علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ- جامعیت اور اعتدال

علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ- جامعیت اور اعتدال

                                                                                                         مولاناعتیق احمد بستوی

                                                                                                استاذحدیث وفقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

دنیا میں روزانہ لاکھوں انسانوں کی پیدائش ہوتی ہےاور تقریباً اتنے ہی لوگوں کا انتقال ہوتا ہے، لیکن ایسے افراد ہر دور میں گنے چنے ہوتے ہیں جن کے کارناموں کو تاریخ بھلا نہیں سکتی، تاریخ میں مذکور افراد سارے کے سارے ایک درجہ کے نہیں ہوتے، بعض افراد ہی ایسے ہوتے ہیں جن کی مثالیں صدیوں میں نہیں ملتیں، علامہ انور شاہ کشمیریؒ انھیں بلند قامت، باکمال افراد میں ہیں جو صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔

علامہ انور شاہ کشمیری ؒ شوال ۱۲۹۲؁ھ مطابق ۱۷؍ اکتوبر۱۸۷۵؁ءکو کشمیر کے ایک گاؤں دودواں( دودھواں) میں پیدا ہوئے، صفر ۱۳۵۲؁ھ مئی ۱۹۳۳؁ءکو دیوبند میں ان کی وفات ہوئی، یعنی ہجری کے لحاظ سے ۵۹ سال اور عیسوی کے لحاظ سے ۵۸ سال کی عمر ہوئی، انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن کشمیراور متوسط اور اعلیٰ تعلیم دارالعلوم دیوبندمیں حاصل کی ، اللہ جل شانہ نے انھیں غیر معمولی ذہانت و عبقریت اور کمال صلاح و تقویٰ سے آراستہ کیا تھا، تعلیم کے تمام مراحل میں ان کی امتیازی شان رہی، اور ان نادر خصوصیات کی وجہ سے اساتذہ کے منظور نظر رہے۔

۱۳۱۲؁ھ میں دارالعلوم سے ان کی فراغت ہوئی، چند سال مدرسہ امینیہ دہلی، مدرسہ فیض عام کشمیر میں تعلیمی خدمت انجام دینے کے بعد ۱۳۳۳؁ھ میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے جب سفر حج کا ارادہ فرمایا تو علامہ محمد انور شاہ کشمیری کو دارالعلوم دیوبند میں اپنا جانشین مقرر فرمایا، اس عظیم ادارے میں علامہ کشمیری شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے منصب پر فائز ہوئے اور ۱۳؍ سال اس عظیم منصب پر فائز رہے، بعض اصولی اختلافات کی بنیاد پر ۱۳۴۶؁ھ میں دارالعلوم دیوبند سے کنارہ کش ہوگئے اور ڈابھیل (گجرات) کے حضرات کی دعوت پر آپ کا قافلہ جامعہ ڈابھیل میں فروکش ہوا، اور ان کے جامعہ ڈابھیل میں تشریف لانے کی وجہ سے جامعہ ڈابھیل اوج ترقی پر پہنچ گیا، ۲؍ صفر ۱۳۵۲؁ھ مطابق ۲۹ مئی ۱۹۳۳؁ء کو دیوبند میں آپ کی وفات کا حادثہ پیش آیا،آفتاب علم و فضل کے غروب ہونے پر علماء و ادباء نے تعزیتی مضامین لکھے اور مرثیے سپرد قلم کئے۔

علامہ کشمیریؒ کی حیات و خدمات پر چند علمی کام

علامہ انور شاہ کشمیری کی شخصیت، کمالات، تصنیفات اور خدمات پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، سب سے اولین اور اہم کتاب حیات انور ہے، جو علامہ کشمیریؒ کے ممتاز تلامذہ اور مستفیدین کے قیمتی مضامین کا مجموعہ ہے، ان مضامین میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی خصوصیات و کمالات کی مختلف جہتوں پران کے ممتاز ترین شاگردوں نے بھرپور روشنی ڈالی ہے اور علامہ کشمیری کے بڑے صاحب زادے ، صاحب اسلوب ادیب جناب حافظ محمد ازہر شاہ قیصرؔ نے اس مجموعۂ مضامین کو مرتب و شائع کیا، اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا محمد انظر شاہ کشمیریؒ جو اس حقیر کے بھی استاذ تھے، انھوں نے اچھوتے اور البیلے انداز میں ’’نقش دوام‘‘ کے نام سے علامہ کشمیریؒ کی عظیم سوانح مرتب فرمائی جو اہل علم کے لئے مطالعہ کی چیز ہے۔

حضرت علامہ محمد یوسف بنوریؒ جو علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے دور اخیر کے ممتاز شاگردوں اور علوم انوری کے جامع اور شناور ہیں انھوں نے عربی زبان میں ’’نفحۃ العنبر فی ھدی شیخ الانور‘‘کے نام سے وہ شاہکار کتاب لکھی جس کا بلاد عربیہ میں بھی خاصا چرچا رہا، اور اس کے ذریعہ عرب دنیا بھی علامہ کشمیری کی شخصیت، علوم اور کمالات سے واقف ہوئی۔

اسی طرح سے علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کے ایک اور شاگرد مولانا محمد انوری قادری لائلپوری جو علامہ انور شاہ کشمیری سے محبت کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ انوری لکھتے تھے، ان کی کتاب ’’انوار انوری‘‘حضرت علامہ کشمیریؒ کی حیات و خدمات اور علمی افادات پر بہترین کتاب ہے، بعض خصوصیات میں یہ کتاب تمام کتابوں سے فائق ہے، اور بعض ایسے اہم واقعات اور افادات پر مشتمل ہے جو اور کتابوں میں موجود نہیں۔

علامہ کشمیری کے دور حاضر کے شیدائی جناب عبدالرحمن کوندو کی کتاب ’’الانور‘‘ کا تذکرہ بھی ضروری ہے، جنھوں نے بڑی تحقیق و جستجو سے حضرت شاہ صاحب رحمۃاللہ علیہ کی یہ سوانح مرتب کی اور علامہ کشمیری کی شخصیت و کمالات کے تعارف کا ایک ذریعہ بنی، اسی سلسلہ کی ایک کڑی احقر کی کتاب ’’ علامہ محمد انور شاہ کشمیری: علوم و افکار‘‘ بھی ہے جو ۲۰۲۰؁ء میں معہد الشریعہ لکھنؤ سے شائع ہوئی۔

علامہ انور شاہ کشمیری اپنے معاصرین تلامذہ اور اہل فضل و کمال کی نظر میں

حضرت علامہ کشمیریؒکے تمام تلامذہ جو خود اپنی اپنی جگہ جبال علم ہیں ان کی جامعیت اور رسوخ فی العلم کے ذکر میں رطب اللسان ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی تصنیفات و امالی کا جو بیش قیمت ذخیرہ دستیاب ہے وہ ان کی جامعیت اور رسوخ فی العلم کا شاہد عدل ہے، حضرت شاہ صاحب کی جامعیت، فضل وکمال، رسوخ فی العلم کا تذکرہ صرف ان کے شاگرد ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے بزرگ اور معاصر اہل علم بھی علوم و فنون میں ان کی جامعیت اور علم کی ہر شاخ میں ان کے رسوخ اور دقیقہ رسی کے معترف ہیں انسان اپنے معاصر اہل علم وفضل کو بہت کم تسلیم کرتا ہے، چنانچہ مشہور ہے:’’المعاصرۃ اصل المنافرۃ‘‘ (معاصرت منافرت کی بنیاد ہے) امام مالک اور ابن ابی ذئب کی تلخیاں، عینی اور ابن حجر کی نوک جھونک، سیوطی اور سخاوی کی چشمک سب ہمعصری کا نتیجہ ہے، ایسے خوش قسمت علماء ربانیین بہت کم ملتے ہیں جن کی علمی جامعیت، تبحر، بزرگی و تقویٰ کے سامنے معاصرین نے بھی گردن جھکائی ہو۔

جب ہم دیکھتے ہیں علامہ کشمیری کے سارے معاصرین بیک زبان و قلم ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں، علوم و فنون میں ان کی جامعیت اور جلالت شان کا اعتراف کرتے ہیں تو ہمیں ان کی غیر معمولی عظمتوں کا احساس ہوتا ہے۔

مفتیٔ اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب جو جمعیت علماء ہند کے پہلے صدر تھے، تفقہ فی الدین اور رسوخ فی العلم میں ممتاز مقام رکھتے تھے، کسی کی تعریف و توصیف میں بہت محتاط تھے، انھوں نے حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی وفات کے بعد فرمایا:

’’حضرت شاہ صاحب کی وفات بلاشبہ وقت حاضرکے کامل ترین عالم ربانی کی وفات ہے، جن کی نظیر مستقبل میں متوقع نہیں، طبقۂ علماء میں حضرت شاہ صاحب کا تبحر ، کمال فضل ، ورع و تقویٰ ، جامعیت و استغناء مسلم تھا، موافق و مخالف ان کے سامنے تسلیم و انقیاد سے گردن جھکاتے تھے۔‘‘(۱)

ان کے دوسرے معاصرجو دارالعلوم دیوبند اور جامعہ ڈابھیل دونوں میں ان کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، اور تحریر و تقریر اور تدریس میں امتیازی شان کے حامل تھے، یعنی علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، وہ فرماتے ہیں:

جس طرح ہماری آنکھوں نے شاہ صاحب کا مثل نہیں دیکھا، اسی طرح حضرت شاہ صاحب نے بھی اپنا مثل نہیں دیکھا، اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تم نے شیخ تقی الدین ابن دقیق العید اور حافظ ابن حجر عسقلانی کو دیکھا؟ تو میں کہوں گا کہ میں نے دیکھا ، کیونکہ حضرت شاہ صاحب کو دیکھا تو گویا ان کو دیکھا۔( ۲)

شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا:

میں نے ہندوستان ، حجاز، عراق وغیرہ کے علماء و فضلاء سے ملاقات کی اور مسائل علمیہ میں ان سے گفتگو کی، لیکن تبحر علمی، وسعت معلومات ، جامعیت اور علوم عقلیہ و نقلیہ کے احاطہ میں کوئی نظیرنہیں پایا۔(۳)

بلاد عربیہ کے ایک بڑے عالم اور محقق نیز مشہور محدث علی حنبلی مصری( حافظ صحیحین ) ہندوستان تشریف لائے، کئی روز تک دیوبند میں قیام کیا، حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کے دروس میں شریک ہوئےا ور ان سے علمی مذاکرے کئے، انھوں نے حضرت شاہ صاحب کی شخصیت سے متاثر ہوکر فرمایا:

’’میں نے عرب ممالک کا سفر کیا، اور علماء زمانہ سے ملا، خود مصر میں کئی سال حدیث کا درس دیا، ہرجگہ کے علماء سے حدیثی مباحث کئے، مگر میں نے اب تک اس شان کا محدث عالم میں نہیں دیکھا، میں نے ان کو ہر طرح بند کرنے کی سعی کی، ان کے استحضار علوم، تیقظ، حفظ و اتقان، ذکاوت ووسعت نظر سے حیران رہ گیا، میں نے شاہ صاحب کے علاوہ اس درجہ کا کوئی عالم نہیں دیکھاجو امام بخاری، حافظ ابن حجر، امام ابن تیمیہ، ابن حزم و شوکانی وغیرہ کے نظریات پر تنقیدی نظر ومحاکمہ کرسکتا ہو، ان حضرات کی جلالت قدر کا پورا لحاظ اور بحث وتحقیق کا پورا حق ادا کرتا ہو۔‘‘(۴)

علامہ انور شاہ کشمیری کے معاصرین میں ایک بڑی شخصیت علامہ سید سلیمان ندوی کی تھی، جودارالعلوم ندوۃا لعلماء کے ممتاز ترین فضلاء میں سے تھے، اور دبستان ندوہ کے گلِ سرسبد ہیں، انھوں نے حضرت شاہ صاحبؒ کی وفات کے بعد جون ۱۹۳۳؁ءکے رسالہ’’ معارف‘‘ میں حضرت شاہ صاحب پر مفصل تعزیتی مضمون لکھا، ان کے امتیازات اور کمالات کا بھرپور اعتراف کیا، اسی مضمون میں وہ لکھتے ہیں:

’’مرحوم کم سخن لیکن وسیع النظر عالم تھے، آپ کی مثال اس سمندر کی سی ہے، جس کے اوپر کی سطح ساکت اور اندر کی سطح موتیوں کے گرانقدر قیمتی خزانوں سے معمور ہے، وہ وسعت نظر،قوت حافظہ اور کثرت مطالعہ میں اس عہد میں بے نظیر تھے، علوم حدیث کے حافظ و نکتہ شناس ، علوم ادب میں بلند پایہ، معقولات میں ماہر ، شعر وسخن میں بہرہ مند اور زہد و تقویٰ میں کامل تھے، مرتے دم تک علم و معرفت کے اس شہید نے قال اللہ و قال الرسول کا نعرہ بلند رکھا، ان کو زندہ کتب خانہ کہنا بجا ہے، شاید ہی کوئی کتاب ( مطبوعہ یا قلمی) ان کے مطالعہ سے بچی ہو۔(۵)

حضرت تھانویؒ ایک بار علامہ کشمیریؒ کے درس میں شریک ہوئے، وہاں سے مجلس میں آکر فرمایا:

 ’’شاہ صاحبؒ کے تو ایک ایک جملے پر ایک ایک رسالہ تصنیف ہوسکتا ہے، ‘‘ایک بار فرمایا:’’جب شاہ صاحب میرے پاس آکر بیٹھتے ہیں تو میرا قلب ان کی علمی عظمت کا دباؤ محسوس کرتا ہے ‘‘،ایک موقع پر فرمایا:’’حضرت شاہ صاحب حقانیت اسلام کی زندہ حجت ہیں، ان کا دین ا سلام میں وجود دین اسلام کے حق ہونے کی دلیل ہے‘‘۔(۶)

علامہ زاہد کوثری نے حضرت شاہ صاحب کی بعض تالیفات دیکھنے کے بعد فرمایا:

’’ احادیث سے دقیق مسائل کے استنباط میں شیخ ابن ھمام صاحب فتح القدیر کے بعد ایسا محدث و عالم امت میں نہیں گذرا،اور یہ کوئی کم زمانہ نہیں ہے‘‘۔(۷)

علوم وفنون میں آپ کا مقام

آپ علوم وفنون میں کس مرتبہ پر فائز تھے؟ اس کا صحیح اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی علوم و فنون پر مجتہدانہ نظر ہو، ساتھ ہی ساتھ وہ لوگ حضرت کی تالیفات وامالی پر بھی نظر رکھتے ہوں ، اسی طرح حضرت شاہ صاحب کے بڑوں، ان کے معاصرین اور ان کے شاگردوں نے جو کچھ لکھا  ہے،اس سے بھی آپ کے علم و فضل کا تھوڑا بہت اندازہ ہوتا ہے، یہاں پرہم خود علامہ کشمیریؒ کی چند ایسی باتیں پیش کریں گے جن سے موصوف کے فضل وکمال کا اندازہ ہوجائے گا، ان باتوں کو لانے سے پہلے ہم اتنی بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ علماء ربانیین خود ستائی سے کوسوں دور ہوتے ہیں،وہ لوگ حتی الامکان اپنے کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، علامہ تو خمول پسندی میں کافی آگے تھے، چنانچہ شہرت و ناموری سے بچنے کے لئے آپ نے تصنیف و تالیف کو اختیار نہیں کیا، آپ نے جو چند رسائل تصنیف کئے وہ یاتو دوسروں کے غیرمعمولی اصرار سے مجبور ہوکریا بے انتہاضرورت دیکھ کر ، غرضیکہ خودستائی علماء کا شیوہ نہیں،لیکن علماء گاہے بگاہے تحدیث نعمت کے طور پر یا اہل زمانہ کی ناقدری کا شکوہ کرتے ہوئے ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جس کو لوگ خود ستائی کہتے ہیں، حالانکہ حاشا وکلا ان کے دلوں میں عجب و خودستائی کا شائبہ بھی نہیں ہوتا، علامہ کے مندرجہ ذیل جملے بھی اسی طرح کے ہیں۔

’’میں عقلیات میں کسی کی تقلید نہیں کرتا، بلکہ فقہ کے علاوہ کسی علم میں تقلید نہیں کرتا، فقہ کے اندر فقہاء کی بات نقل کردینے کے علاوہ میرا کوئی کام نہیں ہے کیونکہ وہ دشوار ترین علم ہے، لیکن میں فقہ کے اندر بھی ان لوگوں کی تقلید نہیں کرتا جو صرف ’’بہ یفتیٰ‘‘دیکھ کر (بلا تحقیق)پیروی کرلیتے ہیں،کیونکہ بسا اوقات دونوں پہلووں پر فتویٰ ہوتا ہے، لیکن قلت نظر کی بنا پر انھیں دوسرے پہلو کا علم نہیں ہوتا، ایسے مواقع پر میں احادیث اور دوسرے ائمہ کے اقوال کو پیش نظر رکھتا ہوں، جس کسی مسئلہ میں امام صاحب کی متعدد روایتیں ہوں،اور ان میں سے ایک روایت کی تائید احادیث یا دوسرے ائمہ کے اقوال سے ہوتو وہی روایت میرے نزدیک زیادہ راجح ہوتی ہے۔

فنون عقلیہ کو میں ابن سینا سے زیادہ جانتا ہوں، کیونکہ عقلیات میں اسے صرف ارسطو کے مذہب کا علم تھا، بلکہ اس کا بھی ٹھیک سے علم نہیں تھا،کیونکہ وہ ارسطو کا مذہب صرف ایک شاگرد سے نقل کرتاہے، حالانکہ ارسطو کے شاگرد بہت سارے ہیں،اور ارسطو کا مذہب نقل کرنے میں ان میں آپس میں اختلاف ہے، بعض شاگرد کہتے ہیں کہ وہ دنیا کو فانی مانتا تھا اور بعض نے کہا کہ قدیم مانتا تھا۔‘‘(۸)  

میںمعقولات بلکہ تمام ہی فنون میں کسی کا مقلد نہیں ہوں، سوائے فقہ کے،کیونکہ اس میں میں اپنے آپ کو صرف نقل ہی کا اہل سمجھتا ہوں ،کیونکہ یہ بڑا ہی مشکل میدان ہے ،اگرچہ اس میں بھی میں ان لوگوں کی تقلید نہیں کرتا جو محض فقہاء کے قول ’’بہ یفتی‘‘کو دیکھتے ہیں، کیونکہ فتوی کبھی دونوں جانب میں ہوا کرتا ہے،لیکن ان لوگوں کو اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے دوسرے قول پر بھی فتوی ہونے کا علم نہیں ہوتا،لیکن میں اس میں احادیث اور دوسرے ائمہ کے اقوال کا لحاظ کرتا ہوں، جب امام صاحبؒ سے متعدد روایات ہوتی ہیں،اور ان میں سے ایک روایت حدیث کے موافق ہوتی ہے ،اسی طرح دوسرے ائمہ کے اقوال سے ہم آہنگ ہوتی ہے تو وہ میرے نزدیک زیادہ قابل ترجیح ہوتی ہے۔

اورجہاں تک فنون عقلیہ کا تعلق ہے تو انھیں میں ابن سیناء سے زیادہ جانتاہوں ،کیونکہ اسے تو صرف ارسطو کے مذ ہب کی واقفیت ہے ،بلکہ اس کا بھی صحیح علم نہیں ہے،کیونکہ وہ اسے ارسطو کے صرف ایک ہی شاگرد سے نقل کرتاہے،جبکہ ارسطو کے تلامذہ کی ایک لمبی فہرست ہے،اور اس کے مذہب کو نقل کرنے میں ان کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔(۹)

حضرت مولاناسعید احمد اکبر آبادی رحمۃ اللہ علیہ اپنے استاذ گرامی علامہ محمد انور شاہ کشمیری کی جامعیت کے بارے میں الانور کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:

حضرت الاستاذ مولنا محمد انورشاہ الکشمیری کی شخصیت اس زمانے میں آیت میں آیات اللہ اور حُجَّۃٌ مِنْ حُجَج الٰہیۃ تھی، یوں تو آپ کی شہرت ایک محدث جلیل القدر کی حیثیت سے تھی، لیکن در حقیقت علوم و فنون متداولہ میں کوئی علم اور فن ایسا نہیں تھا جس میں آپ کو کمالِ بلوغ نظر اور دقت نگاہ حاصل نہ ہو، چنانچہ جن حضرات کو حضرت موصوف کے درس بخاری میں باقاعدہ اور باضابطہ شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ درس ایک دریائے بیکراں کی مانند ہوتا تھا، جس کی موجیں پابند ساحل و کنار نہیں رہ سکتی تھیں، بلکہ اپنی گزرگاہ کے ہر پست و بلند وادی اور قرب وجوار سے اٹھکیلیاں کرتی ہوئی آگے بڑھتی تھی، پھر حضرت شاہ صاحب کی ایک بڑی نمایاں اورعلمی خصوصیت یہ تھی کہ مبدا فیاض نے آپ کو رسوخ فی العلم کے ساتھ ہرعلم و فن کے مباحث و مسائل پر اجتہادی اور ناقدانہ و مبصرا نہ نظر عطا فرمائی تھی حضرت مولاناموصوف کی تصنیفات و تالیفات اور صحیح بخاری اور سنن ترمذی کی درسی تقریروں کے مجموعے جو مختلف حضرات نے شائع کئے ہیں، انہیں ملاحظہ فرمائیے آپ پر خود یہ حقیقت منکشف ہو جائیگی۔ اس حیثیت سے حضرت الاستاذ ایک فرد واحد نہیں، بلکہ اپنی ذات سے ایک انجمن تھے۔ حدیقہ علم و فضل کے گل سرسبد نہیں بلکہ سر تا سر یک گلشن ہزار لالہ وگل بکنار تھے، وہ بیک وقت حافظ ابن حجر بھی تھے اور ابن جریر طبری بھی ، ابن دقیق العید بھی تھے، اور شیخ ابن ہمام بھی، ادب اور بلاغت میں جاحظ بھی اور عبدالقاہر جرجانی بھی، فارسی شعر وشاعری میں اگر وہ انوریؔ اور خاقانیؔ کے ہم رنگ تھے تو عربی شاعری میں ابوالعتاہیہ اور بختری کے ہم پایہ نظر آتے تھے۔وقس علی ذلک

ہر انسان کو اپنے نفس کا علم حضوری ہوتا ہے، علوم و فنون پر اپنی اجتہادی نظر کا احساس واعتراف خود حضرت شاہ صاحب کو تھا، جب کبھی موقع ہوتا تھا آپ اس کا ذکر کرتے تھے، بلکہ متعدد بار یہ بھی فرمایا کہ بعض علوم و فنون آپ نے ایجاد بھی کئےہیں جو افسوس ہے کہ مدون نہیں ہوسکے(۱۰)

حضرت علامہ کشمیرؒ کا وصف اعتدال

اسلام عدل و اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، اعتدال اور میانہ روی اسلام کی خصوصیات میں سے ہے، ،اسلام کی تمام تعلیمات اور احکام میں عدل و اعتدال نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے، خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے حیات نبوی کے ہر گوشے میں اعتدال کی صفت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے، اسی لئے اللہ کے نیک بندے جنھیں اللہ جل شانہ نے علوم نبوت کے لئے منتخب کیا اور جنھوں نے امت کی تعلیم و تربیت اصلاح و تزکیہ کے کام انجام دئے، ان میں بھی عدل پروری اور اعتدال پسندی کی صفت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دور کے علماء کا گل سر سبد بنایا تھا، ان میں بھی اعتدال کی صفت بھرپور طریقے پر موجود تھی، تمام علوم میں جامعیت کے ساتھ تواضع  وانکساری ، زہد و ورع ، خود داری واستغناء کی بلند پایہ صفات نے بھی ان کی شخصیت کو بڑا معتدل اور متوازن بنا رکھا تھا کسی میدان میں بھی غلو اور تشدد اور جادۂ اعتدال سے انحراف انھیں گوارہ نہیں تھا۔

یہ اعتدال ان کے علوم و افکار میں بھی نظر آتا ہے، اور ان کی ذاتی زندگی میں بھی، اس نقطہ کی تشریح کے لئے بہت تفصیل کی ضرورت ہے، انتہائی اختصار کے ساتھ ان کو بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کامیابی سے ہم کنار کرے۔

علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے عدل و اعتدال کا مطالعہ کرنے میں مختلف علوم کے مباحث میں ان کی ترجیحات اور تبصرے زیادہ اور چشم کشا ثابت ہوں گے، ان کے درسی امالی( فیض الباری، العرف الشذی وغیرہ) میں انھوں نے شخصیات  اور کتابوں پر بڑے جنچے تلے اور منصفانہ تبصرے کئے ہیں جس سے ان کی نظر کی وسعت و گہرائی اور صفت اعتدال کا اندازہ ہوتا ہے، چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔

فیض الباری جلد اول میں انھوں نے شیخ تقی الدین ابن دقیق العید حافظ ابن حجر عسقلانی، حافظ زیلعی(مصنف نصب الرایہ) علامہ ابن ہمام وغیرہ کے بارے میں جو تبصرہ کیا ہے، اس کاترجمہ نقل کیا جاتا ہے:

شیخ تقی الدین ابن دقیق العید آٹھویں صدی ہجری کے علماء میں سے ہیں ،وہ مالکی اور شافعی تھے ،شاہ عبد العزیز نے ان کے بارے میں بستان المحدثین میں لکھا ہے کہ ان سے زیادہ اچھے علم اور باریک نظر والا شخص نہ تو اسلاف میں گذرا ہے نہ اخلاف میں، ان کی مشہور کتاب ’’الالمام ‘‘پندرہ جلدوں میں ہے ،اب تک طبع نہیں ہوئی ہے لیکن مفقود بھی نہیں ہے ،میں نے اس کے نسخہ کا مطالعہ کیا ہے ،اس کی ایک شرح بھی ہے جس کا نام ’’الامام‘‘ہے، ان کی املاء کرائی ہوئی ’’احکام الاحکام ‘‘شائع ہو چکی ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ حافظ شمس الدین ذہبی ان کے پاس گئے ، شیخ تقی الدین اپنے کام میں مشغول تھے ،علامہ ذہبی نے سلام کیا تو شیخ نے سلام کا جواب دے کر پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ (شیخ انکا نا م سن چکے تھے لقب نہیں جانتے تھے)علامہ ذہبی نے اپنا نام بتایا لقب ذکر نہیں کیا ،شیخ نے ان سے پوچھا کہ ابو محمد کاہلی کون ہیں ؟حافظ ذہبی نے فورا جواب دیا: وہ سفیان بن عیینہؒ ہیں ، شیخ تقی الدین ان کو سر سے پیر تک اس طرح دیکھنے لگے جیسے وہ ان کی حاضر جوابی پر متحیر ہوں ۔

شیخ ابن دقیق العید علامہ ابن تیمیہ ؒکے معاصر تھے،میں نے تراجم کی کتابوں میں یہ بات نہیں دیکھی کہ ابن تیمیہ ؒ شیخ تقی الدین سے ملے یا نہیں،حالانکہ حافظ ابن تیمیہ ؒکا مصر میں ایک عرصہ تک قیام رہا اور شیخ تقی الدین بھی وہیں تھے،اگر ملاقات نہیں کی تو گویا ان کے بارے میں اچھا خیال نہیں رکھتے تھے۔

شیخ تقی الدین ابن دقیق العید صاحب کشف و کرامات بزرگ، اصحاب طریقت میں سے ہیں ،معتدل المزاج ہیں، مذہب کے بارے میں تعصب سے کام نہیں لیتے،اور انتہائی عدل و انصاف کے ساتھ کلام کرتے ہیں ،حتیٰ کہ وہ بسا اوقات ایسا کچھ کہہ گذرتے ہیں جو حنفیہ کے لئے مفید ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا بالقصد کہہ رہے ہیں ،اس کے بر خلاف علامہ ابن حجر اگرچہ حافظ حدیث ہیں، انتہائی متانت اور بیدار مغزی سے کلام کرتے ہیں ،لیکن وہ یہ نہیں چاہتے کہ حنفیہ کوان سے مکھی کے پر کے برابر بھی فائدہ ہو،اور اگر کہیں فائدہ ہوگیا توایسا ان کے ارادہ کے بغیر ہوا۔

عدل و انصاف کے اندر احناف میں تقی الدین ابن دقیق العید کی طرح حافظ زیلعی ہیں ،وہ بھی اصحاب طریقت میں سے ہیں،اور مجھ کو اصحاب طریقت سے اسی قسم کے عدل وانصاف کا تجربہ ہوا ہے،اور ہم ان حضرات سے اس سے زائد کی امید کرتے ہیں کیونکہ وہ اللہ کے مخلص اور نیک بندے ہیں ،شیخ ا بن ہمام بھی اہل طریقت میں سے ہیں ،منصف مزاج ہیں ،مگر کبھی کبھی وہ اپنے مذہب کی حمایت میں تھوڑا سا اعتدال سے ہٹ جاتے ہیں۔ (۱۱)

تبحر علمی

حضرت مولانا عبدالحلیم چشتی  ؒ (برادر اصغر مولانا عبدلرشید نعمانی)ؒ نے ماہنامہ معارف اعظم گڑھ میں ۱۹۶۷؁ء کے تین شماروں( ستمبر اکتوبر نومبر) میں امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کے عنوان پر ایک تحقیقی اور تنقیدی مقالہ لکھا تھا، جو علامہ کشمیری کی علمی شخصیت اور ان کے علمی مقام کی بھرپور تعارف کراتا ہے، اس مقالہ میں موصوف نے تبحر علمی کے عنوان سے تحریر فرمایا ہے:

ضبط و اتقان ، ذکاوت و ذہانت، فہم وفراست، دقت نظر، جدت فکر، وسعت مطالعہ، کثرت معلومات، استحضار علوم، اور تبحر میں اپنی نظیر آپ ہی تھے، صرف و نحو، معانی و بیان، شعر وادب ، منطق و فلسفہ ، لغت، فقہ، اصول فقہ، کلام، تصوف ، تاریخ ، رجال، طبقات ، تفسیر، حدیث اور اصول حدیث ، غرض ہر فن میں مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے، اورعربی و فارسی نظم و نثر پر یکساں قادر تھے، ایسی جامعیت اور ناقدانہ مہارت کی وجہ سے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی موصوف کو علوم میں ان کے اساتذہ سے بھی فائق سمجھتے تھے۔

’مولانا انور شاہ صاحب بہت بڑے متبحر عالم تھے، یہاں تک کہ ہے تو گستاخی لیکن سچی بات کو کیوں چھپاؤں؟میرا یہ خیال ہے کہ وہ اپنے اکثر اساتذہ سے بھی علوم میں بڑھ گئے تھے۔(۱۲)

علامہ شبیر احمد عثمانی نے فیض الباری علی صحیح البخاری پر جو تقریظ لکھی ہے، اس میں تحریر فرماتے ہیں:

قال الشیخ تاج الدین السبکی القفال المروزی، کان اماما کبیرا و بحرا عمیقا غواصا علی المعانی الدقیقۃ ، نقی القریحہ ثاقب الذہن عظیم المحل کبیر الشان ، دقیق النظر عدیم النظیر       (فی زمانہ)و حکی قول ابن السمعانی فیہ کان وحید زمانہ فقہا و حفظا و ورعا، ھذہ کلمات کنت رایتھا فی حق ذالک الامام وصادفتھا تصدق فی نابغۃ الھند الشہیر عالمھا بحرالعلوم مولانا السید محمد انور شاہ الکشمیری ثم الدیوبندی رحمہ اللہ سواء بسواء من غیر شطط  فکان اماما کبیرا، و بحرا عمیقا غواصا علی المعانی الدقیقۃ الی آخر ما قال لم اکن فی عدد اصحابہ وتلامذتہ غیر انی وقفت للاستفادۃ من صحبتہ و مجالسہ ومذاکرتہ( فی المشکلات والغوامض) برھۃ غیر قصیرۃ ومن طالع کتابی فتح الملہم علی شرح صحیح مسلم تبین لہ ذلک۔(۱۳)

شیخ تاج الدین سبکی نے قفال مروزی کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ بلند پایہ امام اور علم کے گہرے سمندر، دقیق معانی کے غوطہ زن، پاکیزہ طبع، روشن دماغ با عظمت بلند مرتبت ، دقیق النظر اور یگانۂ عصر عالم تھے۔اور ان کے متعلق ابن السمعانی کا قول نقل کیا ہے، کہ وہ فقہ ، حفظ حدیث اور ورع و تقویٰ میں یکتائے روزگار تھے، یہ کلمات میں نے اس امام موصوف کے بارے میں پڑھے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی کلمات ہندوستان کے مشہور و معروف عالم بحرالعلوم محمد انور شاہ کشمیری ثم دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ پر بھی پورے پورے صادق آتے ہیں اور اس میں ذرا مبالغہ نہیں ہے، کیونکہ یہ بھی بلند پایہ امام ، علم کے گہرے سمندر تھے، انھیں دقیق معانی تک رسائی حاصل تھی، میں نہ ان کے تلامذہ میں سے ہوں اور نہ میرا ان کے ہم سبقوں میں شمار ہے، بس مجھے ان کی صحبتوں اور مجلسوں میں ان کے ساتھ مشکلات فن اورر دقیق مسائل میں مذاکرہ سے ایک زمانۂ دراز تک استفادہ کا موقع ملتا رہا ہے، جو کوئی میری کتاب فتح الملہم شرح صحیح مسلم کا مطالعہ کرے گا،اور اس پر یہ حقیقت روشن ہوجائے گی۔

حافظ ابن تیمیہؒ اور شیخ ابن عربیؒ دونوں سے استفادہ اور دونوں پر تنقید

حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کے فکری اعتدال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علامہ حافظ ابن تیمیہؒ اور امام اسرار و تصور ابن عربی ؒدونوں کے قدر داں اور مقام شناس ہیں، ان دونوں حضرات کے بعض افکارو نظریات سے اختلاف رکھنے کے باوجود دونوں کے علوم و افکار کے شناور اور دونوں کی تصنیفات پر گہری نظررکھتے تھے جیسا کہ ان کی تصنیفات اور امالی سے ظاہر ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

  قال الحافظ ابن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالیٰ: انہ لم یقل أحد من الفلاسفۃ بقدم العالم وکان أفلاطون أیضاً قائلا بحدوثہ، حتی جاء أرسطاطالیس المخذول فاعقتد بقدمہ، وھو باطل قطعاً و قائلہ کافر، واتفقت الأدیان السماویۃ علی حدوث العالم ، نعم نسب الی بعض الصوفیۃ قدم بعض الأشیاء کالشیخ الأکبر وقال الشعرانی الشافعی رحمہا اللہ تعالیٰ : ان ھذہ العبارات کلھا مدسوسۃ۔

أقول :وقد تفرد الشیخ الأکبر رحمہ اللہ ببعض المسائل أیضا، فانہ قد اعتبر ایمان فرعون وان لم یکن توبۃ، فیعاقب بما فعل، لکنہ لا یخلد فی النار عندہ، ونسب بحرالعلوم الی الشیخ الأکبر رحمہ اللہ قدم بعض الأشیاء وظنی أن تلک النبسۃ صحیحۃ ، وأما ما  نسب الدوانی الی ابن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالیٰ من قدم العرش ، فلیس بصحیح عندی۔(۱۴) 

حافظ ابن تیمیہ ؒ نے فرمایا کہ فلاسفہ میں سے کوئی بھی عالم کے قدیم ہونے کا قائل نہیں تھا ،افلاطون بھی عالم کو حادث کہتا تھا،یہاں تک کہ رسوائے زمانہ ارسطو آیا اس سے عالم کے قدیم ہونے کا اعتقاد قائم ہوا ،لیکن یہ اعتقاد بالکل غلط ہے اس کا قائل کافر ہے ۔

تمام آسمانی مذاہب بھی عالم کے حادث ہونے پر متفق ہیں، ہاں بعض صوفیاء کی طرف منسوب ہے کہ انھوں نے بعض چیزوں کو قدیم مانا ہے مثلاًشیخ اکبر۔

علامہ شعرانی شافعی نے فرمایا ہے کہ یہ عبارتیں بعد کی ملائی ہوئی ہیں ،میرا خیال ہے کہ شیخ اکبر بعض مسائل میں متفرد ہیں،چنانچہ انھوں نے فرعون کے ایمان کا اعتبار کر لیا ہے ،اگرچہ اس نے توبہ نہ کی ہوگی تو اس کو اس کے اعمال کی سزا ملے گی ،مگر شیخ اکبر کے نزدیک وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا،بحرالعلوم نے شیخ اکبر کی طرف بعض اشیاء کے قدیم ہونے کو منسوب کیا ہے ،میرا خیال ہے کہ یہ نسبت صحیح ہے،لیکن دوانی نے ابن تیمیہ ؒ کی طرف عرش کے قدیم ہونے کی جو نسبت کی ہے یہ درست نہیں ہے ۔

علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اذان کا جواب دینے کے سلسلہ میں سنت یہ ہے کہ حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے بعد یہ الفاظ بھی دہرائے جائیں، اور لاحول ولاقوۃ الاباللہ بھی کہا جائے، اور انھوں نے اس قول کو بعض بزرگوں کی طرف منسوب کیا ہے، میرا خیال ہے کہ بعض بزرگوں سے مراد شیخ اکبر ہیں، کیونکہ ابن ھمام ان کے معتقدین میں سے ہیں ،حالانکہ ابن حجر ان سے راضی نہیں تھے،اور علامہ ابن تیمیہ ان پر سخت اعتراضات کرتے ہیں، اور ان پر زندقہ کا حکم لگاتے ہیں ،میرا خیال ہے کہ شیخ اکبر اس امت کے اکابرین اور علم حقائق میں منزل مقصود تک جلد رسائی پانے والوں میں سے ہیں ،اور جہاں تک ابن تیمیہ کا تعلق ہے تو اس میںکوئی شک نہیں کہ وہ ایک ایسے بحر مواج ہیں جس کا کوئی ساحل نہیں ،لیکن وہ چند اصولی اور فروعی مسائل میں جمہور امت سے الگ ہوجاتے ہیں ،حالانکہ ان میں حق جمہور ہی کے ساتھ ہے،وہ کشف وکرامات کے منکر ہیں ،لیکن مصداق کشف کے قائل ہیں، اور اسے حدیث کی پیروی میں مومن کی فراست کا نام دیتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ انھوں نے شام کے بادشاہ سے کہا تھا کہ آپ تاتاریوں کا مقابلہ کیجئے ،اللہ تعالی آپ کو ضرور فتح عطا فرمائیں گے ،بادشاہ کو اس میں ذرا تردد ہوا تو انھوں نے سب کے سامنے سو مرتبہ قسم کھا کر کہا :ہمیں ضرور فتح نصیب ہوگی ،ان کے شاگرد ابن عبد الہادی نے کہا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ کہہ لیںتو انھوں نے کہا:انشاء اللہ تحقیقا ،نہ کہ تعلیقا،پھر اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو فتح بھی عطا فرمائی ،جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ ؒ نے پہلے ہی بتادیا تھا،اور بالجملہ وہ بھی اصحاب کشف وکرامات میں سے ہیں ،لیکن ان کی طبیعت میں ذرا تیزی اور شدت ہے،لہٰذا وہ اپنی تحقیقات کو وحی منزل کی طرح سمجھتے ہیں،چاہے وہ خلاف واقعہ ہی کیوں نہ ہو اور وہ اس کی بھی پرواہ نہیں کر تے ہیں کہ وہ کس کی مخالفت کر رہے ہیں،چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو،اور یہ لوگوں کے چند طبقات ہیں جنھیں اللہ تعالی نے مختلف مراتب پر پیدا فرمایا ،ان میں سے بعض کی طبیعت میں اعتدال اور انصاف پسندی ہوتی ہے جیسے کہ شیخ تقی الدین ابن دقیق العید،ابن عبدالبر،علامہ زیلعی،اور بعض کی طبیعت میں شدت ہوتی ہے،جیسے علامہ ابن تیمیہ ،اور بعض کی طبیعت میں انتہائی تعصب کے باوجود غایت درجہ کا تیقظ ہوتا ہے، جیسے حافظ ابن حجر ۔

انھوں نے فتح الباری میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ انھوں نے ایک مبتدع شخص سے منا ظرہ کیا،چنانچہ ابھی دو مہینہ بھی نہیں گذرے تھے کہ اس کا انتقال ہوگیا،حافظ ا بن حجرؒ نے اس سے مباہلہ کیا تھا،مجھے معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ نزاع کس مسئلہ میں تھا،اور حافظ بن حجر ؒ نے اس مبتدع کا نام بھی ذکر نہیں کیا ہے،پھر مجھے کہیں سے معلوم ہوا کہ وہ مبتدع شیخ اکبر کے غالی معتقدین میںسے تھا۔(۱۵)

حضرت علامہ کشمیریؒ کے علوم و تحقیقات پر کام کی ضرورت

حضرت مولانا عبدالحلیم چشتیؒ اپنے مقالہ میں ایک بڑی اہم اور چونکا دینے والی بات لکھتے ہیں، جس کا لکھنا انھیں کا حق ہے:

اس درس کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ علامہ نے اس میں مشکلات علوم کو حل کیا ہے، اور فن کی دقیق بتوں کو سمجھایا ہے، ہندوستان اور پاکستان ایسے بہت جید علماء گزرے ہیں جن کے حواشی و شروح نے مشکل سے مشکل کتاب کوپانی کردیا ہے، اوران سے استفاددآج آسان ہوگیا ہے ، لیکن ایسے علماء جنھوں نے کسی خاص فن کے مشکلات کو حل کیا ہو خال خال ہی ہیں، صرف علامہ سید انور شاہ کشمیری کے متعلق یہ بات بلا خوف تردیدکہی جا سکتی ہے کہ اسلامی علوم کے مشکلات کو موصوف ہی نے سب سے زیادہ حل کیا ہے، ان وجوہ سے ان کے درس کی تقریروں (امالی) میں جو تنوع پایا جاتا ہے وہ امالی کی علمی دنیا میں اور کہیں نہیں ملتا،تفسیر، حدیث، فقہ، لغت ، ادب اور نحو کی متعد د امالی زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں، اور یہ سب ائمۂ فن کی امالی ہیں ، اور بعض امالی تو ایسے ائمۂ فن کی ہیں جن کو ہفت علوم میں اجتہاد کا دعوی ہے، اگر ان میں سے کسی میں اس نوع کا تنوع اور ہمہ گیری نہیں ہے، فقہ کی امالی میں فقہی مسائل ہی سےبحث ہے، اور لغت کی امالی کا دائرہ شعر وادب تک محدود ہے ، نحو کی امالی کا تعلق نحوی مسائل سے ہے، علامہ سید انور شاہ کی امالی میں ہرفن سے اعتناء ہے اور اس کے مشکلات کو حل کیا گیا ہے، اس لیے اس میں تنوع پایا جاتا ہے اور اس کی حیثیت دائرۃ المعارف کی ہوگئی ہے، اس بنا پرکہنا بیجا نہیں کہ علامہ موصوف کو اگر چہ نہایت محنتی اور ذکی تلامذہ ملے جنھوں نے اپنی استعداد کے مطابق ان کے درس کی تقریروں کو بڑی محنت اور جانفشانی سےقلمبند کیا، اور ان کے علوم نے علمی دنیا کو متعارف کرایا، جو ان کا نا قابل فراموش علمی احسان ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامۂ موصوف کے علوم کو قیدِ تحریر میں لانے کے لئے محض ذکاوت و محنت ہی کافی نہ تھی، بلکہ علوم و فنون میں تبحراور وسعت نظر بھی درکار تھی ، جو ان صفات اربعہ سے آراستہ ہوتا، وہی اُن کے درس سے پورا پورا استفادہ کرسکتا، اور ان کی درس کی تقریروں کواچھی طرح قیدِ تحریر میں لاسکتا تھا، اس موقعہ پر علامہ سید انور شاہ کے درس کے متعلق بے ساختہ وہ فقرہ زبانِ قلم پر جاری ہو جاتا ہے جو علامہ محقق کمال الدین ابن ہمام المتوفیٰ ۸۶۱؁ءنے علامۃ الدہر شیخ محمد بن محمد المشداتی المتوفیٰ ۸۶۲؁ھ کے درس کے متعلق کہا تھا کہ

ھذا الرجل لاینتفع بکلامہ ولاینبغی أن یحضر درسہ الا حذا ق العلماء(۱۶)

’’اس مرد کامل کی باتوں سے ماہر فن علماء ہی فائدہ اٹھاسکتے ہیں، اور ان ہی کو اس کے درس میں حاضر ہونا سزاوار اور لائق بھی ہے۔‘‘

علامہ انور شاہ کے تلامذہ کو علوم میں وہ حذاقت و مہارت حاصل نہ تھی جس سے وہ امام عصر کی دینی تقریروں کو اچھی طرح سمجھ سکتے اور قید تحریر میں لاسکتے، دوران مطالعہ میں امام عصر کی امالی میں کہیں کہیں جو بعض موٹی موٹی غلطیاں نظر آجاتی ہیں وہ اسی کا نتیجہ ہیں کہ اس اہم کام سے عہدہ برآ ہونا ان کے تلامذہ کے بس کا کام نہ تھا، مجھے اس کا اندازہ مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی امالی صحیح مسلم کے دیکھنے سے ہوا جو انہوں نے مسلم شریف کے سبق میں علامۂ موصوف سے سن کر قلم بند کی تھیں، حالانکہ مولا مناظر احسن گیلانی نے علوم کی تحصیل اس دور کے ارباب کمال سے کی تھی، اور فقہ، منطق، فلسفہ، اصول اور کلام وغیرہ کی چوٹی کی کتا بیں ان اساتذہ سے پڑھی تھیں، جن کے درس کی ہندوستان میں دھوم تھی، لیکن انہوں نے جیسی کچھ درسی تقریریں سمجھی اور لکھی ہیں اس سے معلوم ہوتاہے کہ ایسے محنتی اورذکی طالب علم بھی امام عصر کی پوری باتیں سمجھ نہیں پاتے تھے، چناں چہ انہوں نے اپنےعجز کا اعتراف امالی صحیح مسلم میں کیا ہے(امالی صحیح مسلم کا یہ مجموعہ کسی طرح علامہ شبیراحمد عثمانی کے ہاتھ آگیا تھا، موصوف نے فتح الملہم بشرح صحیح مسلم میں اس سے استفادہ کیا ہے، اور امالی کا حوالہ بھی دیا ہے،(فتح الملہم ج۳ ص ۳۲۳) لیکن نہ معلوم کیوں جامع امالی مولانامناظر احسن گیلانی کا نام لینے سے گریز کیا،ہمیں مولانا محمدیوسف بنوری زید مجدہم کے توسط سے یہ مجموعہ علامہ عثمانی کے چھوٹے بھائی فضل احمد عثمانی سے دیکھنے کے لئے ملا تھا، گویہ مجموعہ زیادہ ضخیم نہیں مگر علامہ انور شاہ کے علوم کا آئینہ دار اور بہت سے علمی فوائد کا حامل ہے ) اور جس مقام پر جو بات سمجھ میں نہیں آئی ہے، وہاں نقطے ڈال دئے ہیں، علامہ موصوف کے علوم کی عظمت ان کے دل و دماغ میں ایسی بیٹھی ہوئی تھی کہ یہ امالی ان کو جان سے زیادہ عزیز تھی، اس کے گم ہوجانے کا ان کو ساری عمر افسوس رہا، اور وہ اس کی گمشدگی پر بڑی حسرت سے یہ شعر جس کو مجدد الف ثانی ؒ اپنے مکتوبات میںبہ کثرت نقل کرتے ہیں، پڑھتے تھے  ؎

آنچہ از من گم شدہ گراز سلیمان گم شدے

ہم سلیمان ہم پری ہم اہرمن بگریستے

علامہ انور شاہ کے تلامذہ کا ان کے علوم کو کما حقہ مدون نہ کر سکنے پر ہمیں امام شافعی کا وہ قول یاد آتا ہے جو انہوں نے امام مالک کے معاصر امام لیث بن سعد المتوفی ۱۷۵؁ھ کے متعلق فرمایا تھا، امام شافعی کا قول یہ ہے :

اللیث أفقہ من مالک الا أن أصحابہ ضیعوہ۔

(امام لیث امام مالک سے زیادہ فقیہ تھے لیکن امام لیث کے شاگردوں نے ان کو ضائع کر دیا)

حافظ ابن حجر نے اس کی تشریح یہ کی ہے :

یعنی لم یدونوا فقہہ کما دونوا  فقہ  مالک و غیرہ وان کان بعضہم قد جمع منھا شیئاً۔ (۱۷)

شاگردوں نے ان کی فقہ کو مدون نہیں کیا جس طرح امام مالک وغیرہ کی فقہ کو شاگردوں نے مدون کیا ہے، گو بعض تلامذہ نے ان کے کچھ مسائل فقہیہ کو جمع کیا ہے ( لیکن وہ قابل ذکر کا رنامہ نہیں ہے)۔

 یہی صورت علامہ انور شاہ کے ساتھ پیش آئی، ان کے شاگردوں نے ان کے علوم کو مدون نہ کر کے ان کو ضائع کر دیا ، آج ان کی جو امالی ہم کو ملتی ہیں وہ ان کے علوم کا ایک شمہ ہیں اور یہ بھی وہ باتیں ہیں جو ان کے شاگردوںنے اپنی فہم و بصیرت کے مطابق لکھ لی تھیں اور علامہ نے بھی طلبہ کی استعداد کے پیش نظر بغیر طلب عام واقفیت کے لئے بیان کر دی تھیں ، اگر سائل محقق ہوتا ، اور سوالات بھی علمی کرتا تو امالی کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا، جیسے حافظ ابن حجر عسقلانی کو حافظ شمس الدین محمد بن عبد الرحمن سخاوی المتوفی ۹۰۲ ؁ ملے ، کہ جب جی چاہا تقریر ضبط کرانے کے لئے خادم کو بھیج کر بلالیا ، یا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی طرح انہیں بھی کوئی محمد عاشق پھلتی مل گیا ہوتا ، جو باصرار اُن سے ان کے علوم کو مدون کراتا تو علمی دنیا ان کی امالی کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی۔

علامہ انور شاہ کی امالی کو قید تحریر میں لانے کے لئے موزون ترین شخصیت علامہ شبیر احمد عثمانی کی تھی، وہ بڑے ذہین، طباع اور علوم معقول و منقول میں حاذق تھے ، انہیں افہام و تفہیم کا بڑا اچھا سلیقہ تھا، زور بیان اور حسن ترتیب کا بھی ملکہ تھا، عربی تحریر و تقریر پر بھی پوری قدرت حاصل تھی، علامہ انور شاہ کو بھی ان کے فہم وفراست پر پورا اعتماد تھا اور یہ بھی علامۂ موصوف کی جامعیت، ژرف نگاہی اور وسعت معلومات کے قائل اور قدردان تھے، اس لئے فتح الملہم بشرح صحیح المسلم میں جگہ جگہ ائمۂ فن اور کبار علماء کے اقوال کے ساتھ علامہ انور شاہ کے اقوال کو بھی زیب قرطاس کیا ہے۔

 ۔۔۔تاہم علامہ انور شاہ کے بعض تلامذہ نے ان کے علوم کو جس قدر اورجس صورت میں بھی مرتب و مدون کر دیا ہے ، وہ بھی اہل علم کے لئے بڑا کار آمد اور قیمتی سرمایہ ہے، اور آج علامہ موصوف کے گوناگوں علوم میں تبحر کے معلوم کرنے کا واحد ذریعہ یہی امالی ہیں، گو ایک ہوشمند عالم کو مختلف موضوع پر ان کے مختصر رسالوں کے مطالعہ سے ان کی جامعیت ، جلالت شان اور ہر فن میں مجتہدانہ بصیرت کا بخوبی علم ہو جاتا ہے، لیکن جو تنوع ان کی امالی میں ہے وہ تالیفات میں نہیں، کیونکہ ان کے موضوع خاص ہیں، جن کی بحث کے گوشے بھی مخصوص اور محدود ہوتے ہیں اس کے برعکس درس کے حدود نہایت وسیع ہیں۔ اس میں بہت سے مسائل زیر بحث آجاتے ہیں۔

علامہ سید انور شاہ کی امالی اگرچہ پوری صحاح ستہ پر ہیں، لیکن العرف الشذی علی جامع الترمذی،فیض الباری علی صحیح البخاری اور معارف السنن جس میں علامۂ موصوف کے مشکلات علوم کی توضیح و تشریح کی ہے، اما لی علی صحیح مسلم، امالی علی سنن ابی دا ود، امالی علی سنن ابن ماجہ زیادہ اہم ہیں، اول الذکر تین کتابیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہندوستان کی سرزمین پرپہلی اور آخری ہیں، ہند وپاک میں علوم سے معمور ایسی مفید اور جامع کتابیں کبھی نہیں لکھی گئیں،میں جب ان امالی کو دیکھتا ہوں تو استاد اور شاگرد دونوں کو دعا ئیں دیتا ہوں۔(۱۸)

دین وملت کے مختلف میدانوں میں خدمت

علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی جامعیت اوراعتدال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ علوم و فنون میں حد درجہ اشتغال اور فنائیت کے باوجود دین و ملت کی خدمت کے دوسرے میدانوں کی اہمیت اور ضرورت پورے طور پر ان کے دل میں تھی، فتنۂ قادیانیت نے جب سر اٹھایا تو وہ بے چین ہوگئے، اور اس فتنہ کے استیصال اور بیخ کنی میں اس طور پر لگ گئے کہ علمی اور تحقیقی طور پر قادیانی فتنہ کو بالکل بے نقاب کردیا اور قادیانیت کا اسلام سے خارج ہونا دواور دو چار کی طرح واضح فرمادیا، نہ تنہا خود اس کام میں لگے بلکہ اپنے شاگردوں کی ایک نسل تیار کردی ، جنھوں نے مسلسل فتنۂ قادیانیت کا تعاقب کیا اور عوامی سطح پر بھی مسلمانوں میں ایسی ایمانی اور فکری بیداری پیدا کی کہ لوگ اس فتنہ کی خطرناکی اور اس کے دجل اور فریب سے واقف ہوگئے۔

حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے دور کے ملکی اور عالمی حالات سے بھی پورے طور پر باخبر تھے، اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کے بلند قامت شاگردوں کا جو قافلہ امت مسلمہ کی ہمہ گیر رہنمائی کے لئے تیار ہوا ،ان میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا نام بہت روشن تھا، جمعیت علماء ہند جو اس وقت علماء کی سب سے باوقار تنظیم تھی،اس میں آپ رہنما کی حیثیت سے شامل تھے، اورجمعیت کی میٹنگوں اور اجلاسوں میں آپ کی آراء کو حد درجہ اہمیت دی جاتی تھی، علمی و فکری کاموں کے لئے جو کمیٹیاں بنائی جاتی تھیں ان میں آپ کی شمولیت ضروری تصور کی جاتی تھی، حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے جمعیت علماء ہند کے اجلاس عام ہشتم منعقدہ دسمبر ۱۹۲۷؁ء پشاور میں جو خطبۂ صدارت پیش فرمایا تھا، وہ ان کے علمی بصیرت، سیاسی اور دینی حالات پر گہری نظر کی عکاسی کرتا ہے، وہ  پورا خطبہ فکر انگیز اور پرسوز ہے، حضرت شاہ صاحب نے خطبہ میں ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش اہم مسائل کا جائزہ بڑی علمی اور فکری بصیرت کے ساتھ پیش فرمایا ہے، بطور نمونہ اس خطبہ کے دو اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک کا تعلق ہندوستان میں نظام قضاء سے ہے اور دوسرے کا تعلق مسئلۂ اوقاف سے۔

ہندوستان میں قضاءشرعی کی ضرورت

آج اگر اعداد و شمار سے کام لیا جائے اور نظر تدقیق و تفتیش سے دیکھا جائے تو ہندوستان میں ایسی عورتوں کی تعداد جو اپنے خاوندوں کے جور وستم کی تختۂ مشق بنی ہوئی ہیں یا خاوندوں کے مفقود اور لاپتہ ہوجانے کی وجہ سے نان شبینہ کی محتاج ہیں ،یا ظالم شوہروں نے ان کو معلقہ بنا کر چھوڑ رکھا ہے، لاکھوں تک پہنچتی ہے، ایسی مظلوم عورتیں جب کہ کسی طرح اپنے خاوندوںکے جو روستم سے خلاصی حاصل نہیں کرسکتیں تو وہ بے بسی اور بے کسی کے عالم میں بدحواس ہوکر ارتداد کی طرف متوجہ ہوتی ہیں، ہندوستان میں اس قسم کے دلخراش اور ناگفتہ بہ کتنے ہی کیس ہوچکے ہیں جو مسلمانوں کی بدقسمتی میں ایسا اضافہ کرتے ہیں، جس کاجبر ناممکن ہے، ایک مسلمان کا مرتد ہوجانا بھی مسلمانوں کے لئے مصیبت کبری ہے، پھر بالخصوص عورتوں کا ارتداد معاذاللہ ثم معاذاللہ نہایت سخت مہلکہ ہے، خدانہ کرے عورتوں میں اس قسم کی تحریک سرایت کرے، کیونکہ ان کی مذہبی ناواقفیت اور فطری کم عقلی خدا جانے کیا رنگ لائے گی اور مسلم قومیت کو کس قدر تباہی اور بربادی کے قریب کردے گی، درد مند مسلمانوں کا اس وقت سب سے بڑا فریضہ ہے کہ وہ ان بے کس اور بے بس مظلوم عورتوں کی گلو خلاصی کا پہلی فرصت میں سامان کریں اور اس کی ایک ہی سبیل ہے کہ محکمۂ قضاء قائم کرانے کی کوشش کریں اور محکمہ قضاء ان بے چاریوں کے مصائب کا علاج کرے۔(۱۹)

تحفظ اوقاف مسلمین

اس وقت جن مسائل کی طرف مسلمان رہنماؤں کی توجہ منعطف ہونی ضروری ہے ان میں سے ایک اہم مسئلہ اسلامی اوقاف کی صحیح تنظیم کا ہے، کیونکہ تجر بہ شاہد ہے کہ اسلامی اوقاف کی لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ سالانہ آمدنی اپنے صحیح مصرف میں صرف ہونے کی بجائے خود غرض متولیوں کے تنور شکم کی آگ بجھا رہی ہے، یا امور خیر کی جگہ فواحش و معاصی میں بے دریغ صرف کی جارہی ہے۔

علمائے اسلام نے بیان کیا ہے کہ طریقۂ وقف اسلامی خصوصیات میں سے ہے، دور جاہلیت میں اس کا وجود نہیں تھا اور وقف کی حقیقت یہ ہے کہ واقف اپنی مملوکہ جائداد کو خدا تعالی کے پاس امانت رکھ دے اور اس کی آمدنی کو صدقہ کر دینے کی منت مان لے کہ قیامت تک وہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچاتا ر ہے اور اسلامی مہمات اس کی آمدنی کی مدد سے انجام پذیر ہوتی رہیں، مسجدیں تعمیر کی جائیں یا خانقا ہیں، مہمان خانے، مسافر خانے، مدارس اسلامیہ، کنویں، پل اور ہر قسم کی رفاہ عام کی چیزیں بنائی جائیں اور مسلمانوں کی اس فائدہ رسانی کے ساتھ ساتھ واقف کو ہمیشہ ہمیشہ ثواب پہنچتا ر ہے۔

علماء نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ واقف کے اغراض کی حفاظت نصِ شارع کی طرح ضروری ہے، وقف کی اس عظیم الشان حیثیت کی وجہ سے آج بھی عالم اسلام میں بایں ہمہ نکبت و افلاس کروڑوں روپے کی جائداد کے اوقاف موجود ہیں، اور مسلمانوں کی فراخدلی اور بلند حوصلگی کی زبان حال سے شہادت دے رہے ہیں   ؎

از نقش و نگار در و دیوار شکستہ      آثار پدید است صنادید عجم را

(شکستہ دیوار کے نقش و نگار سے شاہان عجم کے آثار نمایاں ہیں۔)

مگر افسوس کہ اسلام کی اس عظیم الشان قربانی کی یاد گاروں یعنی اوقاف اسلامیہ کو طامع اور حریص متولیوں اور غیر متدین و خائن نظار نے اپنی خواہشات نفسانیہ کی جولانگاہ بنارکھا ہے اور اغراض واقفین کو درہم برہم کر دیا، آج اوقاف کی یہ حالت ہے کہ ان متولیوں کے خود غرضانہ تصرفات دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں پہچان سکتا کہ یہ اوقاف ہیں یا شخصی اور خالص مملو کہ جائدادیں۔

ہم نے ایک مقولہ سنا تھا کہ وقف تین پشتوں کے بعد مِلک بن جاتا ہے، ہم نے تو اپنی عمر میں اوقاف کی یہ حالت بلکہ صرف یہی حالت دیکھی، شکم پرور متولی اوقاف کے مصارف واقعیہ کے بارے میں بالکل شاعر کے اس قول پر عامل ہیں  ؎

ہیزم زمن دارد و روغن از تو      خوردن زمن و لقمہ شمردن از تو

( یعنی مجھ سے ایند ھن لیتا ہے اور تم سے روغن، مجھ سے غذا لیتا ہے اور تم سے لقمے شمار کرواتا ہے۔)

اسی خیال اور اسی طرز عمل سے اکثر اوقاف ذاتی جائداد بن گئے ہیں اور اگر مسلمانوں نے قومیت اسلامیہ کے مقومات یعنی اوقاف کی طرف سے اسی طرح غفلت برتی تو وہ دن دور نہیں کہ اوقاف کی حیثیت ،و قف کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔

تا ہم ابھی موقعہ ہے کہ اگر اوقاف کی صحیح تنظیم کر لی جائے اور متولیوں کے حساب رکھنے اور حساب فہمی کا طریقہ متعین ہو جائے اور جماعت مسلمین متولیوں سے باز پرس کرتے رہیں اور متولیوں کا تعیین اہلیت اور استحقاق کی بنا پر کیا جائے اور جب کوئی خیانت یا غفلت معلوم ہو تو ان سے تولیت کے اختیارات چھین لئے جائیں یا تولیت ہی موقت طور پر دی جایا کرے اور دوسرے یا تیسرے سال نیا متولی منتخب کیا جائے اور اوقاف کے لئے اہل صلاح و علم میں سے ارکان منتخب کر کے نگراں مجالس مقرر کی جائیں جو اغراض واقف کی رعایت اور وقف کی حفاظت کے فرائض سر انجام دیں۔

چونکہ وقف میں عبادت اور صدقہ کی حیثیت ہے اس لئے یہ خالص مذہبی حیثیت رکھتا ہے اور اس لئے ضرورت ہے کہ اس کے انتظام میں اہل اسلام اور اہل علم کے سوا اور کوئی طاقت دخیل نہ ہو تا کہ اسلامی احکام کی مخالفت کا اندیشہ باقی نہ رہے۔(۲۰)

حاشیہ :

۱۔نقش دوام ۲۸۲-۲۸۳

۲۔حیات انور ص ۲۰

۳۔حیات انور ص ۱۶

۴۔الانور ص ۵۹۷

۵۔الانور ۵۴۹

۶۔حیات انور ص۲۰، نقش دوام ۲۷۵

۷۔حیات انور ص۱۸۰و۱۸۱، نقش دوام ۲۸۷

۸۔حاشیہ فیض الباری ۲/۱۶۵

۹۔حاشیہ فیض الباری۲/۱۶۵

۱۰۔الانور، ص :ڈ، ذ

۱۱۔فیض الباری،۱؍۱۰۷ ،علامہ انور شاہ کشمیری علوم و افکار ۱۱۹تا۱۲۱

۱۲۔ملاحظہ ہو: الاضافات الیومیہ من الافادات القومیہ ج۷، ص ۱۱۱

۱۳۔الانور ص ۳۸۴

۱۴۔فیض الباری،۱/۱۶۵و۱۶۶

۱۵۔حاشیہ فیض الباری۲/۱۶۴

۱۶۔البدرالطالع ج۲/۲۴۸

۱۷۔تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۴/۶۱۰

۱۸۔الانور ، ص ۳۹۶ تا ۳۹۹

۱۹۔خطبۂ صدارت جمعۃ العلماء ہند اجلاس پشاور مطبوعہ سچ لکھنؤ ۲۷ جنوری ۱۹۲۸؁ء ص ۴

۲۰۔خطبۂ صدارت اجلاس عام جمعیۃ علماء ہند ۱۹۲۷؁ء بہ مقام پشاور ص ۹۷،۹۸، شائع کردہ جموں اینڈ کشمیر اسلامک ریسرچ سینٹر

Tags

Share this post: