مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ، ندوۃ العلماء کے زیر اہتمام اترپردیش میں غیر رجسٹرڈ مدارس کی قانونی حیثیت آئینی تحفظ، چیلنجز اور عملی اثرات کے موضوع پر ایک علمی مذاکرہ کا انعقاد
May 22, 2026
خلع قرآن وسنت سے ثابت ہے،اس میں ترمیم کی گنجائش نہیں ہے
مولانا عتیق احمد بستوی
مجلس تحقیقات شرعیہ کے زیراہتمام خلع میں شوہرکی رضامندی کی ضرورت ،شریعت اور عدالتی فیصلوں کے تناظرمیں‘‘کے موضوع پر سمپوزیم کاانعقاد
ندوۃ العلماء کے علمی وتحقیقی شعبہ مجلس تحقیقات شرعیہ کی جانب مسلم فیملی لالکچرسیریزکے تحت سمپوزیم کاانعقادکیاگیاجس میں خلع میں شوہرکی رضامندی سے متعلق کیرالاہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کاعلمی اورقانونی جائزہ لیاگیا،صدارت مولاناعتیق احمدبستوی نے کی جبکہ مہمان مقررکی حیثیت سے معروف قانون داں ایڈوکیٹ سعودرئیس نے اس موضوع پر تفصیلی لکچرپیش کیا۔
ایڈوکیٹ سعودرئیس نے کہاکہ خلع کے بارے میں کوئی کنفیوزن نہیں ہے،کیرالاہائی کورٹ کے جس فیصلے میںشوہرکی رضامندی کےبغیر بیوی کی طرف سے یکطرفہ خلع کو درست قرار دیا گیا ہے اور اسے عورت کا حق قرار دیا گیا ہے۔وہ ایک صوبہ کے ہائی کورٹ کافیصلہ ہے،جسے سپریم کورٹ میںچیلنج بھی کیاگیاہے،جب تک سپریم کورٹ سے اس فیصلہ کی توثیق نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس فیصلے سے ملک کے دوسرے علاقوں والوں کے لئے کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔
انہوںنے کہاکہ اس فیصلہ میں خلع اور مبارات کے درمیان باریک فرق کو نظراندازکیاگیاہے،اسی طرح قرآن کی آیات اور احادیث سے جس طرح استدلال کیاگیاہے وہ اہل علم کے نزدیک مستندنہیںہے۔
مولاناعتیق احمد بستوی نے صدارتی گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ خلع ایک شرعی حکم ہے،یہ مسئلہ قرآن وسنت سے ثابت ہے،جسے منصوص کہاجاتاہے،اور منصوص مسائل میں غوروفکراورکسی ترمیم کی گنجائش نہیں ہوتی ہے،مولانانے کہاکہ نکاح کے بعد اصل مسئلہ اس رشتہ کو باقی رکھناہے،لیکن اگرشوہربیوی دونوں کے درمیان مزاجی ہم آہنگی نہ پائی جائے اور آپس میں مسائل پیداہورہے ہوںتوایسی صورت میں علاحدگی کانظام رکھاگیاہے،عورت کی طرف سے علاحدگی کی کوشش ہو،اور وہ اپنے بعض حقوق کے عوض علاحدگی اختیارکرناچاہے اور شوہرعورت کے مطالبہ پرراضی ہوتو علاحدگی کے اس عمل کوخلع کہاجاتاہے۔
مولانانے کہاکہ طلاق اور خلع دوالگ الگ مسئلے ہیں،خلع طلاق کی طرح نہیں ہے،تمام فقہاء کے نزدیک خلع کے لئے شوہرکی رضامندی ضروری ہے۔ اوراسی کے مطابق ملک اور پوری دنیامیں دارالقضامیں عمل بھی ہوتاہے،اس لئے مسلمانوںکے متفق علیہ مسئلہ میں کوئی ایسی رائے دیناجس کی بنیاد قرآن حدیث کے صریح آیات واحادیث کے خلاف ہو،صحیح رویہ نہیں ہے۔
مولانانے کہاکہ یہ عجب تضادہے کہ ایک طرف طلاق کو کم کرنے کے لئے قانون بنایاگیاہے دوسری طرف تنہاعورت کو خلع واقع کرنے کااختیار دیا گیاہے، ایسی صورت میں علاحدگی کے واقعات بڑھیں گے۔
مولانانے کہاکہ اگرمسلمان طے کرلیں کہ وہ اپنے معاملات خودہی حل کریں گے،عائلی اختلاف کی صورت میں دارالقضاء جائیں گے توامیدہے کہ اس طرح کی پریشانیاں کم ہوں گی۔
مولانامنورسلطان ندوی نے نظامت کرتے ہوئے مجلس کی سرگرمیوں تعارف کرایا،ڈاکٹرنصراللہ ندوی نے مہمانوں کااستقبال کیا،اس پروگرام میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اساتذہ،شہرکے وکلاء اور اختصاص کے طلبہ شریک ہوئے۔