اداریہ

اداریہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کی جانب سے شائع ہونے والے سہ ماہی ’’تحقیقات شرعیہ ‘‘کا تازہ شمارہ (اپریل تا جون ۲۰۲۶ء؁)حاضر خدمت ہے، ہمیں خوشی ہے کہ برصغیر ہندو پاک کے علمی اور تحقیقی حلقوں میں اس کی پذیرائی کی جارہی ہے ، اور حوصلہ افزاتاثرات اور تبصروں سے نوازا جارہا ہے ، اللہ تعالیٰ اس مجلہ کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اس شمارہ کا پہلا مضمون مشہور عالم وفقیہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم کے قلم سے ’’صحابۂ کرام کے اقوال وافعال کی شرعی حیثیت ‘‘ کے موضوع پر ہے ، حسب توقع یہ تحقیقی مضمون اپنے موضوع پر اختصار کے باوجود بھر پور ہے ، اور صحابۂ کرام کے اقوال وافعال کی شرعی حیثیت کے بارے میں متوازن اور معتدل نقطۂ نظر پیش کرتا ہے ۔

دوسرا مضمون مولانا ڈاکٹر ابو سحبان روح القدس ندوی کے قلم سے ہے ، جس کا موضوع ہے ’’ریاض الصالحین پر علمی نقوش وآثار ‘‘، یہ مضمون امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور خدمات کا تعارف کرانے کے ساتھ انکی شہرۂ آفاق کتاب ’’ریاض الصالحین ‘‘پر ہونے والے علمی کاموں کا احاطہ کرتا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بندوں نے کتاب کی کس کس طرح خدمت کی ہے ،اور کن کن زاویوں سے ’’ریاض الصالحین ‘‘پر بحث وتحقیق کی ہے ۔

اس شمارہ کا تیسرا مضمون ناچیز کے قلم سے ہے ، جس کا موضوع علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی مختصر ترین اور مشہور ترین کتاب ’’خطبات مدارس ‘‘ہے، جو سیرت نبوی پر بے مثال گلدستہ ہے ، اس کتاب کی اشاعت پر سو سال گذرنے کے موقع پر دہلی میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا تھا ، جس میں یہ تحریر پیش کی گئی تھی ، امید ہے کہ قارئین کو یہ تحریر پسند آئے گی، اور سیرت نبوی کے حوالہ سے بعض اہم گوشے اس سے روشن ہونگے ۔

چوتھا مقالہ مولانا ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی کے قلم سے ہے ، جس کا موضوع ہے ’’اکیسوی صدی میں مغربی استشراقی مطالعات :ایک تنقیدی جائزہ ‘‘مستشرقین کے علمی کاموں کاموں پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے ، لیکن ہر دور میں ان کی پیش رفت سے واقف رہنا اور ان کے نئے کاموں جائزہ لیتے رہنا از حد ضروری ہے ،ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی صاحب نے اکیسوی صدی کے استشراقی مطالعات پر روشنی ڈالی ہے ، اور اس کا تنقیدی جائزہ لیا ہے ، یہ علمی کوشش قابل ستائش ہے ، اہل علم وتحقیق کو اس کا مطالعہ کرنا چاہے ۔

اس شمارہ میں ایک مضمون جناب مولانا طلحہ نعمت ندوی کے قلم سے ہے ، جس کا عنوان ہے ’’مسلمانوں میں سوانح وتذکرہ نکاری پر ایک نظر‘‘مولاناموصوف کی بعض تحریریں اس سے قبل بھی تحقیقات شرعیہ میں شائع ہوچکی ہیں،اور پسند کی گئی ہیں،تذکرہ اور سوانح پر مولانا موصوف کی اچھی نظر ہے ، یہ مضمون بھی ایک بہترین کوشش ہے ۔

اس شمارہ میں فقہیات پردومضامین ہیں،پہلامفتی محمد ظفر عالم ندوی استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء کا ’’یتیم پوتے کی میراث ‘‘کے موضوع پر ہے ،جو تفہیم شریعت کے ایک پروگرام کے لئے لکھا گیا تھا ، اسے اس شمارہ میں شامل کیا گیا ہے ،یتیم پوتے کی میراث کے مسئلے پر بار بار سوالات اور اشکالات ہوتے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے ، دوسرا مضمون مولانا منور سلطان ندوی نائب مدیر ’’تحقیقات شرعیہ ‘‘کے قلم سے ’’مصنوعی ذہانت کا استعمال :شرعی حکم اور اخلاقیات ‘‘کے موضوع پر ہے ، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں ،لیکن اس نے پیچیدہ مسائل کو جنم دیا ہے، اس کا سماجی ،قانونی اور شرعی جائزہ لیا جارہا ہے ، اس مضمون میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی شرعی حدود اور اخلاقیات کو مرتب اور منضبط کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ’’تحقیقات شرعیہ ‘‘ندوۃ العلماء کا یہ شمارہ اس کی بارگاہ میں قبولیت حاصل کرے اور علماء، طلباء نیز محققین کو اس سے فائدہ پہنچے ۔

                                                                             عتیق احمد بستوی 

Tags

Share this post: