لکھنؤمیں فتوی کےمراکز۔ایک مختصرجائزہ
مولانامنورسلطان ندوی
استاذدارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
برصغیر کے علمی نقشہ میں خطۂ اودھ کو ایک ممتاز مقام حاصل رہا ہے۔ یہ علاقہ صدیوں تک علومِ دینیہ، فقہ و اجتہاد اور تدریس و تصنیف کا مرکز رہا، جہاں سے علمی و فقہی رہنمائی کا ایک مضبوط سلسلہ پورے پورب بلکہ ہندوستان بھر میں پھیلا۔ خصوصاً لکھنو اور اس کے اطراف میں قائم علمی خانوادوں اور اداروں نے افتاء و قضاء کی روایت کو فروغ دیا اور مسلمانوں کی دینی و عائلی زندگی میں مؤثر رہنمائی فراہم کی۔ اس مقالہ میں خطۂ لکھنؤ کے انہیں اہم مراکزِ افتاء، نامور شخصیات اور علمی اداروں کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے، تاکہ اس خطہ کی فقہی خدمات اور تاریخی کردار کو واضح کیا جا سکے۔
نامورعالم دین ،معروف ادیب اورمشہورزمانہ محقق علامہ سیدسلیمان ندوی ؒنے مغل باشاہ شاہجہاں کے حوالے سے نقل کیاہے کہ وہ ’’پورب‘‘ کو’’شیراز‘‘سے تعبیرکرتے تھے،علامہ سیدسلیمان ندوی تحریرفرماتے ہیں:
شاہجہاں فخریہ کہاکرتاتھاکہ ’’پورب شیزازماست‘‘علامہ آزادبلگرامی نے سبحۃ المرجان میں لکھاہے کہ پورب کی وسعت میں تین صوبے تھے،صوبہ الہ آباد،صوبہ اودھ،اور صوبہ عظیم آباد۔(۱)
خطہ اودھ کاجغرافیہ مختلف سلطنتوں میںبدلتارہاہے،مگراتناتویقینی ہےکہ یہ خطہ پورپ کی وسعتوں میں شامل اور پورب کی شاندارعلمی وادبی سرگرمیوں کاامین رہاہے۔
اگرصرف لکھنوکی تاریخ پرنظرڈالی جائے توتنہالکھنواپنی علمی روایات کے لحاظ سے مرکزیت کاحامل نظر آتا ہے، نامورمورخ،ادیب اور تاریخ لکھنوکے محقق مولوی عبدالحلیم شررنے اپنی مشہورکتاب ’’گذشتہ لکھنو‘‘میں لکھنو کو ’’ہندوستان کابغدادوقرطبہ‘‘ قراردیاہے،وہ لکھتے ہیں:
زبان اور شاعری کے کمالات کے ساتھ لکھنؤنے علم وفضل میں بھی ہندوستان کے تمام شہروں سے زیادہ ترقی کی،اگر سچ پوچھئے توعلوم کے اعتبار سے لکھنوہندوستان کابغداد وقرطبہ اور اقصائے مشرق کانیشاپور وبخارا ہے۔(۲)
ہندوستانی اکیڈمی کی پانچویں اردوکانفرنس منعقدہ۱۶جنوری ۱۹۳۰ء بمقام لکھنومیں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے علامہ سیدسلیمان ندوی ؒنے لکھنوکی ادبی خدمات کاتذکرہ اپنے خاص اسلوب میں اس طرح فرمایا:
آج ہم جس تاریخی شہر میں جمع ہیں وہ گو ہمارے پورے ملک کی راجدھانی کبھی نہیں بنا، لیکن یہ کہنا بالکل سچ ہے کہ ہمارے علوم و فنون اور شعر و ادب کا مدتوں پایہ تخت رہا ہے، اور اب بھی ہے، شاہ پیر محمد صاحب جن کا ٹیلا اور ٹیلے والی مسجد مشہور ہے، یہاں کے سب سے بڑے عالم ہیں ،عالمگیر کے عہد میں سہالی سے فرنگی محل کو علوم و فنون کا وہ خاندان منتقل ہوا جو صدیوں تک ہمارے علوم و فنون کا محافظ اور شیراز ہند پورب کا دارالعلوم رہا، اور اس نئے زمانے میں مسلمانوں کی نئی عربی درسگاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کی یہیں بنیاد پڑی،یہاں کا خاندان اجتہاد پورے ملک کے طول و عرض پر تنہا حکمراں ہے۔ (۳)
لکھنؤ کے دینی مراکز
اس خطہ میں دینی علوم وفنون کی اشاعت کازبردست کام ہواہے،مختلف علوم پرجہاں کثرت سے نئی تصنیفات منصہ شہود پرآئیں وہیں بعض ایسی نادرروزگاہ تصنیفات بھی اس خطہ کے علماء اور مصنفین کے قلم سے وجود میں آئیں جن کی ملکی نہیں عالمی سطح پرپذیرائی ہوئی ۔
گذشتہ لکھنوکے مصنف مولاناعبدالحلیم شررلکھنومیںعلمی دینی علوم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:
علوم دینیہ میں سے فقہ، اصول فقہ، کلام اور عقائد میں، علوم ادبیہ میں سے نحوو صرف اور معانی و بیان میں، علوم عقلیہ میں سے منطق ،فلسفہ، طبیعیات و الہیات میں، اور علوم ریاضیہ میں سے اقلیدس اور ہیئت میں علماء فرنگی محل کو خاص ناموری حاصل تھی اور سارے ہندوستان میں ان علوم کی تعلیم کا مرکز اصلی لکھنو تھا، ادب، شاعری اور عروض عربی کو علمائے شیعہ و مجتہدین لکھنو نے اپنا لیا تھا۔(۴)
فقہ واجتہادسے جڑاایک اہم اور نمایاں باب فتوی اور قضاء ہے،یہ دونوں علوم مسلمانوں کی عام زندگی اور خاص طورپرعائلی زندگی سے متعلق ہیں،اس لئے ان علوم کے ماہرین اور ان سے وابستہ شخصیات تاریخ کے ہردورمیں اور اکثرعلاقوں میں ہمیں نظرآتے ہیں۔
قدیم لکھنومیں دینی علوم وفنون کے حوالے سے فرنگی محل کوجومرکزیت اور عوام وخواص کااعتمادحاصل رہاہے وہ جگ ظاہرہے،اسی طرح تحریک ندوۃ العلماء اور اس کے نتیجہ میں قائم دارالافتاء اور دارالعلوم ندوۃ العلماءکابھی مسلمانوںکی دینی رہنمائی میں غیرمعمولی کرداررہاہے،ان دونوںسے قبل بھی لکھنومیں درس وتدریس کانظام قائم تھا،علماء کی درسگاہیں اور صلحاء کی خانقاہیں تھیں،جہاں تشنگان سیراب ہوتے تھے،تاریخ اور سیرت کی کتابوں میںاس کے واضح اشارے ملتے ہیں۔
۱۔سارنگ لکھنوی
نامورفقیہ اورچشتی بزرگ صوفی سارنگ فیروزشاہ کے امراء میں سے تھے،اہل اللہ کی صحبت ملی توتارک دنیاہوگئے،شیخ قوام الدین کی صحبت میںرہے،طویل عرصہ تک حرمین شریفین میں رہے،پھرہندوستان واپس آئے اوراپنے شیخ ومرشدکی زیارت کے لئے لکھنوآئے ،۸۵۵ھ میں وفات ہوئی اور یہیں آسودہ خاک ہوئے،نزہۃ الخواطرمیں ہے:
الشيخ الصالح الفقيه سارنك الحنفي الصوفي الدهلوي ثم اللكهنوي أحد كبار المشايخ الجشتية، كان من أمراء السلطان فيروز شاه الدهلوي ملك الهند وكانت وفاته في السادس عشر من شوال سنة خمس وخمسين وثمانمائة وقبره بمجهكوه قرية من أعمال۔(۵)
مولاناعبدالحی حسنی نے انہیں فقیہ کہاہے،جس سے اندازہ ہوتاہے کہ باطنی علوم کی طرح ظاہری علوم اور بطورخاص فقہ کے ماہر تھے،شیخ محمدبن قطب عرف شاہ میناان ہی کے تربیت یافتہ ہیں۔
۲۔محمد بن ابوالبقاء کرمانی
ان کے جدکرمان سے دہلی تشریف لائے،نسب اس طرح ہے،محمدبن ابوالبقاء بن موسی بن ضیاء الدین حسینی نقوی کرمانی،دہلی سے لکھنومنتقل ہوئے،اور یہیں اقامت پذیرہوئے،محمد بن ابوالبقاء کی پیدائش لکھنومیں ہی ہوئی،یہ اعظم ثانی سے معروف ہیں،۸۷۰ہجری میں وفات ہوئی،اور گومتی کے کنارے مدفون ہوئے۔(۶)
یہی وہ عظیم شخصیت ہے جنہوںنے سب سے پہلے لکھنوکوعلم وفضل کامرکزبنایا،علامہ سیدسلیمان ندویؒ تحریر فرماتے ہیں:
تاتاریوں کے زمانہ میں ساتویں صدی ہجری میں شیخ ضیاء اللہ کرمان سے لکھنوایک برزگ سے ملنے کے لئےآئے،وہ یہیں مدفون ہیں،ان کے پرپوتے شیخ اعظم لکھنوی بڑے عالم ہوئے،اوریہی شیخ اعظم پہلے برزگ ہیں جنہوں نے لکھنو کو علم وفضل کامرکزبنایا،وہ یہ تحفہ جونپورسے لائے۔(۷)
مولاناعبدالحی حسنی ؒ نے نزہۃ الخواطرمیںان کاتعارف کراتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:
وولد محمد بن أبي البقاء بمدينة لكهنؤ ونشأ بها واشتغل بالعلم وسافر إلى جونبور وكانت دار علم معروفة في ذلك العصر فقرأ الكتب الدرسية على الشيخ أبي الفتح بن عبد الحي بن عبد المقتدر الشريحي الكندي، ثم أخذ عنه الطريقة ورجع إلى لكهنؤ فدرس وأفاد بها زماناً۔(۸)
مولاناعبدالحی حسنی ؒ نے مصباح العاشقین کے حوالے سےلکھاہے کہ محمدبن ابوالبقاء اپنے دورکے بڑے علماء میں سے تھے،اس خطے میں فتویٰ انہی پر ختم ہوتا تھا (یعنی وہی سب سے بڑے مفتی سمجھے جاتے تھے)۔مشرق کا سلطان ان کے فضل و کمال کا معتقد تھا اور شرعی مسائل میں ان سے فتویٰ لیا کرتا تھا۔
إن مولانا محمداً كان من كبار العلماء انتهت إليه الفتيا في هذه الديار وكان سلطان الشرق يعتقد فضله وكماله ويستفتيه في المسائل الشرعية۔(۹)
ان کے تلامذہ میں شیخ ضیاء لکھنوی،شیخ سعدالدین خیرآبادی اور شیخ محمد بن قطب معروف بہ شاہ میناکے اسماء شامل ہیں۔(۱۰)
علامہ سیدسلیمان ندوی کی تحقیق ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے ہی لکھنوکو علم وفضل کامرکزبنایا،اورنزہۃ الخواطرمیں ان کے تلامذہ کاکثرت سے ذکراس کا بات کامضبوط ثبوت فراہم کرتاہے کہ ان کی مستقل درسگاہ رہی ہوگی،جہاں بہت سے علماء تیارہوئے،یہی اس دورمیں دینی علوم کی اشاعت کامرکز رہا ہوگا، اور چونکہ محمد بن ابولبقاء خودبھی مفتی تھے،اس لئے یہ فتوی کامرکزبھی رہاہوگا۔
مفتی صدرالدین لکھنوی ،مفتی تابع لکھنوی جواپنے دورکے نامورعلماءمیں سے تھے،انہیں کی نسل سے ہیں۔ (نزھۃ الخواطر،ج۵،ص:۵۴۴)مفتی محمد تابع لکھنوی اپنے دورکے ممتازعالم اور مفتی تھے،اپنے والدکے بعد فتوی نویسی کی ذمہ داری سنبھالتے رہے، ۱۱۲۸ھ میں وفات ہوئی،تذکرہ نزہۃ الخواطر میں ان الفاظ میں درج ہے :
الشيخ الفاضل المفتي تابع محمد بن المفتي محمد سعيد الحسيني اللكهنوي كان من نسل الشيخ محمد أعظم بن أبي البقاء الكرماني، ولد ونشأ بلكهنؤ وقرأ العلم على والده وعلى الشيخ أحمد بن أبي سعيد الصالحي الأميثهوي ولازمه مدة من الزمان حتى برع في العلم وتأهل للفتوى والتدريس، ولي الإفتاءبعد والده بمدينة لكهنؤ ۔(۱۱)
۳۔شیخ محمد بن قطب لکھنوی معروف بہ شاہ مینا
اپنے دورکے ناموربرزگ تھے،قاضی فریداورمحمد ابن ابوالبقاء کرمانی سے دینی علوم حاصل کیا،اور شیخ قوام الدین سے روحانی تربیت حاصل کی، اورکمال پیداکیا،وہ زہداور عبادت کے ایسے مقام تک پہونچے تھے کہ وہاں تک کم صوفیاء پہونچتے ہیں،۸۸۴ھ میں وفات ہوئی،لکھنومیں مدفون ہوئے، نزہۃ الخواطرمیں ہے:
الشيخ الصالح الكبير محمد بن قطب الدين بن عثمان الصديقي اللكهنوي المشهور بالشيخ مينا، ولد ونشأ بمدينة لكهنو في مهد الشيخ قوام الدين العباسي، وقرأ شرح الوقاية والهداية في الفقه الحنفي على القاضي فريد ۔۔۔۔۔وجمع فيه من الزهد والقناعة والاستغناء انقطع إلى الزهد والعبادة ووصل درجة لم يصل إليها أحد من المشايخ في عصره ومصره۔ (۱۲)
فوائد سعدیہ میں مذکورہے کہ شیخ محمد بن قطب اپنے پیرومرشدشاہ قوام الدین کی خانقاہ میں مجاہدہ کرتے تھے(۱۳) شاہ پیرمحمد ایک عرصہ تک یہاںقیام پذیررہے ہیں،ان کے ساتھ دوسرے تشنگان علوم بھی یہاںرہاکرتے تھے،اس لئے بہت ممکن ہے کہ یہ خانقاہ باطنی علوم کامرکزہونے کے ساتھ تشنگان علوم کے لئے دینی درس گاہ بھی ہو۔
اسی طرح محمد بن قطب کامزارجوچوک لکھنومیں واقع ہےبہت ممکن ہے کہ یہ خانقاہ شیخ شاہ میناکی زندگی میں ہی علوم ظاہری اورعلوم باطنی کامرکزبن گیاہو، لکھنوکے معروف بزرگ شاہ پیرمحمد اور دوسرے متعددعلماء اور صلحاء کاوہاںقیام کرنااور پھر شاہ پیرمحمد کاوہاں درس دیناثابت ہے۔،مخزن برکت میں شاہ پیرمحمد کے بارے میںہے:
۔۔۔۔اور لکھنوپہونچ کر بدستور قدیم درسگاہ فیض پناہ مخدوم شاہ مینامیں مقیم ہوئے اور محض متوکلا علی اللہ اوقات بسرفرماناشروع کیا،اور طریقہ درس وتدریس میں اوقات عزیزکوصرف کرنے لگے،تخمیناآپ کو پانچ سال کازمانہ اقامت درسگاہ شاہ مینامیں ہواتھااتفاقیہ ایک روز ایک جھگڑہ واقع ہوابوجہ اس قضیہ نامرضیہ کے آپ نے وہاں سے نقل سکونت فرمایااورعین ہنگام شدت وشباب برشگال میں اسی ٹیلہ کو جہاں اب مزارپاک آپ کا ہے،چلے آئے،اور زیردرخت ایک املی کے قیام فرمایا۔(۱۴)
شاہ قوام الدین کامقبرہ اور شیخ شاہ میناکے مقبرہ کے دورمیان بہت فاصلہ نہیں ہے،اس سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ دونوں مقبرے ایک ہی خانقاہ کاحصہ رہے ہوں،بعدزمانی کے باعث یہ فاصلہ درمیان میں واقع ہواہو۔
۴۔قاضی عبدالقادرلکھنوی
شیخ اعظم ثانی کے بعد دوسری شخصیت جن کے ذریعہ لکھنومیں علم کافیض جاری ہوا شیخ عبدالقادرکی ہے،اپنے دورکے نامورعالم تھے،ان کے جدامجدبلخ سے ہندوستان آئے،شیخ عبدالقادرکی پیدائش لکھنومیں ۹۹۶ ہجری میں ہوئی،علم کی تحصیل کے لئے لاہوراوردوسرے شہروں کاسفرکیا، پھر لکھنو کو مرکز بنایااورعلم افادہ میں مصروف ہوگئے، ۱۰۷۶ہجری میں وفات ہوئی،اور لکھنومیں ہی آسودہ خاک ہوئے۔(۱۵)
علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ ان کاتذکرہ کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:
لکھنو کے پاس کس منڈی ایک چھوٹا سا قصبہ ہے اور یہاں ایک بزرگ شیخ عبدالقادر بن شیخ سلطان جو مولانا قطب الدین محدث بن مولانا خضر محدث کی اولاد سے تھے ،پیدا ہوئے انہوں نے لاہور جا کر علم کا فیض حاصل کیا اور لکھنو آ کر درس و فادہ کی نہر بنائی جو 40 برس تک جاری رہی، لکھنو کے اطراف میں ان کے ذریعے بڑا علم پھیلا ،ان کا زمانہ گیارہویں صدی ہجری کا وسط ہے، ان کے شاگردوں میں سب سے مشہور نام شاہ پیر محمد کا ہے جن کی نسبت سے لکھنو میں اب تک گھومتی کے کنارے شاہ پیر محمد صاحب کا ٹیلہ اور مسجد مشہور ہے۔(۱۶)
نزھۃ الخواطر میں ہے:
كان من فحول العلماء، ولد بلكهنؤ سنة ست وتسعين وتسعمائة، وقيل: إنه ولد بكسمندي – قرية من أعمال لكهنؤ – سنة أربع وتسعين وتسعمائة من بطن بوبوجيا بنت عبد الواحد بن لاذ صنو القاضي ضياء الدين النيوتيني، وحفظ القرآن وسافر للعلم إلى لاهور وإلى بلاد أخرى، ثم تصدر للدرس والإفادة بمدينة لكهنؤ۔(۱۷)
نزہۃ الخواطرمیں ان کے تلامذہ کے بہت سے نام ذکرہیں،جن میں شاہ پیرمحمد،سیدمحمد شفیع دہلوی،سیدمحمد قنوجی،شیخ قطب الدین سہالوی،سیدغلام مصطفی اشرفی جائسی،شیخ محمد زماں کاکوروی،سیدحسن رسول نمادہلوی،قاضی شرف الدین لکھنوی،قاضی عبداللطیف بہرائچی،قاضی حبیب اللہ سندیلوی، مولانا عبداللہ سندیلوی،مولانارکن الدین محدث دہلوی،شیخ فتح اللہ قنوجی،مولاناجعفرصدرپوری،مولاناعلیم اللہ کجندوی، مولانا ابوسعیدلکھنوی،شیخ صدرالدین لکھنوی، شیخ مرتضی،نواب مختارخان امیربنگال وغیرہ کے اسماء شامل ہیں۔(۱۸)
علامہ سیدسلیمان ندوی اور مولاناعبدالحی حسنی کی تحریروںسے واضح ہوتاہے کہ قاضی عبدالقادرصاحب کی حیثیت ایک ایک عالم ومدرس سے زیادہ ایک مدرسہ یادرسگاہ کی رہی ہو،جہاں سے بے شماراہل علم اور صاحب فضل وکمال تیار ہوئے۔
۵۔شاہ پیرمحمد
شاہ پیرمحمد اپنے زمانہ کے نامورعالم ،مدرس اور صوفی تھے،ان کے مورث اعلی سیدقادرہرات کے رہنے والے تھے،بغرض جہادہرات سے ہندوستان پہونچے اور اٹاوہ میں مقیم ہوئے،یہ سلطان حسین بن ابراہم شرقی کادورحکومت تھا،والدکی شہادت کے بعد مختلف شہروں میں بزرگوں کی صحبت میں رہ کرلکھنوپہونچے،اور مقبرہ شاہ شمس واقع چوک میںاقامت اختیارکی،کچھ عرصہ بعدمقبرہ شاہ شمس سے خانقاہ قاضی بولاآگئےاور تحصیل علم میں مصروف ہوگئے ۔ (۱۹)
خانقاہ قاضی بولاکے بعد آپ مقبرہ شاہ مینامنتقل ہوگئے،یہاںشیخ قاضی عبدالقادرعمری لکھنوی سے درسی کتابیں پڑھیں،اسی زمانے میں معروف برزگ شاہ عبداللہ سیاح دوبارہ لکھنوتشریف لائے،شاہ عبداللہ سیاح نے آپ کو اجازت وخلافت سے نوازا۔(۲۰)
شاہ پیرمحمد نے ایک عرصہ تک خانقاہ شاہ مینامیں درس دیا،جس کی تفصیل اوپرگزرچکی ہے،اس کے بعد ایک خاص واقعہ کےپس منظرمیں انہوںنے اس خانقاہ کوچھوڑدیااور گومتی کے کنارہ ایک ٹیلہ کواپنامرکزبنایا،اور یہیں درس وتدریس اور مسترشدین کی تربیت میں مصروف ہوگئے،
مولاناعبدالحی حسنی نے ان کی تدریس کاذکرکیاہے ،لکھتے ہیں:
وكان يدرس ويفيد، أخذ عنه خلق كثير من العلماء، وانتهت إليه رئاسة العلم والتدريس، له مصنفات جليلة۔ (۲۱)
۱۰۸۵ھ میں وفات ہوئی،اورٹیلہ والی مسجد کے پاس آسودہ خاک ہوئے،ان کے شاگردوں میںشیخ محمد آفاق لکھنوی،محمد رضالکھنوی،شیخ محمد زماں کاکوروی اورمیرمحمد شفیع دہلوی شامل ہیں۔(۲۲)
شاہ پیرمحمد کی ٹیلہ والی مسجد ایک خانقاہ بھی تھی اور درسگاہ بھی ،ملاغلام نشبندکے فرزنداحمد بن ملاغلام نقشبند کے تذکرہ میں مولاناعبدالحی حسنی ؒ نے ’’مدرسة الشيخ بير محمد‘‘کالفظ بھی استعمال کیا ہے،شاہ پیرمحمدنے یہاں ایک عرصہ تک درس وتدریس میں مصروف رہے۔
نزہۃ الخواطرمیں مولانامحمد رضالکھنوی،محمدزماں کاکوروی،شیخ ابوالفتح نیوتینی،شیخ بدرالدین جونپوری،مولاناغلام نقشبند،شیخ غلام یحی بہاری،محمد شاکرلکھنوی،مفتی عبدالرب لکھنوی،مولانامحبوب علی سنبھلی وغیرہ کے تعارف میں یہ ذکرموجودہے کہ ان لوگوں نے آپ سے استفادہ کیا،اور یہ ٹیلہ والی مسجد میں قیام کرتے تھے۔
مخزن برکت کے مطالعہ سے واضح ہوتاہےکہ آپ کے ساتھ تلامذہ اور مریدوں کی بڑی تعدادہوتی تھی،اسی طرح اس کتاب میںدرس کے اوقات کابھی تذکرہ ہے۔(۲۳)
مفتی رضاانصاری فرنگی محلی میں ملانظام الدین کے تذکرہ میں لکھاہے شاہ پیرمحمد کی مسجد میں سات سوطلبہ کے کھانے پینے کاانتظام تھا،وہ مرزامحمد حسن قتیل کے حوالے سے لکھتے ہیں:
اب سے پہلے (زمانہ تصنیف یعنی ۱۲۲۷ھ مطابق ۱۸۱۲ء سے پہلے)شاہ پیرمحمد کے ٹیلے پر جولکھنو میں دریاکے کنارہ مشہور جگہ ہے ،سات سوطلبہ کے کھانے ،پینے،اور مہینے کے اخراجات کے لئے بادشاہ ہندوستان کی طرف سے ضروری مشاہرہ مقررتھا۔(۲۴)
مفتی رضاانصاری نے یہ بھی لکھاہے کہ یہ ملانظام الدین فرنگی محلی کے پردیسی طلبہ تھے،قرین قیاس یہی ہے کہ یہ سلسلہ پہلے سے جاری رہاہوگا،کیونکہ شاہ پیرمحمد کے تلامذہ اور مریدین کی بڑی تعدادان کے ساتھ رہاکرتی تھی، متعدد شاگردوں کے تعارف میں یہ ذکرموجودہے،اس سے واضح ہوتاہے کہ شاہ پیرمحمد کی مسجد اور مقبرہ ایک طویل عرصہ ایک دینی وعلمی مرکزکی حیثیت رکھتی تھی،جہاں سے بڑی تعدادمیں اہل علم سیراب ہوئے ہیں۔
۶۔شیخ محمد آفاق لکھنوی
شاہ پیرمحمد کے نمایاں تلامذہ میں شیخ محمد آفاق لکھنوی کانام شامل ہے،جنہوں نے آپ کی وفات کے بعدآپ کے تدریسی سلسلہ کو باقی رکھا،۱۰۸۹ھ میں وفات ہوئی،نزہۃ الخواطرمیں ہے:
الشيخ الصالح محمد آفاق اللكهنوي الفقيه الصوفي العالم، ولد ونشأ بناحية بهار، وسافر للعلم فقدم كوبامؤ وقرأ الكتب الدرسية على المفتي وجيه الدين الكوباموي، ثم دخل لكهنؤ وأخذ عن الشيخ بير محمد اللكهنوي ولازمه ملازمة طويلة، ولما مات شيخه بير محمد قام مقامه في الدرس والإفادة۔(۲۵)
۷۔ملا غلام نقشبند
شاہ پیر محمد سے استفادہ کرنے والوں میں ایک نام ملاغلام نقشبندکاہے،آپ کاپورانام ملاغلام نقشبند بن عطاء اللہ عثمانی لکھنوی ہے،نزہۃ الخواطرمیں آپ کاشجرہ نسب اس طرح درج ہے:
الشيخ الإمام العالم الكبير العلامة غلام نقشبند بن عطاء الله بن حبيب الله بن أحمد بن ضياء الدين بن يحيى بن شرف الدين بن نصير الدين بن الحسين العثماني الأصفهاني ثم الكهوسوي اللكهنوي۔(۲۶)
اپنے دورکے نامورعالم تھے،متعددعلوم میں یکتائے روزگارتھے،مولاناعبدالحی حسنی ؒ لکھتے ہیں:
والشيخ غلام نقشبند كان من كبار الأساتذة لم يكن في زمانه أعلم منه بالنحو واللغة والأشعار وأيام العرب وما يتعلق بها متوفراً على علوم الحكمة۔(۲۷)
شاہ پیرمحمد کے شاگردتھے،انہوں نے اپنے استاذکے بنائے ہوئے نظام درس وتدریس کاآگے بڑھایا۔
علامہ سیدسلیمان ندوی ان کاتعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
موجودہ اعظم گڑھ اور غازی پور کے بیچ میں ایک مشہورقصبہ گھوسی ہے جو اس وقت اعظم گڑھ کے ضلع میں ہے، یہاں کی خاک سے ایک نامور شیخ عطاءاللہ گھوسی اٹھے، ان کے صاحبزادہ شیخ غلام نقشبند گھوسی ہوئے، میر محمد شفیع بھی شیخ عطاءاللہ کے شاگرد تھے، شیخ غلام نقشبند نے پہلے اپنے والد سے، پھر میر محمد شفیع سے اور اخر میں سند فراغ شاہ پیر محمد سے حاصل کی اور شیخ غلام نقشبند لکھنوی کے نام سے مشہور روزگار ہوئے ،اور یہ رتبہ پایا کہ بڑے بڑے جلیل القدر علماء ان کی شاگردی پر نازاں تھے، شاہ عالم بہادر شاہ ان کی ملاقات کا مشتاق ہوا، ۱۱۲۶ ہجری میں وفات پائی اور لکھنؤ کی خاک میں ہمیشہ کے لیے آرام کیا۔(۲۸)
ان کے شاگردوں میں مفتی شرف الدین لکھنوی،سیدعبدالجلیل حسینی بلگرامی ،شیخ غلام مصطفی مرادآبادی،شیخ فریدالدین بلگرامی،سیدقادربلگرامی،شیخ محمد قاسم بجنوری،اورملا نظام الدین فرنگی محلی شامل ہیں۔(۲۹)
مفتی رضاانصاری فرنگی محلی ملانظام الدین کے اساتذہ کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:
۔۔۔۔لکھنوواپس آکر ملاغلام نقشبند سے جوشاہ پیرمحمد کے مزارپر(واقع کنارہ دریائے گومتی)فرائض درس وفریضہ رشدوہدایت انجام دے رہے تھے،اور بیک واسطہ شاہ پیرمحمد صاحب کے خلیفہ اور سجادہ نشیں تھے،فن ہیئت کی آخری کتاب رسالہ قوشجیہ پڑھی۔(۳۰)
مفتی رضاانصاری مزیدلکھتے ہیں:
ملاغلام نقشبندمدرس بھی تھے،اور رشدوہدایت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے،ان کی خدمت میں علوم ظاہریہ کے علاوہ علوم باطنی کے طلب گاربھی آتے رہتے تھے،مسجد بناکرددعالمگیریافدائی خان،اور عمارات تعمیر کردہ ملا غلام نقشبند میں ان کارہناہوتاتھا۔(۳۱)
۸۔ملاغلام نقشبندکے صاحبزادے ملااحمد اپنے دورکے ممتازعالم اور فقیہ تھے،اپنے والدغلام نقشبندکے جانشین ہوئے،انہوں نےاپنے والد کے علاوہ ملانظام الدین سے اکتساب فیض کیا،۱۱۵۹ھ میں وفات ہوئی،مولاناعبدالحی حسنی ؒ تحریرفرماتے ہیں:
الشيخ الفاضل أحمد بن غلام نقشبند بن عطاء الله العثماني اللكهنوي أحد العلماء المبرزين في الفقه والأصول والعربية، ولد ونشأ بمدينة لكهنؤ وقرأ العلم على والده ثم على الشيخ نظام الدين بن قطب الدين الأنصاري السهالوي ثم تصدر للتدريس مقام والده في مدرسة الشيخ بير محمد وتولى الشياخة أيضاً، أخذ عنه غير واحد من العلماء۔(۳۲)
۹۔مفتی شرف الدین لکھنوی
غلام نقشبند کے نمایاںشاگرد مفتی شرف الدین لکھنوی تھے،سلطان عالمگیر کے دورمیں حکومت سے قریب ہوئے،شاہ عالم کے دورحکومت میں کچھ شرعی خدمات بھی ان سے متعلق رہیں،۱۱۳۳ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔ نزہۃ الخواطر میں ان کاتعارف اس طرح کرایاگیاہے:
الشيخ العالم الفقيه شرف الدين بن محي الدين بن صدر الدين بن محمد الأعظمي اللكهنوي كان جده محمد شفيق مولانا إله داد بن كمال بن محمد بن محمد الحسيني الكرماني، ولد ونشأ بمدينة لكهنؤ واشتغل بالعلم على والده زماناً ثم قرأ الكتب الدرسية على بعض العلماء من أهل كزه ثم قرأ درساً من تفسير البيضاوي على الشيخ غلام نقشبند بن عطاء الله اللكهنوي وأخذ عنه الطريقة، ثم تقرب إلى عالمكير بن شاهجهان الدهلوي سلطان الهند فنال أربعمائة لذاته منصباً وبعض الخدمات الشرعية۔ (۳۳)
۱۰۔مفتی عبدالرب لکھنوی
اسی مدرسہ پیرمحمد سے وابستہ ایک نمایاں شخصیت مفتی عبدالرب لکھنوی ہیں،اپنے دورکے نامورفقیہ تھے، متعدد علوم میں مہارت حاصل تھی، لکھنو کےمفتی رہے،شاہ پیرمحمد کی خانقاہ میں درس وتدریس میں مشغول رہے، ۱۲۸۰ھ میں وفات ہوئی،یہ مفتی ظہور اللہ کے شاگرد تھے،نزہۃ الخواطر میں ہے:
الشيخ العالم الفقيه المفتي عبد الرب بن شرف الدين بن محي الدين الأعظمي اللكهنوي أحد العلماء الصالحين،له يد بيضاء في الفقه والأصول والفرائض والشعر والنجوم والجفر والموسيقى، ولد ونشأ ببلدة لكهنؤ وتوفي والده وهو ابن سنة ولكنه لما كان الله سبحانه قد جبله على الرشد والسعادة اشتغل بالعلم علي طاهر والوجيه الجونبوري، كانا يدرسان في زاوية الشيخ بير محمد اللكهنوي، وجد في البحث والاشتغال حتى برع وفاق أقرانه وولي الإفتاء، وكان زاهداً متقللاً، لم يرغب قط إلى استحصال المناصب الدنيوية. (۳۴)
۱۱۔مفتی غلام حضرت
ان کاشماراپنے دورکے نامورعلماء میں ہوتاہے،لکھنوکے مفتی تھے،۱۲۳۴ھ میں وفات ہوئی،نزہۃالخواطر میں ہے :
الشيخ العالم الفقيه غلام حضرة بن محمد غوث الأعظمي اللكهنوي أحد العلماء الحنفية، ولد ونشأ ببلدة لكهنؤ، وقرأ العلم على من بها من العلماء، وولي الإفتاء بمدينة لكهنؤ، فاستقل به مدة حياته، وكان الأمراء يحترمونه إلى الغاية۔ (۳۵)
۱۲۔مفتی واجد علی بنارسی
ممتازعالم اور مدرس تھے،منطق میں یدطولی حاصل تھاانگریزی دورحکومت میں لکھنوکے مفتی تھے،اس کے بعد بہار کے بتیاچلے گئے، وہیں ۱۲۷۶ھ میں ان کاانتقال ہوا،نزہۃ الخواطر میں ہے:
الشيخ الفاضل العلامة المفتي واجد علي بن إبراهيم بن عمر العمري البنارسي أحد العلماء المبرزين في المنطق والحكمة، ولد ونشأ بلكهنؤ وقرأ العلم على والده وعلى غيره من العلماء، ثم ولي الإفتاء بمدينة لكهنؤ في السفارة الإنكليزية فاستقل به خمس عشرة سنة(۳۶)
۱۳۔مولاناتراب علی لکھنوی
اپنے دورکے نامورفاضل تھے،مولانامخدوم حسینی لکھنوی،مفتی اسماعیل بن وجیہ مرادآبادی،اور مفتی ظہوراللہ انصاری سے اکتساب فیض کیا، حجازکاسفرکیااوروہاں مفتی عبداللہ سراج مکی سے حدیث کاعلم حاصل کیا،وہاں سے واپس آئے ،اورزندگی بھرتدریس وافادہ میں مشغول رہے،ان کی فقہ کے موضوع پر متعددتصنیفات ہیں،۱۲۸۱ھ میں ان کی وفات ہوئی۔
نزہۃ الخواطر میں ہے:
الشيخ الفاضل العلامة تراب علي بن شجاعة علي بن فقيه الدين بن محمد دولة ابن المفتي أبي البركات الدهلوي الأمروهوي ثم اللكهنوي، أبو البركات ركن الدين، كان من العلماء المبرزين في المعقول والمنقول۔(۳۷)
ان کے متعددفتاوی فتاوی قیام الملۃ والدین (مرتب کردہ مولاناعبدالباری فرنگی محلی )میں شامل ہے،جبکہ ایک فتوی فتاوی نعیمیہ میں بھی موجود ہے۔
علمائے فرنگی اور منصب افتاء
علمائے فرنگی محل کے مورث ملاقطب الدین بارہ بنکی کے قریب واقع قصبہ سہالی میں درس وافادہ میں مصروف تھے،ان کاتذکرہ کرتے ہوئے علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ نے لکھاہے کہ اس زمانے میں شہرتوشہرہمارے قصبات تک دارالعلم تھے۔(۳۸)
ملاقطب الدین کی شہادت بعد یہ خاندن سہالی سے لکھنومنتقل ہوا،اورپھریہیں سے علم کاوہ فیض جاری ہواجس کی نظیرتاریخ میں کم ملتی ہے،اس خانواہ نے دینی علوم اور بطورخاص علوم عقلیہ کی جوخدمت کی ہے وہ ہمیشہ آب زرسے لکھاجاتارہے گا۔
علماء فرنگی محل کی دینی اور علمی خدمات کاایک روشن باب فتوی بھی ہے،یہاں فتوی نویسی کے دوسلسلے نظرآتے ہیں،مفتیوں کاایک سلسلہ وہ ہے جوسرکاراودھ میں عہدہ افتاوقضاء پر فائزتھے،اورحکومت سے وابستہ ہوکر اپنی خدمات پیش کرتے رہے،وہیں دوسری جانب ایسے مفتیان کرام بھی تھے جوحکومت سے وابستہ تو نہیں رہےمگرخاندان میں ان کو مرجعیت حاصل تھی،عوام وخواص دینی رہنمائی کے لئے ان کی جانب رجوع کرتے تھے۔
سرکاراودھ سے وابستہ مفتیان
جومفتیان سرکارادوھ سے وابستہ رہے ان میں مفتی محمد یعقوب،ملا محمدولی بن قاضی غلام مصطفی ،ملامبین بن محمد محب اللہ،مفتی ظہور اللہ بن ملا ولی،مفتی محمد اصغر،،مفتی محمد یوسف بن مفتی محمد اصغرعلی کے اسماء ملتے ہیں،ان کا مختصر ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتاہے:
۱۔مفتی محمد یعقوب بن ملاعبدالعزیز
تذکرہ علمائے فرنگی محل میں آپ کے بارے میں لکھاہے:
آپ کی دیانت اور تقوی پر عوام اور خواص سب کو بھروسہ تھا،یہاں تک کہ سرکاراودھ کی جانب سے آپ کو عہدہ افتاء سپردہوا،جس کوآخرعمرتک نہایت خوبی سے انجام دیتے رہے،حکام کوآپ کے فتاویٰ پر بہت زیادہ اعتبار واعتماد تھا ۔ (۳۹)
مفتی رضاانصاری فرنگی محلی مفتی محمد یعقوب کے بارے میں لکھتے ہیں:
ملا محمد یعقوب کے شباب کا زمانہ اودھ حکومت کے پہلے حکمران نواب برہان الملک (۱۷۲۰۔ ۱۷۳۹ء) کا تھا اور عمر کا آخری حصہ شجاع الدولہ وزیر الممالک(۱۷۵۳۔۱۷۷۵ء) کے عہد حکومت میں بسر ہوا،اس وقت تک اودھ کی راجدھانی فیض آباد تھی۔ نواب صفدر جنگ وزیرالممالک (۱۷۳۹۔ ۱۷۵۲ء)کے دور حکومت میں نائب وزیر راجہ نول رائے اکثر لکھنو میں عدالت کرتا تھا، ملا محمد یعقوب کو بلا کر اپنے پاس بٹھاتا، اور فیصلے انہی کے فتووں کی روشنی میں کرتا ،راجہ کو کسی دوسرے پر اتنا اعتماد نہ تھا جتنا ملا محمد یعقوب پر تھا، وہ بھی مقدمات میں نہ کسی کے کہنے سننے کی پرواہ کرتے تھے، نہ کسی کا پاس و لحاظ کرتے تھے۔ نائب وزیر راجہ نول رائے کے بعد جو فرخ آباد کے افغانوں کے معرکے (۱۷۵۰ء) میں داد شجاعت دیتا ہوا میدان کارزار میں مارا گیا، لکھنو میں رسم عدالت وہ نہ رہی جو اس نہ قائم کی تھی اور مفتی محمد یعقوب بھی خانہ نشی ہو گئے۔
خاندان فرنگی محل میں مفتی محمد یعقوب ہی پہلے عالم ہیں جن کو ایک نہج سے سرکاری مفتی کا رتبہ ملا،جہاں تک عام استفتوں کے جوابات لکھنے کا تعلق ہے وہ ان کے استاد ملا نظام الدین ہی لکھتے تھے، جہاں تک احکام شریعہ کے اجرا اور نفاذ کا تعلق ہے اس کے لیے مفتی محمد یعقوب کے دستخطوں کو ہی اہمیت حاصل تھی۔(باقیات ،ص:۱۲۰۔۱۲۱،مضامین مفتی رضاانصاری فرنگی محلی)
مفتی رضاانصاری نے بانی درس نظامی میں ان کاایک فتوی نقل کیاہے،وہ لکھتے ہیں:
ملاصاحب کے شاگردرشید اور مفتی شہرملامفتی محمد یعقوب فرنگی محلی کابھی ایک فتوی بعینہ محفوظ رہ گیاہے،یہ بلاشبہ دوسوسال قدیم ہے،اس پرملامحمد ولی فرنگی محلی کے بھی دستخط موجود ہیںجن کی وفات کو ایک سونوے سال گزرچکے ہیں۔(۴۰)
مولوی محمدولی بن قاضی غلام مصطفی
استاذالہندملانظام الدین کے شاگردتھے،مدرس تھے،متعددکتابیں تصنیف فرمائی،سرکاراودھ میں مفتی کے عہدہ پر فائزرہے۔
تذکرہ علمائے فرنگی محل میں ہے:
اپنے والدکی شہادت کے بعد بادشاہ دہلی کی طرف سے اپنے والدماجد کی جگہ قاضی پرگنہ ملاوان کے مقررہوئے،اور جب تک قضاء کے احکام شریعہ میں حکام وقت کی جانب سے بے جامداخلت شروع نہیں ہوئی،آپ قاضی رہے۔(۴۱)
مفتی محمد یعقوب کے ایک فتوی پران کی تصویب موجودہے۔(۴۲)
مفتی ظہور اللہ بن ملا ولی (۱۱۷۴۔۱۲۵۶ھ)
اپنے دورمیں خانوادہ فرنگی محل کے سب سے بڑے عالم تھے،انہوںنے بہت سی کتابیں تصنیف کیں، سرکار ادوھ میں مفتی تھے،بانی درس نظامی میں اس کے والدملامحمد ولی کے تذکرہ میں ہے:
مفتی ظہوراللہ کثرت تلامذہ اور مفیدترین درسی تصانیف کی بناء پر بڑی شہرت رکھتے تھے،سرکاراودھ میں عہدہ افتاء پرمامورہونے کے باوجود درس وتدریس میںغیرمعمولی انہماک رکھتے تھے۔(۴۳)
مولاناعنایت اللہ صاحب لکھتے ہیں:
عہدہ افتاء سرکاراودھ سے سپردہوا،جس کو چالیس سال تک متواترانجام دیتے رہے۔(۴۴)
ان کاایک فتوی آثارحضرت مظہرجان جاناں میں موجود ہے۔(۴۵)
مفتی محمد اصغر
اپنے وقت کے نامورعالم اور مفتی تھے،ملامبین سے کسب فیض کیا،ایک زمانے تک سرکارادھ میں مفتی کے عہدہ پر فائزرہے،۱۲۵۵ھ میں ان کی وفات ہوئی،مولاناعبدالحی حسنی ؒ ان کاتعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
الشيخ الفقيه المفتي محمد أصغر بن المفتي أحمد بن أبي الرحم بن يعقوب بن عبد العزيز الأنصاري السهالوي اللكهنوي أحد الفقهاء الحنفية، ولد ونشأ بلكهنؤ، وحفظ القرآن، وقرأ العلم على والده وعلى العلامة مبين بن محب الله اللكهنوي، وسلك على قدم آبائه في الإفتاء والتدريس، وعمر مدرسة جده المرحوم، ولي الإفتاء فاستقل به مدة عمره۔(۴۶)
فتاوی نعیمیہ میں دوفتاوی پر ان کی تصویب ہے۔
مفتی محمد یوسف بن مفتی محمد اصغرعلی
آپ خانوادہ فرنگی محل کے آخری سرکاری مفتی تھے ،آپ کے والدمفتی محمد اصغرعلی بھی حکومت اودھ کے مفتی تھے،تذکرہ علمائے فرنگی محل میں ہے:
آپ کے والدمفتی اصغرعلی سرکاری مفتی تھے،ان کے انتقال کے بعد عہدہ افتاء آپ کے سپرد ہواتھاجس کو غدر ۱۲۷۲ھ تک انجام دیتے رہے۔(۴۷)
مفتی رضاانصاری فرنگی محلی آپ کاتعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
والد کی وفات (۱۸۳۹ء)کے بعد مفتی محمد یوسف جبکہ ان کی عمر 31 برس کی تھی ان کی جگہ حکومت اودھ میں مفتی عدالت لکھنو ہوئے، یہ محمد علی شاہ(اودھ کے تیسرے بادشاہ )کا زمانہ تھا، انتزاع سلطنت اود ھ تک، پھر مزید ایک سال 1857 تک لکھنو میں انگریزی راج کے زمانے میں بھی مفتی عدالت رہے، اس طرح 28 سال تک انہوں نے اودھ کی سرکاری خدمات انجام دی۔(۴۸)
علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ مفتی محمد یوسف کاتذکرہ کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:
اس اخر زمانے میں بھی فرنگ محل کے دارالعلم میں فضل و کمال کی بیسیوں بساطیں بچھی رہی، انہی میں سے مفتی محمد یوسف صاحب فرنگی محل کی درسگاہ ہے، مفتی صاحب مفتی محمد اصغر بن مفتی ابوالرحم صاحب فرنگی محلی کے صاحبزادہ اور جانشین تھے، ان کے والد مفتی محمد اصغر صاحب ملا قطب الدین سہالوی شہید کے صاحبزاد ملا سعید ملا محمد سعید کے سلسلے میں تھے، اور لکھنو میں نوابی کے زمانے میں سرکار عبد کے مفتی تھے، والد کے بعد ان کی جگہ یہ مفتی ہوئے، روزو شب طلبہ کو درس اور ساتھ ہی منصب افتاء کی خدمت انجام دیتے رہے، جب 1856 میں سلطنت اودھ کی بساط الٹی تو علم کا یہ مرکز جونپور کے مدرسہ امام بخش میں منتقل ہو گیا، یہاں سے وہ حج و زیارت کو حجاز تشریف لے گئے اور وہیں 1286 میں ابدی نیند سو گئے۔(۴۹)
آپ کے فتاوی ’’فتاوی قیام الملۃ والدین ‘‘میں شامل ہیں۔
خانوادہ فرنگی محل کے دوسرے مفتیان کرام
خانوادہ فرنگی محل میں ہردورایسے مفتی بھی رہے ہیں جوحکومت اودھ سے وابستہ تونہیںرہے،لیکن مسلمانوں میں مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں،اس سلسلہ ملا نظام الدین ،ملاعبدالعلی بحرالعلوم ،ملا محمد حسن ،مولاناعبدالحلیم ،مولاناعبدالحی فرنگی محلی،مولانامحمد نعیم،مولاناعبدالباری فرنگی محلی،مفتی عنایت اللہ ،مفتی عبدالحمید فرنگی محلی،مفتی محمدعبدالقادرفرنگی محلی صاحب فتاوی قادریہ معروف بہ فتاوی فرنگی محل،مفتی محمد قائم فرنگی محلی اور مفتی محمد عتیق فرنگی محلی کے اسماء قابل ذکر ہیں۔
ان کامختصرتذکرہ کرنامناسب معلوم ہوتاہے:
ملانظام الدین
خانوادہ فرنگی کے جدامجدملاقطب الدین کے فرزند،اپنے دورکےنامورعالم دین،مصنف اور مدرس تھے،اپنے والدملا قطب الدین کے علاوہ ملاامان اللہ بنارسی اور ملاغلام نقشبندسے اکتساب فیض کیا،درس نظام انہی کی طرف منسوب ہے،مولاباعبدالحی حسنی ؒ نے بڑے الفاظ میں ان کاتعارف کرایاہے:
الشيخ الإمام العالم الكبير العلامة الشهير صاحب العلوم والفنون وغيث الإفادة الهتون، العالم بالربع المسكون، أستاذ الأساتذة، وإمام الجهابذة، الشيخ نظام الدين بن قطب الدين بن عبد الحليم الأنصاري السهالوي ثم اللكهنوي الذي تفرد بعلومه وأخذ لواءها بيده، لم يكن له نظير في زمانه في الأصول والمنطق والكلام (۵۰)
بانی درس نظامی کے مصنف مفتی رضاانصاری ملانظام الدین کی فقہی بصیرت اور توسع کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس واقعہ سے ملا نظام الدین فرنگی محلی کی فقیہانہ نظراوردینی بصیرت پربخوبی روشنی پڑتی ہے،بلکہ ان کے مرتب کردہ درس کا جسے درس نظام کے نام سے یادکیاجاتاہے،ایک نمایاں پہلوابھرکرآجاتاہے وہ یہ کہ فقہی تنگ نظری کاسدباب ہوجاتاہے۔(۵۱)
مفتی رضاانصاری فتوی نویسی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
علمائے فرنگی محل جب سے لکھنو میں آبادہوئے غیر سرکاری فتوی نویسی انہی کے سپر د رہی،شہراور بیرون شہر سے ان کی خدمت میں استفتے آتے اور ان کے جوابات عموما سرگروہ علمائے فرنگی محل کے دستخط سے جاتے،فرنگی محل میں اولین عالم اور استاذالکل ملا نظام الدین کاایک فتوی ڈھائی سوبرس سے زیادہ گزرجانے کے بعد آج بھی بعینہ موجود ہے۔(۵۲)
اس کتاب میں ان کے متعددفتاوی بھی نقل کئے گئے ہیں۔
ملاعبدالعلی بحرالعلوم
ملانظام الدین کے نامورفرزند ملاعبدالعلی اپنے دورکے یکتائے روزگارتھے ،بحرالعلوم ملک العلما کے لقب سے مشہور تھے،مولاناعبدالحی حسنی ان کاتعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
الشيخ الإمام العالم الكبير العلامة عبد العلي بن نظام الدين بن قطب الدين ابن عبد الحليم الأنصاري السهالوي اللكهنوي بحر العلوم ملك العلماء. كان معدوم النظير في زمانه، رأساً في الفقه والأصول، إماماً جوالاً في المنطق والحكمة والكلام۔(۵۳ )
ان کے متعددفتاوی شائع ہوئے ہیں،جن میں رسالہ حرمت حقہ وافیون ونان پائو،اوربیعت حاضروغائب قابل ذکر ہیں۔
مولاناعبدالحلیم
مولاناعبدالحلیم بن امین اللہ اپنے دورمیںمشہورعالم تھے،فقہ کے موضوع پر ان کی متعددتصانیف ہیں،جن میں ہدایہ کے حواشی کوبڑی شہرت حاصل ہوئی،جونپوراور حیدرابادمیںعرصہ تک تدرسی خدمات انجام دیتے رہے۔مجموعہ فتاوی عبدالحی کی تیسری جلدمولاناعبدالحلیم کے فتاوی پرمشتمل ہے۔
مولاناخادم احمد
اپنے دورکے ممتازفقیہ،مدرس اور مفتی تھے،۱۲۷۱ھ میں ان کی وفات ہوئی،نزہۃ الخواطر میں ان کاتذکرہ ان الفاظ میں ہے:
الشيخ الفاضل خادم أحمد بن حيدر بن مبين بن المحب الأنصاري اللكهنوي أحد الفقهاء الحنفية، ولد ونشأ بمدينة لكهنؤ، وقرأ العلم على عمه الشيخ معين وتخرج عليه، واشتغل بالتذكير والتدريس والإفتاء مدة طويلة، وهو ممن أفتى بحرمة الخروج للشيخ أمير علي الأميتهوي لأخذ ثأر المسلمين بأجودهيا۔(۵۴)
ان کافتوی فتاوی قیام الملۃ والدین میں شامل ہے۔
مولانامحمد معین بن ملامحمد مبین
مجموعہ فتاوی میںان کے فتاوی شامل ہیں۔
مولاناعبدالحی
اسلامی علوم اوربطورخاص فقہ وحدیث کے موضوع پر نابغہ روزگارشخصیت کے مالک تھے،ان کی تصانیف کو عالمی سطح پر غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی،مولاناعبدالحی حسنی ؒ ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
العالم الفاضل النحرير أفضل من بث العلوم فأروى كل ظمآن۔(۵۵)
فقہ میں اجتہادی شان رکھتے ہیں،حدیث اور فقہ اور سیرت وسوانح سے متعلق بیش قیمت تصانیف ان کی علمی یادگارہیں،ان کے فتاوی کے مجموعے شائع ہوئے ہیں،مجموعۃ الفتاوی کے ابتدائی دوجلدیں ان کے فتاوی پر مشتمل ہے۔
مولانامحمد نعیم
ان کے متعددفتاوی ’فتاوی قیام الملۃ والدین ‘میں شامل ہیں،اسی طرح ان کے فتاوی کامجموعہ قلمی شکل میں محفوظ تھا، مولاناابوالحسن فرنگی محلی نے ان کو مرتب کروایاہے،ابھی اس کی اشاعت نہیں ہوئی ہے۔
مولاناعبدالباری فرنگی محلی
اپنے دورکے مشہورعالم اور ملی کاموں میں نمایاں تھے،ان کے فتاوی ’’فتاوی قیام الملۃ والدین ‘‘میں شامل ہیں۔
مفتی عنایت اللہ
اپنے دورکے مشہورعالم تھے،فرنگی محل کےعلماء کے تذکرہ پرمشتمل ان کی کتاب ’’تذکرہ علمائے فرنگی محل ‘‘ سند کا درجہ رکھتی ہے،ایک عرصہ تک مدرسہ نظامیہ کے مفتی رہے،ان کے بعد افتاء کی ذمہ داری مفتی عبدالقادرفرنگی محلی کے سپرد ہوگئی۔
مفتی عبدالحمید
اپنے دورمیں فرنگی محلی کے مفتی تھے،ان کے فتاوی مخطوطہ کی شکل میں مفتی ابوالعرفان فرنگی محلی کے پاس موجود ہیں۔
مفتی عبدالقادر
اپنے زمانہ کے مفتی تھے،ان کے فتاوی کامجموعہ ’’فتاوی قادریہ معروف بہ فتاوی فرنگی محل کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔
مفتی قائم
مفتی عبدالقادرفرنگی محلی کے بعد مدرسہ نظامیہ کے مفتی بنے،ایک عرصہ تک فتوی نویسی کی خدمت انجام دیتے رہے،ان کے فتاوی محفوظ نہیں ہیں۔
مفتی محمد عتیق
اپنے دورکے مفتی فرنگی محل تھے،ان کے فتاوی ان کے صاحبزادے مفتی ابوالعرفان فرنگی محلی کے پاس مخطوطہ کی شکل میں محفوظ ہیں،مختلف مواقع پر چندفتاوی شائع بھی ہوئے ہیں،اسی طرح تحریربے عدیل میں القول الجمیل باجوبۃ استفتاء العدیل کے عنوان سے رویت ہلال کے موضوع پر ایک مفصل فتوی شامل ہے،یہ فتوی مفتی محمد عتیق کی فقہی بصیرت کامنہ بولتاثبوت ہے۔
ندوۃ العلماء کادارالافتاء
۱۸۹۲ء میں کانپورکی خاک سے وہ عظیم تعلیمی تحریک اٹھی جس نے نہ صرف پورے ملک کو بلکہ عالم اسلام کو متاثر کیا، اس کاتحریک کانام ندوۃ العلماء ہے،جوابتدامیں علماء کی ایک جماعت تھی،جس کے بنیادی مقاصد میں مدارس کے نصاب ونظام کی اصلاح شامل تھے،چندسالوںپرنئے تعلیمی نصاب کے تجربہ کے طورپرایک تعلیمی ادارہ قائم ہوا، جو دارالعلوم ندوۃ العلماء کے نام سے موسوم ہوا۔
ندوۃ العلماءکی بنیادکے دوسرے ہی سال مسلمانوں کی ضرورت کومحسوس کرتے ہوئے ایک دارالافتاء کاقیام عمل میں آیا،اس انجمن کے پہلے ناظم مولانامحمد علی مونگیری نے اس کی ضرورت کوتفصیل سے بیان فرمایااور دارالافتاء کے قیام کی تجویزپیش کی،جومنظورکی گئ ،اوراس طرح ندوۃ العلماء کی جانب سے دارالافتاء کاقیام میں آیا۔
۱۳۱۳ھ میں ندوۃ العلماء کی جانب سے ایک دارالعلوم کے قیام کی تجویزمنظورہوئی،اس کے بعد دارالعلوم کاقیام میں آیا،دارالعلوم کے قیام کے بعد ندوۃ العلماء کادارالافتاء پہلے سے زیادہ فعال ہوگیا،اور اس کی شہرت پورے ملک اور بیرون ملک پھیلتی گئی۔
ندوۃ العلماء کے دارالافتاءکی سرگرمیاںنامورعالم دین مولانالطف اللہ علی گڑھی کی سرپرستی میں شروع ہوئیں،مولاناکے شاگردمولاناعبداللطیف رحمانی اس کے پہلے مفتی مقررہوئے،ان کے بعد مولاناشبلی فقیہ جیراجپوری نے اس عہدہ کوزینت بخشی،ان کے بعد مفتی محمد سعید ندوی مفتی ندوہ ہوئے،ان کے بعد استاذمحترم مفتی محمد ظہورندوی رحمۃ اللہ نے ایک طویل عرصہ تک اس ذمہ داری کوسنبھالتے رہے،مفتی محمد ظہورندوی ؒ کے اخیردورمیں ہی استاذمحترم مولانانیازاحمد ندوی صاحب کویہ ذمہ داری دی گئی،موجودہ وقت میں مولانانیازاحمد ندوی صاحب کے ساتھ مفتی محمد ظفر عالم ندوی،مفتی محمد مستقیم ندوی اور مفتی مسعودحسن حسنی ندوی اس ذمہ داری کی انجام دہی میں مصروف عمل ہیں۔(۵۶)
ندوۃ العلماء کے فتاوی کاانتخاب پانچ جلدوں میں شائع ہوچکاہے،اورابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اساتذہ میں بھی ایسے متعددنام ہیں جن کی دارالافتاء سے رسمی وابستگی تونہیں تھی،مگروہ فتاوی بھی لکھتے تھے،مولانابرہان الدین سنبھلی انہی لوگوں میں شامل ہیں،ان کے چندفتاوی ’فتاوی ندوۃ العلماء‘ میں شامل ہیں۔
ندوۃ العلماء میں دارالافتاء کے علاوہ ایک شعبہ مجلس تحقیقات شرعیہ ہے،جس کاقیام جدیدمسائل کو حل کرنے کے لئے ۱۹۶۳ء میں ہواتھا،ابتدائی دورمیں یہاں بھی بڑی تعدادمیں جدیدمسائل سے متعلق استفتاء ات آتے تھے،اس وقت مجلس کے ذمہ دار مولانابرہان الدین سنبھلی ؒ ان کاتفصیلی جواب تحریرفرمایاکرتے تھے،مولاناکی بعض کتابوں میں اس بات کااشارہ موجود ہے۔(۵۷)
مدرسہ عالیہ فرقانیہ
مدرسہ عالیہ فرقانیہ حفظ وقرآت کے لئےمشہورہے،لیکن یہ ایک طویل عرصہ تک یہ فتوی کامرکزبھی رہاہے، مولانا سیدعین القضاۃ (۱۸۵۸۔۱۹۲۵ء) اس کے اصل روح رواں تھے،وہ خود بھی مفتی تھے،اور ان کی نگرانی وسرپرستی میں متعددمفتیان کرام فتوی نویسی کی خدمت انجام دیتے رہے، ان کے فتاوی رجسٹروں میں محفوظ تھے۔
مدرسہ عالیہ فرقانیہ کومولاناسیدعین القضاۃ کے والد سیدمحمد وزیرصاحب نے قائم فرمایا،وہ اصلاگول کنڈہ حیدرآباد کے رہنے والے تھے،کسی وجہ سے حیدرآباد سے مکہ مکرمہ منتقل ہوگئے،پھراپنے صاحبزادے عین القضاۃ کی تعلیم کی خاطرلکھنوتشریف لائے،اوریہیں قیام پذیرہوئے،انہوں نے اپنے صاحبزادے کومولاناعبدالحی فرنگی محلی کے سپردکیا ، مولاناعبدالحی فرنگی محلی کی تربیت سے ایسانکھارپیداہواکہ استاذکی طرح یہ شاگردبھی فضل وکمال میں نامور ہوئے، انہوں نے مولاناعبدالحی کے علاوہ اس وقت کے فرنگی محل کے دیگرعلماء مثلا مولاناعبدالباری ،مفتی محمد یوسف ، مولانا عبدالباقی سے بھی استفادہ کیا۔(۵۸)
مدرسہ فرقانیہ ان کے والد کی یادگارہے،اس ادارہ کاقیام ۱۹۱۱ء میں تجویدوقرات کے لئے ہواتھا،اس ادارہ کو پروان چڑھانے میں سب سے بڑاکردارمولاناعین القضاۃ کاتھا،اس ادارہ کی لکھنواوراطراف میں حفظ وقرات کی تعلیم کے فروغ میں بڑی غیرمعمولی خدمت رہی ہے۔
مولاناعین القضاۃ عالم ہونے کے ساتھ مفتی بھی تھے،ایک زمانے میں فرنگی محل کے مفتی بھی رہے،بطورخاص مولاناعبدالحی صاحب کے بعد اس منصب کوانہوںنے ہی سنبھالا،مدرسہ عالیہ فرقانیہ کے قیام کے بعد باضابطہ دارالافتاء کاقیام بھی عمل میں آگیا،مگراس دارالافتاءکااصل دورمولاناعین القضاۃ کے دورمیں شروع ہوا،مولاناکی سرپرستی میں متعددمفتیان کرام کی تقرری ہوئی،جن میں مولاناشاہ محمد جان ،مولاناحکیم نصیرالدین نعمانی اعظمی،امام اہلسنت مولانا عبدالشکور فاروقی، مولانا سیدعلی زینبی،مفتی محمد اسباط بارہ بنکوی،مفتی ظہوراحمد دربھنگوی مفتی عبدالغفور چھپراوی، اور مفتی محمد عظمت علی بہرائچی شامل ہیں۔ (۵۹)
یہاں ان مفتیان کرام کے فتاوی کامجموعہ بھی قلمی رجسٹروں کی شکل میںموجودتھا،ایک رجسٹرامام اہلسنت مولاناعبدالشکورفاروقی کے فتاوی پرمشتمل تھا،جبکہ دوسرےرجسٹرمیںمولاناحکیم نصیرالدین نعمانی اعظمی،مولاناسیدعلی زینبی اور مولاناظہوراللہ دربھنگوی کے فتاوی درج تھے،اودھ میں مراکزافتاکے مصنف ڈاکٹراشتیاق احمد اعظمی نے ان دونوںرجسٹروں کامعائنہ کیاتھا۔(۶۰)
مولاناعین القضاۃ کے متعددفتاوی شائع ہوئے ہیں،بعض رسائل کی شکل میںبھی ہیں،مثلا فتوی تہجد باجماعت دررمضان،خیرالنواہی عن ارتکاب الملاہی،الاغناء فی تحریم الغناء،نہایۃ الارشادالی احتفال المیلاد،یہ مطبوعہ رسائل ہیں،جبکہ متعددرسائل غیرمطبوعہ ہیں،مثلا نخبۃ المعارف فی تحریم الاغنیۃ والمعارف،الاجوبۃ السدیدۃ الاسئلۃ العدیدۃ، جواب دربارہ جوازیاشیخ عبدالقادرجیلانی للہ،جواب استفتاء دربارہ لقاء حضرت حسن بصری،جواب استفتاء دربارہ علم غیب بذات اقدس حضور سرورکائنات ﷺ ۔(۶۱)
مولاناعبدالشکورفاروقی
مولاناعین القضاۃ کے شاگردرشیداور مدرسہ عالیہ فرقانیہ کے مفتی مولاناعبدالشکورفاروقی اپنے دورکے نامورعالم تھے،آپ امام اہل سنت کے لقب سے جانے جاتے ہیں،۱۹۱۲سے ۱۹۱۵ تک مدرسہ عالیہ فرقانیہ میں بحیثیت مدرس ومفتی رہے،اس زمانہ میں جوبھی استفتاآتے ،آپ ہی اس کاجواب تحریرفرماتے۔(۶۲)
مدرسہ کے ریکارڈ میں فتاوی کے نقل کاایک رجسٹرآپ کے فتاوی پرمشتمل ہے۔
مفتی ظہور احمد دربھنگوی
مولاناعین القضاۃ کے دورمیں بحیثیت مفتی ومدرس مدرسہ عالیہ فرقانیہ سے وابستہ ہوئے،آپ کے فتاوی وہاں کے قلمی ریکارڈ میں محفوظ ہیں،آپ کی وفات ۱۹۶۳ء میں ہوئی(۶۳)
مولاناسیدعلی زینبی امروہوی
اپنے دورکےممتازعالم تھے،مدرسہ عالیہ فرقانیہ میں مدرس اور مفتی رہے،تسہیل الفرائض،میقاۃ الصلوۃ،تخریج الاوقات ان کی اہم تصنیفات ہیں،۱۹۴۹انتقال ہوا۔(۶۴)
ان کے علاوہ مولانامحمد اسباط بارہ بنکوی، مفتی عبدالغفورچھپراوی اور مولانامفتی محمدعظمت علی بہرائچی نے بھی یہاں فتوی نویسی کی خدمت انجام دی ہیں۔(۶۵)
لکھنوکے شیعہ مجتہدین
لکھنومیں مفتیان کرام میں شیعہ مجتہدین کاذکرناگزیرہے،علامہ سیدسلیمان ندوی کایہ جملہ اپنے اندرپوری تاریخ کوسموئے ہوئے ہے،انہوں نے فرمایاتھا’’یہاں کاایک خاندان اجتہادپورے ملک کے طول وعرض پر تنہا حکمراں ہے‘‘(۶۶)
اس موضوع کے لئے مستقل تحریرکی ضرورت ہے،آئندہ کبھی اس پرلکھنےکی کوشش کی جائے گی۔
مراجع:
۱۔نزہۃ الخواطر،مولاناعبدالحی حسنی ،دارابن حزم بیروت،پہلاایڈیشن:۱۹۹۹ء
۲۔حیات شبلی،علامہ سیدسلیمان ندوی ،دارالمصنفین اعظم گڑھ
۳۔تذکرہ علمائے فرنگی محل،مولوی محمد عنایت اللہ ،ناشراشاعت العلوم برقی پریس،فرنگی محل لکھنؤ
۴۔گذشتہ لکھنوازمولاناعبدالحلیم شررلکھنوی،تصحیح وترتیب :رشیدحسن خان،ناشر:مکتبہ جامعہ لیمیٹیڈ،نئی دہلی،۱۹۷۱
۵۔انتخاب مضامین مولاناسیدسلیمان ندوی ،ص:۴۹،ناشر:اردواکیڈمی لکھنؤ۱۹۸۵ء
۶۔بانی درس نظامی،مفتی محمدرضاانصاری فرنگی محلی،نامی پریس:۱۹۷۳
۷۔امام اہلسنت حضرت مولاناعبدالشکورفاروقی،مصنف پروفیسر عبدالحی فاروقی،ناشرادارہ تحقیقات اہلسنت ، لاہور
۸۔باقیات (مضامین مفتی رضاانصاری فرنگی محلی)،مرتب:محمد فائق رضاانصاری،۲۰۰۹ء)
۹۔حقیقت اولیاء حیات مرشدصوفی باصفا،مصنف مظہرلکھنوی،مکتبہ عین القضاۃ،سن اشاعت:۱۹۶۹ء
۱۰۔مختصرسوانح حیات سیدمحمد عین القضاۃ،مصنف:حافظ افتخارعلی،ناشر:مدرسہ عالیہ فرقانیہ،۱۹۷۴
۱۱۔اودھ میں مراکزافتاءاور ان کی خدمات ،ڈاکٹراشتیاق احمد اعظمی،۲۰۰۹ء
۱۲۔آثارحضرت مرزامظہرجان جاناں شہید،مصنف:سیدظراحسن بہرائچی،ناشر:خانقاہ نعیمیہ ،بہرائچ،سن طباعت۲۰۲۵ء
۱۳۔مخزن برکت،خورشیدحسن،مطبع :جی نارائن پریس لکھنؤ،۱۹۰۲ء
حاشیہ :
۱۔حیات شبلی، ص:۱۰
۲۔گذشتہ لکھنؤ،ص:۱۵۳
۳۔انتخاب مضامین سید سلیمان ندوی،ص:۴۹
۴۔گذشتہ لکھنو،ص:۱۵۴
۵۔نزہۃ الخواطر،ج۳،ص:۲۵۱
۶۔نزھۃ الخواطر، ج۳، ص:۲۷۰
۷۔حیات شبلی،ص:۱۴
۸۔نزھۃ الخواطر، ج۳،ص:۲۷۰
۹۔نزہۃ الخواطر،ج۳،ص:۷۱۱
۱۰۔حیات شبلی، ص:۱۴،نزہۃ الخواطر،ج۳،ص:۲۵۱
۱۱۔نزھۃ الخواطر،ج۶،ص:۷۰۵
۱۲۔نزہۃ الخواطر، ج۳،ص:۲۷۵
۱۳۔ترجمہ فوائد سعدیہ ،ص:۷
۱۴۔مخزن برکت، ص:۱۹
۱۵۔نزھۃ الخواطر،ج۵،ص:۵۶۸
۱۶۔حیات شبلی،ص:۱۶
۱۷۔نزھۃ الخواطر،ج۵،ص:۵۶۸
۱۸۔نزھۃ الخواطر،ج۵،ص:۵۶۸
۱۹۔مخزن برکت، ص:۱۶
۲۰۔مخزن برکت،ص:۱۸
۲۱۔نزہۃ الخواطر، ج۵،ص:۵۰۶
۲۲۔حیات شبلی،ص:۱۵،نزہۃ الخواطر، ج۵،ص:۵۰۶
۲۳۔مخزن برکت،ص:۶۲
۲۴۔ہفت تماشامطبوعہ نول کشورپریس، ص:۱۴۷، بحوالہ بانی درس نظامی،ص:۸۹
۲۵۔نزہۃ الخواطر،ج۵،ص:۶۲۷
۲۶۔نزہۃ الخواطر،ج۶،ص:۷۷۷
۲۷۔نزہۃ الخواطر،ج۶،ص:۷۷۷
۲۸۔حیات شبلی،ص:۱۶
۲۹۔نزہۃ الخواطر
۳۰۔بانی درس نظامی،ص:۶۱۔۶۲
۳۱۔بانی درس نظامی،ص:۸۹
۲۳۔نزہۃ الخواطر، ج۶، ص:۶۹۳
۳۳۔نزہۃ الخواطر، ج۶،ص:۷۲۹
۳۴۔نزہۃ الخواطر، ج۷، ص:۱۰۰۶
۳۵۔نزہۃ الخواطر، ج۷،ص:۱۰۵۳
۳۶۔نزہۃ الخواطر،ج۷،ص:۱۱۳۲
۳۷۔نزہۃ الخواطر،ج۷،ص:۹۳۸
۳۸۔حیات شبلی،ص:۱۹
۳۹۔تذکرہ علمائے فرنگی محل،ص:۲۰۵
۴۰۔بانی درس نظامی،ص:۱۸۶
۴۱۔تذکرہ علمائے فرنگی محل ،ص:۱۹۷
۴۲۔بانی درس نظامی،ص:۱۸۷
۴۳۔بانی درس نظامی،ص:۱۳۶
۴۴۔تذکرہ علمائے فرنگی محل ص:۷۴
۴۵۔آثارحضرت مرزامظہرجان جاناں شہید، ص: ۱۲۹
۴۶۔نزہۃ الخواطر،ج۷،ص:۱۰۸۸
۴۷۔تذکرہ علمائے فرنگی محل ،ص:۲۰۶
۴۸۔باقیات،ص:۱۵۵
۴۹۔حیات شبلی،ص:۲۴
۵۰۔نزہۃ الخواطر،ج۶،ص:۸۵۱
۵۱۔بانی درس نظامی،ص:۱۶۳
۵۲۔بانی درس نظامی ،ص:۱۸۶
۵۳۔نزہۃ الخواطر،ج ۷، ص:۱۰۲۱
۵۴۔نزہۃ الخواطر،ج۷،ص:۹۶۱
۵۵۔نزہۃ الخواطر،ج۸، ص: ۱۲۶۸
۵۶۔تفصیل کے لئے دیکھئے :فتاوی ندوۃ العلماء :مقدمہ
۵۷۔تفصیل کے لئے دیکھئے:بینک ،انشورنس اور سرکاری قرضے،از مولانابرہان الدین سنبھلی
۵۸۔حیات مرشدصوفی باصفا،ص:۶۳
۵۹۔اودھ میں مراکزافتاء،ص:۲۲۴
۶۰۔حوالہ سابق
۶۱۔مختصرسوانح حیات محمد عین القضاۃ،ص:۱۶
۶۲۔امام اہلسنت مولانا عبد الشکور فاروقی، ص:۱۱۹
۶۳۔اودھ میں مراکزافتا،ص:۲۳۳
۶۴۔اودھ میں مراکزافتا،ص:۲۳۳
۶۵۔اودھ میں مراکزافتا،ص:۲۳۶
۶۶۔انتخاب مضامین سیدسلیمان ندوی ،ص:۴۹