تحفہ محمدیہ‘‘: ارد و کا ایک قدیم مذہبی ماہنامہ‘‘

’’تحفہ محمدیہ‘‘: ارد و کا ایک قدیم مذہبی ماہنامہ

                                                                                                 مولاناطلحہ نعمت ندوی

                                                                                       (ریسرچ اسکالر خدابخش لائبریری پٹنہ)

ہندوستان میں علماء کی صحافتی خدمات اور دینی ومذہبی صحافت میں تحفہ محمدیہ کانپور کا اپنا ایک مقام ہے اوردینی فکر کو فروغ دینے میں اہم کردار بھی ۔اس کے ساتھ یہ عیسائیت کی تردید ،اسلام کے فروغ اور مولانا سید محمد علی مونگیری بانی ندوۃ العلماء کی فکر اور ندوۃ العلماء جیسی اہم تحریک کی ترجمانی میں پیش پیش رہا،اس لئے اس میں مذکورہ بالا موضوعات سے متعلق قابل قدر مواد مل سکتا تھا ،افسوس کہ ان موضوعات پر لکھنے والوں نے اس کو اپنے مآخذ میں شامل نہیں کیا ،اور اب جب کہ اس کے قیام پر دیڑھ سو سال گذرنے کو ہیں خال خال ہی اس کے شمارے محفوظ رہ گئے ہیں۔

اس کے چند شمارے خدابخش لائبری اور کچھ ندوۃ العلماء کے کتب خانہ میں محفوظ ہیں ،ان کے علاوہ کہیں اور اس کا سراغ نہیں ملتا ۔

اس کی پہلی جلدتو نہیں ملتی البتہ اس کی دوسری جلد کے شمارے موجود ہیں ۔جس کا سنہ ۱۳۱۱ھ ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ۱۳۱۰ ھ میں نکلاہوگا ۔اسی سال تقریباً ندوۃ العلماء کی بنیاد بھی پڑی تھی ۔

اس رسالہ کے جو شمارے کتب خانہ خدابخش پٹنہ میں محفوظ ہیںوہ ۱۳۱۱ھ۱۳۱۶ھ تک یعنی چار سالوں کے شمارے ہیں ،بیچ میں ایک ہی دو شمارے غائب ہیں۔۱۳۱۷ھ کا بھی ایک شمارہ ملتا ہے،یہ شمارہ نمبر ۷یکم ماہ ربیع الاول ہے۔مزید سالوں کے موجود شماروں کی تفصیلات حسب ذیل ہیں

 ۱۳۱۱ھ کے حسب ذیل شمارے موجود ہیں ۔ربیع الاول،جمادی الاول ،جمادی الثانی،رجب ،شعبان ،رمضان ،شوال،،ذی القعدہ،ذی الحجہ۔

۱۳۱۲ھ کے حسب ذیل شمارے ہیں ۔محرم،ربیع الاول ،ربیع الآخر،جمادی الاول ،جمادی الآخر،رجب ،شعبان ،رمضان ،شوال،ذی الحجہ۔

۱۳۱۳ھ کے یہ ہیں ۔محرم ،ربیع الثانی ،جمادی الثانی ،ذی القعدہ ،ذی الحجہ۔

۱۳۱۴ھ کے موجود شمارے یہ ہیں ۔صفر ،ربیع الاول ،جمادی الاول ،رجب ،ذی الحجہ۔

۱۳۱۵ھ سے یہ رسالہ پندرہ روزہ ہوگیا تھا ۔چنانچہ اس کے حسب ذیل شمارے موجود ہیں ۔محرم ،ربیع الاول ، ربیع الثانی ،اول ،جمادی الاول نصف اول،جمادی الثانی نصف اول ،رجب ،شعبان ،رمضان ،ذی القعدہ ۔ان کے دو میں صر ف ایک ایک ہی شمارے محفوظ ہیں۔

۱۳۱۶ھ کے حسب ذیل شمارے ہیں ،محرم اول، صفر اول ،ربیع الاول ،اول ،ودوم ،ربیع الثانی اول ،جمادی الاول ،دوم ،جمادی الثانی اول ،رمضان اول ،شوال اول۔

ندوۃ العلماء کے کتب خانہ میں اس کی حسب ذیل فائلیں موجود ہیں۔

۱۳۱۳ھ ۔ذی الحجہ

۱۳۱۴ھ محرم ،صفر ،ربیع الثانی تاشوال ،ذی الحجہ

۱۳۱۵ھ ،محرم تاربیع الاول

۱۳۱۶ھ ۔صفر

 اس کے اغراض ومقاصد کیا تھے ،اس کا ذکر اس کے ہر شمارہ کے سرورق کے بعد والے صفحہ پر ’’مقاصد تحفہ محمدیہ ‘‘ کے عنوان سے ملتا ہے ۔

۱۔اسلام کی برکات اور خوبیوں کا ظاہر کرنا۔

۲۔ اسلام کی ضرورت اور سچائی ثابت کرنا اور دوسرے مذاہب پر اس کی فضیلت کو دکھانا۔

۳۔اسلام کے منور چہرے سے الزامات کے گردوغبار کو دور کرنا ۔

۴۔ترقی اور تنزل اسلام کے اسباب بیان کرنا اور مسلمانوں کو اسباب ترقی کی طرف متوجہ کرنا ۔

۵۔ترقی اسلام کی حالت مسرت خیز اور اس کے تنزل کی کیفیت عبرت انگیز پیش کرنا ۔

۶۔اسلام اور اہل اسلام کے متعلق چیزوں کا لکھنا۔

اس کے بعد چند سطروں میں ’’علمائے کرام وطلبائے ذوی الاحترام کی خدمت میں التماس‘‘ کے عنوان سے چند سطروں میں ان سے تحریری امداد کی گذارش ہوتی پھر عامۃ الناس سے اس کے تعاون کی گذارش ۔

اس کے بعد اس کے مشمولات شروع ہوتے ،اور عام طور پر پہلے صفحہ پر’’ ترقی اسلام‘‘ کے عنوان سے ان نومسلموں کا تذکرہ ہوتا جو خود حضر ت مولانا سید محمد علی مونگیری کے ہاتھ پر یا کہیں اور مسلمان ہوتے ۔یہ حصہ حضرت مونگیری کی سوانح کا بہت ہی اہم پہلو ہے اور اسلام میں ترقی کی بھی اہم تاریخ ہے ۔مثلاً یکم محرم ۱۳۱۳ھ کے شمارہ میں درج ہے

’’کانپور: بروز عید اضحی مسجد عیدگاہ میں جناب مولوی سید محمد علی صاحب ناظم ندوۃ العلماء کے دست مبارک پر ایک شخص از قوم برہمن بطیب خاطر مشرف بہ اسلام ہوا ،اسلامی نام عبداللہ رکھا گیا ‘‘۔(ص۷)

جمادی الاولیٰ ۱۳۱۳ھ کے شمارہ میں ترقی اسلام کے زیر عنوان مضمون کا آغاز اس طرح ہوتا ہے

’’کانپور :ماہ ربیع الاول ۱۳۱۳ھ کو جناب اقدس مولانا حاجی حافظ قاری شاہ محمد اشرف علی صاحب عم فیضہ مدرس اعلیٰ مدرسہ جامع العلوم کے دست مبارک پر دو واعظ عیسائی ساکن فتح پور مشرف بہ اسلام ہوئے ،پہلا نام جارج پیٹر اورجارج ولیم تھا ،اسلامی نام محمد عبداللہ وعبدالرحمن رکھا گیا ‘‘۔

اس عنوان کے بعد مختلف مضامین درج کئے جاتے ،اور ہر شمارہ میں عیسائیت کی تردید میں کوئی نہ کوئی مضمون ضرور شائع ہوتا ،کبھی کبھی ہنود کی تردید میں مضامین شائع ہوتے ۔ان کے علاو ہ خالص اسلامی مباحث پر بھی بہت سے مضامین ملتے ہیں۔

شروع میں مقاصد تحفہ محمدیہ کے زیر عنوان اور بعد میں آئندہ شمارہ کے مضامین کے عنوان سے حسب ذیل جملے نظر آتے ہیں

۱۔معتبر اسلامی تاریخ لکھنا

۲۔مشہوراور باکمال اہل اسلام کی سوانح عمری بیان کرنا

۳۔مخالفین اسلام کی ان کوششوں کا ظاہر کرنا ،جو وہ اپنے باطل مذہب کی اشاعت اور اسلام کے مٹانے کے لئے کرتے ہیں ۔

۴۔اسلام کی ترقی وتنزل کے اسباب کو بیان کرنا اور مسلمانوں کو اسباب ترقی کی طرف متوجہ کرنا ۔

۵۔ممالک اسلامیہ کے واقعات ضروریہ کو دکھانا ۔

۶۔عام اسلامی واقعات اور علی الخصوص ندوۃ العلماء کے متعلق بحث کرنا ۔

شروع میں اس کے مدیر مولوی محمد سعید صاحب صاحب تھے اور اس کے بعد بھی نام تو ان کا ہی رہالیکن شاید پھر وہ کتابوں کی تجارت سے وابستہ ہوگئے تھے اور رسالہ کی ذمہ داری مولانا محمد احسن استھانوی بہاری کے ذمہ آگئی تھی ۔

اس کے سرورق کی جو عبارت ہوتی تھی اس پر شروع میں مولوی سعید صاحب کا نام نظر آتا ہے ۔چنانچہ جلد ۲ شمارہ ۸ یعنی شعبان ۱۳۱۱ھ کے شمارہ میں سرورق پر عنوان کے نیچے حسب ذیل عبارت ہے

احقر الانام نیاز مند بارگاہ رب مجید محمد سعید عفی عنہ کے اہتمام سے مطبع احمدی کانپور میں چھپ کرشائع ہوا ۔۔۔ عام شائقین سے سالانہ قیمت عصہ[ایک روپیہ]نمونہ کے لئے آدھ آنہ کا ٹکٹ بھیجنا ضرور ہے‘‘۔

اور آخری صفحہ پر حسب ذیل تحریر نظر آتی ہے:

 ’’مطبع احمدی واقع کانپور میں محمد عبدالصمد کے اہتمام سے چھپا اور محمد سعید مہتمم تحفہ محمدیہ نے شائع کیا‘‘۔

آخری صفحہ پر عام طورپر ہر شمارہ میں اعلان ضروری کے زیر عنوان حضرت مولانا محمد علی مونگیری کی کتابوں کا اشتہار نظر آتا ہے اور نیچے حسب ذیل الفاظ ملتے ہیں:

 ’’المشتہر محمد نورالدین مدیر رسالہ تحفہ محمدیہ کان پور احاطہ کمال خاں مسجد دولاری ‘‘۔

آخری صفحہ پر خریداری کے شرائط اور اس کی تفصیل ملتی ہے اور اس کے نیچے ایڈیٹران اخباراور رسالہ جات کی خدمت میں کے عنوان سے ان کی خدمت میں گذارش کی گئی ہے کہ اسلامی اخبارات اس رسالہ کا تعارف کرائیں ۔

سال آئندہ یعنی ۱۳۱۲ھ کے پہلے ہی شمارہ سے مولانا محمد سعید کے ساتھ مولوی محمد احسن بہاری کا نام بھی نظر آتا ہے ،اور نور الدین کی  جگہ رسالہ کے منتظم اور کتابوں کے مشتہر کی حیثیت سے انہیں کا نام ملتا ہے۔مولانا کا تعارف آگے آئے گا ۔

اس کے بعد مولانا محمد سعید کے نام میں بھی کچھ تبدیلی نظر آتی ہے اور ان کے نام کے ساتھ تاجر کتب کلکتہ کا لفظ نظر آتا ہے ،چنانچہ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ میں سرورق میں حسب ذیل الفاظ نظر آتے ہیں   

’’محض تائید اسلام کے لئے بندہ ناچیز محمد سعید تاجر کتب کلکتہ خلاصی ٹولہ نمبر ۸۵ کے اہتمام سے مطبع انتظامی کان پور میں چھپ کر شائع ہوا ۔۔قیمت سالانہ پیشگی مع محصول ؟ نمونہ کا پرچہ ایک کا ٹکٹ آنے پر مفت جائے گا‘‘۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کلکتہ چلے گئے تھے اور ادارت سے لے کر اہتمام تک کا سارا کام مولانا سید احسن بہاری ہی دیکھ رہے تھے ،لیکن بہ ظاہر ان کا وہاں قیام عارضی تھا ،چنانچہ پھر اگلے سال یعنی ۱۳۱۵ھ کے پہلے شمارہ میں تاجر کتب کلکتہ کا لفظ نہیں ملتا بلکہ اس کی

ماہ محرم ۱۳۱۵ہجری کے شمارہ کے سرورق پر حسب ذیل الفاظ نظر آتے ہیں

’’تحفہ محمدیہ بابت ۱۵ ماہ ربیع الآخر ۱۳۱۵ھ بحسن سعی مولوی محمد سعید صاحب کانپوری محض تائید اسلام کے لئے بندہ ٔ ناچیز خاکسار محمد احسن بہاری کے اہتمام سے اسلامی پریس تحفہ محمدیہ کانپور میں چھپ کر شائع ہوا ‘‘۔’’ہر قسم کے خطوط منی آرڈر فقط عاجز سید محمد احسن بہاری مہتمم رسالہ کے نام آنا چاہئے ‘‘۔

اسی شمارہ کے دوسرے صفحہ پر حسب ذیل تحریر نظر آتی ہے

’’آپ کو معلوم ہوگا کہ معاونین اسلام کی ہمت وتوجہ نے ہم کو اس امر پر آمادہ کیا ہے کہ آپ کے مذہبی رسالہ کو جو مہینے میں ایک بار نکلتا ہے ،اب دو بار شائع کیا جائے ،اس لئے ہم نے مصمم قصد کیا تھا کہ محرم ۱۳۱۵ھ سے دوسرا رسالہ شائع کیا جائے ،مگر چوں کہ طبائع مختلف ہوتے ہیں ،اور خریداروں کی مرضی پورے طور سے معلوم نہیں ہوئی تھی ،اس وجہ سے چند امور کا لحاظ مناسب معلوم ہوا ۔ایک یہ کہ مہینے کا پہلا رسالہ حسب دستور خریداران سابق کے نام جاری رہے اوردوسرا رسالہ انہیں خریداروں کے نام بھیجا جائے ،جو اپنی علو ہمتی سے بصراحت درخواست کریں یا کسی طریق ان کا ہونا یقینی ۔دوسرے یہ کہ وقت مقررہ سے کسی قدر تاخیر کی جائے ،تاکہ کافی طور سے اعلان ہوجائے ،اور خریداروں کی درخواست آجائے ۔،یہی وجہ ہے کہ محرم میں اس کا اجرا ملتوی رہا ۔تیسرے یہ کہ ازالۃ الشکوک کا طبع ہونا دوسرے رسالے کے ہمراہ تین ماہ تک ملتوی رہے ،اور حسب دستور مہینے کی پہلے والے کے ہمراہ چھپا کرے ،چوتھے مہینے دونوں کے ہمراہ ہر ماہ میں دوبار چھپنا شروع ہو مگر جب وہ میعاد بھی ختم ہوچلی یعنی چوتھا مہینہ ربیع الثانی کا اس کے بعد ہی شروع ہے اس لئے حسب وعدہ اس کی اشاعت ضرور ہے ۔چوتھے یہ کہ تحفہ محمدیہ کے مقاصد میں وسعت دی جائے اور مقاصد سابقہ کے مناسب کچھ مقصد اضافہ کرکے دوسرے رسالے سے خاص کردئے جائیں ۔یعنی اگر چہ تحفہ ایک رسالہ ہے جو مہینے میں دوبار چھپے گا ،اور مقاصد اس کے مشترک ہیں بعض مقاصد کے پہلے مرتبہ کے مرتبہ کے رسالے سے اور بعض کو دوسرے مرتبہ کے رسالے سے ایک نوع کی خصوصیت کردی گئی ہے ۔یہ بھی ارادہ ہے کہ مقاصد مذکورہ کے علاوہ بعض وقت کسی علمی مسائل کی تحقیق اور مشکل سوالات بھی درج ہوں گے ،تاکہ علماء ان کا جواب دیں ،اور عام مسلمان اس سے مستفید ہوں ۔بعض عالی ہمت قدردانوں کے لحاظ سے صرف اس تحفہ کے کچھ نمبر عمدہ کاغذ پر بھی چھپوالئے گئے ہیں ،جو صاحب اس کاغذ کا خرید فرمائیں گے ان کو ۴؍ زیادہ دینے ہوں گے ،یعنی عہ؍۴ [چار آنے]سالانہ قیمت مع محصول لی جائے گی ‘‘۔

اس کے بعد حسب ذیل تحریر ملتی ہے

’’اہل علموں کی خدمت میں التماس

حضرات! خداوند علیم نے جو علمی قابلیتیں آپ کو عطا فرمائی ہیں اس کا سچا مقتضا یہی ہے کہ آپ ان کو کام میں لائیں ،اور ان سے قوم کی خدمت کریں ،اگلے حضرات رحمہم اللہ اجمعین کا علم وکمال حاصل محض اس غرض سے ہوا کرتا تھا کہ وہ قوم اسلام کے کام آئیں ،پھر آپ کیوں اپنے سلف صالحین طریقے سے ہٹے ہوئے ہیں ،قابلیت ومہارت فن فن حاصل کی تو اس کو ہمیشہ قوم پر صدقہ کیجئے اور جلد مسلمانوں کی اصلاح کرنے والے مضامین بھیج کر ہم کو اور تمام اہل اسلام کو ممنون فرمائیے ۔خاکسار محمد احسن بہاری عفی عنہ مہتمم رسالہ‘‘۔

اسی سال ۱۳۱۱ھ میں ندوہ کی تحریک کا پہلا اجلاس ہوا ،اس کی تفصیل بھی اس سال کے شماروں میں نظر آتی ہے ۔

اس رسالہ میں قدیم کے ساتھ جدید مضامین بھی شائع ہوتے تھے ،چنانچہ مغربی اہل قلم کے مضامین کے ترجمے بھی نظر آتے ہیں اور علامہ شبلی اور حالی جیسے جدید اہل قلم کے مضامین بھی ۔نیز عیسائیت کی تردید میں اکثر اور ہندومذہب اور قادیانیت کی تردید میں زیادہ مضامین نظر آتے ہیں ۔بعض کتابیں بھی مکمل قسط وار شائع ہوئی تھیں ،جیسے مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی معیار السلوک۔

حضرت مولانا مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح میں تحفہ محمدیہ کا ذکر نہیں بلکہ اس کے بجائے منشور محمدی کا ذکر ملتا ہے ،(دیکھئے سیرت محمد علی مونگیری)حالاں کہ تحفہ محمدیہ حضرت والا کے سیرت نگار مولانا محمد الحسنی کے پیش نظر رہی ہے ،لیکن سرورق پر حضرت مونگیری کا کوئی ذکر نہیں تھا اس لئے وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکے ۔جب کہ منشور محمدی بنگلور سے نکلتاتھا ،وہ حضرت مونگیری کی نگرانی میں کانپور سے یا بنگلور ہی کبھی نہیں نکلا ،البتہ وہ عیسائیت کی تردید کے حوالے سے مشہور تھا اس لئے مولانا مونگیری اس پر خاص توجہ دیتے تھے ۔مولانا محمد الحسنی کو آئینہ اسلام تصنیف حضرت مونگیری کی ایک عبارت سے غلط فہمی ہوئی ۔

ماہنامہ معارف کے اگست ۲۰۱۹ کے شمارہ میں مشہو ر اہل قلم راہی فدائی کے مضمون رد عیسائیت اور علمائے جنوب میں منشور محمدی بنگلور کا ذکرآیا تھا ،اور انہوں نے تفصیل سے اس کاتعارف کرایا ہے اور اس کے مشمولات پر بھی روشنی ڈالی ہے ،وہ لکھتے ہیں

’’ردعیسائیت میں تیرہویں صدی ہجری کے اختتام پر جنوبی ہند کے مشہورشہر بنگلور نے بڑا اہم کارنامہ انجام دیا ہے ،بنگلور سے شائع ہونے والا دس روزہ اخبار ’’منشور محمدی‘‘ نصف صدی سے زائد عرصہ تک ردعیسائیت میں سرگرم عمل رہا ،اس اخبار کے خریدار کشمیر سے کنیا کماری تک پھیلے ہوئے تھے ،منشور محمدی میں صرف عیسائیت کے متعلق ہی مضامین شائع ہوتے تھے ،اس اخبار کے مختلف اوقات میں کئی مدیر ہوئے ‘‘۔(معارف اگست ۲۰۱۹،ص۱۰۱)

انہوں نے آگے یہ بتایا ہے کہ مولانا محمد الحسنی کو شبہ ہوا ہے ۔اور حقیقت بھی یہی ہے ،در حقیقت یہ وہی اخبار ہے جو بنگلور سے نکلتا تھا ،البتہ ردعیسائیت کی وجہ سے حضرت مونگیری سے اس کا گہرا تعلق تھا ،چنانچہ تحفہ محمدیہ میں اس کے مدیر کی وفات کا ذکر ملتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اخبار تو وہی ہے البتہ حضرت مونگیری سے اس کا بہت گہرا رشتہ تھا ،راہی فدائی صاحب نے اپنے محولہ مضمون میں محمد شریف صاحب کو اس کا آخری مدیر بتایا ہے ،تحفہ محمدیہ جلد نمبر ۳ شمارہ نمبر ۸(رجب ۱۳۱۲ھ)میں حادثہ جانکاہ کے عنوان سے صفحہ ۱۰ پرمحمد شریف صاحب کی وفات کی اطلاع نظر آتی ہے ،چنانچہ اس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے ’’مولوی محمد شریف صاحب مالک اخبار منشور محمدی اس جہان فانی کو چھوڑ کرچلے گئے ‘‘۔ اس کے بعد ان کے فضائل ذکر کئے گئے ہیں۔ہم نے معارف میںمحولہ بالا مضمون کی اشاعت کے بعد ایک مکتوب میں یہ عبارت لکھ کر معارف میں بھیجی تھی لیکن وہ شائع نہیں ہوسکی ،یہاں وہ خبر نقل کی جارہی ہے ۔

’’ہم نہایت حسرت وافسوس کیے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے رہنماہادی جناب حاجی مولوی محمد شریف صاحب مرحوم مالک اخبار منشور محمدی اس جہان فانی کو چھوڑ کر عالم جاودانی میں رحلت کرگئے ،انا للہ ونا الیہ راجعون۔یہ وہ مقدس جامع معقول ومنقول بزرگ تھا ،جو پر آشو ب زمانہ میں مخالفین کے مقابلہ کے لئے سب سے پہلے اٹھ کھڑا ہوا ،اور سچے دل سے اپنی جان ومال کو اس کام کے لئے وقف کرکے منشور محمدی کو جاری کردیا ،گو اس میں سیکڑوں ہی خسارے اور منتیں ہوئیں مگر واہ رے عشق ! مذہب وفدائیت اسلام کو کہ اکیس برس تک اسے جاری ہی رکھا ،ہم کو ایک ایسے عالم باعمل کے اٹھ جانے سے جو دین کے ایسے ضروری کام میں لگا ہوا تھا جس درجہ رنج والم ہو تھوڑا ہے ،اور جس قدر حسرت وافسوس ہو کم ہے ۔ہائے ،ہمارا ہم کام ،ہم خیال ،مخالفین کا دل دہلادینے والا ااج ہم سے جد اہوگیا ،جس سے ہم او ر ہمارے مذہب کو بڑی تقویت تھی ،ہم دل سے دعا کرتے ہیں کہ خداوند کریم انہیں فردوس بریں میں رسول مقبول ﷺ کے ساتھ خاصوں میں جگہ دے ،اور ان کے یتیم بچوں اور جمیع متعلقین کو صبر جمیل ونعم البدل عطا کرے ،آمین ثم آ مین‘‘۔    

اسی دوران حضرت مولانا فضل رحمن گنج مرادآبادی کا انتقال ہوا تو ان پر تعزیتی تحریر بھی لکھی گئی ،یہ تحریر تاریخی اور اہم ہے اس لئے یہاں مکمل نقل کی جاتی ہے ۔یہ یکم جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ کے شمارہ میں وفات حسرت آیات کے عنوان سے ہے ،جو حسب ذیل ہے

’’ہم نہایت حسرت وافسوس کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ شیخ الوقت مخدومنا وہادینا ،مولانا فضل رحمن گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ ۲۲ربیع الاول ۱۳۱۳ھ کو بروز جمعہ بعد مغرب اس دنیائے فانی سے رحلت فرمائی ،انا للہ وانا الیہ راجعون۔ہندوستان کا کوئی ضلع وشہر ایسا نہیں ہے جہاں اس حادثہ کا ماتم نہ ہو ،کیوں کہ آپ کے مریدین ومتوسلین سے کوئی شہر وقصبہ خالی نہیں ۔ہائے افسوس کہ آج قوم کے سر سے ایک ایسے عالم باعمل،درویش کامل ،شیخ وقت منبع رسول ﷺ خلیفہ طریقت کے یادگار کا سایہ اٹھ گیا ،جس کے غم سے ہر شخص کا دل ماتم کدہ ہورہا ہے ،،آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں سے بھی زائد ہے ، ہندوستان کیا عرب ،فارس،پنجاب کے اطراف بکثرت طالب خدا آئے اور آپ کے دست مبارک پر بیعت کی ،آپ کی کرامات وکشف کے واقعات جو عالم میں مشہور ہیں  اس سے کون واقف نہیں ،پر ہمیں تو یہ بھایا کہ آپ دل وجان سے اتباع رسول ﷺ کے فدائی تھے ،کوئی آن ،کوئی لحظہ آپ کا دل اس خیال سے خالی نہ تھا ۔ہائے اس وقت آپ کا ارشاد بے ساختہ یاد آگیا ،کہ میاں ولایت اس کو نہیں کہتے کہ انسان آسمان پر اڑ نے لگے ،بلکہ ولایت اس کا  نام ہے کہ انسان سے بلاتکلف حضور ﷺ کے افعال حرکات وسکنات سرزد ہوں ۔وقت وصیت بھی کسی نے آپ سے پوچھا تو آپ نے یہی جواب دیا ،اطیعوا للہ واطیعو الرسول ۔دل سے خداوندتعالی اور اس کے رسول کی فرماں براداری کرنا یہی ہماری وصیت ہے ۔فضل رحمن (۱۲۰۸ھ)آپ کا تاریخی نام ہے ،اس حساب سے عمر شریف ایک سو پانچ برس کی ہوئی ‘‘۔(ص۱۰)

جمادی الآخر کے شمارہ میں صفحہ ۱۰ پر حضرت گنج مرادآبادی کی شان میں ایک نظم اور ایک قطعہ تاریخ ہے ،آٹھ اشعار کی نظم مولوی ابوسعید متوطن ایرانواں ضلع فتح پور کی ہے ،اور قطعہ تاریخ سید انوار احمد ڈپوٹی [ڈپٹی]مجسٹریٹ سیوان ضلع سارن کی ہے۔

          ابوسعید صاحب کی نظم یہ ہے:

                             کجائی تو کے برآید از دورنم                  بروں تا از مزار خودنیائی

                             تو خود رفتی وہمراہم نبردی                نباشد ایں طریق آشنائی

                             نمی دانستم اندر خواب غفلت              کہ کردم دست بوس الوداعی

                             تو دادی ام طریقت باشریعت             وگرنہ عاشقی وپارسائی

                             مرانگذاشتند تا،تاقیامت                   کنم بر آستانت جبہ سائی

                             چو بے تو مشکلم در مشکل افتاد             کہ آید بر سر مشکل کشائی

                             نگاہے بر سعید بے نوائی                   زمشتاقاں چناں بے رخ چرائی

ذی الحجہ ۱۳۱۳ھ کے شمارہ میں ترقی اسلام کے عنوان کے بعد صفحہ ۴پر یتیم خانہ کانپور کا ذکر ہے ،اورحکومت سے اس کی اجازت طلب کی گئی ہے کہ لاوارث بچوں کی کفالت کی اجازت دی جائے ،اس کے بعد حضرت گنج مرادآبادی کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک مکتوب کا ذکر کیا گیا ہے ،جو ان کے جانشین مولانا احمد میاں کے نام مدینہ منورہ سے آیا ہے ، پھر ’’از افضل البلاد مدینہ منورہ علی صاحبہا افضل الصلاۃ والتسلیم ‘‘کے زیر عنوان پورا خط درج ہے ،اس میں لکھا ہے :

’’پس از سلام مسنون نیاز مشحون کے عرض کرتا ہے کہ خبر انتقال قطب دوراں ،غوث زماں ،حضرت مولانا محمد فضل رحمن صاحب قدس سرہ العزیز کی اس بلدہ طاہرہ میں گوش زد خاص عام کی چند ماہ سے تھی،لیکن جب عزیزی مولوی حافظ حامد حسن سلمہ اللہ کے خط مورخہ نہم جمادی الثانی سے وہ خبر متحقق ہوئی تو اس وقت احقر کو یہ خیال ہوا کہ سلطنت عثمانیہ خلّد اللہ ملکہا کے سلاطین سے یا کہ اعظم امراواکابر سے وہاں کوئی وفات پاتا ہے اس کی نماز جنازہ حضور ی میں سلطان دو عالم ﷺ کے پڑھی جاتی ہے ،مع ہذا ولی کامل ،آیۃ من آیات اللہ مولانا قدس سرہ العزیز کی نماز جنازہ پڑھی جانی بھی لابد ہے ،حضرت مولانا ہی کا تصرف تھا کہ یہ خیال گذرا اور اس کے انجام کی فکر کی گئی کہ معاً اس کا ظہور بھی ہوگیا ،یعنی ۱۵ شعبان روزجمعہ کو بعد ادائے نما زفریضہ کے مکبر نے مکبریہ پر جو مسجد شریف میں محاذی قبر شریف وقریب محراب النبی ومنبر شریف کے ہے کھڑے ہوکر بآواز بلند پکار کراس قسم کے الفاظ کہے ،صلاۃ الجنازۃ الغائب للعالم المتبحر الفاضل الکامل مولانا الشیخ محمد فضل رحمن نقشبندی ،کان[کذا]وفاتہ فی الھند ‘‘۔یہ آواز تمامی بلد وآفاقی حضار حرم شریف کے سن کر شریک نماز ہوئے ۔۔۔۔۔۔نماز جنازہ سے فارغ ہوکر نماز وقتی کی تکمیل کے بعد قریب بحجرہ شریفہ نبویہ کے اہتمام قرآن خوانی کا ہوا ،بکثرت پڑھنے والے تھے ،کئی ختم ہوئے ،اور مرحوم ومغفور کی روح پر فتوح کو ثواب بخشا گیا ‘‘۔

 اس کے بعض شماروں کے مشمولات کا اجمالی جائزہ بھی ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔

ربیع الاول ۱۳۱۳ھ جس میں حضرت گنج مرادآبادی کی وفات کی اطلاع شائع ہوئی ہے ،اس کے مشمولات اس طرح ہیں ۔پہلا عنوان حسب سابق ترقی اسلام ہے ،اس کے بعد ایک عنوان ہے ،دنیا میں مسلمانوں کی تعداد چورانوے کرور ہے ۔یہ مضمون انڈیا گزٹ بمبئی سے ماخوذ ہے۔صفحہ ۴ پر قسطنطنیہ اور اس سے متعلق خبریں ہیں ،اس کے ذیل میں مرحمت خسروانہ کا بھی عنوان ہے ۔ اس کے بعد نیویارک کے عنوان سے نیویارک امریکا کے ایک نومسلم کا خط شائع ہوا ہے ،جس کا نام اخیر میں محمد الگزنڈر رسل وب لکھا ہے ،اس میں تبلیغی خدمت کے بعد یہ بھی لکھا ہے کہ

 ’’میں آپ کی اس عنایت سے خوش ہوں گا اگر آپ میرے پاس ندوۃ العلماء کی رپورٹ یہاں شائع کرنے کے لئے ارسال فرمائیں ، اس سے ہمارے امریکن بھائیوں پر ظاہر ہوجائے گا کہ مسلمانان ہند اپنے ہر کام میں سچے اور چست وچالاک ہیں‘‘۔(ص۷)

رسل صاحب کا ذکر اس سے پہلے کے شماروں میں بھی ہے ،اور ان کا تعارف اور امریکہ میں اسلام کی خدمت اور کام کے لئے ان کو چندہ ارسال کرنے کا ذکر اس سے پہلے کے کئی شماروں میں ہے ،جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر اسلام کی اشاعت اس رسالہ کے ذمہ داروں کو کیسی دلچسپی تھی ۔رسل صاحب کے تعارف میں شاید اولین مضمون حیدر آباد سے مولانا عبدالغنی استھانوی کا چند شماروں قبل شائع ہوا تھا ،اس کے بعد سے متعدد شماروں میں ان کا ذکر ملتا ہے۔

اس کے بعد مذکورہ شمارہ میں لیورپول اور افریقہ کے الگ الگ عناوین سے بعض اخبارات کے حوالے سے وہاں کے اسلام لانے والوں کی خبریں ہیں ۔

اسی شمارہ میں آگے ندوۃ العلماء کے عنوان سے ندوہ کے کاموں کا جائزہ اور آئندہ کے عزائم کا ذکر کیا گیا ہے ۔اس کے بعد حضرت گنج مرادآباد ی کی وفات کی اطلاع ہے جو گذرچکی ہے ،پھر بقیہ اخلاق محمدی کے عنوان سے ایک قسط وار مضمون جو پہلے سے چھپ رہا تھا اس کی ایک قسط ہے ،اس میں عیسائیت کی کمزوریاں بھی دکھائی گئی ہیں ۔اخیر میں مضمون نگار کا نام ہے ،احقرالعباد محمد اشرف علی سلطان پوری۔اس کے بعد عنوان ہے بقیہ تعلیمات بیبل [بائبل]یعنی تعلیمات بائبل کے سلسلہ مضمون کی ایک قسط ہے ،یہ بھی عیسائیت کی تردید میں ہے ،اس کے اخیر میں مضمون نگار کا نام راقم مولیٰ عطا لکھا ہے۔اس کے بعد ایک اور سلسلہ مضمون تبیان حسن الملیح فی وجہ المحمد من المسیح کی ایک قسط ہے ،یہ بھی عیسائیت کی تردید میں ہے ،یہ پٹنہ کے مشہور اہل حدیث عالم مولانا ابوالحسنات عبدالغفور داناپور ی کا مضمون ہے ،اس کے بعد اشتہارات اور پرچہ کے خریداروں کا ذکر ہے ،ایک تذکرہ کی تدوین کا بھی اشتہار ہے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ اخیر میں حضرت مونگیری کی کتابوں کا اشتہار ہے۔پھر یہ جملہ ہے

’’جملہ خطوط ومنی آرڈر بنام مولوی سید محمد احسن صاحب بہاری منتظم تحفہ محمدیہ آنا چاہئے‘‘۔

جمادی الاول کے مہینہ میںحسب سابق پہلا عنوان ترقی اسلام ہے ،اس کے بعد عنوان ہے حضرت مولانا شاہ فضل رحمن کا تصرف باطنی اور ایک نیک دل مسلمان رئیس کی فیاضی ۔اس کے تحت حضرت گنج مرادآبادی کے چہلم کے موقع پر راجہ جنگ بہادر والی نان پارہ کے امداد کا ذکر ہے۔

جمادی الآخر ۱۳۱۳ھ کے شمارہ میں صفحہ ۸ پر ندوۃ العلماء کے عنوان سے دیڑھ صفحات کا مضمون ہے جو بہ ظاہر مدیر رسالہ مولانا محمد احسن استھانوی کے قلم سے ہے ،جس میں رجب ۱۸ رجب ۱۳۱۳ھ سے ندوۃ العلماء سے متعلق کانپور میں ہونے والے اجلاس کی اطلاع ہے ،اور اس میں کیا تجاویز پیش کی جائیں گی ان کا بھی ذکر ہے ،اسی شمارہ میں حضر ت گنج مرادآبادی پر قطعات تاریخ اور منظوم مرثیہ ہے ،جس اوپر درج ہوچکا ہے۔اس کے بعد عنوان ہے ،وہی کانپور میں مشنریوں کی یورش اور ہم ۔اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ یہ مشنریاں کیوںفروغ پارہی ہیں ،صرف ہماری اور آپ کی بے توجہی کی وجہ سے ،اس کے بعد دین قیم نامی ایک رسالہ کا اجمالی تذکرہ ہے جو عیسائیت کے دفاع میں لکھا گیا ہے ،اور لکھا ہے کہ اس رسالہ کا جواب آئندہ لکھا جائے گا ۔

محرم اور صفر میں تذکرہ علمائے ہند کا اشتہار ہے ،صفر میں گذشتہ اعلان کے حوالہ سے مختصر ذکر ہے ،محرم میں تیرہویں صدی کے علماء کی تاریخ کے عنوان سے آدھے صفحے کا اعلان ہے ،اعلان کے اخیر میں المشتہر خادم المسلمین سید محمد حسین عفی عنہ سید پوری حال مدرسہ پرگنہ اسکول اوجھابی ہے،اس سے پہلے خود مدیر مولانا سید محمد احسن نے تمہید کے طور پر ان کا ذکر کیا ہے ،پھر یہ اعلان درج کیا ہے ۔یہ وہی کتاب ہے جو تذکرہ علمائے ہندوستان کے عنوان سے جناب خوشتر نورانی کی تحقیق سے شائع ہوگئی ہے ،اس میں مولانا محمد احسن کے تذکرہ میں مصنف نے لکھا ہے کہ ان کو تاریخی معلومات ان سے بھی بہم پہنچیں ،آگے ان کے حالات میں پوری عبارت آرہی ہے۔

خود رسالہ سے متعلق اس میں جو اطلاعات ہیں ان میں چند عبارتوں سے اس رسالہ کی تاریخ ومقاصدپر بھی روشنی پڑتی ہے،مقاصد کا ذکر گذرچکا ہے ،ماہ رمضان ۱۳۱۲ھ کے شمارہ میں ’’تحفہ کے لئے پریس کی ضرورت ‘‘ کے عنوان سے حسب ذیل عبارت ملتی ہے

’’اب تک تحفہ کا چھپنا مالکان مطبع احمدی وغیرہ کی ہمت پر منحصر ہے ،مگر چوں کہ مطبع کا کام خود ہی بکثرت ہے اس لئے تحفہ کو اپنے خاص وقت پر چھپ کر نکلنا ذرا دشوار ہوجاتا ہے،اس میں شک نہیں کہ مالکان مطبع تحفہ پر شروع سے اب تک بڑا احسان رہا ،اور ہم اس کے شکرگذار بھی ہیں ،مگر اب کہ مشتاقان تحفہ کا اشتیاق زیادہ اور تحفہ وق پر حاضر نہیں ہوسکتا ،لہذا ہم تمام خریداروں سے یہ استدعا کرتے ہیں کہ ؎                                      بر کریمان کارہا دشوار نیست

آپ لوگ باقتضائے حمیت اسلامی اس اپنے ایک روپیہ معینہ سے ایک زائد ایک روپیہ اور بھی اعانتاً عنایت فرمادیں تو تحفہ کے لئے پریس ہوجائے ،اور تحفہ اپنے وقت پر چھپ کر آپ حضرات کی خدمت میں پہنچ جایا کرے‘‘۔

ربیع الآخر ۱۳۱۱ھ کے شمارہ میں سرورق پر’’ احقر الانام محمد سعید عفی عنہ وباعانت جناب مولانا مولوی سید محمد علی صاحب مدظلہم ‘‘کی تحریر بھی ملتی ہے ،جو اس سے پہلے اور بعد کے شماروں کے سرورق پر بھی ملتی ہے ،اور اس کے بعد مطبوعہ مطبع احمدی کانپور لکھا ہے ۔

دوسرے صفحہ پرایک موثرتمہیدکے بعد رسالہ کے مقاصد کاذکر ہے،جو حسب ذیل  ہے:

۔۔۔۔۔۔یہ دوسرا سال ہے کہ حضرت مولانا وسیدنا مولوی محمد علی صاحب عم فیضہ کے ایما سے یہ ماہواری رسالہ تحفہ محمدیہ جاری ہوا ہے ،جس کے مقاصد امور ذیل ہیں:

۱۔اسلام کی برکات اورخوبیوں کا ظاہر کرنا ۔

۲۔تعلیمات موسوی اور عیسوی سے تعلیم اسلام کا مقابلہ کرکے اسلام کی فضیلت کو اظہر من الشمس کرنا ۔ ۳۔اسلام کے منورہ چہرہ سے الزامات کی گرد وغبار کو دور کرنا ۔

۴۔ترقی اور تنزل اسلام کے اسباب بیان کرنا اور مسلمانوں کو اسباب ترقی کی طرف متوجہ کرنا۔

۵۔اسلام کے متعلق خبروں کو بیان کرنا۔اہل اسلام کو اس کی اشاعت اور قیام میں کوشش کرنا فرض ہے ۔

 ادنی مرتبہ اس کی اعانت کا یہ ہے کہ سال بھر میں ایک روپیہ بطور امداد عنایت کریں ،یہ ایسی مدد ہے کہ نہایت قلیل آمدنی والا بھی بلا دقت کرسکتا ہے ،عالی ہمتوںا ور غیرت مندوں کے لیے ان کی ہمتوں پر چھوڑا گیا ۔اے حامیان اسلام ! اگر تم نے بلند ہمتی کو کام فرمایا تو ضرور خدا کے فضل سے تم دیکھو گے کہ تمہارا یہ رسالہ صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ تک اسلام کی روشنی کو چمکائے گا ،جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے ‘‘۔

          سال ۱۳۱۳ھ کے پہلے شمارہ میں اداریہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح اس میں ترقی اسلام کے عنوان سے پوری دنیا میں اسلام لانے والوں کی خبریں چھپتی رہتی ہیں ،اس کے بعد تحفہ محمدیہ کا چوتھا سال کے عنوان سے اس رسالہ کی سرگذشت بیان کی گئی ہے ،اور ترقی ،مالی امداد ،اشاعت،نقدی اعانت اور مضمون کے ذیلی عناوین کے ذریعہ اس کی ترقی کے ساتھ دشواریوں کا بھی ذکرکی گیا ہے ۔ص۳پر لکھتے ہیں :

’’اس جگہ پر سب سے پہلے ہم کو ہماے مہتمم جناب مولوی محمد سعید صاحب زاد عنایتہ یاد آتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اس کے ساعی ہیں اور کوشش فرمارہے ہیں کہ اس کا ایک پریس قائم ہوجائے تاکہ چھپوانے کی محتاجی سے نجات ملے ‘‘۔

ربیع الاول ۱۳۱۳ھ ہی کے شمارہ میں ’’التماس مخصوص بعلمائے اکیاس ‘‘کے عنوان سے ایک اشہار ہے جو مولانا ادریس نگرامی کی طرف سے ہے ،اور بہت ہی اہم ہے ،وہ پوری عبارت حسب ذیل ہے :

’’حضرات! ایک سال کے قریب ہوا کہ حسب حکم واتفاق رائے جناب مولانا مولوی سید محمد علی صاحب ناظم ندوۃ العلماء میں نے ایک کتاب تراجم علمائے موجودین میں لکھنے کا عزم کیا ،اکثر علماء کی خدمت میں بطلب تراجم خطوط ارسال کئے ،تخمیناً ساڑھے چار سو خطوط بھیجے گئے ،اکثر مشاہیر علمائے حنفیہ واہل حدیث نے جواب سے مشرف فرمایا ،اور ان کے نام نامی مع تراجم درج کتاب ہوچکے اور بہت حضرات علماء کے صرف نام درج ہیں ،اور چوں کہ انہوں نے تراجم کے ارسال میں دیر فرمایا ،اس وجہ سے تراجم سے خالی ہیں ،ان حضرات کی نیت ضروربخیر ہے کہ اپنے تراجم دینے میں ایک قسم کی نمائش ہے ،مگر ظاہر ہے کہ وقت ضرورت وحاجت انشا واشعار رجزیہ اکابر سے منقول ہے۔اے حضرات! یہ زمانہ بھی اسی کا خواستگار ہے کہ آپ لوگ غیر قوم کو دکھلائیے کہ ملت حنفیہ میں اب بھی اس قدر اور ایسے لوگ موجود ہیں ،علاوہ ازیں اگر حالات فضائل آیات کے اظہار سے اعراض ہے تو صرف نام مع ولدیت ،مقام ولادت ،مسکن ،سنہ ولادت ،اسمائے شیوخ ،مدت تحصیل علم ،شغل ،تصا نیف ،صورت گذراوقات سے معزز فرمایا جاؤں ،چوں کہ اب عجلت زیادہ ہے ،لہذا جن حضرات کے نام عرائض جاچکے ہیں یا بسبب ناواقفی ارسال عرائض سے معذور رہا ان سب سے امید ہے کہ اپنا حال مدت چار ماہ کے اندر اپنا حال مفصل تحریر فرمادیں گے ورنہ موجودہ حالت کے مطابق کتاب چھپ جاوے گی ۔یہ بھی مرکوزخاطر رہے کہ جو صاحب اپنے بہت وسیع ومفصل حالات تحریر فرمادیں گے اور بقدر ترجمہ خود اجرت طبع کے بھی کفیل ہوں گے تو بشرط نہ ہونے خلاف مصلحت کے پورا ترجمہ طبع کیا جاوے گا ،ورنہ بقدر ضرورت ۔الملتمس ،خادم ندوۃ العلماء مسکین محمد ادریس ساکن نگرام ضلع لکھنؤ ملک اودھ ‘‘۔

یہ وہی مشہور کتاب تذکرہ علمائے حال ہے جو مولانا ادریس نگرامی کے قلم سے تقریباً ۱۲۹۶ھ میںشا ئع ہوئی تھی ۔اس سے ایک سال قبل جو اشتہار مولانا نگرامی ہی کی طرف سے شائع ہوا تھا اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ جس طرح یورپ کی قومیں اپنے معروف لوگوں کے تذکرے محفوظ کررہی ہیں اسی طرح عالم اسلام میں بھی اس کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ اکابرین کے تذکرے محفوظ کئے جائیں ،اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو دکھایا جائے کہ ہمارے یہاں بھی کیسے کیسے رجال کار ہر دور میں موجود رہے ہیں ۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحفہ محمدیہ کی اہم کوششوں میں تاریخی نویسی اورتذکرہ نویسی کی تحریک بھی شامل تھی ،کیا عجب ہے کہ بعد میں اس سمت میں جو توجہ ہوئی اس میں اس رسالہ کا بھی اثر ہو۔

رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ کے شمارہ میں ندوۃ العلماء کی تاسیس کے پہلے اجلا س کا اشتہار ملتا ہے ،اس کے علاوہ بھی ندوہ کا ذکر اس کے بعد کے تقریبا ہر شمارہ میں ملتا ہے،رمضان میں مذکورہ اعلان کے بعد شوال کے شمارہ میں تو ندوہ کا کوئی ذکر نہیں ہے ،البتہ ذی قعدہ کے شمارہ میں اس اجلاس کی روداد ہے جس کو ندوہ سے متعلق اولین تحریر کہا جاسکتا ہے ۔

اسی سال یعنی ۱۳۱۲ھ کے ذی الحجہ کے شمارہ میں ندوۃ العلماء کے ایک سال کی روداد ہے ،جس کا عنوان ہے ’’ندوۃ العلماء کے سال اول کی مختصر کیفیت‘‘۔

ذی قعدہ ۱۳۱۳ھ کے شمارہ میں ندوۃ العلماء کے تیسرے اجلاس کی کیفیت ہے جو بریلی میں ہوا تھا ،یہ بھی مدیر رسالہ مولانا محمد احسن بہاری کے قلم سے ہے ۔

مضمون تکمیل کے مرحلہ میں تھا کہ آن لائن اس کے ایک شمارہ۱۳۱۱ھ۔ ربیع الآخرکا سراغ ملا ،جو مذکورہ بالا جگہوں پر نہیں مل سکا۔

یہ رسالہ کب تک جاری رہا قطعی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے ،البتہ اندازہ یہ ہوتا ہے کہ ۱۳۱۷ھ(۱۸۹۹)تک جاری رہاہوگا کیوں کہ اس سال کے ایک دو شمارے تو ملتے ہیں لیکن اس کے بعد کا کوئی شمارہ اب تک نظر نہیں آیا ۔اس طرح ۱۳۱۰ھ (۱۸۹۳)سے ۱۳۱۷ھ(۱۸۹۹)تک یعنی تقریبا آٹھ سال جاری رہا اور اہم علمی خدمت انجام دی ، اس کے بعد بند ہوگیا۔اس دوران وہ کبھی ناغہ بھی ہوا یا کچھ مہینوں نہیں نکلا ہو اس کا علم نہیں ،لیکن اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ایسا نہیں ہوا کیوں کہ شماروں میں عام طور پر تسلسل نظر آتا ہے ،گرچہ تمام شمارے اب تک دستیاب بھی نہیں ہوسکے ہیں ۔

رسالہ کے مجموعی مشمولات ومواد کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس کے کئی اہم مقاصد تھے ،صرف یہ روایتی انداز کا ایک مذہبی رسالہ نہیں تھاجس کی پوری توجہ مذہبی مناظروں اور عیسائیت وہندومت کی تردید پر مرکوز رہی ، بلکہ جدید مسائل ومباحث بھی اس میں پیش کئے جاتے تھے ،قومی اور ملی ضرورتوں پر بھی روشنی ڈالی جاتی تھی ،یورپ میں اسلام اور اس سے متعلق موضوعات پر بھی اس رسالہ کے شماروں میں خاصا مواد ملتا ہے ،تاریخی موضوعات اور تذکروں پر بھی توجہ تھی ،اس طرح تہذیب الاخلاق اور ان جیسے رسائل کا عکس اس میں ملتا ہے ،اورسب سے اہم بات یہ ہے کہ ندوۃ العلماء کی علمی واصلاحی تحریک کا بالکل ابتدائی دور کا ترجمان یہی رسالہ ہے ،جس کاذکر تقریبا ہرشمارہ میں موجود ہے ۔البتہ مسلم معاشرہ پر اس کے کیا اثرات پڑے اس کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا ،لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق اسلام کی خدمت اور قوم کے فکر وشعور کو بیدار کرنے اور دینی مزاج کی تشکیل شروع ہی سے اس کے پیش نظر رہی ۔

جہاں تک اس کے دونوں مدیر مولانا محمد سعید کانپوری اور مولانا محمد احسن بہاری استھانوی کا تعلق ہے توان میں اول الذکر کے حالات عام طور پر نہیں ملتے ،بس یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بہت فاضل تھے ،اور تاجر کتب بھی تھے ،کچھ دن کلکتہ میں بھی رہے تھے ،کانپورپر جو مضامین اورتاریخیں لکھی گئی ہیں ان میں ان کا ذکر نہیں ملتا ۔

جہاں تک مولانا محمد احسن بہاری کا تعلق ہے تو وہ معروف عالم ہیں ،عام طور پر ان کے حالات کتابوں میں نہیں ملتے ،لیکن ندوۃ العلماء کی تحریک میں وہ پیش پیش تھے ،اور ان تین نوجوانوں میں تھے جن پر حضرت مونگیری کو پورا اعتماد تھا ،وہ علامہ سید سلیمان ندوی کے پھوپھی زاد بھائی تھے ،ان کے والد کا نام حکیم سید نورالحسن تھا ،اور بہارشریف کی مشہور بستی استھاواں ان کا آبائی وطن تھا ،سید صاحب کے بقول وہی سید صاحب کو ندوہ لے گئے تھے ،ان کی ایک کتاب احسن البیان فی خواص القرآن ہے جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کے افادات قرآنی اور ان کی تحقیقات کا مجموعہ ہے ،وہ حضرت تھانوی ؒ کے کانپور کے دور تدریس کے شاگردوں میں ہیں ،اور اسی کتاب میں ان کی اطلاع کے مطابق انہوں نے وہیں ان سے ترمذی اور جلالین پڑھ کر تکمیل کی تھی ،اس کے بعد اسی شہر میں حضرت مونگیری سے وابستہ ہوگئے اور ان سے مستفید ہوتے رہے ،اور حضرت مولانا فضل رحمن گنج مرادآبادی سے روحانی استفادہ کیا تھا ،سید محمد حسین بدایونی کی تذکرہ علمائے ہندوستان (مرتبہ خوشتر نورانی ،مکتبہ جام نور دہلی ،ص۲۰۸۱)میں ان کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے :

’’مولوی سید محمد احسن بہاری ،آپ مولانا مولوی محمد علی (ناظم ندوۃ العلماء)کے بدل وجان ہر طرح پر معاون ہیں ،رسالہ ’’تحفہ محمدیہ‘‘ کے منتظم ہیں ،بتاریخ ۲۵ شہر شوال المکرم ۱۳۱۳ھ(۱۱اپریل ۱۸۹۶)جلسہ ندوۃ العلماء میں بمقام بریلی راقم الحروف آپ سے ملا ،تاریخی امداد پائی ‘‘۔(ص۳۲۹)

وہ تقریبا ً ۱۳۲۲ھ تک کانپور ہی میں رہے اس کے بعد پٹنہ آگئے اور یہاں مطب قائم کیا لیکن شاید ایک دو سال کے بعد ہی عین عالم شباب میں وفات پائی ۔ملک کے مشہور عالم اور ندوہ کے ممتاز فاضل مولانا سید ہاشم ندوی (۱۹۷۲۔۱۳۹۳ھ)ناظم دائرۃ المعارف حیدرآبادانہیں کے صاحبزادے تھے۔

Tags

Share this post: