لیگل لٹریسی کورس کاسالانہ جلسہ
محمد عامرندوی
(باحث مجلس تحقیقات شرعیہ)
مورخہ 22 جنوری بروز جمعرات دارالعلوم ندوۃ العلماء کے تاریخی ہال، علامہ حیدر حسن خاں ٹونکی ہال، میں مجلس تحقیقات شرعیہ کے زیر اہتمام لیگل لٹریسی کورس کی سالانہ تقریب نہایت وقار کے ساتھ منعقد ہوئی، یہ تقریب دراصل ان روشن اور بامقصد روایات کی ایک مضبوط کڑی ہے، جو گزشتہ تین سالوں سے مجلس تحقیقات شرعیہ نے ندوۃ العلماء کے علمی و فکری ماحول میں قائم کر رکھی ہیں، جن کا مقصد دینی تعلیم کے ساتھ عصری اور قانونی شعور کو ہم آہنگ کرنا، اور ایسے باخبر و باصلاحیت افراد تیار کرنا ہے جو بدلتے ہوئے سماجی و قانونی حالات میں امت اور ملک دونوں کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
پروگرام کی صدارت مولانا و مفتی عتیق احمد بستوی صاحب(سکریٹری، مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء) نے فرمائی، جب کہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر نسیم احمد جعفری صاحب (ڈین، فیکلٹی آف لاء، انٹگرل یونیورسٹی لکھنؤ) نے شرکت کی ، اورمہمان اعزازی کے طور پر مولانا خالد رشید فرنگی محلی صاحب(چیئرمین، اسلامک سینٹر آف انڈیا، لکھنؤ) کی موجودگی نے محفل کی وقار میں مزید اضافہ کیا۔
پروگرام کی نظامت کی ذمہ داری مفتی منور سلطان ندوی (رفیق علمی، مجلس تحقیقات شرعیہ) نے نہایت خوش اسلوبی ساتھ انجام دی، انہوں نے اپنے افتتاحی کلمات میں مجلس تحقیقات شرعیہ اور انٹگرل یونیورسٹی کے اشتراک سے جاری لیگل لٹریسی پروگرام کے اغراض و مقاصد، اس کے تعلیمی خد و خال اور گزشتہ تین برسوں کی پیش رفت پر تفصیلی روشنی ڈالی، انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام کس طرح مدارس کے طلبہ کو ملکی آئین، بنیادی قوانین اور قانونی شعور سے روشناس کرا رہا ہے، اور کس طرح اس کے فارغین معاشرے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں، ان کی گفتگو سے مجلس کی مسلسل محنت، منصوبہ بندی اور مستقبل کے واضح وژن کی جھلک نمایاں تھی۔
استقبالیہ کلمات مفتی محمدنصر اللہ ندوی (استاذدارالعلوم ندوۃ العلماء ورفیق مجلس )نے ادا کیے،انہوں نے مہمانان گرامی کا والہانہ خیرمقدم کیا اور مجلس تحقیقات شرعیہ کے قیام، اس کے علمی و تحقیقی اہداف اور لیگل لٹریسی کورس کے پس منظر پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالی، انہوں نے واضح کیا کہ اس کورس کا بنیادی مقصد طلبہ میں قانونی بیداری پیدا کرنا اور انہیں ایسا شعور عطا کرنا ہے جس کی بنیاد پر وہ سماج میں حق و انصاف کے قیام میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا،قاری کی پرسوز آواز نے سامعین کے دلوں کو روحانیت سے بھر دیا۔ تقریب کا پہلا اہم خطاب پروفیسر نسیم احمد جعفری (ڈین، فیکلٹی آف لاء، انٹگرل یونیورسٹی لکھنؤ) کا تھا، انہوں نے نہایت جامع انداز میں لیگل لٹریسی کی معنویت، قانون کی اہمیت اور موجودہ دور میں اس کی ناگزیر ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی، اپنے خطاب کے دوران انہوں نے لیگل لٹریسی کورس کا باقاعدہ اور مفصل تعارف بھی کرایا، اور بتایا کہ اس کورس کو کس مقصد کے تحت مرتب کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے طلبہ کو کن بنیادی قانونی امور سے واقف کرانا مقصود ہے۔پروفیسر جعفری صاحب نے کورس میں شامل مختلف موضوعات کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئین ہند، بنیادی حقوق ،بنیادی فرائض، عدالتی نظام، قانونی طریقۂ کار اور شہری ذمہ داریوں سے آگاہی آج کے ہر باشعور فرد کے لیے ناگزیر ہے، انہوں نے کہا کہ آج کا ذمہ دار شہری وہی ہے جو اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض سے بھی واقف ہو، اور یہ واقفیت قانون کے فہم کے بغیر ممکن نہیں، ان کے بقول جب مدارس کے طلبہ آئین اور ملکی قانونی نظام سے واقف ہوتے ہیں تو وہ معاشرے میں نہایت مثبت، متوازن اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
یہ امر بھی خصوصی طور پر قابل ذکر ہے کہ لیگل لٹریسی کورس کے لئے نصاب کی ترتیب و تشکیل اور تعلیمی سمت کے تعین میں پروفیسر نسیم احمد جعفری صاحب کا بنیادی کردار رہا ہے، ان کی براہ راست نگرانی میں یہ کورس کامیابی کے ساتھ جاری ہے، وہ خود بھی باقاعدگی سے تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں، مزید برآں ان کی ہدایت پر انٹگرل یونیورسٹی کے دیگر اساتذہ شعبہ قانون بھی وقتاً فوقتاً آ کر تدریس کرتے ہیں، جس سے کورس کی علمی پختگی اور عملی افادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد مولانا خالد رشید فرنگی محلی (چیئرمین، اسلامک سینٹر آف انڈیا، لکھنؤ) نےخطاب فرمایا، انہوں نے ندوۃ العلماء کی اس روایت کو سراہا کہ وہ ابتدا ہی سے وقت کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے نصاب اور سرگرمیوں میں وسعت پیدا کرتا رہا ہے۔مولانا نے فرمایا کہ دستور ہند تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے، اور اس آئین کو سمجھنا ہر ذمہ دار شہری کے لیے ضروری ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر علماء اسلامی قوانین کے ساتھ ملکی قوانین سے بھی واقف ہوں تو وہ عدالتوں میں مؤثر نمائندگی کر سکتے ہیں اور امت و سماج دونوں کے لیے نفع بخش ثابت ہو سکتے ہیں۔
سب سے آخری خطاب پروگرام کے صدر اور مجلس تحقیقات شرعیہ کے سکریٹری جناب مولانا عتیق احمد بستوی صاحب کا تھا، مولانا نے نہایت جامع اور فکرانگیز خطاب فرمایا، انہوں نے کہا کہ انصاف کا قیام اور انسانی حقوق کی فراہمی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کو دلانا ہر باوقار شہری کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اسلام عدل و انصاف کی مکمل تعلیم دیتا ہے، اور اسلامی تعلیمات نہ صرف انسان بلکہ تمام جانداروں کی فطری ضروریات سے ہم آہنگ ہیں، انہوں نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ دستور ہند میں اسلامی تعلیمات کی بھرپور جھلک موجود ہے۔مولانا نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ قانون کو گہرائی سے سمجھیں، اپنے تعلیمی معیار کو بلند کریں اور محنت کے ذریعے اس میدان میں آگے بڑھیں۔
اس تقریب میں لیگل لٹریسی کورس کے بعض طلبہ نے اردو، انگریزی اور عربی زبانوں میں کورس کے مختلف پہلوؤں پر مقالات اور تاثرات پیش کیے، جن سے ان کی محنت، فہم اور سنجیدگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے،مقالات کے عناوین اس طرح ہیں:
| نمبر شمار | نام طالب علم | موضوع | زبان |
| ۱ | عدنان احمد عجائب (اختصاص فی علوم التفسیر ) | دستورالہند ومزایاہ المتمیزۃ | عربی |
| ۲ | محمد احمد ہارون (اختصاص فی اللغۃ العربیۃ) | المسلمون ودستورالہند | عربی |
| ۳ | سید محمد عفان ( اختصاص فی علوم القرآن) | Characteristics of indian Constitution | انگلش |
| ۴ | احمد فوزان (اختصاص فی التفسیر) | Islam and Indain Constitution | انگلش |
| ۵ | سہیل خان (اختصاص فی علوم القرآن) | آئین ہند اور انسانی حقوق | اردو |
| ۶ | سلیمان (اختصاص فی الحدیث ) | ملکی قوانین کی پابندی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں | اردو |
| ۷ | ابرارالحق وانی( اختصاص فی الفقہ ) | لیگل لٹریسی کورس اور اس کی عصری معنویت | اردو |
| ۸ | محمد اختر( اختصاص فی التفسیر) | تاثرات | اردو |
| ۹ | تہذیب عالم ) اختصاص فی ادب العربی) | تاثرات | عربی |
| ۱۰ | یسین (اختصاص فی الدعوۃ) | تاثرات | اردو |
کورس کی کامیاب تکمیل پر پابندی سے شریک ہونے والے اور امتحان میں کامیاب ہونے والے طلباء کو سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا، جب کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء کو خصوصی انعامات دیے گئے۔
مجلس تحقیقات شرعیہ کی جانب سے نومبر میں یوم آئین کے موقع پردارالعلوم کے طلبہ کے لئے کانسٹی ٹیوشن کوئزمقابلہ کااہتمام کیا گیا،جس میں سوسے زائد طلبہ شریک ہوئے،اس موقع پر کوئز مقابلہ کے کامیاب طلبہ کو انعامات کے مستحق قرار پائے۔
یہ تقریب اس یقین کو مضبوط کرتی ہے کہ اگر دینی ادارے عصری تقاضوں کو شعوری انداز میں اپنائیں تو وہ معاشرے کو باصلاحیت، باکردار اور باخبر افراد فراہم کر سکتے ہیں، مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء اور اس کے معاونین، نیز ندوۃ العلماء کے ذمہ داران واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے علم دین اور علم قانون کے درمیان ایک مضبوط پل قائم کیا ہے۔
پروگرام میں دار العلوم کے اساتذہ، اختصاص کے طلباء، مہمانان کرام اور میڈیا کے افراد بھی بڑی تعداد میں شریک رہے۔