اعجازِ علمی ‎‎: مفہوم اور تاریخی پس منظر

اعجازِ علمی ‎‎: مفہوم اور تاریخی پس منظر

                                                                                                                        مولاناڈاکٹرمحمد علی ندوی

                                                                                                استاذدارالعلوم ندوۃ العلماء

قرآنِ مجید وہ بے مثال کتاب ہے جو ہر عہد کے انسان کو اپنی حقانیت کے جلووں سے حیران و ششدر کرتی رہی ہے۔ یہ وہ آخری کتاب ہے جسکا بنیادی مقصد ہدایت انسانی اسلیے یہ خود ہی معجزہ اور اپنی صداقت کی دلیل بھی ہے۔

ہر نبی کو ایسے معجزات عطا کيے گیے جو انسانی طاقت سے ماورا ہوں، تاکہ نبی کی سچائی پر یہ روشن دلیل ہوں، پھر اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو ایسے معجزات عطا کيے جو ان کی قوم کی مہارت اور خصوصیات کے موافق ہوتا، تاکہ وہ اس کی حقیقت کو بآسانی سمجھ سکیں۔

چونکہ آپ ﷺ کی رسالت سابقہ رسالتوں کے برعکس عالمگیر اور خاتم تھی، اورآپ کی امت کو (علوم و خصوصیات، ترقی وتمدن کے اعتبار سے)سابقہ امتوں سے جدا ہونا تھا؛ اس لیے مناسب تھا کہ آپ ﷺ کے معجزات محدود نہ ہوں، بلکہ متنوع اور متجدد ہوں۔

چنانچہ اس کتاب ہدایت کے معجزانہ پہلو متعدد ہوے؛ کہیں اس کی فصاحت و بلاغت دلوں کو مسحور کرتی ہے، کہیں اس کی تشریعی حکمتیں عقل و فکر کو حیرت میں ڈالتی ہیں، اور کہیں اس کے اندر پوشیدہ علمی اشارات انسانی ذہن کو کائنات کے اسرار پر غور و تدبر کی نئی راہیں دکھاتے ہیں۔ انہی درخشاں پہلوؤں میں سے ایک نمایاں پہلو اعجازِ علمی ہے، جس سے مراد قرآنِ مجید کے وہ بیانات اور اشارے ہیں جو زمانۂ نزول میں انسانی علم کی دسترس سے کہیں بلند تھے، مگر علم و تحقیق کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان کی معنوی گہرائی اور صداقت مزید واضح ہوتی چلی گئی۔

یوں قرآن ایک ہمہ گیر اور ابدی معجزہ ہے جس کے اعجاز مين تنوع ہے، یہ گویا ایک ایسے بحرِ بے کنار کی مانند ہے جس کی ہر موج زمانے کے بدلتے افق پر ایک نئی معنوی روشنی بکھیرتی رہتی ہے، اسکی حقانیت سب کے سامنے واضح ہوتی ہے، اور حجت تام ہوتی ہے۔

اعجاز قرآنی کے ان مختلف پہلوؤں کی تفصیل ہم گزشتہ سے پیوستہ شمارہ (4) میں شائع مقالہ "اعجاز قرآنی کی حقیقت اور اقسام” میں بیان کرچکے ہیں۔ یہاں ان مختلف پہلوؤں میں ایک نمایاں پہلو ’’اعجازِ علمی‘‘ پر گفتگو مقصود ہے۔

’’اعجازِ علمی‘‘ کا مفہوم

"الإعجاز العلمي في القرآن الكريم” عربی اصطلاح ہے، جسکو اردو میں "قرآن پاک کا سائنسی اعجاز” اور انگلش میں (Scientific Miracles of the Qur’an) کہ سکتے ہیں۔

قرآنِ کریم میں اس زاویہ سے غور کیا جائے تو اس میں ایسے حقائقِ کائنات کا ذکر ملتا ہے جو نزولِ قرآن کے وقت انسانی علم و سائنس کی دسترس سے باہر تھے، لیکن بعد کی سائنسی تحقیق نے ان کا انکشاف کیا، جس سے ان لوگوں پر قرآن کی صداقت ایک نیے زاویہ سے کھلتی ہے جو عقل، مادیت اور سائنس کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہی پہلو قرآن کے ’’سائنسی اعجاز‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔

قرآن پاک میں کائنات، فلکیات (Astronomy)، حیاتیات (Biology)،طب  (Medicine)، علوم طبیعہ (Natural Sciences) اور فطری قوانین (Natural Laws) کے ایسے اشارات ملتے ہیں جنہیں اُس وقت کے انسان سمجھ نہیں سکتے تھے۔ لیکن جدید سائنس نے صدیوں بعد ان کی تصدیق کی، اور یہ بات واضح ہوئی کہ قرآن انسانی کلام نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ کلامِ الٰہی ہے۔

کیوں نہیں جبکہ اللہ ہی کی طرف سے دونوں ہیں: آیات کونیّہ مرْئِیَّہ اور آیات قرآنیّہ متْلُوَّہ، کائنات کا خالق اللہ ہی ہے، اور قرآن اللہ ہی کا کلام ہے، تو یہ ناممکن ہے کہ دونوں میں تعارض یا اختلاف ہو، نا ممکن ہے کہ قرآن عظیم اُن کائناتی وسائنسی حقائق کے خلاف ہو جو سائنس دانوں نے دریافت کیے، بشرطیکہ دریافت درست ہو۔

اور چوں کہ احادیث نبویہ بھی وحی کا درجہ رکھتی ہیں اور اپنے وجود میں وہ قرآن پاک کے تابع بھی ہیں شارح بھی؛ اسلیے یہی بات احادیث پر بھی صادق آتی ہے کہ وہ بھی سائنسی اعجاز رکھتی ہیں۔ کتاب و سنت کے اعجاز کے اس پہلو کو ہمارے دور میں شہرت ملی.

’’اعجازِ علمی‘‘ کی مشہور اور معتبر تعریف، جو سب سے زیادہ رائج اور قابلِ قبول سمجھی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ:

إخبار القرآن الكريم أو السنة النبوية بحقيقة أثبتها العلم التجريبي، وثبت عدم إمكانية إدراكها بالوسائل البشرية في زمن الرسول ﷺ(۱)

یعنی "قرآنِ کریم یا سنتِ نبویہ میں کسی کائناتی حقیقت کی ایسی خبر دینا جسے جدید سائنسی تحقیق نے بعد میں ثابت کیا ہو، اور جس کا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں انسانی ذرائع سے جاننا ممکن نہ تھا”۔ یہ شیخ عبد المجيد زندانی کی تعریف ہے،عالمی ادارہ (الھیئة العالمیة للإعجاز العلمي) نے اسکو اپنایا ہے.

اس پہلو سے یہ بات قرآن کے منزل من اللہ ہونے کی دلیل ہے اور اس امر کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جو کچھ اپنے رب کی طرف سے بتایا، وہ بالکل سچ ہے۔

یہاں ’’کائناتی حقیقت‘‘ یا سائنسی حقائق سے مراد وہ حقیقت ہے جو اس وسیع کائنات سے تعلق رکھتی ہے؛ خواہ وہ انسان سے متعلق ہو، یا حیوان و نباتات سے، یا پہاڑ، سمندر اور زمین سے، یا آسمان اور اس میں موجود سیاروں وستاروں سے، یا اسکے علاوہ سے۔

"سائنسی اعجاز” کو عربی میں "اعجازِ علمی” اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ تجرباتی علوم اور کائناتی علوم وحقائق سے تعلق رکھتا ہے۔ تاہم اسکو اردو میں ’’سائنسی اعجاز‘‘ سے تعبیر کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔

’’سائنس‘‘کے لیے معاصر عربی میں’’علم‘‘ یا’’ علوم‘‘کی اصطلاح رائج ہے، جبکہ "علم” لغت میں تمام علوم کو شامل ہے، اور شرعی اصطلاح میں بھی ’’علم‘‘ عام ہے، لیکن نیت، فرق مراتب اور شرائط کے لحاظ کے ساتھ ۔ لھذا وہ فضیلت وثواب والا علم جب ہی ہوگا جب نیت درست ہو اور علم الہی کو امام مانا جائے۔ یعنی علم اپنی شرائط کے ساتھ ہو تو نافع اور فضیلت والا ہوگا ورنہ نہیں۔

لیکن سائنس کے لیے ’’علوم‘‘کی اصطلاح، شرعی اصطلاح سے متصادم ہونے کی وجہ سے قابل ترک ہے۔

"تفسیرِ علمی” یعنی  سائنسی پہلو سے تفسیر

"اعجازِ علمی” کی تعریف وتفصیل بیان ہوئی، اس سے ملتی جلتی اصطلاح ’’تفسیرِ علمی‘‘ بھی رائج ہے، جسکی تعریف یوں کی جاسکتی ہے:

’’تفسیرِ علمی وہ عمل ہے جس میں کسی آیت یا حدیث کے معانی کو کائناتی علوم کی درست ترین یا غالب نظریات کی روشنی میں بیان کیا جاتا ہے‘‘۔ (۲)

بہ الفاظ دیگر یہ قرآن پاک کی ان آیات کی سائنسی پہلو سے تفسیرِ ہے جن میں کائنات کے کسی جزو کا تذکرہ ہوا ہے۔

اسکو اردو میں ’’سائنسی تفسیر‘‘کہ سکتے ہیں، اس سے زیادہ موزوں اصطلاح اگر ہو تو ’’سائنسی تفسیر وتشریح‘‘ہوسکتی ہے؛ کیوں کہ تفسیرِ قرآن پاک کے لیے مستعمل ہے اور تشریح حدیث شریف کے لیے، اور یہ عمل دونوں میں پایا جاتا ہے۔

یہ اصطلاح زیادہ تر دسویں صدی ہجری کے بعد مفسرین کے ہاں استعمال ہوئی۔ بعض مفسرین نے عملی طور پر اس کا دائرہ صرف فلکیات اور طب تک محدود کیا، جبکہ بعض نے طبیعی و کونیاتی تمام علوم تک اسے وسیع کیا۔

تعریف کی وضاحت:

1۔سائنسی علوم میں عقلی، تجرباتی اور آلات کے ذریعہ مشاہد ومحسوس ہونے والے تمام علوم شامل ہیں، چاہے آیت یا اسکی تفسیر کا تعلق علم فلکیات(Astronomy)سے ہو یا علوم ارضی (Earth Sciences & Geology)، موسمیات (Meteorology) ، ماحول (Environment) ، علوم  بحری (Marine Sciences)، نباتیات (Botany) ، حیاتیات (Biology) ، حیوانیات (Zoology) ، علم الجنین  (Embryology)،علم طب یا میڈیکل سائنس (Medical Science)سے ہو، یا فیزیا وکیمیا (Physics & Chemistry)، ریاضیات (Mathematics)، علوم اجتماعیہ (Social Sciences)، سے ہو، یا ان کے علاوہ کسی بھی ‎شعبہ سے اسکا تعلق ہو۔

.2کائناتی غیبی مظاہرسے مراد ایسے کائناتی مظاہر کا تذکرہ ہے جو ظاہری حس ومشاھدہ سے، یا بغیر آلات کے، سمجھ میں نہ آتے ہوں اور محمد ﷺ کے زمانہ یا ماحول میں پردہ غیب میں تھے، مدتوں بعد اسکا انکشاف ہوا ہو.

3۔ذکر صراحۃ یا اشارۃ آیا ہویعنی صریح عبارت سے وہ بات سمجھ میں آرہی ہو یا اشارہ کنایہ سے۔ اصول فقہ کی اصطلاح میں نص فہمی کی تمام صورتیں شامل ہیں:عبارۃالنص،اشارۃ النص، دلالۃ النص اوراقتضاء النص، چاروں میں سے کسی انداز کی دلالت یا نص فہمی ہو، بشرط یہ کہ کسی نص قطعی یا اقوی سے متعارض نہ ہو.

اسطرح تفسیرِ علمی یا سائنسی تفسیرِکی اصطلاح واضح ہوگئی ہوگی، تاہم اس میں اور سائنسی اعجازکے درمیان مشابہت محسوس ہورہی ہے، چنانچہ دونوں کے دومیان فرق واضح کئے بغیر بات ادھوری رہے گی۔

اعجازِ علمی اور تفسیرِ علمی میں فرق :

بعض حضرات دونوں میں فرق کے قائل نہیں ہیں۔(۳)

لیکن صحیح یہ ہے کہ چند پہلو سے فرق ہے:

  1. موضوع اور دائرۂ کار:

اعجازِ علمی صرف ان امور سے متعلق ہوتا ہے جو حقائقِ شرعیہ اور حقائقِ کونیہ کے درمیان مطابقت پیدا کرتے ہیں۔ البتہ تفسیرِ علمی وسیع تر ہے اور یہ کائناتی حقائق، نظریات اور ضمنی اشاروں کے ذریعے نصوصِ قرآنی یا حدیثی کی وضاحت کرتا ہے۔ یہی فرق دونوں کی تعریف میں بھی ہے، بہ الفاظ دیگر:

o        تفسیرِ علمی: قرآن کی آیات کو سائنسی تحقیقات کی روشنی میں سمجھنا۔

o        اعجازِ علمی: قرآن کی طرف سے ایسی سچائی کا بیان جسے سائنس نے بعد میں دریافت کیا۔(۴)

۲۔ عموم وشمولیت:

تفسیرِ علمی عام ہے، یہ کائناتی حقائق ونظریات، قطعیات وظنیات؛ سب کو شامل ہے، اور "اعجازِ علمی” اس کا خاص حصہ ہے، یہ صرف کائناتی حقائق سے بحث کرتا ہے، نظریات سے نہیں جو غالب گمان پر مبنی ہوتی ہیں اور محل اتفاق نہیں ہوتیں، اس میں تغیر اور رد وبدل کا امکان ہوتا ہے۔

در حقیقت ہر اعجازِ علمی تفسیرِ علمی ہے (یعنی سائنسی تفسیر کی ایک ‎‎شکل ہے)، لیکن ہر تفسیرِ علمی اعجازِ علمی نہیں ہوتی۔ دونوں میں عموم وخصوص کی نسبت ہے۔

۳۔ قبولیت (اتفاق واختلاف):

اعجازِ علمی تقریباً سب مفسرین وماہرین کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ لیکن تفسیرِ علمی میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ بعض علماء اسکی اجازت نہیں دیتے یا شدت سے محتاط رہتے ہیں۔(۵)

  1. مقدمہ اور نتیجہ:

تفسیرِ علمی مقدمہ ہے، اور اعجازِ علمی ایک خاص تفسیرِ علمی کا نتیجہ اور ثمرہ ہے۔

  1. وضاحت اور خطا کا امکان:

اگر تفسیرِ علمی کی شرائط اور ضوابط کا خیال نہ رکھا جائے، تو یہ کتاب اللہ کو سمجھنے میں غلط فہمی کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔

اعجازِ علمی زیادہ واضح ہے اور اس میں غلطی کا امکان کم ہے، کیونکہ یہ زیادہ تر شرعی اور کونی حقائق کے درمیان تعلق اور مطابقت پر مبنی ہوتا ہے۔(۶)

یہ فرق واضح کرتا ہے کہ اعجازِ علمی ایک مخصوص اور محدود دائرہ رکھتا ہے، جبکہ تفسیرِ علمی وسیع اور بعض اوقات متنوع تشریحات کی گنجائش رکھتی ہے۔

تاریخی پس منظر

قرآنِ مجید ساتویں صدی عیسوی میں اس سرزمین پر نازل ہوا جہاں سائنسی علوم اپنی ابتدائی حالت میں تھے۔ اس دور میں نہ فلکیات کی جدید تحقیقات موجود تھیں اور نہ ہی انسانی جسم یا کائنات کے اسرار و رموز سے متعلق وہ معلومات جو آج کے زمانے میں دستیاب ہیں۔ اس کے باوجود قرآن نے کائنات کے نظام، زمین و آسمان کی تخلیق، بارش کے نظام، انسانی تخلیق اور دیگر فطری مظاہر کے بارے میں ایسے بیانات پیش کیے جو محض قیاس و گمان کا نتیجہ نہیں ہو سکتے تھے۔

ابتدائی دور کے مفسرین نے قرآن کی ان آیات کو زیادہ تر تدبر، ایمان اور قدرت باری تعالی پر دلائل واشاروں کے طور پر بیان کیا، کیونکہ اس زمانے میں سائنسی علوم ابھی ترقی یافتہ نہیں تھے۔ بعد کے زمانوں میں جب علم و تحقیق نے نئی منازل طے کیں تو اہلِ علم نے ان آیات میں پوشیدہ معانی کو مزید واضح انداز میں سمجھنے کی کوشش کی۔ یوں اعجازِ علمی کی بحث رفتہ رفتہ ایک مستقل موضوع کی صورت اختیار کرتی گئی۔

چنانچہ ’’اعجاز علمی‘‘ یا ’’سائنسی اعجاز‘‘ کی اصطلاح قدیم اسلامی ورثہ میں نہیں ملتی، لیکن اس کی جڑیں ماضی کے علماء ومفسرین کے یہاں ملتی ہیں۔ انہوں نے قرآن کی ’’آیاتِ تکوینیہ‘‘ کے اشارات پر توجہ دی۔ اس کی باقاعدہ بحث مختلف تاریخی مراحل سے گزر کر سامنے آئی ہے۔

صحابہ کرامؓ اور تابعین کا بنیادی مقصد قرآن کو کتابِ ہدایت کے طور پر سمجھنا اور اس پر عمل کرنا تھا۔ وہ آیاتِ کونیہ پر غور و تدبر تو کرتے تھے مگر انہیں سائنس کی اصطلاحات میں بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرتے۔

قرآن خود انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، ارشاد باری تعالی ہے:

﴿قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ (سورة يونس: 101)

مفسرین کے نزدیک یہ آیت انسان کو کائنات کے اسرار پر غور کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ(سورة آل عمران: 190)

مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت میں کائنات کے نظام میں غور و فکر کی دعوت ہے تاکہ انسان خالق کی معرفت حاصل کرے۔

عموما مفسرینِ قرآن نے قدیم زمانے سے کائناتی آیات پر غورتو کیا، مگر اُن کی تشریحات زیادہ تر عقلی و ایمانی پہلو پر تھیں۔

عباسی دور میں مفسرین و علما نے آیاتِ کائنات پر سائنسی زاویے سے غور کرنا شروع کیا۔ ان کی تشریحات اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ قرآن کے اشارات کو وہ عقلی و کونیاتی مباحث سے جوڑتے تھے۔

تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں جب اسلامی علوم میں وسعت پیدا ہوئی تو بعض مفسرین اور علماء نے قرآن کی آیات میں موجود علمی اشاروں پر بھی گفتگو شروع کی۔ امام غزالي، ابن رشد، مرسي، امام رازی، وغیرہ نے توجہ مرکوز کی.

ڈاکٹر زغلول النجار کا بیان ہے کہ:

 "القرآن الکريم يزخر بالعديد من الآيات التي تشير إلى الكون وما به من كائنات … الخ”

 یعنی: "قرآنِ کریم میں بے شمار ایسی آیات ہیں جو کائنات اور اس میں موجود مخلوقات (جاندار اور بے جان) کا ذکر کرتی ہیں۔ نیز ان آیات میں کائنات کی پیدائش کی مختلف صورتوں، اس کے بننے کے مراحل، اور ان کے ساتھ وابستہ متعدد کونیاتی مظاہر کا تذکرہ بھی پایا جاتا ہے۔ اسی طرح ان الٰہی قوانین (سننِ الٰہیہ) کا بھی بیان ہے جو اس کائنات کو منظم رکھتے ہیں۔ ان آیات سے انسان کو عبرت حاصل کرنے، حکمت کو سمجھنے، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان و یقین کو مضبوط کرنے کی دعوت ملتی ہے… تقریباً ایک ہزار آیات ایسی ہیں جو کائنات کے بارے میں صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں، ان کے علاوہ بھی بہت سی آیات ہیں جو دلالتا بیان کرتی ہیں۔”(۷)

مزید کہتے ہیں کہ ان آیات میں پوشیدہ بہت سے راز صرف جدید زمانے میں سمجھے جا سکے ہیں، اور یہی قرآنِ کریم کے اعجاز کی تجدد پذیر جہتوں میں سے ایک اہم جہت ہے۔

مشہور فرانسیسی ڈاکٹر موریس بوکائی (Maurice Bucaille)  لکھتے ہیں:

 "قرآن میں سائنسی حقائق کی ہم آہنگی نے مجھے اس نتیجے تک پہنچایا کہ یہ کتاب کسی بشر کی تصنیف نہیں ہو سکتی۔” (۸)

انیسویں اور بیسویں صدی میں سائنسی تحقیقات کی ترقی کے ساتھ مفسرین نے ان آیات پر سائنسی پہلو سے روشنی ڈالنا شروع کی جن میں کائناتی اشارے وتبصرے ہیں۔ بیسویں صدی میں کئی سائنسداں نے بھی اس پہلو سے غور کرنا شروع کیا اور وہ بھی اس نتیجہ پر پہوںچے کہ قرآن پاک اللہ تعالی خالق کائنات کا ہی کلام ہے۔

اسی طرح عرب دنیا کے محققین نےبھی بحث وتحقیق کا دسترخوان سجایا اور باقاعدہ ’’الاعجاز العلمي‘‘ کے ادارے قائم کیے اور اس موضوع پر کانفرنسیں منعقد کیں، جسکی ایک جھلک اخیر میں پیش کی جائیگی ان شاء اللہ تعالی، اس سے قبل تاریخی ادوار پیش خدمت ہیں۔

1/ پہلے دور میں ’’آیاتِ کونیہ‘‘ اللہ کی قدرت، خلق وتدبیر اور توحید وغیرہ کی نشانی کے طور پر پڑہی گئیں.

قرآنِ مجید کے نزول کے زمانے میں اس کے اعجاز کا اصل پہلو فصاحت و بلاغت، اسلوبِ بیان اور تشریعی حکمت تھا۔ عرب اہلِ زبان تھے، اس لیے وہ قرآن کے ادبی اعجاز سے بہت متاثر ہوئے۔

صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین نے قرآن کریم کے اصل مقصد کو سامنے رکھا، وہ قرآن کی آیات میں کائنات کے متعلق بیان کردہ حقائق کو اللہ کی قدرت کی نشانیاں سمجھتے تھے۔

’’غريب القرآن في شعر العرب‘‘اسکی بہترین مثال ہے، جو حضرت ابن عباس رضي الله عنہما کے جوابات پر مشتمل ہے، جو ان کے شاگرد رشید نافع بن الأزرق کے سوالات پر دیے تھے، اسی لیے اسکا دوسرا نام ’’مسائل نافع بن الأزرق‘‘بھی ہے۔

پتہ چلا کہ وہ آیات قرآنیہ پر اصل مقصد کے ساتھ مختلف پہلو سے بھی غور و تدبر کرتے تھے، اور جس علم میں مہارت رکھتے تھے اس کے ہیرے جواہرات نکال کر سامنے رکھتے تھے. اسی طرح وہ آیاتِ کونیہ پر اپنے مبلغ علم کے اعتبار سے غور وتدبر کرتے، مگر انہیں سائنس کی اصطلاحات میں بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ البتہ ان کا تدبر بعد کے علمی ادوار کے لیے بنیاد بنا۔

2/ دوسرے دور میں ’’سائنسی تفسیر‘‘کی ابتدا:

اگر ہم تفاسیر کا جائزہ لیں تو سائنسی تفسیر کا رجحان یا کونیاتی علم کی روشنی میں تفسیر کا رجحان عہد اول سےخصوصا دور عباسی سے- ہی پایا جاتا ہے۔

عباسی دور میں جب علومِ عقلیہ اور تجرباتی سائنسز (فلسفہ، فلکیات، طب، ریاضی وغیرہ) کو فروغ ملا، تو مفسرین و علما نے آیاتِ کائنات پر سائنسی زاویے سے غور کرنا شروع کیا۔

جاحظ (م 255ھ) نے حیوانات و نباتات پر قرآن کی روشنی میں کتابیں لکھیں۔

أبو بکر الرازی (ت 313ھ) اور ابن سینا (م 428ھ) نے طب و فلسفہ کے تناظر میں قرآن سے استنباطات کیے۔

البیرونی (م 440ھ) اور ابن الہیثم (م 430ھ) جیسے سائنسدانوں نے بھی قرآن کے اشارات کو تحقیق کا محرک قرار دیا۔

اس دور میں مسلم سائنسدانوں نے قرآنی اشارات کی روشنی میں فلکیات، طب اور طبیعیات میں اہم دریافتیں کیں۔ اگرچہ انہوں نے براہِ راست "سائنسی اعجاز” کی اصطلاح استعمال نہیں کی، مگر ان کے ہاں یہ تصور موجود تھا کہ قرآن سائنس کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

یہ دور عباسی دراصل "اعجاز علمی” کے ابتدائی بیج بونے کا زمانہ تھا۔ اس دور میں علماے کرام اور مفسرین عظام نے بھی سائنسی مباحث کی طرف توجہ کی۔ ان کی تشریحات اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ قرآن کے اشارات کو وہ عقلی و کونیاتی مباحث سے جوڑتے تھے۔

امام غزالی (م 505ھ) نے إحياء العلوم میں ذکر کیا کہ قرآن میں تمام علوم کے اصول پائے جاتے ہیں، پھر مزید تفصیل کے ساتھ جواہر القرآن میں کلام کیا۔ وہ لکھتے ہیں:

"العلوم كلها داخلة في أفعال الله وصفاته، وفي القرآن شرح ذاته وأفعاله وصفاته. وهذه العلوم لا نهاية لها، وفي القرآن إشارة إلى مجامعها”.(۹)

 اسی طرح انہوں نے یہ بھی لکھا کہ قرآن میں کائنات کے حقائق کی طرف اشارے موجود ہیں جن پر غور کرنا علم کا ایک اہم دروازہ ہے۔

قاضی ابن العربي (م 543ھ) نے اپنی کتاب قانون التاويل میں ذکر کیا کہ قرآن میں ایسی نشانیاں ہیں جو اس کے الٰہی ہونے کی دلیل ہیں۔

 ابن رشد (م 595ھ) اور دیگر علما نے بھی قرآن کی آیاتِ کونیہ (کائناتی آیات) میں علمی دلائل کا ذکر کیا۔(۱۰)

 ایک قدم آگے بڑھ کر امام فخر الدین رازی (م 606ھ) نے اپنی تفسیر کبیر مفاتیح الغیب میں متعدد مقامات پر فلکیات اور طبیعیات کے حوالے دیے۔ آسمانوں کی تخلیق اور اجرامِ فلکی کے نظام پر انہوں نے بحث کی۔ (۱۱)

 علامہ قرطبی (م 671ھ) نے اپنی تفسیر میں کائنات سے متعلق اشارات کی وضاحت کی.

 علامہ بدر الدين الزرکشي (م 794 نے البرہان میں؛ قرآن میں علوم  الأولين والآخرين کے اصول پائے جانے کی بات کہی اور امام غزالی کے دلائل پر اضافہ کیا. (۱۲)

 پھر علامہ سیوطی (م 911ھ) نے الاتقان میں، الإكليل فى استنباط التنزيل اور معترك الأقران في إعجاز القرآن میں مفصل بحث کی. علامہ غزالي، أبو الفضل مرسی (م 655ھ)، وغیرہ کے اقوال نقل کیے.

اگرچہ اس دور میں "اعجازِ علمی” کی اصطلاح عام نہیں تھی، مگر محققین ومفسرین کے اقوال، اشارے اور تبصرے "اعجازِ علمی” پر گفتگو کی بنیاد بنے۔

3/ تیرہویں صدی ہجری میں سائنسی تفسیر اور اصطلاح کی ابتدا، اور چودھویں صدی ہجری میں اصطلاح کا رواج، اور سائنسی تفسیر واعجاز کی شہرت:

جدید دور یعنی تیرہویں اور چودھویں صدی ہجری (انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی) میں جب یورپ میں سائنسی تحقیقات نے زبردست ترقی کی، تو مسلم مفکرین نے دوبارہ قرآن کے سائنسی پہلو کی طرف توجہ کی۔ مفسرین نے اپنی تفسیر میں ان آیات پر سائنسی پہلو سے روشنی ڈالنا شروع کی جن میں کائناتی اشارے وتبصرے ہیں۔ ان میں سر فہرست علامہ جوہر طنطاوی رحمہ اللہ ہیں۔

بعد ازاں – خصوصا بیسویں صدی میں- کئی سائنسداں نے بھی اس پہلو سے غور کرنا شروع کیا اور وہ بھی اس نتیجہ پر پہوںچے کہ قرآن پاک اللہ تعالی خالق کائنات کا ہی کلام ہے، کسی مخلوق کا نہیں ہوسکتا، جیسے ڈاکٹر موریس بوکائی، انہوں نے مدتوں غور وفکر، بحث وتمحیص، ریسرچ وتحقیق کے بعد کتاب The Bible, the Qur’an and Science (1976لکھ کر بین الاقوامی سطح پر قرآن کے سائنسی اعجاز کو مشہور کیا۔

سائنسی تفسیریا سائنسی اعجاز، اس اصطلاح کی ابتدا، ایک نئی اور نسبتاً معاصر اصطلاح ہے جو چودھویں صدی ہجری کے آغاز میں سامنے آئی۔ اس سے پہلے علما نے اس موضوع پر گفتگو تو کی تھی، لیکن اصطلاح وضع نہیں کی۔

جب "تفسیرِ علمی” کی اصطلاح کو شہرت ملی، تو ساتھ ہی "اعجازِ علمی” کا مفہوم بھی واضح ہونے لگا۔ بعد ازاں مختلف مصنفین نے اپنی کتابوں اور مضامین میں اس اصطلاح کو استعمال کیا، لیکن اس میں خلطِ مبحث بھی پیدا ہوا۔

بعض مصنفین کتب نے "اعجازِ علمی” کا عنوان رکھا مگر مواد محض "تفسیرِ علمی” تھا،بعض نے دونوں کو ایک ہی سمجھا، حالانکہ ان میں فرق ہے، جیسا کہ گزرا،کئی مصنفین ومفسرین نے سائنسی تفسیر پر کام کیا، جن میں اہم تصنیفات درج ذیل ہیں:

كشف الأسرار النورانية القرآنية فيما يتعلق بالأجرام السماوية والأرضية، والحيوانات والنباتات والجواهر المعدنية   تیرہویں صدی ہجری کے عالم فاضل اور ماہر طبيب: محمد بن أحمد الإسکندراني، کی ہے. تین جلدوں میں (سنه 1297 هجري- المطبعة الوهبية – مصر) سے چھپی ہے.

 طبائع الاستبداد ومصارع الاستعباد  معروف مصلح علامه عبد الرحمن الكواكبي کی ہے.

اسی طرح: إعجاز القرآن علامہ مصطفی صادق الرافعي کی بھی ان کتابوں میں ہے جن میں سائنسی تفسیر کا رجحان پایا جاتا ہے.

اس سلسلہ کا سب سے مفصل کام اس صدی میں علامہ جوہر طنطاوی کی تفسیر ‌الجواهر فى تفسير القرآن الكريم ہے، جو پچیس اجزا پر پھیلی ہوئی ہے، مصر سنہ 1341/ 1351 ـ میں چھپ کر منظر عام پر آئی. اپنی اہمیت وافادیت کے باوجود مقبول عام نہ ہوسکی، بلکہ تنقید کا نشانہ بنی رہی؛ کیوں کہ مصنف تفسیر کے اصول وضوابط بالائے طاق رکھ کر جذباتیت کے ساتھ سائنسی رو میں بھتے چلے گئے۔

چنانچہ اس میں معتبر تفسیر کی اتنی ندرت اور سائنس کی اتنی بھرمار ہے کہ اسکو تفسیر کے بجائے سائنسی کتاب کہا جاسکتا ہے. محمد حسین ذہبی کے بقول:

موسوعة علمية، ضربت فى كل فن من فنون العلم بسهم وافر، مما جعل هذا التفسير يُوصف بما وُصِف به تفسير الفخر الرازى، فقيل عنه: "فيه كل شىء إلا التفسير” بل هو أحق من تفسير الفخر بهذا الوصف وأولى به.(۱۳)

4/ دور حاضر میں اس میدان میں خدمات کی شکلیں:

سائنسی تفسیر واعجاز کے میدان میں ماہرین نے مختلف شکلوں میں خدمات انجام دیں، تصنیف کے میدان سے لے کر مقالات، محاضرات، عالمی کانفرنسیں، سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعہ اپنی ریسرچ وتحقیق کو پیش کیا.

 ادارہ جاتی سطح پر ارتقاء: انفرادی کوششیں اصل ہیں، وہ اپنی جگہ، لیکن ادارہ جاتی سطح نے سائنسی تفسیر واعجاز کی شہرت کو چار چاند لگادیے، اس میدان کے معاصر ماہرین کی ایک جماعت – جن میں سرفہرست علامہ عبد المجيد الزندانی ہیں- نے سن 1406ھ میں الھیئة العالمیة للإعجاز العلمی فی القرآن والسنّة جیسا عالمی ادارہ؛ رابطہ عالم اسلامی- سعودیہ، کے زیر سایہ قائم کیا، جس نے اس میدان کو منظم اور تحقیقی انداز میں آگے بڑھایا۔

اس ادارے نے اعجازِ علمی کے اصول و ضوابط مرتب کیے۔مختلف کانفرنسیں اور مجلات شائع کئے۔اس موضوع کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔اسکے بعد مختلف ممالک میں کئی ادارے قائم ہوئے۔

الھیئة العالمیة للإعجاز العلمی کے بعد کئی عالمی ادارے قائم ہوے، اور علاقائی ادارے بھی قائم ہوے جیسےمرکز الإعجاز العلمی فی القرآن والسنّة- القاهرة، مصراسی طرح عرب جامعات میں ایک طرف اعجاز علمی کو ریسرچ اور ڈگری کے مقالوں کا موضوع بنایا گیا، تو دوسری طرف تحقیقی مراکز قائم ہوے۔

* انفرادی واجتماعی خدمات مختلف شکلوں میں سامنے آئیں، اس پہلو پر کثرت سے کتابیں لکھی گئیں، اور کئی اہم ماہرین نے مقالات، لکچرس، عالمی کانفرنسیں، اور تصنیفات کے ذریعہ اس میدان میں مختلف خدمات انجام دیں۔ یہ حضرات اور ان کی خدمات مختلف طرز اور قسم کی ہیں:

1/ بعض ان میں غیر مسلم ساینس داں ہیں، جیسے ڈاکٹر موریس بوکائے (Maurice Bucaille)، جنکا تحقیقاتی سفر لمبے عرصہ پر محیط ہے، قرآن پاک میں خوب غور فکر، بحث وتحقیق کے بعد قرآن کے سائنسی اعجاز کو تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ اس پر مشہور کتاب The Bible, the Qur’an and Science (1976)  لکھ کر دنیا پر بڑا احسان کیا۔ اسی طرح ڈاکٹر کیتھ مور (Keith Moore)  کی تحقیقات بھی بہت معیاری ہیں، انکی کتاب "علم الاجنۃ” اسی اعجاز پر ہے۔ اور ان حضرات کے علاوہ اور بھی ہیں، اور ایک بڑی تعداد نے تو اسلام بھی قبول کیا.

2/ بعض مسلم سائینس داں ہیں، جیسے ڈاکٹر عبد المجيد الزنداني اليمني، جو "الھیئة العالمیة للإعجاز العلمی فی القرآن والسنّة” (سائینسی اعجازِ برائے قرآن و سنت کا بین الاقوامی ادارہ) کے پہلے سیکرٹری جنرل  (Secretary-General) رہے۔ مسلم سائنس دانوں کی اہم شخصیات میں ڈاکٹر زغلول النجار،اورمـهندس عبد الدائم الكحيل   بھی شامل ہیں۔

3/ بعض مسلم علماء ہیں، سائینس کا علم بھی رکھتے ہیں، ان کی خدمات بھی سائینسی اعجازِ پر مختلف پہلو سے ہیں، جیسے ڈاکٹر عبد الله المصلح، جو "الھیئة العالمیة للإعجاز العلمی ..” (سائنسی اعجازِ کا بین الاقوامی ادارہ) کے موجودہ سیکرٹری جنرل ہیں۔

4/ اس میدان میں معاصر مفسرین قرآن نے بھی بہت کچھ لکھا ہے، بعض نے اپنی تفسیر میں خصوصی توجہ دی جیسے جوہر طنطاوی، بعض نے دوران تفسیر اس پر گفتگو کی  جیسے شیخ محمد متولی الشعراوی، یا تفسیر میں کائناتی آیات کے تحت لکھا جیسے شيخ وهبة الزحيلي، محمد علي الصابوني وغيره. سر سید احمد خان (ت 1898ء) نے اپنے تفسیری انداز میں قرآن کو سائنس کے مطابق بیان کرنے کی کوشش کی۔

5/ اسی طرح علوم قرآن پر لکھنے والوں نے بھی اس میں حصہ لیا؛ جیسے ڈاکٹر مناع القطان وغیرہ، اور اعجاز قرآنی پر لکھنے والوں نے اس پہلو پر تفصیل سے لکھا ہے؛ جیسے ڈاکٹر مصطفى مسلم جنہوں نے اپنی کتاب ’’مباحث فی إعجاز القرآن الكريم‘‘ کے آخری حصہ میں اس پر روشنی ڈالی، اور کئی نمونے پیش کئے.

6/ الھیئة العالمیة للإعجاز العلمیکے باحثين خصوصا مجلة الإعجاز العلمي میں لکھنے والوں کی بڑی تعدادہے، جیسے ڈاکٹر عبد الـجواد الصاوي (عضو الهيئة العالمية للإعجاز العلمي)۔ اس میدان میں اساتذہ جامعات(تخصص تفسیر) بھی شامل ہیں؛ جیسے ڈاکٹر سعاد يلدرم (رئيس قسم التفسير بجامعة أتاتورك- تركيا)،ڈاکٹر مساعد بن سليمان الطيار (الأستاذ المشارك بكلية المعلمين- جامعة الملك سعود- الرياض)۔

7/ اس میدان میں پائیدار خدمت تصنیف ہے، چاہے مجلات کی شکل میں ہو یا رسالوں کی شکل میں، یا مستقل اور باضابطہ تصنیف ہو۔ عموما یہ تصنیفات دو قسم کے مضامین پر مشتمل ہوتی ہیں: اصولی مباحث اور تطبیقاتی مباحث.

بہر حال جدید سائنسی انکشافات کے بعد یہ حقیقت خوب واضح ہوگئی کہ قرآن کی بعض آیات ایسے حقائق کی طرف اشارہ کرتی ہیں جنہیں اُس وقت انسان جان ہی نہیں سکتا تھا۔ مثلاً:

1۔      انسان کی تخلیق کے مراحل (المؤمنون: 14) جدید علمِ جنین (Embryology) سے پوری طرح ہم آہنگ۔

2۔کائنات کے پھیلنے کا ذکر (الذاريات) جدید کونیات (Cosmology) میں Big Bang Theory  سے مطابقت۔

3۔آسمان کی حفاظتی تہہ (الانبياء: 32) سائنس نے اَجواءِ زمین کی حفاظتی ساخت کو تسلیم کیا۔

ان شاء اللہ آیندہ اعجاز علمی کے نمونوں پر مستقل اور مفصل مقالہ پیش کیا جائے گا۔

حواشی:

۱۔ دیکھئے: "تأصيل الإعجاز العلمي” للزنداني ص14، "مجلة الإعجاز العلمي” ع3 ص26

۲۔دیکھیے:الإعجاز العلمي في القرآن والسنة للدكتور عبد المجید الزندانی، دار الهدى للطباعة والنشر، (ص 22-23)

۳۔ المعجزۃ والاعجاز العلمی (191)

۴۔ الإعجاز العلمي، د. زغلول النجار (ص 35)

۵۔ إعجاز القرآن للباقلاني (1/ ص 69)

۶۔  دلائل النبوة للبيهقي (6/ ص18)، فتح الباري للحافظ ابن حجر (9/ 7)

۷۔دخل إلى دراسة الإعجاز العلمي في القرآن والسنة، زغلول النجار (ص77- 78)

۸۔(Maurice Bucaille, The Bible, the Qur’an and Science, p. 120(

۹۔إحياء علوم الدين (1/ ص289)، جواہر القرآن، ص 21)

۱۰۔ التفسير والمفسرون للذبي (2/ 355- 356)، موسوعۃ محاسن الإسلام ورد شبهات اللئام(12/ 141)

۱۱۔ مفاتيح الغيب(1/ 154) (2/ 144)، امام رازی نے مفاتیح الغیب(14/ 121) میں سائنسی تفسیر اپنانے کی وجوھات پر روشنی بھی ڈالی ہے۔

۱۲۔ البرہان في علوم القرآن(2/ ص154، 155، 181)

۱۳۔التفسير والمفسرون (2/ 379)

 

Tags

Share this post: