ۔

خ وقف کی لسٹ شائع ہونے کے دو سال کے بعد بھی ٹریبیونل کو کسی وقف کے خلاف درخواست لینے کی اجازت دے دی گئی۔

خوقف ٹریبیونل کے فیصلے کی حتمیت ختم کر دی گئی۔

خ مرکزی وقف کونسل میں غیر مسلموں کی اکثریت کا راستہ ہموار کیا گیا۔

خآغا خانی اور بوہرہ برادریوں کے الگ مستقل وقف بورڈ بنانے کی اجازت دے کر مسلمانوں میں مزید تقسیم کی قانونی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

خ وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی اکثریت کا راستہ ہموار کر دیا گیا۔

خ چیئرمین کے انتخاب کا اختیار بھی بورڈ سے لے کر حکومت کو دے دیا گیا اور چیئر مین کوہٹانے کا حق ختم کر کے وقف بورڈ میں احتساب کا راستہ مسدود کر دیا گیا۔

خ وقف بورڈ میں کوئی غیرمسلم ممبر نہیں بن سکتا تھا یہ پابندی ختم کر دی گئی۔

خ وہ اب سی ای او کا مسلمان ہونا ضروری نہیں رہا۔

خ اب وقف کے رجسٹریشن کے لیے وقف ڈیڈ کو لازمی قرار دے دیا گیا ، زبانی وقف نہیں کیا جاسکے گا۔

خ اب غیر رجسٹر ڈوقف پر چھ ماہ بعد کسی بھی قسم کا مقدمہ یا قانونی کارروائی نہیں کی جاسکے گی۔

خ وقف بورڈ کا زمین سے متعلق از خود نوٹس لینے اور فیصلہ کرنے کا اختیار ختم کر دیا گیا، جس سے بورڈ کی طاقت حد درجہ کمزور ہوگئی ہے ۔

خ پہلے غیر مسلم وقف کر سکتے تھے اب نہیں کر سکتے ۔

(وقف ترمیمی ایکٹ ۲۰۲۵؁ء ، ترجمہ وتشریح ریسرچ ٹیم امارت شرعیہ)

حوالے:

۱۔۱۔ ابو عبد اللہ محمد بن ادريس شافعی (١٥٠ھ):کتاب الام، ج۴/ ص۵۴، ناشر: دارالفکر، بیروت، سن طباعت ۱۴۱۰؁ھ  ۱۹۹۰؁ء

۲۔ ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری،صحیح مسلم،حدیث نمبر: ۱۶۳۱

۳۔مضمون زفر احمد فاروقی سابق چیئرمین یوپی سنی وقف بورڈ: ہندوستان میں اوقاف چیلنجز اور مشکلات، ص ۱۰۹ -۱۱۰، ناشر: اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، سن طبع 2016

۴۔آل عمران: ۹۲

۵۔أبو بکر أحمد بن علي الرازي الجصاص الحنفی (ت ٣٧٠)،احکام القرآن للجصاص، ج۲/ص۱۸

۶۔أبو عبد الله  محمد بن إسماعيل البخاري، صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۱۴۶۱

۷۔أبو عبد الله  محمد بن إسماعيل البخاري،صحیح البخاری باب الشروط فی الوقف، حدیث :۲۷۳۷

۸۔ڈاکٹر مصطفیٰ احمد الزرقاء: احکام الاوقاف، ص۴۳، طبع، دارالقلم، دمشق

۹۔ان کی تفصیلات جاننے کے لئے ابوبکر احمد بن عمرو شیبانی خصاف کی ’’احکام الاوقاف‘‘ اور برہان الدین ابراہیم بن موسی بن طرابلسی حنفي (ت ٩٢۲)کی ’’الاسعاف فی احکام الاوقاف‘‘ کا مطالعہ کیا جائے۔

۱۰۔۱۰۔ أبو محمد عبد الله بن أحمد بن محمد بن قدامہ (٥٤١ – ٦٢٠ ـ) المغنی، ج۵/ ص۵۸۲

۱۱۔احکام الاوقاف ، شیخ ابوبکراحمد بن عمر الشیبانی متوفیٰ ۲۶۱؁ھ، ص ۱و۲ طبع اول،مطبعۃ دیوان عموم الاوقاف المصریۃ ۱۳۲۳؁ھ

۱۲۔ملاحظہ ہو: اوقاف مرتبہ قاضی مجاہد الاسلام صاحب ص ۵۶۰ ناشر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

۱۳۔ مصطفی احمد الزرقاء،احکام الأوقاف، ص: ۱۹۷ -۱۹۹،۔ دار القلم ،دمشق

۱۴۔قاسمی ،قاضی مجاہد الاسلام: اوقاف، ص ۴۸۳ -۴۸۴

۱۵۔ ڈبلیوڈ بلیو ہنٹر،ہمارے ہندوستانی مسلمان ۱۸۷-۱۸۸

۱۶۔ ڈبلیوڈ بلیو ہنٹر،ہمارے ہندوستانی مسلمان ۱۸۹

۱۷۔خطبۂ صدارت اجلاس عام جمعیۃ علماء ہند ۱۹۲۷؁ء بہ مقام پشاور ص ۹۷،۹۸، شائع کردہ جموں اینڈ کشمیر اسلامک ریسرچ سینٹر

۱۸۔ہندوستان میں اوقاف ، چیلنجز اور مشکلات ، مضمون زفر احمد فاروقی سابق چیئر میں یوپی سنی و قف بورڈ،ص: ۱۴و ۱۵ ناشر : اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

۱۹۔ہندوستان میں اوقاف: چیلنجز اور مشکلات صفحہ ۸ا

Tags

Share this post: