رتن ہندی ،روایتِ حدیث اور مولانا گیلانیؒ
افادہ: مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی
پیش کش: مولاناارشد قاسم کاندھلوی
شاید یہ جان کر بعض لوگوں کو تعجب ہو کہ پہلی صدی ہجری کے رواۃ حدیث میں ایک نام ایک ہندوستانی کا بھی ہے؛ لیکن اہلِ علم اس عجیب حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و التسلیم کی طرف منسوب بعض احادیث ایسی بھی ہیں، جو ایک ایسی شخصیت کے واسطہ سے مروی ہیں جس کو ہندوستان میں پنجاب کے علاقہ کی طرف منسوب ایک غیر اسلامی نام کی حامل شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔یہ شخص ’رتن ہندی‘ کے نام سے موسوم ہے۔ گرچہ نہ یہ شخص بہت زیادہ معروف ہے، اور نہ اس کی روایت کردہ احادیث؛ لیکن ماضی قریب میں ہندوستان کے بڑے عالمِ دین مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریروں میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تحریروں میں اس کی تائید بھی کی ہے، اور اس کی روایات کو درست تسلیم کیا ہے۔
مولانا کا علمی مقام اور اس کی بنا پر ان کا احترام مسلم؛ لیکن با ادب نقد و تبصرہ ہر ایک کے حق میں روا ہے، اور خطا و نسیان سے کوئی بھی مبرا نہیں۔ کچھ عرصہ قبل رتن ہندی کی شخصیت اور روایات سوشل میڈیا کے بعض علمی حلقوں میں موضوعِ بحث رہیں، راقم سطور نے عصرِ حاضر کے مایہ ناز محقق و مؤرخ مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی مد ظلہ سے اس سلسلہ میں استفسار کیا تو انھوں نے اس کا مفصل جواب دیا، اور اپنے ایک تحقیقی رسالہ کا بھی حوالہ دیاجو چند سال قبل ’’النوادر من احادیث سید الاوائل و الاواخر و الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین ﷺ‘‘ کے نام سے معنون ہے۔ یہ در اصل حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے دو رسالوں کا مجموعہ ہے، جس پر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ اور مولانا محمد جونپوریؒ کے حواشی اور تعلیقات ہیں، اور مولانا کاندھلوی نے مختلف نسخوں سے اس کی مراجعت اور تصحیح کا تحقیقی عمل انجام دیا ہے۔ یہ رسالہ ’مفتی الہی بخش اکیڈمی، کاندھلہ سے ۲۰۲۲ء میں شائع ہواہے۔
ذیل میں ہم اس موضوع پر مولانا موصوف سے حاصل شدہ زبانی اور تحریری افادات کو مرتب کرکے پیش کر رہے ہیں:
’رتن ہندی‘ کی شخصیت اور محدثین کی رائے
علامہ ذہبی ؒ نے ’لسان المیزان‘ میں نقل کیا ہے کہ:
وما أدراك مارتن! شيخ دجال بلا ريب، ظهر بعد الستمائة فادعى الصحبة، والصحابة لا يكذبون.وهذا جرئ على الله ورسوله، وقد ألفت في أمره جزءا۔(۱)
علامہ ذہبی نے ’رتن‘ کے حوالہ سے ایک رسالہ ’کسر و ثن رتن‘ تالیف کیا تھا، جس کا اکثر حصہ حافظ ابن حجر نے ’الاصابہ‘ میں نقل کردیا ہے۔(۲)
’اصابہ‘ میں حافظ ؒ نے ’رتن‘ کے نام اور اس کے والد کے نام کے سلسلہ میں تفصیل سے اختلاف کا ذکر کیا ہے، اور امام ذہبیؒ کی ’تجرید اسماء الصحابۃ‘ اور ’میزان‘ وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ : وہ کذاب و دجال تھا، اس کانام وضع کرکے اس سے قصص و اقوال نقل کیے گئے ہیں‘‘(۳)
حافظؒ کہتے ہیں کہ:
’’صلاح صفدی نے ’تذکرہ‘ میں’رتن‘ کے وجود کو تقویت دی ہے، اور جو لوگ اس کے خلاف کہتے ہیں‘ ان پر نکیر کی ہے، اور اس سلسلہ میں محض عقلی امکان پر اعتماد کیا ہے، حالانکہ بحث اس کی نہیں؛ بلکہ اس کے شرعی وجود کی ہے‘‘۔(۴)
حافظؒ نے صاحبِ ’قاموس‘ سے بھی منکرینِ رتن پر تنقید نقل کی ہے، لیکن یہ درست نہیں، ’قاموس‘ کی عبارت یہ ہے:
’’رَتَنْ بن کربال بن رتن‘‘۔ کہتے ہیں کہ صحابی نہیں ہے؛ بلکہ کذاب ہے، جو چھٹی صدی کے بعد ہند میں ظاہر ہوا تھا، اور صحابی ہونے کا دعوا کرتا تھا، اور اس کو سچ بھی مان لیا گیا۔وہ بعض احادیث بھی روایت کرتا تھا جو ہم نے اس کے شاگردوں کے شاگروں سے سنی ہیں‘‘۔(۵)
رتن کا ذکر ’فتاوی حدیثیہ‘ ، ’ذیل اللآلی‘،’مجمع البحار‘ اور ’جمع الوسائل‘ وغیرہ میں بھی موجود ہے، جہاں اس کو کذاب و دجال کہا گیا ہے۔(۶)
مفتی الہی بخش کاندھلویؒ کی بیاض میں رتن کا ذکر
مفتی الہی بخش کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک بیاض مولانا محمد افتخار الحسن کاندھلوی ؒ کے پاس تھی (یہ بیاض اب مفقود ہے)۔ اس کے آخر میں مذکور تھا کہ:
میں (مفتی الہی بخش) نے شہر سہارنپور میں ۷؍ربیع الاول ۱۲۳۶ھ کو شیخ عبد الحق دہلویؒ کی بیاض سے نقل کیا ہے۔(۷)
اردو کے مشہور زمانہ مجلہ ’’آگہی‘‘ کے جنوری ۸۶ء کے شمارہ میں بھی رتن ہندی کا مفصل تذکرہ موجود ہے، اس مقالہ میں ابو الفضل علامی کا قول منقول درست نہیں ہے کہ :
’’رتن ‘ خواجہ معین الدین چشتیؒ کے مریدین و مسترشدین میں سے تھا‘‘۔
مضمون نگار عبد الصمد صارم ازہری نے ذکر کیا ہے کہ :
’’وہ اصلاً ’بجنور‘ کا تھا، کہتے ہیں کہ حجاز سے واپس آکر مرادآباد میں مقیم ہوگیا تھا‘‘۔(۸)
اس سلسلہ میں مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی تحریر کرتے ہیں کہ:
’’عبد الصمد صارم اور جن لوگوں نے بھی اس موضوع پر لکھا ہے‘ انھوں نے ہندوستان کی کم از کم چار شخصیات کا ذکر کیا ہے جو رتن ہندی سے مشابہت رکھتی ہیں،اور یہی چیز ان شخصیات کے تراجم میں خلط و التباس کا باعث ہوئی ہے۔ ان چار افراد میں سے ایک صاحب وہ ہیں جو ’بجنور‘ کے ’منڈاور‘ گاؤں سے تعلق رکھتے تھے، ان سے متعلق ایک حد تک صحیح ہے کہ ان کو صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ جنوبی ہند میں کئی لوگ ایسے تھے ، البتہ یہ شمالی ہند کے پہلے فرد تھے جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ شخص شق قمر کا معجزہ دیکھنے کے بعد مکہ مکرمہ میں آپ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا، پھر ہندوستان واپس آگئے اور عہدِ عمری میں ان کا انتقال ہوا، اور منڈاور بستی کے مغرب میں تیرہ کلو میٹر کے فاصلہ پر گنگا کے کنارے ان کا مزار آج بھی معروف ہے۔ مزار پر ایک پتھر کا ڈیڑھ ہاتھ لمبا کتبہ تھا جو ہندوستان کی قدیم ’پراکریت‘ زبان میں منقوش تھا۔ یہ مزار بھی اور کتبہ بھی ۴۷ء تک ایک گھنے جنگل میں موجود تھا، ہندؤوں نے وہ کتبہ اکھاڑ کر وہیں ڈال دیا تھا، اور اس کی تحریر اور قبر کو مٹانے کی کوشش بھی کی تھی۔ امروہہ کے ایک صاحب کا وہاں جانا ہوا تو وہ کتبہ اٹھالائے، اور دو فاضل ہندؤوں سے سنسکرت اور ہندی میں اس کا ترجمہ کرایا۔ یہ دستاویز سہارنپور کے ایک صاحب تک پہنچی، جو آثارِ قدیمہ حاصل کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔ مجھے ایک اور صاحب نے مراسلت کے ذریعہ اس کی اطلاع دی تھی، وہ ان صاحب کو بھی جانتے تھے جو امروہہ کے تھے اور اپنے ساتھ کتبہ لے کرآئے تھے۔ مجھ تک وہ دستاویز تو نہیں پہنچی کہ ان صحابی کا نام و حالات دیکھتا؛ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ خبر درست ہے۔
جہاں تک رتن (راوی) کی بات ہے تو وہ اس کے علاوہ ہے، اس کا اس گاؤں سے کوئی تعلق نہیں، وہ بھٹنڈہ ، پنجاب کا تھا۔ میں نے اس کے بھی حالات جمع کرنے کی کوشش کی ہے، بھٹنڈہ میں اس کی قبر پر بھی گیا ہوں، اور اس پر ایک رسالہ بھی تحریر کیا ہے جو ابھی طبع نہیں ہوا‘‘۔ (۹)
ابو الفضل علامی صاحب سے بھی چوک ہوئی ہے کہ انھوں نے رتن کو خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: ۷۳۲ھ)کا ایک مرید بتایا ہے، جو’بھٹنڈہ‘ میں مدفون ہے۔(۱۰)
مولانا کاندھلوی کا اشکال
’رتن‘ کی شخصیت کے حوالہ سے گفتگو فرماتے ہوئے مولانا مدظلہ فرماتے ہیں کہ:
’’رتن ہندی جس شہر میں مدفون ہے ‘ وہ پنجاب کا بھٹنڈہ شہر ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں اس کا نام ’تربندہ‘ اور ’بترندہ بھی آیا ہے؛ لیکن زیادہ صحیح بھٹنڈہ ہی ہے، اور اس وقت بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ یہ دہلی اور لاہور کے مابین شاہراہ پر واقع ہے، لاہور سے ۱۵۶ اور دہلی سے ۳۱۹ کلو میٹر دور ہے۔امراء و سلاطین اور ان کی فوجیں، اور اسی طرح علماء و مشائخ و صوفیہ ، شعراء، سیاح اور مؤرخین جو دہلی سے سندھ اور پنجاب کا سفر کرتے تھے ‘ اس شہر سے گذرتے تھے؛ لیکن نہ انھوں نے اس شخص کا ذکر کیا، اور نہ کسی ایسے شخص کا جس نے اس کو دیکھا ہو یا سنا ہو۔میں خود بھٹنڈہ دو بار گیا ہوں اور وہ جگہ بھی دیکھی ہے جہاں رتن کی قبر ہے، اس مقام پر پانچ تختیاں ہیں جو سلاطین کی طرف منسوب ہیں، جس پر نادانوں نے رنگ چڑھادیا ہے کہ پڑھی بھی نہیں جاسکتیں۔ اس بنا پر اس قبر کی تاریخ کے بارہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
دوسرے یہ کہ جن لوگوں نے اس کا ذکر کیا ہے‘ ان کی تعداد تین چار سے زیادہ نہیں ہے، اور وہ بھی اس کے زمانہ سے بہت بعد کے ہیں، جو خود اس کے دعوی کے بطلان کی دلیل ہے ‘۔ میں نے اس کو تفصیل سے ایک مستقل رسالہ میں ذکر کیا ہے اور اس کے ساتھ سرہند میں ’براس‘ کی ان قبروں کا بھی ذکر کیا ہے جن کے بارہ میں انبیاء کی قبریں ہونے کا دعوا کیا جاتا ہے‘‘۔(۱۱)
آگے فرماتے ہیں:
’’حافظ ابن حجرؒ نے رتن کی اربعینات کی روایت کو ناجائز قرار دیا ہے، موضوعات اور واضعینِ حدیث پر لکھنے والے سب لوگوں نے ’رتن‘ کا تذکرہ کیا ہے‘‘۔
علامہ صغانی کی رائے
’نوادر‘ میں ’رسالۃ الصغانی فی الموضوعات‘ کے حوالہ سے مذکور ہے کہ: سب سے زیادہ قابلِ اعتمادبات رتن کے بارہ میں علامہ صغانی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی ہے جو رتن کے معاصر تھے، اور اس کے زمانہ میں حیات تھے۔ امام صغانیؒ فرماتے ہیں:
’’و احادیث رتن الہندی المنقولۃ عنہ من جنس الاحادیث التی تنسب الی الحکیم الترمذی‘‘۔
آگے کہتے ہیں:
’’و کل ھذا لیس لہ اصل یعتمد و قاعدۃ تعتقد بل ينقلها الْفُقَرَاء فِي زواياهم وَدين الْإِسْلَام أشرف من أَن تَأْخُذ من كل جَاهِل عَامي، أَو يثبت بقول كل غافل بقول كل غافل غبي‘‘۔ (۱۲)
مولانا گیلانیؒ کی غلط فہمی کی وجہ
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ سے اتنی بڑی فروگذاشت کیوں کر ہوئی، تو جواب اس کا مولانا موصوف کی نظر میں یہ ہے کہ:
’’مولانا گیلانیؒ کے زمانہ تک اتنی کتابوں تک رسائی آسان نہیں تھی، اور مطبوعات بھی بہت کم تھیں۔ دراصل مغالطہ ان کو صلاح الدین صفدی کی ’الوافی بالوفیات‘ کی ایک روایت سے ہوا، اور صفدی کو ایک ہندی صوفی کی روایت سے مغالطہ ہوا‘‘۔
مولانا فرماتے ہیں کہ:
’’ حقیقت میں ’رتن‘ کی روایات ایسی ہیں جو عقلی طور پر بھی سمجھ میں نہیں آتیں؛ وہ دعوی کرتا ہے کہ وہ غزوۂ احد میں شریک تھا، خانۂ کعبہ کی بنیاد کے موقع پر بھی موجود تھا، اور حضرت فاطمہؓ کے نکاح میں دف بجارہا تھا‘‘۔
رتن ہندی سے منقول روایات
مفتی الہی بخش صاحبؒ کی بیاض میں شیخ رتن ہندی کی ایک سو بیس حدیثوں کا ذکر ہے(۱۳)۔
مولانا نور الحسن کاندھلوی لکھتے ہیں کہ :
’’میرے کتابوں کے ذخیرہ میں ایک مخطوطہ ہے، جس میں رتن کی چالیس روایتیں ہیں۔ یہ رسالہ امیر باقی بن امیر قاسم بن امیر رستم کے خط میں ہے، جو ربیع الاول ۱۰۳۰ھ مطابق جنوری ۱۶۲۱ء کا تحریر کردہ ہے، اور یہی ان روایات کے کذب و افتراء کی دلیل ہے۔
رتن ہندی کی روایات میں سے چند بہ طورِ نمونہ
آخر میں ہم بہ طور نمونہ رتن ہندی کی روایت کردہ چند حدیثیں پیش کر رہے ہیں، جو حافظ ابن حجرؒ نے نقل کی ہیں:
۱- نقطۃ من دواۃ العالم علی ثوبہ احب الی اللہ من عرق مأۃ شھید۔
۲- من رد جائعا و ہو یقدر علی ان یشبعہ عذبہ اللہ و لو کان نبیا مرسلا۔
۳-البکاء فی یوم عاشوراء نور تام یوم القیامۃ۔
۴-من اعان تارک الصلاۃ بلقمۃ فکأنما اعان علی قتل الانبیاء کلھم۔
۵- ما من عبد یبکی یوم قتل الحسین الا کان یوم القیامۃ مع اولی العزم من الرسل۔
۶- کنت فی زفاف فاطمۃ، انا و اکبر الصحابۃ، و کان ھناک من یغنی شیئا، فطابت قلوبنا و رقصنا بضربھم الدف و قولھم الشعر، فلما کان الغداۃ سألنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن لیلتنا فقلنا کنا فی زفاف فاطمۃ فدعا لنا و لم ینکر علینا۔
حواشی:
۱۔لسان المیزان ،ج۲، ص:۴۵
۲۔النوادر: ۵۳، طبع: کاندھلہ، ۱۴۴۳
۳۔نوادر: ص:۵۱
۴۔نوادر:۵۱
۵۔نوادر: ۵۲،بحوالہ قاموس۔ علامہ مجد الدین فیروز آبادی۔ ص 618 ک 1 حرف الراء۔ دار الحدیث قاہرہ 1429ھ
۶۔نوادر:۵۲
۷۔نوادر: ۵۲
۸۔روزہ نامہ آگہی،شمارہ جنوری ۱۹۸۶
۹۔نوادر:۵۳
۱۰۔حوالہ سابق
۱۱۔نوادر: ۵۵
۱۲۔الموضوعات للصغانی،ص: ۳۲،ناشر:دارالمامون للتراث،دمشق،دوسراایڈیشن:۱۴۰۷ھ
۱۳۔نوادر: ۵۲