علامہ ابن حزم ؒاور ان کے فقہی اصول
مولاناڈاکٹرمحمد نصر اللہ ندوی
استاذدارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
ابن حزم جیسے متبحر عالم دین کی فقہ کا احاطہ کرنا آسان کام نہیں ہے، انہوں نے ظاہریہ کے امام ابو داؤد بن خلف کے مسلک کی تنقیح اور تہذیب کے لیے انتھک کوششیں کیں اور اس کا جارحانہ دفاع کیا، نیز اس کی شرح و تفسیر میں بہت سی کتابیں لکھیں ، ان میں اہم کتابیں”الإحكام في أصول الأحكام”، "ابطال القياس والرأي والاستحسان والتقليد والتعليل”(اس کی تلخیص ابن حزم نے اپنے دست قلم سے لکھی ہے)”كتاب مسائل أصول الفقه” "الاجماع ومسائله على أبواب الفقه”،”كشف الالتباس ما بين الظاهرية وأصحاب القياس” "المحلى بالآثار في شرح المجلى باختصار’’ النبذ‘‘ وغیرہ ہیں۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ظاہریہ کا ظہور تیسری صدی میں اصحاب قیاس کے علمی جوش و خروش کا نتیجہ تھا، انہوں نے قیاس کو اصول ثلاثہ یعنی کتاب، سنت، اجماع کے بعد چوتھا اصول قرار دیا، جب داؤد ظاہری (202-270ھ) نے میدان اجتہاد میں قدم رکھا تو سرے سے قیاس کا انکار کر دیا، وہ الفاظ کے ظاہری مفہوم پر سختی سے کاربند رہتے اور تقلید کا سرے سے انکار کرتے، ان کے نزدیک ہر وہ شخص جو عربی سمجھتا ہے قرآن و سنت کے ظاہری الفاظ کو دیکھ کر دین کے بارے میں رائے زنی کر سکتا ہے، یہاں پر اس بحث کی ضرورت نہیں کہ ظاہری مذہب اندلس میں کیسے پہنچا؟ بس ہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ابن حزم کو بقی بن مخلد، محمد بن وضاح، قاسم بن اصبغ اور منذر بن سعید کے افکار و نظریات میں ظاہری مسلک کی بہترین ترجمانی نظر آئی، چنانچہ انہوں نے ان حضرات کی کوششوں کو آگے بڑھانے کا بیڑہ اٹھایا اور اپنے آپ کو بلاد اندلس میں فقہ ظاہری اور اس کے اصول کے دفاع کے لیے وقف کر دیا، ابن حزم کا فقہی سفر مسلک ظاہری سے شروع نہیں ہوا، اولا ان کا واسطہ فقہ شافعی سے پڑا، حالانکہ اس وقت اندلس میں فقہ مالکی کا غلغلہ تھا، جس کی وجہ سے ان کو سخت مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا، جب انہوں نے ظاہریہ کی وکالت کی تو ان پر علماء اور امراء ٹوٹ پڑے اور ان کی زندگی اجیرن بن گئی۔ (۱)
ابن حزم نے ظاہریہ کے اصول کو عقائد اور کلامی مسائل پر بھی منطق کیا،وہ جب یہود و نصاری اور مسلمانوں کے دیگر فرقوں کے ساتھ علمی مناظرہ کرتے تو ظاہریہ کے اصول کو معیار بناتے اور انہی کی روشنی میں گفتگو کرتے، خاص طور سے جب وہ تاویل نصوص کے اصول کی تردید کرتے اور اس کا انکار کرتے تو اپنے استدلال کو ظاہری اصول پر استوار کرتے، ان کا نظریہ بالکل واضح تھا کہ اللہ کے کلام کو اس کے ظاہری مفہوم پر محمول کیا جائے، الا یہ کہ کوئی نص، اجماع یا عقلی ضرورت قطعیت کے ساتھ اس پر دلالت کرے کہ اس کا کوئی حصہ اپنے ظاہر پر محمول نہیں ہے۔ (۲)
شاید اسی وجہ سے بعض محققین کا خیال ہے کہ عقائد اور کلامی مسائل پر ظاہریہ کے اصول کو منطبق کرنے والےابن حزم پہلے شخص ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ ابن حزم کا منہج ائمہ مجتہدین کے خلاف تھا،جوکتاب و سنت، اجماع اور قیاس سے استنباط کرتے تھے، جبکہ ابن حزم صرف کتاب و سنت اور اجماع سے استدلال کرتے تھے اور قیاس کے سرے سے منکر تھے، اسی طرح وہ تقلید کا بھی پورے طور پر انکار کرتے تھے، اگرچہ صحابی کی تقلید ہی کیوں نہ ہو، حالانکہ امام مالک امام، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قول صحابی حجت ہے، جبکہ ابن حزم کا خیال ہے کہ کسی کی تقلید جائز نہیں ہے، چاہے صحابی ہی کیوں نہ ہو۔ (۳)
ابن حزم کے مطابق تقلید کرنے والے خود باطل پر ہونے کا اعتراف کرتے ہیں، اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک گروہ کہتا ہے کہ تقلید جائز نہیں، لیکن وہ خود اپنے ائمہ کے مقلد ہونے کا اقرار کرتا ہے، بایں طور پر کہ وہ اپنے متبوع کے قول کو کسی بھی حال میں نہیں چھوڑتا ہے اور یہی تقلید محض ہے، ایک طرف تم تقلید کو باطل بھی کہتے ہو اور اس کی پیروی بھی کرتے ہو، گویا تم نے یہ اعتراف کر لیا کہ تم باطل کے پیروکار ہو، یہ امر نہایت حیرت انگیز ہے۔
وہ لکھتے ہیں:
لان كل طائفة من هؤلاء مقرة بأن التقليد لا يحل، ثم يقرون أنهم مقلدون لأئمتهم كمالك وغيره، لانهم لا يفارقون قول ذلك المتبوع، وهذا هو محض التقليد، أفتدينون ببطلان التقليد وتلتزمونه، فقد اعترفتم بأنكم تدينون بالباطل وهذا هو العجب. (۴)
یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ ابن حزم تقلید کو حرام کہتے ہیں، اس لیے کہ بقول ان کے کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ بغیر دلیل کے کسی کی رائے پر عمل کرے، ان کا استدلال قرآن کی آیت کریمہ "اتبعوا ما أنزل إليكم من ربكم ولا تتبعوا من دونه أولياء قليلا ما تذكرون” اور دوسری آیت "واذا قيل لهم اتبعوا ما انزل الله قالوا بل نتبع ما الفينا عليه آبائنا”سےہے۔
وہ اس بات کو زور و شور سے کہتے ہیں کہ صحابہ اور تابعین میں سے کوئی پورے طور پر کسی کی تقلید نہیں کرتا تھا، یہ بات صحیح ہے کہ جس نے بھی ابو حنیفہ، مالک یا شافعی کی کسی مسئلہ میں اختلاف کیے بغیر سو فیصد تقلید کی تو اس نے اجماع کی خلاف ورزی کی۔ وہ لکھتے ہیں:
لقد صح إجماع جميع الصحابة رضي الله عنهم أولهم عن أخرهم وإجماع جميع التابعين أولهم عن آخرهم عن الامتناع والمنع من ان يقتصد منهم أحد إلى قول إنسان منه او ممن قبله فيأخذه كله۔(۵)
یعنی تمام صحابہ اور تابعین کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی تابعی کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ کسی تابعی یا صحابی کے تمام اقوال کو اختیار کرے اور ان پر عمل پیرا ہو۔
ابن حزم کا خیال ہے کہ تقلید کا وجود چوتھی صدی ہجری میں ہوا، جبکہ اس سے پہلے خیر القرون کے لوگ حدیث و فقہ کو قرآن میں تلاش کرتے تھے اور کوئی پورے طور پر کسی کی تقلید نہیں کرتا تھا، جب چوتھی صدی ہجری کا زمانہ آیا تو لوگوں نے اس روش کو چھوڑ کر تقلید پر تکیہ کر لیا، جو خود ان کی ایجاد کردہ ہے، وہ لکھتے ہیں:
فكان أهل هذه القرون الفاضلة المحسودة يطلبون حديث النبي صلى الله عليه وسلم والفقه في القرآن ولا يقلد أحد منهم احدا البتة، فلما جاء العصر الرابع تركوا ذلك وعولوا على التقليد الذي ابتدعوه. (۶)
تقلید کے مؤیدین کا استدلال ہے کہ قرآن میں کہا گیا ہے : فاسئلوا اهل الذكر، ابن حزم اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں ذکر سے مراد سنن ہے، اس کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے ” وانزلنا إليك الذكر لتبين للناس ما نزل إليهم” یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اہل ذکر( سنن) سے ذکر کے متعلق دریافت کریں، نہ کہ ان کی رائے کے بارے میں ، وہ اس سلسلے میں عامی اور عالم کے درمیان فرق کرنے کے بھی روادار نہیں ہیں، ان کے نزدیک عامی کے لیے بھی کسی کی تقلید جائز نہیں، جس طرح عالم کے لیے درست نہیں ہے، اگر کسی عامی کو مسئلہ پوچھنا ہو تو بلا تخصیص اہل علم سے دریافت کریے، اور بغیر دلیل سمجھے ہوئے اس کی اتباع نہ کرے، تاکہ وہ دلیل کا متبع ہو نہ کہ کسی شخص کا، وہ لکھتے ہیں:
والعامي والعالم في ذلك سواء، وعلى كل حظه الذي يقدر على الاجتهاد، فليس للعامي ان يقلد واحدا من الائمة الأعلام بعينه، وانما عليه عندما ينزل به ما يقضي بمعرفة حكمه من الشرع ان يسأل اهل الذكر غير مقيد بواجب ولا يتبع له من غير ان يعرف الدليل الشرعي الذي أخذ منه الحكم ليكون اتباعه للدليل لا للشخص. ( ۷)
ان کا خیال ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے بھی کسی متعین امام کی تقلید جائز نہیں ہے، اسی طرح اس کے لیے یہ بھی روا نہیں کہ وہ کسی کا فتوی کتاب و سنت کے حوالے کے بغیر قبول کرے، الا یہ کہ مفتی واضح طور پر یہ اقرار کرے کہ یہ اللہ کا حکم ہے، سائل کو چاہیے کہ وہ فتوی دینے والے مفتی سے استفسار کرے کہ کیا یہ اللہ اور رسول کا حکم ہے، اگر اس کا جواب اثبات میں ہو تو اس کو قبول کرنا لازم ہے، لیکن اگر اس کا جواب نفی میں ہو یا وہ سکوت اختیار کر لے یا جھڑک دے یا نبی کے علاوہ کسی اور انسان کا قول نقل کرے تو اس کو چاہیے کہ دوسرے سے دریافت کرے۔
جو شخص با شعور ہو اس کو چاہئے کہ وہ سوال کرے کہ کیا یہ صحیح سند سے ثابت ہے یا نہیں، اگر مزید اس کے اندر فہم ہو تو وہ مسند، مرسل، ثقہ اور غیر ثقہ کے بارے میں دریافت کرے، اگر اور اس کے اندر صلاحیت ہو تو علماء کے اقوال اور ہر قول کی دلیل کے بارے میں سوال کرے۔(۸)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن حزم کے نزدیک عوام کے کئی مراتب ہیں، لیکن ان سب کے لیے کسی متعین امام کی تقلید حرام ہے، ابن حزم کے مسلک کی دوسری بنیاد رائے کی تغلیط اور تردید ہے، ان کا یہ نظریہ امام ابو حنیفہ کے اصول اجتہاد کے بالکل برعکس ہےکہ اگر کتاب و سنت میں شریعت کا حکم نہ ملے تو اقوال صحابہ میں غور و فکر کروں گا اور جب صحابہ کے بعد کے لوگوں کا نمبر آئے گا تو جیسے انہوں نے اجتہاد کیا میں بھی اجتہاد کروں گا :
اذا لم يكن في كتاب الله ولا في سنة رسوله نظرت في أقوال الصحابة، فاذا انتهى الأمر الى غيرهم فاجتهد كما اجتهدوا. (۹)
ابن حزم رائے کو باطل قرار دیتے ہیں، وہ قرآن کے الفاظ کو ظاہری لغوی معنی پر محمول کرتے ہیں اور تعلیل احکام کی کوشش نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے پس پردہ عقلی جواز کو تلاش کرتے ہیں، بلکہ وہ صرف نصوص سے استدلال کرتے ہیں اور فقہ کا استنباط اصول ثلاثہ سے کرتے ہیں، ان کا یہ منہج مجتہدین کے طرز اجتہاد سے مختلف ہے، رائے کو باطل قرار دینے کے پیچھے جو ان کے دلائل ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو بھی رائے کی روشنی میں فتوی دیتا ہے وہ بغیر علم کے فتوی دیتا ہے، اس لیے کہ علم دین صرف قرآن و سنت کا نام ہے، اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے کتاب و سنت اور اقوال صحابہ سے استدلال کرتے ہیں، ان کا مستدل یہ آیتیں ہیں:
ما فرطنا في الكتاب من شيء۔(۱۰)
يا ايها الذين آمنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم، فان تنازعتم في شيء فردوه الى الله والرسول ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الاخر(۱۱)
وجہ استدلال یوں ہے کہ پہلی آیت صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن میں پوری شریعت کا بیان ہے، جبکہ دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مصادر شریعت صرف تین چیزوں: کتاب، سنت اور اجماع میں منحصر ہیں۔
سنت میں ان کا مستدل مندرجہ ذیل روایات ہیں:
ان الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد ولكن يقبض العلم بقبض العلماء، حتى اذا لم يبق عالم اتخذ الناس رؤوسا جهالا فسئلوا فافتوا بغير علم فضلوا وأضلوا. (۱۲)
دوسری روایت:
تعمل هذه الأمة برهة بكتاب الله وبرهة بسنة رسول الله، ثم تعمل برهة بالراي، فاذا عملوا بالراي فقد ضلوا واضلوا۔ (۱۳)
تیسری روایت:
من قال في القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار۔ (۱۴)
جہاں تک اقوال صحابہ کا تعلق ہے، تو رائے کی تردید میں ابن حزم نے بہت سے اقوال پیش کیے ہیں، مثال کے طور پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
أي أرض تقلني وأي سماء تظلني إن قلت في آية برأي أو بما لا اعلم۔ (۱۵)
حضرت عمر بن خطاب کا قول:
يا ايها الناس إن الرأي إنما كان من رسول الله صلى الله عليه وسلم مصيبا لأن الله كان يريه وانما هو منا الظن والتكلف۔
اور یہ بھی:
إياكم و أصحاب الرأي فانهم أعداء السنن، أعيتهم الاحاديث أن يحفظوها فقالوا بالرأي فضلوا وأضلوا۔ (۱۶)
حضرت علی کا یہ ارشاد:
لو كان الدين بالرأي لكان أسفل الخف أولى بالمسح من اعلاه۔ (۱۷)
ان روایات کے جواب میں رائے کے قائلین کی طرف سے یہ جواب دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے:
وشاورهم في الأمر،و أمرهم شورى بينهم۔
اسی طرح معاذ بن جبل کی مشہور روایت ہے کہ جب ان کو حضور نے یمن کی طرف گورنر بنا کر بھیجا تو پوچھا:
بماذا تقضي؟ قال اقضي بما في كتاب الله قال، فان لم تجد في كتاب الله، قال فبسنة رسول الله، قال فان لم تجد في سنة رسول الله، قال اجتهد برأي ولا آلو، قال: الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضى رسول الله۔ (۱۸)
ان دلائل کے جواب میں ابن حزم کہتے ہیںکہ پہلی بات یہ کہ قرآنی نصوص سے صراحتا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رائے کے ذریعہ اجتہاد کرنا جائز ہے، کیونکہ مشاورت کا مقصد سنت کو جاننا ہے، نہ کہ اجتہاد بالرأي کرنا ہے، کیونکہ ہم مشورہ نہیں کرتے کہ وضو کیسے کریں؟ کتنی رکعت نماز پڑھیں؟ کس مہینہ میں روزہ رکھیں؟ زکوۃ کی کتنی نکالیں؟حج کیسے کریں؟ حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے؟
ابن حزم معاذ بن جبل کی روایت پر اعتراض کرتے ہیں اور اسے صحیح نہیں کہتے ہیں، اس لیے کہ اس کا راوی حارث بن عمرو ہذلی ثقفی ہے، جو مغیرہ بن شعبہ کا بھتیجہ ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون ہے اور اس کی کوئی روایت معلوم نہیں ۔(۱۹)
اگر اس حدیث کو صحیح مان بھی لیا جائے تو ابن حزم کے نزدیک اجتھدبرأي کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنی پوری کوشش کروں گا تاکہ قرآن و سنت میں حق کو تلاش کر سکوں اور یہ کوشش مسلسل کرتا رہوں گا، اکثر فقہاء کی رائے ہے کہ ابن حزم کی یہ تشریح زبردستی کی تاویل ہے، کیونکہ اس میں حدیث کی تشریح سیاق سے ہٹ کر کی گئی ہے مزید یہ کہ انہوں نے حدیث صحیح کو مطعون قرار دیا ہے، جس کو امت میں تلقی بالقبول حاصل ہے، اس روایت کو شعبہ نے حارث کے حوالے سے نقل کیا ہے اور وہ اپنی ذات میں ثقہ ہیں۔ (۲۰)
رائے کے مؤیدین آیت کریمہ "يا ايها الذين امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولي الامر منكم” سے استدلال کرتے ہیں، تاہم ابن حزم کا خیال ہے کہ یہ آیت رائے سے استنباط کرنے والوں کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ اگر وہ رسول اور اجماع کی طرف لوٹائیں تو ان کو حکم معلوم ہوگا، رائے کے بعض مؤیدین آیت کریمہ "ولو ردوه الى الرسول والى اولي الامر منهم لعلمه الذي يستنبطونه منهم” سے استدلال کرتے ہیں، لیکن ابن حزم اس کے جواب میں آیت کریمہ "فان تنازعتم في شيء فردوه الى الله والرسول” سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کسی مسئلہ میں اختلاف ہو جائے، تو ایمان والوں کو قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت میں جو مسائل مذکور ہیں اگر ان میں غور و فکر کیا جائے تو غیر منصوص مسائل کا حکم معلوم ہو جائے گا۔
وہ لکھتے ہیں:
فانها لا تدل على منع الراي في غير المنصوص عليه، بل تدل على وجوب الرجوع اليهما في المنصوص عليه باتباع النص وغير المنصوص عليه بتدبرهما واستخراج القواعد العامة منهما وتطبيقها وذلك هو الرأي الفقهي المستقيم۔ (۲۱)
واقعہ یہ ہے کہ ابن حزم تشدد کی حد تک نصوص کے الفاظ کو پکڑتے ہیں، ان کا استدلال یہ ہے کہ ہم دین میں ایسی چیز جاری نہیں کر سکتے جس کی اجازت اللہ کی شریعت میں نہیں دی گئی ہے، چنانچہ جو رائے استنباط یا قیاس کے ذریعے وجود میں آئی ہے اس کے بارے میں کوئی ضمانت نہیں لے سکتا کہ وہ اللہ کا حکم ہے، وہ سوالیہ انداز میں کہتے ہیں کہ کیا کسی صحابی، تابعی یا فقیہ کی رائے حجت ہو سکتی ہے؟ اس رائے کے صحیح ہونے کی دلیل کسی نص یا قیاس سے ملتی ہے؟ یا محض رائے کے علاوہ کوئی اور ثبوت ہے؟ اگر رائے کے مؤیدین کہتے ہیں کہ رائے بذات خود حجت ہے تو یہ بالکل غلط اور غیر معقول بات ہے اور اگر وہ کہتے ہیں کہ رائے بذات خود حجت نہیں ہے، بلکہ رائے اس دلیل کے سلسلہ میں حجت ہے جس کے مطابق کچھ آراء ہوں تویہ برحق ہے،اور ہم اس سے اختلاف نہیں کرتے ہیں ۔(۲۲)
اس مناقشہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ابن حزم مطلق رائے کے منکر نہیں ہیں، اس لیے کہ وہ اجتہاد کا ایک مظہر ہے، لیکن وہ اس رائے کے مخالف ہیں جس میں اس بات کا اندیشہ ہو کہ نصوص شریعہ کی حرمت پامال ہو جائے، یا کتاب و سنت کی اصول کے ساتھ استخفاف ہو،وہ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کا کوئی تلمیذ ان کے حوالہ سے یہ کہتا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ میری رائے ہے اور میری بساط کے حساب سے یہ سب سے بہتر رائے ہے، اگر کوئی اس سے بہتر رائے لے کر آئے گا تو میں اسے قبول کر لوں گا، ابن حزم امام صاحب کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہتر رائے اللہ اور اس کے رسول کا ثابت شدہ حکم ہے، لہذا اس کو قبول کرنا ضروری ہے۔ (۲۳)
معن بن عیسی کا بیان ہے کہ انہوں نے امام مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں ایک انسان ہوں میری رائے صحیح بھی ہوتی ہے اور غلط بھی، لہذا میری رائے میں غور کرو، اگر وہ کتاب و سنت کے مطابق ہو تو اس کولے لو اور جو کتاب و سنت کے مطابق نہ ہو تو اس کو چھوڑ دو، ابن حزم اس روایت پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ مالک کی سب سے بہترین وصیت ہے، اگر لوگ اس کو قبول کر لیں، معن بن عیسی روایت کرتے ہیں کہ امام مالک کوآخری وقت میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ خدا کی قسم میں چاہتا ہوں کہ مجھے ہراس مسئلہ کے بدلہ میں ایک ایک کوڑا مارا جائے جس میں اپنی رائے سے میں نے فتوی دیا، میرے سامنے دوسرا راستہ تھا، کاش کہ میں نے رائے کا سہارا نہ لیا ہوتا، ابن حزم اس پر تعلیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ امام مالک کی طرف سے ان تمام مسائل میں رجوع ہے جو انہوں نے رائے کی روشنی میں بیان کیے تھے اور یہ بات ان کے حوالے سے ثابت شدہ ہے۔(۲۴)
ابن حزم صرف رائے کا ہی ابطال نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ قیاس کے بھی منکر ہیں، رائے کا مطلب ہے دین میں بغیر نص کے کوئی حکم لگانا، بلکہ زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے کہ حلال و حرام کے مسئلہ میں مفتی جس کو زیادہ احوط اور مناسب سمجھتا ہے اس کو اختیار کرتاہے۔
قیاس کے ذریعے علت بیان کرنے کے سلسلہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے، ایک گروہ کا کہنا ہے کہ (اصل اور فرع کے درمیان قیاس کی بنیاد) دونوں کا حکم کی علت میں متفق ہونا ہے، جب کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ قیاس کی بنیاد کسی نوعیت کی مشابہت پر اتفاق ہے، یعنی اصل اور فرع ضروری نہیں کہ ایک ہی علت رکھتے ہوں، بلکہ کسی پہلو سے مشابہت ہو تو بھی قیاس درست ہے، تاہم دونوں گروہ قیاس کے لیے اس شرط پر متفق ہیں کہ اصل اور فرع کے درمیان وہ وصف مشترک ہونا چاہیے جس کو حکم کے لیے علت قرار دیا گیا ہے، ابن حزم کا خیال ہے کہ قیاس ایک بدعت ہے، جس کی ایجاد دوسری صدی ہجری میں ہوئی، تاہم بہت سے فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ اس کا رواج دور صحابہ سے ہے۔ (۲۵)
قیاس کی تردید میں ابن حزم نے اپنی کتاب خصوصا "الإحکام في أصول الأحكام” میں تفصیلی بحث کی ہے، اس کے علاوہ "النبذ” اور دیگر فقہی تالیفات میں بھی اس پر گفتگو کی ہے، ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ یہ کہنا درست نہیں کہ قیاس غیر منصوص مسئلہ میں حکم بیان کرنے کا نام ہے، اس لیے کہ یہ نظریہ خلاف واقعہ ہے کیونکہ دین پورا کا پورا منصوص ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
والدين كله منصوص عليه والحق أنما امر الله به فهو واجب، وما نهى عنه فهو حرام، وأما كل ما عدا ذلك ما لم يامر به ولم ينه عنه فهو مباح مطلق، ولما كانت النصوص قد جاءت بكل ما هو محرم كما نصت في الوقت نفسه على كل ما هو مأمور به، فمن أوجب به بعد ذلك شيئا بقياس أو بغيره، فقد أتى بما لم ياذن به الله تعالى، ومن حرم من غير النص فقد نهى عما لم ينه عنه الله تعالى ۔(۲۶)
ابن حزم کا خیال ہے کہ اہل قیاس غیر منصوص مسئلہ میں کیسے قیاس کرسکتے ہیں حالانکہ اللہ تعالی قران کریم میں ببانگ دہل اعلان کرتا ہے:
اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا۔ (۲۷)
دوسری جگہ فرماتا ہے:
لتبین للناس ما نزل اليهم ۔(۲۸)
قیاس کی تردید میں ابن حزم کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر ہم فرض کر لیں کہ کبھی کسی مسئلہ میں نص موجود نہیں ہوتا ہے، لیکن ہم بغیر دلیل کے کوئی دعوی کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر ہم کہتے ہیں کہ غیر منصوص مسئلہ میں براہ راست نص سے حکم اخذ کیا گیا ہے تو یہ قیاس کے تعلق سے ہمارے نظریہ کے خلاف ہوگا، اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ نص اور اجماع سے ماخوذ نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بغیر سوچے سمجھے حکم لگاتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا کوئی بھی حکم اشکال اور تلبیس سے خالی نہ ہوگا، اگر اصحاب قیاس کا یہ خیال ہو کہ عقل کا تقاضا ہے کہ دو ملتی جلتی چیزوں پر یکساں حکم لگایا جائے، تو اس پر ابن حزم کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں میں کچھ پہلو ایسے بھی ہوں گے جن میں یکسانیت نہیں ہوگی، اس ناحیہ سے دونوں پر یکساں حکم لگانا درست نہیں ہوگا، کیونکہ کسی نص سے یہ ثابت نہیں کہ ایک صفت میں مماثلت کی وجہ سے دونوں کا حکم یکسا ہونا چاہیے۔ (۲۹ )
اس کو ابن حزم ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے نافرمانوں اور ظالموں پر لعنت بھیجی ہے تو کیا آپ نے دیکھا کہ وہ ہر جگہ نافرمانوں پر لعنت بھیجتا ہو اس لیے کہ وہ ان ظالموں کی طرح ہیں جن پر لعنت بھیجی گئی؟ اسی طرح اللہ تعالی نے ایک قوم کو ناپ تول میں خیانت کی وجہ سے جلا دیا اور اس کے ساتھ ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی جلا دیا تو کیا ہر شخص کو جو ناپ تول میں کمی کرتا ہو بچوں اور عورتوں سمیت جلا دیا جائے؟ یہ تو کھلم کھلا گمراہی ہوگی۔ وہ لکھتے ہیں:
لقد لعن الله تعالى أناسا عصاة معتدين، افتراه يلعن كل أناس لأنهم مثل اولئك الملعولين في أنهم ناس وانهم عصاة معتدون؟ وأحرق قوما لأنهم خانوا المكيال واحرق معهم أطفالهم ونساءهم، افترى كل خائن للمكيال والميزان يحرق هو و والده وامراته؟ ان هذا لهو الضلال البعيد. (۳۰)
یہاں قیاس کے مؤیدین یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی نے دعویٰ نہیں کیا کہ غیر منصوص مسئلہ پر منصوص حکم لگانے کے لئے کسی طرح کی مشابہت کافی ہے، بلکہ اصل اور فرع میں اس وصف کا پایا جانا ضروری ہے جس کو حکم کے لئے علت قرار دیا گیا ہے، لیکن ابن حزم اصل پر فرع کو قیاس کرنے کے اصول کا ہی انکار کرتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس اصول کو بہت سے لوگ کھلواڑ بنالیںگے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض فقہاء عمومی قاعدے یا حکم کو قائم کرنے کے لیے مشتبہ مثالوں میں پائی جانے والی نادر صورتوں کو بنیاد نہیں بناتے، کیونکہ وہ اصل ضابطہ سے ہٹی ہوتی ہیں اور اصول فقہ میں ایسے شاذ معاملات کو معیار یا قیاس کی بنیاد نہیں بنایا جاتا ۔(۳۱)
اصحاب قیاس کا اعتراض ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اعتبار کرنے کا حکم دیا ہے جس کا مطلب صرف قیاس ہے، اس کے جواب میں ابن حزم کہتے ہیں کہ "اعتبروا” کا مطلب کسی نے "قيسوا” نہیں بیان کیاہے، اس لیے کہ آیت کریمہ تخریب بیوت کے پس منظر میں آئی ہے، اگر یہاں پر اس کا مطلب قیسوا لیا جائے تو ہمارے لیے حکم ہوگا کہ ہم بھی اپنے گھر کو اپنے ہاتھوں برباد کریں جس طرح ان لوگوں نے کیا، دراصل اعتبار لغت اور قرآن میں تعجب کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے، لہذا آیت کریمہ "لقد كان في قصصهم عبرة” کا مطلب "عجب ہے”جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ہے "وإن في الأنعام لعبرة” يعني لعجباً نا کہ قیاساً۔ (۳۲)
اس سے معلوم ہوا کہ ابن حزم کے نزدیک "فاعتبروا يا أولي الابصار” سے قیاس مراد لینا محال ہے، ان کا خیال ہے کہ اگر اس کا مطلب قیاس ہوتا تو قرآن و حدیث میں ضرور بتایا جاتا کہ ہم کس چیز کو قیاس کریں، کب کریں، کس چیز پر کریں؟ وہ لکھتے ہیں:
هذا الى أنه من المحال ان يقول لنا الله تعالى فاعتبروا يا اولي الأبصار وهو يريد القياس، ثم لا يبين لنا لا في القران ولا في الحديث، أي شيء نقيس، ولا متى نقيس ولا على شيء نقيس، ولو وجدنا ذلك لوجب أن نقيس ما أمرنا بقياسه حيث أمرنا وحرم علينا أن نقيس ما لا نص فيه جملة، ولا نتعدى حدوده ۔(۳۳)
سچائی یہ ہے کہ ابن حزم قیاس کے منکر اس وجہ سے ہیں کہ ان کے نزدیک اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی نیا مسئلہ پیش آئے اور اس کے بارے میں قرآن میں رہنمائی موجود نہ ہو، ان کے نزدیک احکام کی تین قسمیں ہیں، فرض، حرام، مباح، اگر امر و نہی کے حوالے سے کوئی نص نہ ملے تو اباحت والی آیت پہلے سے موجود ہے، یعنی ہر نئی چیز اباحت کے عموم میں داخل ہے، اگر قیاس کے مؤیدین ہم سے یہ سوال کریں کہ غیر منصوص مسائل میں آپ کیا کریں گے، تو یہ سوال ہم انہی کے اوپر پلٹ دیں گے اور کہیں گے اگر تم غیر منصوص مسائل میں جواز کا فتوی دو گے تو الزامی سوال تمہارے اوپر ہوگا نہ کہ ہمارے اوپر، کیونکہ ہمارے نزدیک یہ سرے سے باطل ہے اس کا کوئی وجود نہیں، وہ لکھتے ہیں:
اما اذا سألنا دعاة القياس ما تصنعون في الحوادث التي لا نص فيها، كان علينا ان نعكس عليهم سؤالهم فنقول لهم اذا جوزتم وجود نوازل لا حكم لها في قرآن ولا سنة فقولوا لنا ماذا تصنعون فيها فهو لازم لكم وليس بلازم لنا، لان هذا عندنا باطل معدوم لا سبيل الى وجوده أبداً۔(۳۴)
دوسری جگہ اس کی تشریح کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جتنی چیزوں کو حرام کیا ہے ان کی تفصیل نام کے ساتھ بیان کر دی ہے، جن چیزوں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے ان کو چھوڑنا ضروری ہے، اللہ اور اس کے رسول نے جن چیزوں کا حکم دیا ہے ان پر عمل درآمد کرنا حسب استطاعت واجب ہے اور نص نے کسی چیز کو حرام نہیں کیا یا اس کو واجب نہیں قرار دیا تو وہ مباح ہے یا معفو عنہ، اس تفصیل میں دین کے تمام احکام شامل ہیں، اگر کوئی کسی چیز کے حرام ہونے کا دعوی کرے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ نص اور اجماع میں اس کی وضاحت کہاں آئی ہے؟ اگر وہ اس کا ثبوت پیش کر دے تو ٹھیک ہے، ورنہ ہمارے بیان کردہ اصول کی روشنی میں مباح قرار پائے گا، اگر کوئی کسی چیز کے بارے میں وجوب کا دعوی کرے تو ہم اسے امر کا صیغہ پیش کرنے کے لیے کہیں گے، اگر کر دے تو ہم اسے واجب تسلیم کر لیں گے ورنہ وہ مباح ہے، ہمارے ذمہ واجب نہیں ہے، پس معلوم ہوا کہ دین کا ہر حکم منصوص ہوتا ہے۔ (۳۵)
ابن حزم چونکہ رائے اور قیاس کے منکر ہیں، تو فطری طور پر وہ تعلیل کے اصول کو بھی تسلیم نہیں کر سکتے، وہ شریعت کے مسائل میں "سببیت” کے اصول کو نہ ماننے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وبالجملة فليس في الشرائع علة اصلا بوجه من الوجوه، ولا شيء يوجبها إلا الأوامر الواردة من الله عز وجل فقط، اذ ليس في العقل ما يوجب تحريم شيء مما في العالم وتحليل آخر ولا إيجاب عمل وترك إيجاب آخر، فالأوامر أسباب موجبة لما وردت به، فاذا لم ترد فلا سبب يوجب شيئا اصلا ولا يمنعه ۔(۳۶)
یعنی شریعت میں علت کوئی اصول نہیں ہے، کوئی چیز واجب اسی وقت ہوگی جب اللہ کی طرف سے حکم ہو، کیونکہ عقل کے اندر اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کا فیصلہ کرے، لہذا امر کے صیغے ہی اصلا واجبات کے اسباب ہیں، اگر یہ صیغے نہ ہوں تو کوئی چیز نہ واجب ہوگی نہ ممنوع ہوگی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مادی کائنات میں سببیت کے اصول کو نہیں مانتے، ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالی نے کائنات کی فطرت کو اس طرح منظم فرمایا ہے کہ وہ ایک مستقل اور باقاعدہ نظام کے تحت چلتی ہے، نظام کبھی محال اور ناممکن نہیں ہوتا، لیکن وہ مادی دنیا اور عالم غیب میں فرق کرتےہیں ، فرماتے ہیں کہ علت کا تخلف صرف طبیعیات میں کبھی نہیں ہوتا، جہاں تک شرائع کا سوال ہے تو اللہ تعالی نے اوامر و نواہی کی حکمت اپنے لئے مخصوص رکھی ہے، کسی انسان کو حرام و حلال کی علت سے آگاہ نہیں کیا ہے، وہ اپنی نادر کتاب الإحكام في اصول الأحكام میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
لسنا إلا ما نص عليه منها أنه لسبب وما عدا ذلك فانما هو شيء إرادة الله تعالى الذي يفعل ما يشاء ولا نحرمه ولا نحلله ولا نزيد ولا ننقص ولا نقول إلا ما قال ربنا عز وجل ونبينا صلى الله عليه وسلم، ولا نتعدى ما قال ولا نترك شيئا منه، وهذا هو الدين المحض الذي لا يحل لاحد ولا اعتقاد سواه، قال تعالى لا يسأل عما يفعل وهم يسألون، فاخبر تعالى بالفرق بيننا وبينه أن أفعاله لا تجري فيها "لم” واذا لم يحل لنا ان نساله عن شيء من أحكامه تعالى وأفعاله لم كان هذا فقد بطلت الأسباب جملة، وسقطت العلل البتة الا ما نص الله تعالى عليه أنه فعل أمر كذا لأجل كذا، وهذا ايضا مما لا يسال عنه فلا يحل لاحد من العباد أن يقول: لم كان هذا السبب ولم يكن لغيره ولا أن يقول: لم جعل هذا الشيء سببا دون أن يكون غيره سببا ايضا لان ما قال هذا السؤال فقد عصى الله عز وجل وألحد في الدين۔ (۳۷)
یعنی ہم اسی سبب کو جاننے کے مکلف ہیں جس کی صراحت نص میں کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ میں اللہ کی مشیت ہے، جو اپنے ارادے سے جو چاہتا ہے کرتا ہے، ہم اپنی طرف سے کسی چیز کو نہ حلال کر سکتے ہیں نہ حرام کر سکتے ہیں، نہ کمی اور بیشی کر سکتے ہیں، ہم وہی کہیں گے جو اللہ اور اس کے رسول نے کہا، اس سے ہم آگے تجاوز نہیں کر سکتے اور نہ دونوں کے فرمان کو ہم چھوڑ سکتے ہیں، یہی دین خالص ہے، اس کے خلاف کرنا یا سوچنا کسی کے لیے روا نہیں ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اس کے عمل کے بارے میں سوال نہیں ہو سکتا جب کہ بندوں سے ان کے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا، یہاں پر اللہ نے خود فرق بتا دیا کہ اس کے عمل پر "کیوں” کا سوال نہیں ہو سکتا اور چونکہ ہمارے لیے روا نہیں کہ ہم اس کے احکام اور افعال کے بارے میں سوال کریں کہ یہ کیوں ہوا؟ لہذا تمام اسباب معطل ہو گئے اور ساری علتیں ساقط ہو گئیں، البتہ جس امر کے بارے میں اللہ نے خود صراحت کر دی کہ اس نے اس وجہ سے اس کو مشروع کیا (وہ اس سے مستثنی ہیں) اور اللہ تعالی سے اس کے بارے میں بھی سوال نہیں کیا جا سکتا، کسی بندے کے لیے درست نہیں کی وہ یہ کہے کہ ایسا اس وجہ سے ہوا اور اس کا سبب یہ ہے، اسی طرح یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس حکم کا سبب اس کو کیوں بنایا اور دوسرے حکم کے لیے اس کو علت کیوں نہیں بنایا؟ اس لیے جس نے یہ سوال کیا اس نے اللہ کے نافرمانی کی اور دین کے خلاف کیا۔
لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ابن حزم مقاصد شریعت پر بھی بحث کرنے سے روکتے ہیں؟ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالی نے خود قرآن میں کچھ احکام کے بارے میں صراحت کی ہے کہ اس وجہ سے اس نے یہ حکم دیا مثلا : "ولكم في القصاص حياة” اس آیت میں اللہ نے زندگی اور اس کی بقاء کو قصاص کی علت قرار دیا، احادیث میں بھی اسی طرح کی مثالیں موجود ہیں، مثلا: حضور نے فرمایا: إنما الاستئذان للبصر” یعنی اجازت طلب کرنے کا حکم بصارت ہی کی وجہ سے ہے، اسی طرح رطب کے بارے میں حضور نے فرمایا : أينقص اذا يبس” لوگوں نے کہا جی، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ فلا اذن‘‘۔
اسلامی سزاؤں کے بارے میںامت کا اجماع ہے کی یہ زجر و توبیخ کے لیے ہیں، اس کے جواب میں ابن حزم کہتے ہیں کہ ہم منصوص علت کا انکار نہیں کرتے، بلکہ اس علت کے منکر ہیں جو بغیر دلیل و برہان کے اپنی عقلوں سے تم نے نکال لی ہے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے ایسی بات منسوب کرنے کے مترادف ہے جو کتاب و سنت میں موجود نہیں ہے، وہ لکھتے ہیں:
إنما لم ننكر ما نص الله ورسوله بل ننكر ما اخرجتموه بعقولكم بلا برهان ولا نص، وذلك إخبار عن الله بما لا يخبر وتقويل لرسوله بما لم يقل۔(۳۸)
اس کا مطلب یہ ہے کہ ابن حزم مقاصد شریعت پر بحث کرنے کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ ان کا خیال ہے کہ یہ نصوص کی روشنی میں ہی دریافت کیے جائیں، کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ شریعت کے نصوص میں ہی معاش اور معاد کی مصلحت ہے، لیکن ہمارا یہ حق نہیں ہے کہ ہم نص سے ماخوذ علت میں غور و فکر کر کے نص کو اس کی جگہ سے منتقل کر دیں، چنانچہ وہ پوری صراحت کے ساتھ لکھتے ہیں:
إن الشيء إذا جعله الله سببا لحكم ما في مكان ما فلا يكون سببا إلا فيه وحده لا في غيره ۔(۳۹).
ابن حزم فرماتے ہیں کہ ہمیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ صحابہ میں کوئی علت کا قائل نہ تھا، نہ ہی تابعی اور تبع تابعین میں کسی کا یہ نظریہ تھا، یہ ایک نئی چیز ہے جو امام شافعی کے تلامذہ کے ذریعہ وجود میں آئی ہے، پھر امام ابو حنیفہ کے تلامذہ نے اس کی تقلید کی، پھر مالکیہ نے بھی اس کو اختیار کر لیا، ہر چند کہ یہ حضرات علت کے لیے آیت کریمہ”ولكم في القصاص حياة "کو دلیل بناتے ہیں، لیکن وہ خود اس علت کو چھوڑ دیتے ہیں، اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ غلام کو غلام کے بدلہ قتل نہیں کیا جائے گا، نہ باپ کو بیٹے کے بدلہ قتل کیا جائے گا، یعنی وہ خود علت کے خلاف کرتے ہیں، احناف قتل عمد میں اگر مجنون یا والد شریک ہو تو قصاص کو ساقط کر دیتے ہیں، مالکیہ اور شوافع اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ کسی آزاد سے غلام کا اور مسلم سے ذمی کا قصاص لیا جائے۔
ابن حزم ہر اس آیت کی تردید کرتے ہیں جس سے یہ حضرات تعلیل کے جواز پر استدلال کرتے ہیں، چنانچہ اس آیت پر بہت توقف کرتے ہیں جس میں صراحت کے ساتھ شراب اور جوا کو حرام قرار دیا گیا ہے، ان کا استدلال یہ ہے کہ دشمنی اور بغض حرمت کے لیے علت نہیں بن سکتے، ورنہ تجارت اور خوب مال کمانا بھی حرام قرار دیا جائے گا، کیونکہ یہ بھی کبھی دشمنی اور بغض کا سبب ہوتا ہے، ان کا بنیادی استدلال آیت کریمہ "لا يسأل عما يفعل وهم يسالون” سے ہے، ان کا خیال ہے کہ اگر شریعت میں تعلیل کی کوئی جگہ ہوتی تو ابلیس آدم علیہ السلام پر اپنی فضیلت ثابت کرنے میں حق بجانب ہوتا کہ اس کی پیدائش آگ سے ہوئی اور آدم کی مٹی سے اور آگ مٹی سے افضل ہے، اسی طرح آدم علیہ السلام بھی درخت کا پھل کھانے میں معذور ہوتے، کیونکہ ان کو منع کی علت معلوم نہیں تھی، پہلا گناہ جس کے ذریعہ اللہ کی نافرمانی کی گئی اس کی علت بغیر نص کے بیان کی گئی، ابلیس نے کہا:’’ما نهاكما ربكما عن هذه الشجرة إلا ان تكونا ملكين‘‘اس آیت میں اس نے ممانعت کی علت بیان کی، لیکن نص کی روشنی میں نہیں، بلکہ اپنے دماغ اور ذہن کی روشنی میں ۔ (۴۰)
تعلیل کے مؤیدین ابن حزم کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آیت کریمہ”لا يسال عما يفعل” کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ یہ شریعت کے احکام میں علت تلاش نہ کی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے روا نہیں کہ وہ اللہ کے مقابلہ میں زبان درازی کرے اور اس سے اس کے افعال کے بارے میں دریافت کرے، شریعت کی منشاء جاننے کے لیے باحث کا نصوص میں علت تلاش کرنا اور اللہ کے اعمال و افعال کی بابت اس سے سوال کرنا ،دونوں میں بڑا فرق ہے، اللہ کی ذات اس سے بلند و بالاتر ہے، ابن حزم کا ابلیس کی خطا کو تعلیل سے جوڑنا ایک فاسد خیال ہے، کیونکہ تعلیل فی نفسہ غلط نہیں، بلکہ غلط تعلیل فاسد ہے، جس کا تصور ابلیس نے کیا تھا کہ اس عنصر کو باعث فضیلت قرار دیا جس سے اس کی تکوین ہوئی تھی، وہ اس بات کو فراموش کر بیٹھا کہ فضیلت اللہ کی طرف سے تھی، اس کے بعد تکوینی عنصر کو دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی، لہذا ابن حزم کے مخالفین کی رائے ہے کہ تعلیل کو معطل کرنا دراصل عقل انسانی کو جامد بنانے کے مترادف ہے، جس کے اندر ہمیشہ مقاصد شریعت کو جاننے کی جستجو ہوتی ہے، شیخ ابو زہرہ لکھتے ہیں:
ولا شك أن الفقه الإسلامية ما كان ليتسع افقه وليعاجل مشاكل الناس ويخرج بتلك القواعد الفقهية التي تجمع متفرق المسائل، لولا تعليل النصوص والربط بين الفروع المختلفة بروابط جامعة من علل مستنبطة من النصوص عامة أو بعلة خاصة من نص خاص، وإن التعليل هو الذي فتح عين الفقه، بل ان التعليل هو الفقه، او هو لباب الفقه، فالذين يغلقون باب التعليل يغلقون باب الفقه لنفسه۔ (۴۱)
بلا شبہ فقہ اسلامی میں اس قدر وسعت ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کر سکے اور ایسے فقہی قواعد وضع کر سکے جو متفرق مسائل کو حل کر سکے، اگر نصوص کی تعلیل نہ ہوتی اور مختلف فروع کو ایسے جامع روابط کے ذریعہ آپس میں نہ جوڑا جاتا، جو یا تو نصوص شرعیہ سے مستنبط عام علت پر مبنی ہوں یا کسی خاص نص سے اخذ کی گئی کسی خاص علت پر (تو مشکل پیش آجاتی) کیونکہ تعلیل ہی فقہ کی آنکھ کھولتی ہے، بلکہ تعلیل ہی فقہ ہے یا فقہ کا لب لباب ہے، چنانچہ جو لوگ تعلیل کے دروازے کو بند کرتے ہیں وہ درحقیقت خود فقہ کا دروازہ بند کرتے ہیں۔
تعلیل کی تردید کرنے کی وجہ سے ابن حزم استحسان کا بھی انکار کرتے ہیں، استحسان کے سلسلے میں ان کی رائے کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے:
حدث الاستحسان في القرن الثالث و هو فتوى المفتي بما يراه حسنا فقط، وذلك باطل لانه اتباع الهوى وقول بلا برهان، والاهواء تختلف في الاستحسان۔ (۴۲)
مزید فرماتے ہیں:
ما كان لمؤمن ولا مؤمنة اذا قضى الله ورسوله أمرا ان يكون لهم الخيرة من أمرهم، وهو يقول ايضا: وعسى ان تحبوا شيئا وهو شر لكم، وقال عليه السلام حفت الجنة بالمكاره، ولو صار أمر الدين الى الاستحسان لكان لكل أحد ان يشرع ما شاء، ولكن من المحال ان يكون الحق فيما استحسنا دون برهان، لانه لو كان ذلك لكان الله تعالى يكلفنا ما لا نطيقه، ولبطلت الحقائق ولتضادت الدلائل وتعارضت البراهين، ولكان الله تعالى يأمرنا بالاختلاف الذي قد نهانا عنه وهذا محال، لانه لا يجوز أصلاً ان يتفق استحسان العلماء كلهم على قول واحد على اختلاف هممهم وطبائعهم وأغراضهم، فبطل ان يكون الحق في دين الله عز وجل مردودا الى استحسان بعض الناس…….. فلا معنى لمن يستحسن شيئا منه أو من غيره ولا لمن استقبح ايضا شيئا منه أو من غيره، والحق حق وإن استقبحه الناس والباطل باطل وإن استحسنه الناس۔ (۴۳)
یہ ظاہریہ کے عمومی اصول ہیں جو تقلید سے منع کرتے ہیں اور اجتہاد بالرای اور قیاس کا انکار کرتے ہیں، نیز استحسان اور تعلیل کو بھی دلیل تسلیم نہیں کرتے، یہاں اس کا موقع نہیں کہ ابن حزم کے اصول کے انطباق کی مثالیں پیش کی جائیں، فقہ ظاہری سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے "المحلى” میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں، اس کے مطالعہ سے ابن حزم کا منہج استنباط اور تفریع آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔
بنیادی طور پر وہ بغیر کسی تأویل اور تعلیل کے کتاب و سنت کے ظاہر پر اعتماد کرتے ہیں، غالب گمان یہ ہے کہ یہ منہج انہوں نے اس وقت اختیار کیا جب دیکھا کہ قیاس اور تعلیل کے کچھ قائلین نصوص کے ساتھ استخفاف کر رہے ہیں، ان کے پیش نظر یہ تھا کہ جو مسائل کتاب و سنت کے اصول سے ہٹ کر اخذ کیے جا رہے ہیں ان کا خاتمہ کیا جائے، چنانچہ وہ بلاد اندلس میں فقہ ظاہری کے سب سے بڑے علمبردار بن کر سامنے آئے، بلکہ تعصب کا شکار ہو گئے، لہذا عام طور پر فقہاء، علماء اور امراء نے ان کی مخالفت کی اور ان کو لعن طعن کا ہدف بنایا۔
بہرحال ظاہری مسلک میں پائی جانے والی سختی کا دفاع کرنے کی وجہ سے ابن حزم کو سخت ملامت سے دو چار ہونا پڑا، بلکہ ان کو جلا وطن کیا گیا، اور مشق ستم بنایا گیا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے اصول و نظریات میں مخلص تھے، انہوں نے پوری کوشش اور جذبہ صادق کے ساتھ اپنے مسلک کا دفاع کیا، انہوں نے قیاس اور استحسان کے قائلین پر سخت نقد کیا اور تقلید، رائے، قیاس، تعلیل اور استحسان کی تردید میں بہت سے نصوص اور آثار جمع کر دیے، ان کا استدلال یہ تھا کہ نصوص کے ظاہر کا اعتبار کیا جائے گا، اس لئے کہ ان کی دلالت دو دو چار کی طرح ہوتی ہے، لہذا قیاس اور تعلیل کی گنجائش نہیں، اپنی ایک کتاب کے اخیر میں لکھتے ہیں:
من المحال الباطل أن يكون الله يأمرنا بالقياس او بالتعليل أو بالرأي أو بالتقليد، ثم لا يبين لنا: ما القياس؟ وما التعليل؟ وما الرأي؟ وكيف يكون كل ذلك؟ وعلى أي شيء نقيس؟ وبأي شيء نعلل؟ وبرأي من نقبل؟ ومن نقلد؟ لان هنا تكليف ما ليس في الواسع؟ (۴۴)
یعنی یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالی ہمیں قیاس کا حکم دے یا تعلیل، رائے اور تقلید کا حکم دے، پھر یہ وضاحت نہ کرے کہ قیاس کیا ہے؟ تعلیل کیا ہے؟ رائے کیا ہے؟ اور یہ سب کچھ کیسے ہوگا؟ کس چیز پر ہم قیاس کریں؟ کس طرح تعلیل کریں؟ کس کی رائے قبول کریں؟ اور کس کی تقلید کریں؟ اس لیے کہ یہ کہ تکلیف مالا یطاق ہے۔
مراجع:
۱ ۔ملخص إبطال القياس والتقليد والتعليل و الاستحسان، ابن حزم، مطبعة جامعة دمشق ۲۰۱۳ء
۲۔المدارس الفقهية في التشريع الاسلامي: محمد سلام مدكود، بحث منشور بكتب المحاضرات العامة التي القيت في الموسم الثقافي بفرع الخرطوم لجامعة القاهرة ۱۹۵۶
۳۔الإحكام في اصول الأحكام: ابن حزم، تحقيق الشيخ احمد شاكر، مطبعة السعادة، مصر ۱۳۴۸ھ
۴۔ المحلى: ابن حزم، مكتبة الجمهورية العربية، القاهرة، ۱۹۶۸
۵۔ الفصل في الملل والأهواء والنحل، ابن حزم، شركة البحار للطباعة والنشر، دار الجبل بيروت، لبنان۲۰۱۰
۶۔ ابن حزم حياته وعصره، آراءه وفقهه، ابو زهره، دار الفكر العربي، ۱۹۵۶
۷۔ التقريب لحد المنطق، دار الكتب العلمية، بيروت لبنان، ۲۰۰۳
۸۔ النبذ، مطبعة الأنوار، مصر ۱۳۶۰ه
حاشیہ :
۱۔مقدمہ مخلص ابطال القیاس و الرأی، سعید افغانی ص: ۸
۲۔الفصل في الملل والأهواء والنحل: ابن حزم، ج۲،ص:۱۳۳
۳۔ابن حزم حياته وفقهه ص: ۲۶۱
۴۔ملخص ابطال القياس والرأي والاستحسان، سعيد الافغاني ص :۵۲
۵۔النبذ،ابن حزم، ص ۵۵۔۵۶
۶۔الإحكام في اصول الأحكام: ابن حزم ،ج۶،ص:۱۴۲
۷۔ابو زهره: ابن حزم حياته وآراءه، ص ۲۷۱
۸۔ملخص ابطال القياس والرأي ص: ۵۳،المحلى،ج۱،ص:۶۶
۹۔المدارس الفقهيه في التشريع الاسلامي: محمد سلام ص: ۱۱۰۔۱۱۱
۱۰۔سورہ انعام :۳۸
۱۱۔سورہ نساء:۵۹
۱۲۔متفق علیہ
۱۳۔مجمع الزوائد حدیث: 842
۱۴۔سنن الترمذی : ۲۹۵۱، بحوالہ: الإحكام في اصول الأحكام: ابن حزم، ج۶،ص:۴۱۔۴۲
۱۵۔فتح الباري 6/ 341
۱۶۔سنن ابی دائود،حدیث نمبر :۳۵۸۶
۱۷۔الإحكام في اصول الأحكام۶،ص:۴۱۔۴۲
۱۸۔سنن ترمذی،حدیث نمبر:۱۳۲۷
۱۹۔ملخص ابطال القياس والراي ،ص:۱۲
۲۰۔ابن حزم حیاتہ وفقھہ :ص ۳۸۷
۲۱۔ابن حزم حياته وعصره،ص:۳۸۷
۲۲۔حوالہ بالا
۲۳۔ابطال القياس والرأي ص :۶۶
۲۴۔ملخص ابطال القياس والرأي ،ص:۶۶
۲۵۔حوالہ بالا
۲۶۔الإحكام في اصول الأحكام: ابن حزم ،ج۲،ص:۸
۲۷۔المائده :۳
۲۸۔سورہ نحل ۴۴
۲۹۔ملخص ابطال القياس والرأي ص:۳۹
۳۰۔التقريب لحد المنطق ،ص:۱۶۸
۳۱۔التقریب لحد المنطق ص :۱۶۸
۳۲۔إبطال الرأي والقياس،ص:۲۸
۳۳۔ابطال القياس والرأي ،ص:۳۰
۳۴۔الإحکام فی اصول الأحکام: ابن حزم ،ج۸،ص:۱۶
۳۵۔ملخص ابطال القیاس و الرأی،ص:۴۵
۳۶۔التقريب لحد المنطق: ۱۶۹
۳۷۔الإحکام في اصول الأحکام ،ج۸،ص:۱۰۲
۳۸۔ملخص ابطال القياس والتقلید،ص:۴۷
۳۹۔الاحكام في اصول الاحكام ،ج۸،ص:۹۰
۴۰۔الإحكام في اصول الأحكام ،ج۷،ص:۱۷۷
۴۱۔ابن حزم حياته وعصره وفقهه ،ص:۴۰۹
۴۲۔ملخص ابطال القياس والرأي والاستحسان ،ص:۵
۴۳۔الإحكام في اصول الأحكام ،ج۶،ص:۱۷
۴۴۔ملخص إبطال القياس والرأی،ص:۷۳