فکری انحراف: تعارف، مسائل اور حل
مولانامحمد رضی الرحمن قاسمی
اسسٹنٹ پروفیسر(شریعہ ڈپارٹمنٹ)، جامعہ اسلامیہ کیرالا
اللہ رب العزت نے انسان کو "عقل و شعور” کی نعمت سے نواز کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انسانی فکر ، وہ قوت ہے جو نہ صرف دنیوی تعمیر و ترقی کا ذریعہ ہے؛ بلکہ دین کے فہم اور اس پر صحیح عمل کی بنیاد بھی ہے۔ جب تک انسان کی فکر درست سمت میں رہتی ہے، وہ صراطِ مستقیم پر گامزن رہتا ہے، لیکن جب اس میں کجی یا انحراف پیدا ہو جائے تو اعمال و عقائد کا سارا نظام بگڑ جاتا ہے۔
موجودہ دور میں امتِ مسلمہ، بالخصوص نوجوان نسل کو ،جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ "فکری انحراف”ہے۔ یہ انحراف کبھی انتہا پسندی اور غلو کی شکل میں سامنے آتا ہے تو کبھی الحاد اور دین بیزاری کی صورت میں۔ ان نظریاتی یلغاروں نے مسلم معاشرے کے امن و سکون کو تباہ اور نئی نسل کی ایک بڑی تعداد کے ایمان کو متزلزل کر دیا ہے۔ اس تحریر کا مقصد اسی مہلک مرض کا تعارف کرانا ، اس کی تشخیص کرنا، اس کے اسباب کا گہرائی سے جائزہ لینا اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا قابلِ عمل علاج تجویز کرنا ہے۔
فکری انحراف کی حقیقت
کسی بھی مسئلے کے حل سے پہلے اس کی ماہیت اور حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ ذیل کی سطروں میں ہم فکری انحراف کا لغوی و اصطلاحی مفہوم اور شریعت کی نظر میں اس کی حیثیت کا جائزہ لیں گے۔
"انحراف” کا لغوی مفہوم:
عربی زبان میں لفظ "انحراف”، "ح ر ف” کے مادے سے نکلا ہے۔ لغت میں اس کے بنیادی معنی "مڑنے”، "ایک طرف جھک جانے” اور "راستے سے ہٹ جانے” کے ہیں۔ جب کہا جاتا ہے "انحرف المزاج” تو اس کا مطلب ہے کہ طبیعت اعتدال سے ہٹ گئی ہے۔
امام لغت ابنِ منظورؒ لکھتے ہیں کہ انحراف کا مطلب ہے کسی چیز کا اپنی اصل حالت یا راستے سے مڑ جانا ۔ (1)
"فکر” کا لغوی و اصطلاحی مفہوم:
لغت میں "فکر” کا مطلب غور و خوض کرنا ہے۔ اصطلاح میں فکر سے مراد ذہن کی وہ حرکت ہے جس کے ذریعے انسان معلوم چیزوں (Data) کو ترتیب دے کر کسی نامعلوم نتیجے تک پہنچتا ہے۔
علامہ راغب اصفہانیؒ فرماتے ہیں کہ فکر اس قوت کا نام ہے، جس کے ذریعے علم کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ (2)۔
"فکری انحراف” کی اصطلاحی تعریف:
ان دونوں الفاظ کو ملا کر "فکری انحراف” کی جو جامع تعریف بنتی ہے وہ یہ ہے: دین کے اصولوں، عقائد اور مسلمہ ثوابت کو سمجھنے میں اہلِ سنت والجماعت اور سلف صالحین کے فہم و منہج سے ہٹ کر افراط یا تفریط کا شکار ہو جانا۔ آسان الفاظ میں، اسلام کی صحیح سمجھ بوجھ اور درمیانی راستے کو چھوڑ کر اپنی من پسند تشریح کرنا فکری انحراف ہے۔ ( 3)۔
فکری انحراف کا شرعی حکم
اسلام میں فکر کی آزادی ہے؛ لیکن فکری آوارگی کی اجازت نہیں ہے۔ قرآن و سنت میں سیدھے راستے سے ہٹنے کو گمراہی قرار دیا گیا ہے۔
فکری انحراف کی قباحت قرآن کریم کی روشنی میں:
اللہ تعالیٰ نے صراطِ مستقیم کی پیروی کا حکم دیا اور دائیں بائیں پگڈنڈیوں پر چلنے سے منع فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ (الأنعام: 153)
ترجمہ: اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے، سو تم اسی پر چلو اور (دوسرے) راستوں پر نہ چلو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔
اس آیت میں "سبل” (راستوں) سے مراد مختلف گمراہ کن افکار اور بدعات ہیں، جو انسان کو دینِ حق سے دور کر دیتی ہیں (4)
فکری انحراف کی قباحت سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں:
نبی کریم ﷺ نے امت کے فکری انتشار کی پیش گوئی فرمائی تھی۔ آپ ﷺ کا مشہور ارشاد ہے:
وتفترقُ أمَّتي على ثلاثٍ وسبعينَ ملَّةً ، كلُّهم في النَّارِ إلَّا ملَّةً واحِدةً ، قالوا : مَن هيَ يا رسولَ اللَّهِ ؟ قالَ : ما أَنا علَيهِ وأَصحابي. (5)
ترجمہ: ميری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، وہ سب آگ میں جائیں گے سوائے ایک کے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ فکری انحراف محض ایک علمی غلطی نہیں؛ بلکہ آخرت کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
انحراف کے درجات:
ہر انحراف کا حکم ایک جیسا نہیں ہوتا، اس کے دو بڑے درجات ہیں:
پہلا درجہ (کفر و الحاد): ایسا انحراف جو انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دے، جیسے اللہ کا انکار یا ختم نبوت کا انکار۔
دوسرا درجہ (فسق و بدعت): ایسا انحراف جو اسلام سے خارج تو نہ کرے لیکن دین کی اصل شکل بگاڑ دے، جیسے خوارج یا بعض گمراہ صوفیانہ افکار۔ (6)
صحیح اسلامی فکر کی خصوصیات
فکری انحراف کو پہچاننے کے لیے "صحیح فکر” کو پہچاننا ضروری ہے۔ صحیح اسلامی فکر کی چند بنیادی خصوصیات یہ ہیں:
- ربانیت :
اسلامی فکر کی بنیاد انسانی خواہشات پر نہیں بلکہ "وحی الٰہی” پر ہے۔ یہاں عقل وحی کے تابع ہوتی ہے، حاکم نہیں۔
(7)
- وسطیت:
یہ امتِ وسط ہے۔ صحیح فکر میں ، نہ تو دین میں غلوہوتا ہے اور نہ ہی دین کے معاملے میں سستی ۔ یہ دونوں انتہاؤں کے درمیان توازن کا نام ہے۔ (8)
- اتباعِ سلف:
قرآن و سنت کا وہی مفہوم معتبر ہے، جو صحابہ کرامؓ اور تابعین نے سمجھا۔ ذاتی رائے کو سلف کے فہم پر ترجیح دینا ہی انحراف کی پہلی سیڑھی ہے۔
- توازن
صحیح فکر میں دنیا اور آخرت، عقل اور روح، اور انفرادیت اور اجتماعیت کے درمیان ایک خوبصورت توازن پایا جاتا ہے۔
ج – فکری انحراف کی تاریخی نشو و نما
فکری انحراف کوئی نیا مظہر نہیں ہے، بلکہ اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ حال کو سمجھنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ماضی کے ان فتنوں اور ان کے آغاز کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ ذیل میں ہم جائزہ لیں گے کہ امتِ مسلمہ میں فکری بگاڑ کا آغاز کب، کیسے اور کن اسباب کی بنا پر ہوا۔
عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں فکری صورتحال
عہدِ رسالت: فکری وحدت کا مثالی دور
نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں امتِ مسلمہ مکمل فکری ہم آہنگی (Intellectual Unity) پر قائم تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ "وحی” کا سلسلہ جاری تھا اور رسول اللہ ﷺ بنفسِ نفیس موجود تھے۔ جب بھی صحابہ کرامؓ کے ذہن میں کوئی اشکال پیدا ہوتا یا کوئی فکری الجھن سامنے آتی، وہ فوراً بارگاہِ رسالت میں رجوع کرتے اور حتمی فیصلہ پا لیتے۔ اس دور میں ذاتی منحرف رائے یا فلسفیانہ موشگافیوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ (9)۔
عہدِ صدیقی و فاروقی: فتنوں کا سدِ باب
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلافتِ راشدہ کے ابتدائی دور (حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانے) میں بھی امت بڑی حد تک فکری انتشار سے محفوظ رہی۔ اگرچہ حضرت ابوبکرؓ کے دور میں "فتنۂ ارتداد” اور "مانعینِ زکوٰۃ” کا مسئلہ کھڑا ہوا، لیکن یہ دراصل سیاسی بغاوت اور نصوص کے انکار کا مسئلہ تھا جسے ریاستی طاقت اور اجماعِ صحابہ سے سختی سے کچل دیا گیا۔ حضرت عمرؓ کے دور میں بھی فکری انحراف کو پنپنے کا موقع نہ دیا گیا؛ حتیٰ کہ صبیغ بن عسل نامی شخص نے جب متشابہاتِ قرآن کے بارے میں فضول سوالات شروع کیے تو حضرت عمرؓ نے اسے سخت سزا دے کر عبرت کا نشان بنا دیا؛ تاکہ فکری آوارگی کا دروازہ بند ہو۔ (10)
عہدِ عثمانی: شرپسندوں کی طرف سے انحراف کی کوششوں کی شروعات
حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت کے آخری حصے میں فکری انحراف کے ابتدائی جراثیم نمودار ہونے لگے۔ اس میں ایک بڑا کردار "عبداللہ بن سبا” اور اس کے پیروکاروں کا تھا جنہوں نے خفیہ سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کے عقائد میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے سیاسی بے چینی کو مذہبی رنگ دے کر نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکایا، جو بعد میں "خوارج” اور "شیعہ” جیسے فرقوں کے ظہور کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ (11)
خوارج کا ظہور اور انحراف کی پہلی باقاعدہ شکل
امتِ مسلمہ کی تاریخ میں سب سے پہلا باقاعدہ فکری انحراف "خوارج” کی شکل میں ظاہر ہوا۔ یہ گروہ بظاہر بڑا عبادت گزار تھا لیکن فکر کی کجی کا شکار تھا۔
خوارج کی نشو و نما:
خوارج کا باقاعدہ ظہور جنگِ صفین (37ھ) کے موقع پر "تحکیم” کے مسئلے پر ہوا۔ انہوں نے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ دونوں کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے ” لا حکم إلا لله” (اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں) کا نعرہ لگایا۔ یہ نعرہ بظاہر قرآن کی آیت سے ماخوذتھا، لیکن اس کا استعمال غلط موقع اور غلط مفہوم میں کیا گیا تھا۔ حضرت علیؓ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا: کلمۃ حق أريد بہا الباطل(بات سچی ہے؛ مگر اس سے مراد باطل لیا گيا ہے) ۔ (12)
خوارج کے بنیادی فکری انحرافات:
خوارج کے انحراف کی بنیاد ، جذباتی شدت پسندی اور کم علمی تھی۔ ان کے بڑے انحرافات یہ تھے:
تکفیر بالکبیرہ: وہ کبیرہ گناہ کے مرتکب مسلمان کو کافر قرار دیتے تھے اور اسے ہمیشہ کے لیے جہنمی سمجھتے تھے۔
خروج: مسلم حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا اور بغاوت کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا، جسے وہ جہاد کا نام دیتے تھے۔
ظاہر پرستی: وہ قرآن کی آیات کے صرف ظاہری الفاظ کو لیتے اور ان کی روح (Spirit) اور سیاق و سباق کو نظر انداز کر دیتے تھے۔(13)
صحابہ کرام کا ردِ عمل اور علمی مکالمہ:
صحابہ کرامؓ نے اس فتنے کا مقابلہ صرف تلوار سے نہیں بلکہ "دلیل” سے بھی کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے خوارج کے کیمپ میں جا کر ان سے تاریخی مناظرہ کیا۔ آپؓ نے ان کے شبہات کا قرآن و سنت کی روشنی میں ایسا مدلل جواب دیا کہ ہزاروں خوارج توبہ کر کے واپس لوٹ آئے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ فکری انحراف کا اصل علاج "علمی مکالمہ” ہے۔(14)
دیگر گمراہ فرقوں کا ظہور اور بیرونی اثرات
خوارج کے بعد فکری انحراف کے دروازے کھل گئے اور مختلف بیرونی فلسفوں (عجمی و یونانی) کے اثرات کی وجہ سے نئے نئے گروہ پیدا ہوئے۔
قدریہ اور جبریہ (تقدیر کا مسئلہ):
پہلی صدی ہجری کے آخر میں تقدیر (Fate/Destiny) کے مسئلے پر دو انتہائیں سامنے آئیں:
قدریہ: انہوں نے تقدیر کا سرے سے انکار کیا اور کہا کہ انسان اپنے افعال کا مکمل خالق خود ہے (نعوذ باللہ)۔
جبریہ: اس کے ردِ عمل میں یہ گروہ اٹھا ، جس نے کہا کہ انسان، پتھر کی طرح مجبورِ محض ہے اور اسے کوئی اختیار حاصل نہیں۔
یہ دونوں نظریات قرآن و سنت کے متوازن موقف "کسب” اور "مشیتِ الٰہی” کے خلاف تھے۔ (15)۔
معتزلہ اور عقلی انحراف
یہ گروہ دوسری صدی ہجری میں واصل بن عطا کی سربراہی میں سامنے آیا۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ "عقل پرستی” تھا۔ انہوں نے یونانی فلسفے (Greek Philosophy) سے متاثر ہو کر عقل (Reason) کو وحی (Revelation) پر حاکم بنا دیا۔ ان کا اصول تھا کہ اگر کوئی حدیث ان کی عقل کے معیار پر پوری نہ اترے تو اسے رد کر دیا جائے۔ یہیں سے "خلقِ قرآن” جیسے فتنے نے جنم لیا جس نے پوری امت کو آزمائش میں ڈال دیا۔ (16)۔
جہمیہ، باطنیہ اور زندیقیت:
یہ انحراف کی بدترین شکلیں تھیں۔ جہمیہ نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار (تعطیل) کیا۔ باطنیہ اور زنادقہ نے قرآن و حدیث کے الفاظ کے ایسے باطنی معنی نکالے جن کا عربی لغت اور شریعت سے کوئی تعلق نہ تھا، تاکہ شریعت کے احکامات کو بے معنی کر دیا جائے۔ (17)۔
فکری انحراف کی تاریخ کے اس سرسری جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فکری انحراف کا آغاز سیاسی اختلافات سے ہوا، پھر اس میں کم علمی شامل ہوئی، اور آخر میں بیرونی فلسفوں کی آمیزش نے اسے ایک مستقل ناسور بنا دیا۔ ان تمام انحرافات میں قدرِ مشترک "وحی سے دوری” اور "ذاتی رائے يا عقل کی پرستش” تھی۔
فکری انحراف کے اسباب و محرکات
کسی بھی مرض کا علاج اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے اسباب (Causes) کی درست تشخیص نہ کر لی جائے۔ فکری انحراف اچانک پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے متعدد علمی، نفسیاتی، سماجی اور خارجی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اگلی سطروں میں ہم ان محرکات کا گہرائی سے جائزہ لیں گے۔
علمی و منہجی اسباب
فکری انحراف کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ دینی علم کی کمی اور حصول علم کے غلط طریقے ہیں۔
جہالت:
جہالت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ جب انسان دین کے بنیادی اصولوں، مقاصدِ شریعت اور دینی کلیات سے ناواقف ہوتا ہے، تو وہ جزوی مسائل میں الجھ کر گمراہ ہو جاتا ہے۔ ایک جاہل شخص جذبات کی رو میں بہہ کر وہ فیصلے کر لیتا ہے جو شریعت کی نظر میں سنگین جرم ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ آخری زمانے میں لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے جو بغیر علم کے فتوے دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
"اتَّخَذ النَّاسُ رُؤساءَ جهَّالًا، فسُئِلوا فأفتَوْا بغيرِ عِلمٍ فضَلُّوا وأضَلُّوا.” (18)
نیم خواندگی :
مکمل جہالت سے زیادہ خطرناک "نیم خواندگی” ہے۔ وہ لوگ جو دین کا سرسری مطالعہ کرتے ہیں اور خود کو محقق سمجھنے لگتے ہیں، اکثر فکری ٹھوکروں کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ پیچیدہ فقہی اور کلامی مسائل میں اپنی ناقص عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہیں جس سے "تکفیر” اور "فساد فی الارض” جنم لیتا ہے۔
فہمِ نصوص میں خلل :
منحرفین کا ایک بڑا مسئلہ قرآن و سنت کی نصوص کو سمجھنے میں غلط طریقۂ کار اختیار کرنا ہے:
متشابہات کی پیروی: وہ واضح اور محکم آیات کو چھوڑ کر ایسی آیات کے پیچھے پڑتے ہیں جن کے معانی میں غموض یا ایک سے زیادہ احتمال ہوتے ہیں، تاکہ اپنی خواہشات کی تاویل کر سکیں۔
سیاق و سباق سے کاٹنا : وہ کسی ایک آیت یا حدیث کا ٹکڑا لے کر اپنا نظریہ بنا لیتے ہیں، حالانکہ اس موضوع پر دوسرے نصوص کو سامنے رکھے بغیر صحیح حکم معلوم نہیں ہو سکتا۔ (19)۔
علماء سے دوری اور خود سری:
راسخین فی العلم (پختہ کار علماء) سے رہنمائی لینے کے بجائے ذاتی مطالعے، انٹرنیٹ، یا گمنام شخصیات کو اپنا استاد بنا لینا فکری گمراہی کا بہت بڑا سبب ہے۔ علم کتابوں سے زیادہ "صاحبانِ علم” کی صحبت سے منتقل ہوتا ہے۔ (20)
تربیتی و نفسیاتی اسباب
فکر کا تعلق انسان کی نفسیات اور اُس ماحول سے بھی گہرا ہے جس میں اس کی پرورش ہوئی ہے۔
خاندانی تربیت میں کوتاہی:
گھر انسان کی پہلی درس گاہ ہے۔ اگر والدین اولاد کی دینی تربیت اور نگرانی سے غافل ہوں، یا گھر میں دینی ماحول کے بجائے صرف دنیاوی آسائشوں کی دوڑ ہو، تو بچے فکری طور پر یتیم ہو جاتے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان "مکالمے” (Dialogue) کا فقدان نوجوانوں کو باہر کے مشکوک عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ (21)
تعلیمی اداروں کا کردار:
ہمارا موجودہ تعلیمی نظام اکثر "دین و دنیا کی تفریق” پر مبنی ہے۔ا سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں ایسی فکری بنیادیں فراہم نہیں کی جاتیں، جو طالب علم کو الحاد یا انتہا پسندی کے حملوں سے بچا سکیں۔ نصاب میں اخلاقی اور روحانی تربیت کی کمی نوجوانوں کو ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیتی ہے۔
نفسیاتی عوامل :
بہت سے نوجوان نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے بھی منحرف افکار کی طرف راغب ہوتے ہیں:
احساسِ محرومی : مسلسل ناکامیاں اور سماجی ناانصافی انسان کو باغی بنا دیتی ہے۔
جذباتیت : نوجوانوں میں جوش زیادہ اور ہوش کم ہوتا ہے۔ وہ فوری نتائج چاہتے ہیں، اور انتہا پسند گروہ ان کے اسی جذبے کو استعمال کرتے ہیں۔
شہرت کی طلب: بعض اوقات انفرادیت پسند بننے اور دوسروں سے الگ نظر آنے کی خواہش انسان کو "شاذ” (عجیب و غریب) آراء اپنانے پر مجبور کر دیتی ہے۔
سماجی و سیاسی اسباب
معاشرتی حالات اور سیاسی ماحول بھی انسانی فکر کو بنانے یا بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ترک:
جب معاشرہ برائی پر خاموش رہنے لگے اور حق بات کہنے والے ناپید ہو جائیں، تو باطل افکار کو پنپنے کا موقع مل جاتا ہے۔ فکری خلا ہمیشہ غلط نظریات سے پُر ہوتا ہے۔
ظلم اور نا انصافی:
سیاسی استبداد، حکمرانوں کا ظلم اور حقوق کی پامالی نوجوانوں کے اندر شدید ردِ عمل پیدا کرتی ہے۔ جب انہیں انصاف نہیں ملتا تو وہ سسٹم سے بغاوت کرتے ہیں اور ایسے گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں جو انہیں "بدلہ” لینے کا راستہ دکھاتے ہیں۔ (22)
معاشی بدحالی:
غربت اور بے روزگاری انسان کو کفر تک لے جا سکتی ہے۔ انتہا پسند تنظیمیں اکثر غریب اور مایوس نوجوانوں کو معاشی لالچ دے کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
خارجی اسباب اور فکری یلغار
موجودہ دور میں گلوبلائزیشن نے فکری سرحدیں ختم کر دی ہیں، جس سے بیرونی یلغار کے اثرات بڑھ گئے ہیں۔
مغربی تہذیبی یلغار:
لبرل ازم، سیکولرازم اور مادہ پرستی کے طوفان نے مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ آزادی رائے کے نام پر مقدسات کی توہین اور دینی شعائر کا مذاق اڑانا اسی یلغار کا حصہ ہے۔
میڈیا اور انٹرنیٹ :
سوشل میڈیا فکری انحراف کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ یہاں کسی قسم کی روک ٹوک نہیں ہے۔ ایک کلک پر ملحدانہ مواد بھی دستیاب ہے اور تکفیری لٹریچر بھی۔ نوجوان بغیر کسی استاد کے اس "ڈیجیٹل جنگل” میں بھٹک جاتے ہیں اور الگورتھم انہیں مزیدگمراہ کن اورانتہا پسند مواد دکھاتا رہتا ہے۔
فکری انحراف کے مظاہر اور اثرات
جب فکر میں کجی پیدا ہوتی ہے تو وہ محض ذہن تک محدود نہیں رہتی، بلکہ انسان کے رویوں، گفتگو اور عملی زندگی میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ پھر یہ انفرادی بگاڑ اجتماعی تباہی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ درج ذیل سطروں میں ہم فکری انحراف کی نمایاں علامات اور فرد و معاشرے پر مرتب ہونے والے اس کے خطرناک اثرات کا جائزہ لیں گے۔
فکری انحراف کی نمایاں صورتیں
فکری انحراف بنیادی طور پر دو انتہاؤں کی صورت میں سامنے آتا ہے: ایک طرف دین میں حد سے بڑھنا (غلو) اور دوسری طرف دین کو مذاق بنا لینا (تساہل)۔
غلو اور تشدد :
یہ انحراف کی انتہائی خطرناک شکل ہے ، جہاں انسان دین کے نام پر سختی اور درشتگی اختیار کرتا ہے۔ اس کی نمایاں علامات یہ ہیں:
تکفیر: اپنے مخالفین کو کافر قرار دینا، یہاں تک کہ معمولی گناہوں یا فروعی اختلافات کی بنیاد پر بھی دوسرے کلمہ گو مسلمانوں کو اسلام سے خارج سمجھنا۔
دہشت گردی اور استحلالِ دم: مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھنا اور پرامن شہریوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا۔ یہ خوارج کی جدید شکل ہے جو اپنے زعم میں جہاد کر رہے ہوتے ہیں مگر درحقیقت فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں۔(23)
تساہل، بے دینی اور الحاد:
یہ غلو کا ردِ عمل ہے، جسے "تفریط” کہا جاتا ہے۔ اس طبقے کے ہاں فکری انحراف کی صورتیں یہ ہیں:
مقدسات کا استہزاء: آزادی رائے کے نام پر اللہ، رسول ﷺ اور شعائرِ اسلام کا مذاق اڑانا۔
انکارِ سنت: حدیث اور سنت کی حجیت کا انکار کرنا اور صرف "قرآن ازم” کا نعرہ لگا کر من مانی تشریحات کرنا۔
الحاد: خالق کے وجود یا مذہب کی ضرورت کا سرے سے انکار کر دینا۔ (24)
تقلیدِ جامد:
یہ وہ ذہنی جمود ہے، جہاں انسان دلیل اور تحقیق کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ کسی شخصیت، مسلک یا بزرگ کی اندھی عقیدت میں قرآن و سنت کے واضح دلائل کو بھی رد کر دینا فکری بیماری ہے۔ یہ رویہ انسان کو متعصب بنا دیتا ہے اور وہ حق بات قبول کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ (25)
شذوذِ فکری :
اس سے مراد یہ ہے کہ انسان امت کے اجماع اور جمہور علماء کے راستے سے ہٹ کر ایسی عجیب و غریب آراء اختیار کرے جو سلف میں سے کسی نے نہ کہی ہوں۔ یہ اکثر شہرت کی بھوک یا جدت پسندی کے شوق میں ہوتا ہے۔
فرد اور معاشرے پر اثرات
فکری انحراف کے زہریلے اثرات کینسر کی طرح پھیلتے ہیں،جوپہلے فرد کو گھائل کرتے ہیں اور پھر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
فرد پر اثرات:
جب ایک انسان کی فکر کج اور ٹیڑھی ہو جائے تو اس کی ذاتی زندگی تباہ ہو جاتی ہے:
ذہنی انتشار : منحرف شخص کبھی دلی سکون نہیں پاتا۔ وہ ہر وقت شکوک و شبہات اور وسوسوں کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔
عبادات میں سستی یا ریاکاری: اگر وہ ملحدانہ فکر کا شکار ہو تو عبادات چھوٹ جاتی ہیں، اور اگر خارجی فکر کا شکار ہو تو وہ عبادت تو کرتا ہے مگر اس میں خشوع کے بجائے تکبر اور دکھاوا پیدا ہو جاتا ہے۔
اخلاقی گراوٹ: صحیح فکر اخلاق کی ضامن ہے۔ جب فکر بگڑتی ہے تو اخلاقی اقدار (جیسے بڑوں کا ادب، رحم دلی، سچائی) بھی ختم ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے مخالف کو گالی دینا دین سمجھنے لگتا ہے۔ (26)
معاشرے اور امت پر اثرات:
اجتماعی سطح پر اس کے نقصانات انتہائی ہولناک ہیں:
فرقہ واریت اور خانہ جنگی: فکری انحراف امت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔ تکفیر اور تشدد کی وجہ سے مسلمان آپس میں دست و گریبان ہو جاتے ہیں، جیسا کہ ہم یمن اور دیگر خطوں میں دیکھ رہے ہیں۔
امن و امان کی تباہی: جس معاشرے میں نوجوان انتہا پسند ہو جائیں، وہاں کسی کی جان و مال محفوظ نہیں رہتی۔ خوف اور دہشت کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔
اسلام کی بدنامی: دنیا بھر میں اسلام کا خوبصورت چہرہ مسخ ہو کر پیش ہوتا ہے۔ غیر مسلم میڈیا مسلمانوں کے انفرادی افعال کو بنیاد بنا کر پورے دین کو دہشت گرد مذہب قرار دیتا ہے، جس سے دعوتِ دین کا راستہ مشکل ہو جاتا ہے۔
دشمنانِ اسلام کی مداخلت: داخلی کمزوری اور تفرقہ بیرونی دشمنوں کو مداخلت کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ وہ ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت مسلمانوں کے وسائل پر قابض ہو جاتے ہیں۔ (27)
فکری انحراف چاہے کسی بھی شکل میں ہو (انتہا پسندی ہو یا بے دینی)، یہ امت کے جسم میں زہر کی طرح ہے۔ یہ نہ صرف آخرت برباد کرتا ہے بلکہ دنیاوی عزت و وقار کو بھی خاک میں ملا دیتا ہے۔
فکری انحراف کا علاج اور سدِ باب
مرض کی تشخیص اور اسباب جاننے کے بعد اب ہم علاج کی طرف بڑھتے ہیں۔ فکری انحراف چونکہ ایک کثیر الجہتی مسئلہ ہے، اس لیے اس کا حل بھی صرف وعظ و نصیحت نہیں ہو سکتا، بلکہ علمی، تربیتی اور انتظامی سطح پر ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
علمی و دينی علاج
فکری انحراف بنیادی طور پر ’’جہالت‘‘ یا ’’غلط فہمی‘‘ کا نتیجہ ہے، لہٰذا اس کا سب سے مؤثر علاج "صحیح علم” ہے۔
صحیح دینی علم کی اشاعت:
نوجوان نسل کو قرآن و سنت کی براہِ راست تعلیمات اور سلف صالحین کے فہم سے روشناس کرانا ناگزیر ہے۔ صرف جذبات ابھارنے والی تقاریر کے بجائے ایسی علمی نشستیں ہونی چاہئیں، جہاں دین کے کلیات، مقاصدِ شریعت اور اصولِ فقہ کی بنیادی شد بد دی جائے۔ جب ذہن میں صحیح علم کا نور ہوگا تو گمراہی کا اندھیرا خود بخود چھٹ جائے گا۔ (28)
شبہات کا علمی ازالہ:
طاقت کے استعمال کے بجائے دلیل کا جواب دلیل سے دینا چاہیے۔ جو لوگ فکری شکوک کا شکار ہیں، ان کے شبہات کو سننے اور ان کا تسلی بخش جواب دینے کے لیے ماہر علماء کی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔ حضرت علیؓ نے خوارج کے مقابلے میں یہی طریقہ اپنایا تھا کہ ابن عباسؓ کو بھیج کر ان کے شبہات دور کیے، جس سے ہزاروں لوگ تائب ہوئے۔(29)
علماء اور عوام کا رابطہ:
علماء کرام کو دینی ضرورت کے پیشِ نظرجدید تعلیم یافتہ طبقے اور عوام سے رابطہ بحال کرنا ہوگا اور ان کو دینی مصلحت کے پیش ِ نظر اپنے آپ سے وابستہ کرنے اور جوڑنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ جب نوجوانوں کو اپنے مسائل کا حل مستند علماء سے نہیں ملتا، تو وہ بسا اوقات انٹرنیٹ کے ’’غیر معتبر مفتیوں‘‘ سے رجوع کرتے ہیں۔ علماء کو جدید دور کے تقاضوں اور زبان سے ہم آہنگ ہو کر رہنمائی کرنی ہوگی۔ (30)
تربیتی و فکری حکمت عملی
محض علم کافی نہیں، ذہن سازی اور تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
تنقیدی شعور کی بیداری:
تعلیمی اداروں اور گھروں میں بچوں کو ’’لکیر کا فقیر‘‘ بنانے کے بجائے ان میں تنقیدی شعور بیدار کیا جائے۔ انہیں سکھایا جائے کہ ہر سنی سنائی بات اور سوشل میڈیا پر آنے والی ہر خبر درست نہیں ہوتی۔ ان میں حق اور باطل میں تمیز کرنے، نرے جذبات کے بجائے منطقی انداز میں سوچنے اور دلیل طلب کرنے کی عادت پیدا کی جائے۔ (31)
وسطیت اور اعتدال کی تربیت:
نوجوانوں کے مزاج میں اعتدال پیدا کرنا والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ انہیں سمجھایا جائے کہ دین میں بے جا سختی کرنا اللہ کو پسند نہیں اور نہ ہی دین کو کھیل تماشا بنانا جائز ہے۔ "خیر الأمور أوسطھا” (بہترین کام وہ ہیں جو درمیانہ روی والے ہوں) کے اصول کو زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ (32)
مکالمے کا کلچر:
معاشرے میں ’’ادبِ اختلاف‘‘ کو فروغ دیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین کرائی جائے کہ کسی سے اختلافِ رائے رکھنے کا مطلب دشمنی نہیں ہے۔ جب ہم دلیل سے بات کرنے کا سلیقہ سیکھ لیں گے اور اسے فروغ دیں گے تو تشدد اور گالی گلوچ کا کلچر ختم ہو جائے گا۔ (33)
ادارہ جاتی اور ریاستی ذمہ داریاں
فرد کی اصلاحی کوششوں کے ساتھ ریاست اور اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
نصابِ تعلیم میں اصلاحات:
تعلیمی نصاب میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں جو دین اور دنیا کی بہترین سمجھ دیں۔ اسلامی تاریخ، تہذیب اور فکر کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے ؛ تاکہ نئی نسل اپنے اسلاف کے کارناموں سے آگاہ ہو اور احساسِ کمتری کا شکار ہو کر مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نہ کرے۔
میڈیا کی نگرانی اور مثبت متبادل:
مسلم ریاست کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر نفرت انگیز، تکفیری اور ملحدانہ مواد کی روک تھام کے لیے سائبر قوانین پر سختی سے عمل کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے مثبت تفریح اور تعمیری مواد فراہم کیا جائے تاکہ ان کی توانائیاں صحیح رخ پر استعمال ہوں۔
عدل و انصاف کا قیام:
جب تک معاشرے میں معاشی اور سماجی انصاف نہیں ہوگا، فکری انحراف پنپتا رہے گا۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ غربت، بے روزگاری اور ظلم کا خاتمہ کرے تاکہ نوجوان مایوسی کا شکار ہو کر انتہا پسند گروہوں کا ایندھن نہ بنیں۔ (34)
خاتمہ
کسی قدر تفصیلی تحقیق سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ موجودہ دور میں "فکری انحراف” امتِ مسلمہ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، جو نہ صرف ہمارے عقائد و نظریات کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ ہمارے سماجی امن کو بھی تہہ و بالا کر رہا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ اس انحراف کی جڑیں تاریخی، علمی اور نفسیاتی اسباب میں پیوست ہیں، اور اس کا سب سے بڑا شکار ہماری نوجوان نسل ہے۔
تاہم، یہ مسئلہ لاینحل نہیں ہے۔ اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھام لیں، اسلاف کے منہجِ اعتدال کو اپنائیں، اور جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے حکمت و دانائی سے کام لیں، تو اس فکری یلغار کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء، والدین، اساتذہ اور ریاستی ادارے ایک صفحہ پر آئیں اور اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
سفارشات:
یونیورسٹیز اور مدارس میں مشترکہ "فکری ورکشاپس” کا انعقاد کیا جائے تاکہ دوری ختم ہو۔ اسی طرح علماء، مفکرین اوردانشوران تعلیمی و تنظیمی مشترکہ پلیٹ فارم پرباہم ساتھ بیٹھیںاوراس جیسے مشترکہ مفادات پرباہم مکالمہ اور ڈائیلاگ کریں۔
والدین اپنے بچوں کے لیے روزانہ کچھ وقت مختص کریں جس میں دوستانہ ماحول میں ان کے ذہنی اشکالات سنے جائیں۔
مساجد کے منبر و محراب کو فرقہ وارانہ بحثوں کے بجائے’’تعمیرِ سیرت‘‘ اور ’’فکری رہنمائی‘‘ کے لیے استعمال کیا جائے ۔
سوشل میڈیا پر مستند علماء اور اسکالرز کی طرف سے اصلاحی پمفلٹ، کتابچے ، شارٹ ویڈیوز اور جدید اسلوب میں متعدد طرح کےمفید مواد کی معتدبہ مقدار ڈالی جائے اور فراہم کی جائے؛ تاکہ باطل کا مؤثر توڑ ہو سکے۔
حوالہ جات
(1)ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، ج 9، ص 42، دار صادر، بیروت، 1994ء، تیسرا ایڈیشن۔
(2) الراغب الاصفہانی، الحسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، ص 384، دار القلم، دمشق، 1992ء، تحقیق: صفوان عدنان داؤدی۔
(3) ڈاکٹرالعقل، ناصر بن عبد الکریم، الانحرافات الفکریۃ فی العصر الراھن، ص 15، دار الوطن، ریاض، 1418ھ، پہلا ایڈیشن
(4) ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، ج 3، ص 365، دار طیبۃ، مدینہ منورہ، 1999ء، دوسرا ایڈیشن، تحقیق: سامی بن محمد السلامہ۔
(5) ابو عیسیٰ الترمذی، محمد بن عیسیٰ، السنن، ج 3، ص 45، دار الغرب الاسلامی، بیروت، 1998ء، دوسرا ایڈیشن، تحقیق: ڈاکٹر بشار عواد معروف۔
(6) الشاطبی، ابراھیم بن موسیٰ، الاعتصام، ج 1، ص 37، المکتبۃ التوفیقیۃ، قاہرہ، 2003ء، تحقیق: احمد عبد الشافی۔
(7) سید قطب، ابراھیم حسین، خصائص التصور الاسلامی، ص 45، دار الشروق، قاہرہ، 1995ء، بارہواں ایڈیشن۔
(8) ڈاکٹر القرضاوی، یوسف بن عبد اللہ، الخصائص العامۃ للاسلام، ص 112، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، 1989ء، پانچواں ایڈیشن۔
(9) ابن تیمیۃ، احمد بن عبد الحلیم، مجموع الفتاویٰ، ج 13، ص 28، مجمع الملک فہد، مدینہ منورہ، 1995ء، تحقیق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم۔
(10) الدارمی، عبد اللہ بن عبد الرحمن، سنن الدارمی، ج 1، ص 51، دار المغنی، ریاض، 2000ء، تحقیق: مصطفیٰ الدیب البغا۔
(11) الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم والملوک، ج 2، ص 647، دار المعارف، قاہرہ، 1967ء، تحقیق: محمد ابو الفضل ابراھیم۔
(12) مسلم بن الحجاج القشیری، صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، رقم 1066، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1955ء، تحقیق: محمد فواد عبد الباقی۔
(13) الشہرستانی، محمد بن عبد الکریم، الملل والنحل، ج 1، ص 114، دار المعرفۃ، بیروت، 1993ء، تحقیق: محمد بن فتح اللہ بدران۔
(14) الحاکم النیسابوری، محمد بن عبد اللہ، المستدرک علی الصحیحین، ج 2، ص 150، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 1990ء، پہلا ایڈیشن، تحقیق: مصطفیٰ عبد القادر عطا۔
(15) اللالکائی، ھبۃ اللہ بن الحسن، شرح اصول اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ، ج 3، ص 535، دار طیبۃ، ریاض، 2003ء، آٹھواں ایڈیشن، تحقیق: احمد بن حمدان۔
(16) الذھبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، ج 5، ص 464، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، 1985ء، تیسرا ایڈیشن، تحقیق: شعیب الارناؤوط۔
(17) ابن الجوزی، عبد الرحمن بن علی، تلبیس ابلیس، ص 102، دار القلم، بیروت، 1983ء، پہلا ایڈیشن۔
(18) البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، کتاب العلم، رقم 100، دار طوق النجاۃ، بیروت، 1422ھ، پہلا ایڈیشن، تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر۔
(19) الشاطبی، ابراھیم بن موسیٰ، الموافقات، ج 3، ص 173، دار ابن عفان، قاہرہ، 1997ء، ت: مشہور بن حسن آل سلمان
(20) ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد، المقدمۃ، ص 549، دار الفکر، بیروت، 2001ء، پہلا ایڈیشن۔
(21) علوان، عبد اللہ بن ناصح، تربیۃ الاولاد فی الاسلام، ج 1، ص 145، دار السلام، قاہرہ، 1992ء، گیارہواں ایڈیشن۔
(22) سید قطب، ابراھیم حسین، معالم فی الطریق، ص 140، دار الشروق، قاہرہ، 1979ء، چھٹا ایڈیشن۔
(23) القرضاوی، یوسف بن عبد اللہ، ظاھرۃ الغلو فی التکفیر، ص 25، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، 1996ء، چھٹا ایڈیشن۔
(24) سید ابو الحسن علی الندوی، علی بن عبد الحی، ردۃ ولا ابا بکر لھا، ص 45، دار القلم، دمشق، 1987ء، پہلا ایڈیشن۔
(25) ابن القیم الجوزیۃ، محمد بن ابی بکر، اعلام الموقعین عن رب العالمین، ج 2، ص 185، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 1991ء، پہلا ایڈیشن، تحقیق: محمد المعتصم باللہ البغدادی۔
(26) الغزالی، محمد بن محمد، احیاء علوم الدین، ج 1، ص 89، دار المعرفۃ، بیروت، 1982ء۔
(27) ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد، المقدمۃ، ص 549، دار الفکر، بیروت، 2001ء، پہلا ایڈیشن۔
(28) ابن عبد البر، یوسف بن عبد اللہ، جامع بیان العلم وفضلہ، ج 1، ص 123، دار ابن الجوزی، ریاض، 1994ء، پہلا ایڈیشن، تحقیق: ابو الاشبال الزھیری۔
(29) ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ والنھایۃ، ج 7، ص 280، دار إحیاء التراث العربی، بیروت، 1988ء، پہلا ایڈیشن، تحقیق: علی شیری۔
(30) ڈاکٹر القرضاوی، یوسف بن عبد اللہ، ثقافۃ الداعیۃ، ص 95، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، 1991ء، دسواں ایڈیشن۔
(31) الغزالی، محمد بن محمد، میزان العمل، ص 42، دار المعارف، قاہرہ، 1963ء۔
(32) البیہقی، احمد بن الحسین، شعب الایمان، رقم 3890، مکتبۃ الرشد، ریاض، 2003ء، پہلا ایڈیشن، تحقیق: ڈاکٹر عبد العلی عبد الحمید حامد۔
(33) ڈاکٹر العلوانی، طہ بن جابر، ادب الاختلاف فی الاسلام، ص 65، المعہد العالمی للفکر الاسلامی، ریاستہائے متحدہ امریکہ، 1987ء، دوسرا ایڈیشن۔
(34) ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد، المقدمۃ، ص 549، دار الفکر، بیروت، 2001ء، پہلا ایڈیشن