وقف ترمیمی قانون آئین ہند سے متصادم اور ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے لئے خطرہ
October 29, 2025
انسانوں کے درمیان بلکہ تمام مخلوقات کے درمیان انصاف کو عام کرنا ہماری ذمہ داری ہے:مولانا
عتیق احمد بستوی
مدارس کے طلبہ کسی بھی عصری تعلیمی ادارہ کے طلبہ سے کم نہیں ہیں۔:پروفیسر نسیم جعفری
علماء اسلامی قوانین کے ساتھ ملکی قوانین سے واقف ہوں گے تو ججوں کے سامنے دلائل مضبوطی سے رکھ سکتے ہیں:مولانا خالد رشید
لکھنؤ(۲۲ جنوری) انصاف قائم کرنا اور انسا نی حقوق کی فراہم و دستیابی ہر شخص کا بنیادی و انسانی حق ہے۔ اس حق کو دلانا اور انصاف کرنا ہر معزز شہر ی کی ذمہ داری ہے۔ اسلام انصاف قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ لہٰذا یہ ایک انسانی ذمہ دری ہے۔ قانون کا مطلب ہی انصاف کی فراہمی ہے۔ اسلامی تعلیمات انسان ہی نہیں تمام جانداروں کی ضروریات کے عین مطابق ہیں۔ کسی بھی انسان کا بنایا ہوا قانون اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ دستور ہند اسلامی تعلیمات کی بھر پور نمائندگی موجود ہے۔ طلبہ کو چاہئے کہ وہ قوانین کو سمجھیں اور آئین و دستور کے مطابق تمام لوگوں کو حق و انصاف فراہم کرائیں۔ ان خیالات کا اظہار مفتی عتیق احمد بستوی نے کیا۔ وہ آج مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء کے تحت محمد حسن ٹونکی ہال میں لیگل لیٹریسی کے طلبہ کے سالانہ تقسیم اسناد پروگرام میں خطاب کررہے تھے۔ مجلس تحقیقات شرعیہ کے سربراہ مولانا عتیق بستوی نے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ابھی آگے بہت کام کرنے ہیں۔ لہٰذا طلبہ خود کو آگے کے لیے تیار کریں گے۔
مفتی عتیق بستوی نے کہاکہ تین سال سے لیگل لٹریسی کا کورس چل رہا ہے، نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ طلبہ کو اس سے بڑا فائدہ ہوا ہے۔انصاف کے تعلق سے قرآن میں واضح آیات موجود ہیں، قرآن نے اس کا حکم دیا ہے، انصاف کو عام کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، انسانوں کے درمیان بلکہ تمام مخلوقات کے درمیان انصاف کو عام کرنا ہماری ذمہ داری ہے، نیز قرآن میں امانتوں کو ادا کرنے کا بھی حکم ہے، اس طرح جتنے بھی انسانی حقوق ہیں سب کا ذکر ہمیں شریعت میں ملتا ہے۔ عام طور پر وکلا شریعت سے ناواقف ہوتے ہیں اس لیے اسلامی قوانین کی واضح ترجمانی نہیں کرپاتے ہیں، اس لیے علماء کو اس میدان میں آنا ضروری ہے، ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، ہم نے اس ملک کو آزاد کرانے میں نمایا کردار ادا کیا ہے، ۔ملک کے حالات کے مطابق قانون کے میدان میں آنا اور دستور سے واقف ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔میڈیا میں اکثر اسلام کے تعلق سے سوال ہوتے ہیں اگر ہم صحیح طور پر اسلامی اور ملکی قوانین سے واقف ہوں گے تو ہم صحیح جواب دے پائیں گے،ہمیں اپنے تعلیمی معیار کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور سخت محنت کی ضرورت ہے ۔ ندوہ العلماء میں گزشتہ تین سال سے انٹگرل یونیورسٹی کی لاء فیکلٹی کے اشتراک سے چل رہے لیگل لیٹریسی پروگرام کی تکمیل پر درجنوں طلبہ کوان کی کارکردگی پر انعامات سے نوازاگیا، نیز تمام شرکاء کو سرٹی فکیٹ دیے گئے۔ پروگرام کے مہمان خصوصی انٹگرل یونیورسٹی کے ڈین آف لا پروفیسر نسیم احمد جعفری نے طلبہ کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ 45 گھنٹہ (ہفتہ میں ایک گھنٹہ) کے اس سرٹی فکیٹ کورس میں ندوہ کے طلبہ نے جس دانشمندی اور مہارت کا مظاہرہ کیا ہے اس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مدارس کے طلبہ کسی بھی عصری تعلیمی ادارے سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے شریعت کے ساتھ ساتھ آئین اور قانون کی بنیادی معلومات حاصل کرکے دوسروں سے امتیاز حاصل کرلیا ہے۔ یہ جہاں جائیں گے دوسروں کو بیدار اور باخبر کریں گے۔ آج عدلیہ اور حکومت بھی تنازعات میں باہی مصالحت یا کسی ثالث کی موجودگی میں معاملات کے تصفیہ کےفروغ دے رہی ہیں۔ اس کام کو آج ایک پیشہ وارانہ طریقہ سے اپنا کر ذریعہ معاش بھی بنایاجاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ کورس کے مقاصد میں ایک یہ بھی مقصد تھا کہ مدارس کے طلباء اور اسکول کے اسٹوڈنٹس کے درمیان جو گیپ ہے، اس کو پر کیا جائے، اور دونوں کے درمیان جو خلیج حائل ہے اس کو دور کیا جائے۔ایک مقصد یہ بھی تھا کہ مدارس کے طلبہ قانون کی دنیا میں قدم رکھیں اور یہ لیگل لٹریسی کورس اس کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے، فیملی کورٹ کو علماء سے بہتر کوئی نہیں سنبھال سکتا۔انہوں نے طلباء سے کہا کہ آپ مفتی اور عالم ہیں اور دوسرے علماء سے بہتر ہیں، کیونکہ آپ قانون سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاء کی بہت ضرورت ہے، آپ اس کو اہمیت دیں اور اگے نکل کر اس میدان میں ائیں۔ تقریب کے مہمان اعزازی اسلامک سینٹر آف انڈیا لکھنؤ کے چیئرمین مولانا خالد رشیدفرنگی نے قانونی معلوما ت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ندوۃ العلمانے ابتدا ہی سے جدید تقاضوں کو پور اکرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں پر قانون کی خواندگی کا باقاعدہ نظم ہے۔ مولانا نے کہاکہ آئین و قانون کو سمجھنا ہی ہر شہری کی ضرورت ہے۔ ہمارا آئین تمام شہریوں کو ان کے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسی لیے یہ دنیامیں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہاکہ میں مولانا عتیق احمد بستوی اور ندوہ کے ذمہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے اتنے اہم کورس کی شروعات کی۔تمام مسلمانوں کو آئین اور قوانین سے واقف ہونا چاہیے، اور ساتھ ساتھ اسلامی قوانین سے بھی واقف ہونا چاہیے، تاکہ وہ میڈیا میں صحیح جواب دے سکیں اور اعتراضات کا جواب دے سکیں، اگر مدارس میں پڑھے ہوئے علماء وکیل بنیں گے اور اسلامی قوانین کے ساتھ ملکی قوانین سے واقف ہوں گے تو وہ سپریم کورٹ اور عدالتوں میں بہترین بحث کر سکتے ہیں، اور صحیح طور پر ججوں کے سامنے دلائل مضبوطی سے رکھ سکتے ہیں، ایسی صورتحال میں کورٹ ہمارے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے علماء کو چاہیے کہ وہ قانون کے میدان میں قدم رکھیں اور ماہر وکیل بن کر مسلمانوں کے نمائندگی کریں۔
اس تقریب میں لیگل لٹریسی کورس کے متعددطلبہ نے قانون کے مختلف پہلوئوں پر اردو،انگلش او رعربی تینوں زبانوں میں مقالا ت پیش کئے ۔
تقریب تقسیم انعامات کی نظامت کرتے ہوئے کورس کے کوآرڈینٹر مولانا مفتی منور سلطان ندوی اس شعبہ کی سرگرمیوں سے واقف کرایا،مولاناڈاکٹرنصراللہ ندوی نے مہمانوں کااستقبال کیا۔ اس موقع پر نومبر میں یوم آئین کے مطابق ندوہ کے طلبہ کے درمیان ہوئے کوئز میں کامیاب طلبہ کو مہمانان کے بدست انعامات سے نوازاگیا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں طلبہ اور معززین موجود رہے۔