انسانوں کے درمیان بلکہ تمام مخلوقات کے درمیان انصاف کو عام کرنا ہماری ذمہ داری ہے
January 24, 2026
دنیا کے قوانین میں جو کچھ خوبیاں نظر آتی ہیں وہ اسلامی قانون سے ہی استفادہ ہے
مولانا عتیق احمد بستوی
مجلس تحقیقات شرعیہ کے زیر انتظام لیگل لٹریسی پروگرام کا افتتاح مولانا سید عمار عبدالعلی حسنی ندوی اور پروفیسر نسیم احمد جعفری کا اظہار خیال
(۲۸؍ اپریل) مجلس تحقیقات شرعیہ کے زیر اہتمام گذشتہ چار سال سے اختصاص کے طلباء کے لیے قانون فہمی کی خصوصی کلاسز منعقد کی جاتی ہیں، اس کا مقصد طلباء کے اندر شرعی قوانین کے ساتھ ملک کی قوانین کی واقفیت پید اکرانا بھی ہے تاکہ معاشرہ میں وہ دینی رہنمائی کی ذمہ داریاں بہتر طریقہ پر ادا کرسکیں۔
اس سلسلہ کی افتتاحی نشست حضرت مولانا سید عمار عبدالعلی حسنی ندوی کی زیرصدارت کو منعقد ہوئی جس میں مہمان خصوصی کے طورپرپروفیسر نسیم احمد جعفری (صدر شعبہ قانون انٹگرل یونیورسٹی)نے شرکت کی ۔
سکریٹری مجلس تحقیقات شرعیہ مولانا عتیق احمد بستوی نے افتتاحی خطاب میںکہاکہ یہ پروگرام ہندوستان کے قانونی ڈھانچہ سے واقف کرانے کے لیے شروع کیا گیا ہے ،سب سے مقدم اسلامی قوانین مہارت ہے ،اس کے بعد دیگر قوانین خاص کر ملک کے قوانین سے واقفیت پیداکرائی جاتی ہے تاکہ قوم وملک کی خدمات اچھے انداز میںممکن ہو۔
مولانا نے مزید کہا کہ دنیا میں جتنے قوانین نافذ ہیں ان میں سب زیادہ مبنی بر عدل قانون اسلام کا پیش کردہ ہے، کیونکہ یہ قانون اس کی عظیم ہستی کی جانب سے ہے جو انسانوں کا خالق ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کس چیز کی کتنی ضرورت ہے اور اسی کے مطابق اس نے ضابطے بنائے ہیں، آج دنیا کے قوانین میں جو کہیں بھی کسی بھی طرح کا خیر نظر آتا ہے وہ کہ اسلامی قانون سے ہی استفادہ ہے،جبکہ دوسرے سارے قوانین معاشرہ کی پیداوار ہیں جن میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ایسا اکثر ہوتا ہے کہ معاشرہ میں ایک چیز معیوب ہوتی ہے لیکن دھیرے دھیرے معاشرہ میں وہ چیز قبول کرلی جاتی ہے اور پھر اس کی حمایت میں قانون بن جاتا ہے، انسانی قانون ‘انسانی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں جبکہ اسلامی قانون انسانی ضروریات کی تکمیل کے لیے ہے۔
مہمان خصوصی پروفیسر نسیم احمد جعفری (صدر شعبۂ قانون انٹگرل یونیورسٹی ،لکھنؤ)نے وضاحت کے ساتھ اس پورے نظام کی وضاحت کی اور نصاب تعلیم و طریقہ تدریس کو مثالوں سے واضح کرتے ہو کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ جو کچھ جانتے ہیں اس کومزید بہتر انداز سے سمجھیں اور مؤثر طریقہ پر دوسروں تک پہنچا سکیں، کیوںکہ جس معاشرہ میں ہم رہتے ہیں اس کے رواجوں اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے کے لیے وہاں کے قانون سے واقفیت ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کا قانون اس کے معاشرہ کا عکاس ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں لٹریچر میں یکسانیت تو پائے جائے گی لیکن قانون میں نمایاں فرق نظر آئے گا۔
پروفیسر صاحب نے کہا کہ مدارس کے طلباء کی معلومات میں کمی نہیں ہے، بنیادی طور پر جو شرعی قانون وہ پڑھتے ہیں وہی قانون ملک میں بھی نافذ ہے، البتہ جزئیات تفصیلات الگ الگ ہیں لیکن مشترکہ انسانی قانون تقریبا ہر جگہ یکساں ہی ہے،لیکن طلباء اصطلاحات سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے اپنے علم سےفائدہ نہیں پہنچا پاتے ، اس لیے اس نظام کا مقصد طلباء کو دیگر قانونی اصطلاحات کی بنیادی معلوم فراہم کرنا بھی ہے تاکہ معاشرہ میں ان کی معلومات مفید ثابت ہوں۔
انھوں نے سال بھر کے نصاب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا یہ نصاب ماہرین کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے اور الحمد للہ اس کے اچھے اثرات بھی مرتب ہوئے، دیگر ادارے بھی ندوہ کے اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کو اختیار کرنے کی رائے بھی رکھتے ہیں۔
اخیر میں صدر مجلس مولانا سید عمار حسنی ندوی ناظر عام ندوالعلماء نے ندوۃ العلماء کے اعلیٰ مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ندوہ کا مقصد یہی ہے کہ آپ ایمانی غیرت اور دینی حمیت کے ساتھ ساری زبانیں سکھیں اور ساری معلومات حاصل کریں، ہر صالح چیز کو اختیار کرنا چاہیے چاہے اس کا ماخذ کچھ بھی ہو۔دیگر زبانوں اور دیگر علوم سے واقفیت نہیں ہوگی تو خود اعتمادی نہیں پیدا ہو سکے گی اور ایک عالم و داعی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اس کے اندر اعتماد کی کمی ہو،مولانانے لیگل لٹریسی کورس پراپنی مسرت کاآظہار کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قراردیا،اور اس مبارک کوشش کے لئے انہوںنے مولانا عتیق احمد بستوی کے ساتھ انٹگرل یونیورسیٹی کے ذمہ داروں کابھی شکریہ اداکیا،انہوں نے امید ظاہر کی یہ یہ کوشش ضرور ثمر آور ہوگی،اور آئندہ جوفارغین یہاں سے نکلیں گے ان کی زندگی میں اس کی واضح اور مفید اثرات مرتب ہوں گے۔
اس افتتاحی نسشت کی نظامت مولانا منور سلطان ندوی نے کی، انھوں نے اپنی تمہیدی گفتگو میں اس پروگرام کی اہمیت وضرورت اور طریقہ کار پر گفتگو کرتے ہوئے گذشتہ سالو ں کی سرگرمیوں کا تذکرہ کیا اور جن اہم ماہرین فن کی خدمات حاصل ہیں ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر ندوہ کے اساتذہ کے علاوہ اختصاص کےتمام شعبوں کے طلبا خاص طور پر شریک ہوئے