اداریہ

اداریہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمدللہ ’’تحقیقات شرعیہ ‘‘ندوۃ العلماء لکھنؤ کا چھٹا شمارہ آپ کی خدمت میں پیش ہے جب کہ دنیا میں امریکہ اور اسرائیل -ایران کی ہولناک جنگ سے دوچار ہے،جس کے عالمی جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں ،اس جنگ کی وجہ سے پوری دنیا خاص طور سے ہمارا ملک ہندوستان پٹرول ،گیس کی شدید قلت کا سامنا کررہا ہے ، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور پوری دنیا معاشی بحران میں مبتلاہورہی ہے، امریکہ واسرائیل کی فرعونیت نے جنگ کے شعلے بھڑکائے ہیں اور دنیاکے امن وامان اور اقتصادیات کو درہم برہم کردیا ہے ،اللہ تعالیٰ اس ہولناک تباہ کن جنگ کو جلد از جلد ختم فرمائے اور دنیا میں امن وامان قائم فرمائے۔

تحقیقات شرعیہ کے اس شمارہ کا پہلا مضمون مولانا ڈاکٹر محمد علی ندوی (استا ذ دارالعلوم ندوۃ العلماء )کا قرآنیات سے متعلق ہے ،جس کا موضوع ہے ’’اعجاز علمی:مفہوم اور تاریخی پس منظر‘‘،قرآن کریم کے اعجاز کے مختلف پہلو ہیں ان میں سے ایک اہم پہلو اعجاز عملی کا ہے ، جس پر اس مضمون میں اختصار سے روشنی ڈالی گئی،امید ہے قرآنیات سے دلچسپی رکھنے والے قارئین اس مضمون کو شوق سے پڑھیں گے اور استفادہ کریں گے۔

دوسرا مضمون حضرت مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی دامت برکاتہم کا افادہ ہے،جسے ان کے زیرتربیت مولاناارشدقاسم کاندھلوی نے مرتب کیاہے،جس کا عنوان ہے ’’رتن ہندی: روایت حدیث اور مولانا گیلانی‘‘بابا رتن ہندی کا موضوع دور قدیم سے نزاعی موضوع رہا ہے، محدثین، رجال وسیرت کے ماہرین نے رتن ہندی کے بارے میں موافق اور مخالف بہت سی تحریریں لکھی ہیں، حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رتن ہندی کے بارے میں مفصل مضمون تحریر فرمایا ہے، اسی کو بنیاد بنا کر حضرت مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی دامت برکاتہم نے یہ افادہ تیار فرمایا ہے، امید ہے کہ قارئین کو پسند آئے گا اور ان کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔

افکار و آثار کے کالم کے تحت ایک مقالہ احقر کے قلم سے’’علامہ انور شاہ کشمیری-جامعیت و اعتدال ‘‘کے موضوع پر ہے، جسے دارالعلوم وقف دیوبند میں علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ پر منعقد ہونے والے عالمی سیمینار (منعقدہ ۱۳،۱۴دسمبر۲۰۲۵؁)کے لیے قلم بند کیا گیا تھا، امید ہے کہ اس سے علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت و کمالات کے بعض نئے پہلوں پر روشنی پڑے گی، اس مطالعے پر مجھے قارئین کے نقدو نظر کا انتظار رہے گا۔

افکار و آثار کے ہی کالم کے تحت ایک مضمون مولانا محمد نصر اللہ ندوی(استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء) کے قلم سے ہے جس کا عنوان ہے’’ علامہ ابن حزم اور ان کے فقہی اصول‘‘اس سے پہلے بھی مولانا محمد نصراللہ ندوی کے قلم سے ’’علامہ ابن حزم ظاہری‘‘ پر ایک مضمون تحقیقات شرعیہ کے گذشتہ شمارے میں شائع ہوا تھا جس میں علامہ ابن حزم کی شخصیت اور کارناموں کا تعارف کرایا گیا تھا، اس شمارے میں شائع ہونے والایہ مضمون علامہ ابن حزم کے فقہی اصول پر روشنی ڈالتا ہے اور ان کے طرز استنباط کو اجاگر کرتا ہے۔

افکار و آثار ہی کے کالم کے تحت عزیز گرامی مولانا منور سلطان ندوی کاایک مضمون ’’لکھنو میں فتوی کے مراکز: ایک مختصر جائزہ‘‘ کے موضوع پر شریک اشاعت ہے جو بڑی تلاش و محنت سے لکھا گیا ہے اور لکھنو کے علمی تاریخ کے ایک اہم ترین پہلوپر بھرپور روشنی ڈالتا ہے، امید ہے کہ پسند کیا جائے گا۔

فقہیات کے کالم کے تحت مولانا محمد صابر حسین ندوی کے قلم سے’’ مائیکرو فائنانس سے متعلق چند مسائل ‘‘کے موضوع پرایک فکر انگیز تحریر شامل اشاعت ہے، جس میں دور حاضر کے ایک اہم مسئلہ مائیکرو فائنانس کا تعارف کرایا گیا ہے اور اس سے متعلق شرعی پہلوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔

اس شمارے میں تعارف و تبصرے کے کالم کے تحت مولانا طلحہ نعمت ندوی کا ایک مضمون’’ تحفہ محمدیہ اردو کا ایک قدیم مذہبی ماہنامہ‘‘ کے موضوع پر شائع ہو رہا ہے، ہم تحقیقات شرعیہ کی بزم میں مولانا طلحہ نعمت ندوی کا استقبال کرتے ہیں، ان کی تحریریں تحقیق و تلاش کا اچھا نمونہ ہوتی ہیں، ماہنامہ تحفہ محمدیہ کے تفصیلی تعارف پر مشتمل ان کی یہ تحریر ہماری علمی تاریخ کی بعض اہم کڑیوں کو سامنے لاتی ہیں اور خاص طور سے بانی ندوۃ العلماء حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کے بعض اہم گوشوں پر روشنی ڈالتی ہے ۔

اس شمارے کی آخری تحریر مجلس تحقیقات شرعیہ کے باحث عزیزم مولوی محمد عامر ندوی کےقلم سے ہے جس میں انہوں نے لیگل لٹریسی کورس کی سالانہ تقریب کی خوبصورت رپورٹ تحریر کی ہے، اللہ تعالی ان سے علم و دین کی خدمت لے اور ذوق تحقیق اور تحریر میں ترقی عطا فرمائے ۔

ہم حسب سابق اس شمارے کے بارے میں قارئین کے تاثرات، تنقیدوں اور مفید مشوروں کے منتظر رہیں گے۔

Tags

Share this post: