علامہ سید سلیمان ندویؒ اور’’ خطبات مدراس‘‘

علامہ سید سلیمان ندویؒ اور’’ خطبات مدراس‘‘

                                                                   مولاناعتیق احمد بستوی

                                                                   استاذدارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر شہرہ ٔآفاق کتاب’’ خطبات مدراس‘‘ کی اشاعت پر ایک صدی گزر چکی ہے، خطبات مدراس کی پہلی اشاعت سن ۱۹۲۶؁ ء کے آغاز میں ہوئی تھی، اور اب سن ۲۰۲۶؁ء چل رہا ہے ، اس طرح اس عظیم تصنیف پر ایک صدی مکمل ہو چکی ہے، آل انڈیا مسلم مجلس مشاور ت نے اس موقعہ پر ’’تجدید فکر و نظر کی ایک صدی اور صورت حال‘‘ کے عنوان پر ایک کا نفرنس اور سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کی ہے، یہ کا نفرنس آج۸ ؍فروری ۲۰۲۶؁ ء کو منعقد ہو رہی ہے، جس میں ہم سب شریک ہیں ، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کانفرنس کا کلیدی خطبہ پیش کرنے کی ذمہ داری مجھ ناچیز کو دی ہے، جو کسی طرح اس کام کا اہل نہیں ہے، یہ بھی حسن ظن اور محبت کا کرشمہ ہے، اللہ تعالیٰ اس انتخاب کی لاج رکھنے کی توفیق دے، اور اپنے خصوصی فضل اور عنایت سے ایسے افکار و خیالات پیش کرنے کی توفیق دے جو سیمینار کے موضوع اور حالات کے تقاضے کے مطابق ہو ں۔

علامہ سید سلیمان ندوی کی حیات خدمات اور کمالات پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، ان کے بارے میں سب سے بڑا اور سب سے معتبرماخذ ماہنامہ ’’معارف‘‘ کا ’’سید سلیمان نمبر‘‘ ہے جو ۱۹۵۵؁ء میں شائع ہوا تھا، اس نمبر میں ان کے معاصرین، دوستوں اورشاگردوں کے بڑے قیمتی معلومات افزا اور فکر انگیز مضامین ہیں جو حضرت سید سلیمان ندوی کی شخصیت، کمالات اور خدمات کا بڑی حد تک احاطہ کرتے ہیں، سید سلیمان ندوی کی حیات و خدمات کا دوسرا بڑا ماخذ ’’مطالعۂ سلیمانی‘‘ ہے جو دار العلوم تاج المساجدبھوپال میں منعقد ہونے والے سہ روزہ سیمینار ۴تا ۶ ستمبر۱۹۸۵؁ء میں پیش کردہ مقالات کا عظیم وضخیم مجموعہ ہے،جنہیںڈاکٹر مسعود الرحمن خان ندوی اور ڈاکٹر محمد حسان خان ندوی نے مرتب کیا، اور دارالعلوم تاج المساجد بھوپال سے شائع ہوا، مطالعہ سلیمانی بھی بڑے قیمتی تحقیقی اور تاثراتی مضامین پر مشتمل ہے ، اور سید صاحب کی زندگی کے مختلف گوشوں اور ان کی دینی اور ملی خدمات کے مختلف ابواب پر روشنی ڈالتی ہے۔

علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات کمالات اور خدمات کی معرفت کے لیے تیسرا بڑا ماخذ’’ افکار سلیمانی‘‘ ہے، علامہ سید سلیمان ندوی پر ایک سیمیناران کے شاگر در شید حضرت مولانا مجیب اللہ ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ادارہ جامعہ الرشاد اعظم گڑھ میں منعقد کیا تھا ، یہ سیمینار  ۲۹ نومبر تا یکم دسمبر۱۹۹۶؁ء میں منعقد کیا گیا اور اس میں پیش کردہ مقالات ندوۃ التاليف والترجمۃ جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ سے ’’افکار سلیمانی‘‘ کے نام سے شائع ہوئے، اس سیمینار میں احقر کی بھی شرکت ہوئی تھی اورمجھے ’’علامہ سید سلیمان ندوی میری نظر میں‘‘ کے موضوع پر ایک مقالہ پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی جو افکار سلیمانی میں شامل ہے، اس مضمون کی ابتدائی چندسطریں یہاں پیش کی جاتی ہیں:

’’ میرے ذہن و دماغ کی تشکیل میں جن مصنفین کی تحریروں کانمایاں حصہ ہے ان میں سید الطائفہ حضرت علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام سرِ فہرست ہے، علامہ سید سلیمان ندوی کا کشور علم وتحقیق بڑا ہمہ گیر اور وسیع ہے، موصوف تاریخ و تذکرہ اور سیرت نگاری کے امام تھے، تفسیر، حدیث ، فقہ کے ذخیرے پر بڑی وسیع اور عمیق نظر رکھتے تھے، قدیم و جدید فلسفہ اور علوم عقلیہ کے شناور تھے، علوم ادبیہ میں ان کی استاذی اور امامت مسلم تھی ، جدید عصری علوم سے بھی ضروری حد تک واقف تھے، علم احسان وتصوف میں ان کا پا یہ بہت بلند تھا، انہوں نے ہر علم وفن کے چمنستان میں اپنے نوک قلم سے خوش نما اور خوش رنگ پھول کھلائے اور ان کی تصنیفات کے سدا بہار پھولوں سے میدان بحث و تحقیق کا ہر گوشہ مزین اور معطر ہو گیا۔

عام طور پر ان کی تحریر یں پر شور اور ہنگامہ خیر نہیں ہیں، بلکہ ان کے یہاں بحث و تحقیق کی گہرائی و گیرائی ، اسلوب کی متانت و شرافت ، ادب و انشاء کی حلاوت پائی جاتی ہے، جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں،موضوع پر پورے طور پر حاوی ہونے کے بعد قلم اٹھاتے ہیں الفاظ کا جادو جگا کر قارئین کو مسحور کرنے کے بجائے ٹھوس دلائل اور علمی تجزیہ و تنقید کے ذریعہ قارئین کو اپناہم خیال بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

بچپن میں سب سے پہلے ان کی شہرہ آفاق کتاب خطبات مدر اس نے دل و دماغ کو اپنا اسیر بنایا، تقریر سیکھنے کے شوق میں اس کے دو تین خطبے زبانی یاد کر لئے، اس کتاب نے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جامعیت کا ایسا نقش دل پر بٹھایا جس میں امتداد زماں کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا چلا گیا ، خطبات مدراس شوکتِ الفاظ ، زور خطابت ، انجاز نویسی کا شاہ کار ہے، سید صاحب نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سمندر کو خطبات مدراس کے کوزے میں بند کرنے کی انتہائی کامیاب کوشش کی ہے ( ۱)

خطبات مدراس پر کانفرنس اور سیمینار

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی جانب سے خطبات مدر اس کی اشاعت پر سو سال گزرنے کے موقعہ سے مشارت نے کانفرنس اور سیمینار منعقد کرنے کا قصد کیا اور اس کا عنوان طے کیا،’’ تجدید فکر و نظر کی ایک صدی اور موجودہ صورت حال‘‘ کانفرنس اورسیمینار کے کنوینرپروفیسراختر الواسع صاحب ہیںجو ایک عظیم دانشور اور ملک و ملت کا دردرکھنے والے قدیم رہنما ہیں، انہوں اپنے تعارفی مکتوب میں اس کا نفر نس اور سیمینار کا مقصد بہت اختصار اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ گفتگو کے آغاز میں اس کا بڑا حصہ نقل کیا جائے تاکہ اس کی روشنی میںاس کانفرنس اور سمینار میں گفتگو ہو، اور یہ کانفرنس اور سیمینارنتیجہ خیزثابت ہو اور اس سے ملت اسلامیہ کو اور ملک کورہنمائی حاصل ہو سکے۔

پروفیسر اختر الواسع صاحب زید مجدہم تحریر فرماتے ہیں:

علامہ سید سلیمان ندویؒ کے خطبات مدر اس برصغیر کی فکری و علمی تاریخ کا وہ سنگِ میل ہیںجنہوں نے بیسوی صدی کے آغاز میں اسلام اور جدید ذہین کے درمیان پائے جانے والے فاصلوں کو دلیل،وقار اور حکمت کے ساتھ کم کیا، آج جب خطبات مدراس کی اشاعت کو سو سال مکمل ہو رہے ہیں،تو یہ موقع محض ایک تاریخی واقعہ کو یاد کرنے کا نہیں، بلکہ احتساب فکر و عمل اورتجدید نظر کا لمحہ بھی ہے۔

یہ خطبات ایسے وقت میں دئے گئے تھے جب اسلام پر علمی، تاریخی اورتہذیبی اعتراضات شدت اختیار کر رہے تھے، سید سلیمان ندویؒ نے نہ صرف مستشرقین مغرب کے اعتراضات کا سنجیدہ اور مدلل جواب دیا بلکہ اسلامی فکر کو تاریخ، عقل اور اخلاقی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ انداز میں پیش کیا، ان کی گفتگو میں روایت کی گہرائی بھی ہے اورجدید علمی اسلوب کی تازگی بھی،جو آج کے علمی منظر نامے میں بھی اسی طرح اہمیت کی حامل اور بامعنی ( equally reboot ) محسوس ہوتی ہے۔

اس علمی مذاکرے کا مقصد ’’خطبات مدراس‘‘ کو محض ایک کلاسیکی متن کے طور پر دیکھنا نہیں بلکہ اس کی فکری معنویت ، اسلوب استدلال اور عصری چیلنجز کے تناظر میں اس کی افادیت کو ازسرنو سمجھناہے، یہ کا نفرنس ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دے گی کہ کیا ہم آج بھی اسی فکری جرأت، علمی دیانت اور تہذیبی اعتماد کے ساتھ اسلام کا تعارف کراپا ر ہے ہیں جس کی مثال علامہ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی نے قائم کی تھی۔

خطبات مدراس چند علماء کی نظر میں

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھوپال کے سیمینار میں اپنے خطبہ صدارت میں تحریر فرمایا:

’’خطبات مدراس‘‘ کا نام آگیا تو اتنا کہتا چلوں کہ میرے محدود علم میں کسی اسلامی زبان میں سیرت پر اتنی طاقتور ،دل آویز اور ایمان آفرین کتاب دیکھنے میں نہیں آئی ، اس میں سیرت کے کتب خانہ کا عطر آگیا ہے اور تاریخی حقائق اور تقابلی مطالعہ، نفسیاتی تجزیہ ، علم الاخلاق، علم الاجتماع اور پھر اپنی ادبیت اور خطیبانہ انشاپردازی کی آمیزش سے اس کی افادیت اور اس کی علمی قدر و قیمت میں ایسا اضافہ ہوا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں اور سلیم الطبع جویائے حق غیر مسلموں کو دینے کے لئے اس سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔(۲)

علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علہ کے شاگرد رشید اور ان کے جانشین مولانا شاہ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ نے ماہانہ معارف کے سید سلیمان ندوی نمبر میں سید صاحبؒکی دینی و علمی خدمات کاتعارف کراتے ہوئے خطبات مدراس پر جو کچھ لکھا ہے اس کے آغاز میں تحریر فرماتے ہیں:

’’اسی سلسلہ کی دوسری اہم کتاب خطبات مدراس ہے، جو مدر اس کے بعض دیندار مسلمانوں کی فرمائش پر ۱۹۲۵؁ء میں مدراس میں سیرت نبوی کے مختلف پہلؤوں پر دئے گئے تھے ، جنہیں بعد میں کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا، یہ کل ڈیڑھ سو صفحوں کی کتاب ہے، مگر اپنی معلومات کی وسعت، مباحث کی ندرت اور افادہ کے لحاظ سے سیرت کی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے، اورتنہا یہ کتاب مصنف کے فخر کے لئے کافی ہے، اس میں ایک نئے نقطۂ نظر اور نئے اسلوب سے سیرت نبوی کے ان پہلوئوں پر بحث کی گئی ہے، جن کی جانب بہت کم توجہ کی گئی ہے ، یعنی آنحضرت ﷺکی تاریخی حیثیت،آپ ﷺکی جامعیت و قابلیت اور آپ ﷺکی زندگی کے عملی پہلو پر اس طرح روشنی ڈالی گئی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام میں ساری دنیا کے لئے دائمی نمونۂ عمل آپ ہی کی ذات مقدس ہو سکتی ہے۔‘‘(۳)

اس کے بعد مولانا شاہ معین الدین ندویؒ نے چند صفحات میں آٹھوںخطبات کا تعارف کرانے کے بعد لکھا ہے :

’’ یہ خطبات مدراس کے خطبات کا اجمالی خلاصہ ہے جس سے اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے ، در حقیقت یہ تنہا کتاب اسلام اور پیغمبر اسلام کی صداقت و عظمت اور دوسرے مذاہب پر اس کی برتری کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔‘‘(۴)

مولانا احمد عروج قادری مرحوم(ایڈیٹر ماہنامہ زندگی رامپور)نے حضرت مولانا علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ پر بھوپال میں ہونے والے سیمینار میں ’’خطبات مدراس‘‘ پر اپنے مضمون میں لکھا ہے:

علامہ ڈاکٹر سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے جوجامعیت عطا فرمائی تھی وہ کم لوگوں کو ملتی ہے،تفسیر قرآن کے ماہر،دریائے حدیث کے شناور، دربا رفقہ وقضاء کے صدر نشین، تاریخ و سیرت و سوانح کے چمپئین، عربی، فارسی اور اردو کے استاذ، شاعر وادیب ، زبان داں اور خطیب ، وقت کی سیاست کے رمز شناس ، ملت اسلامیہ کے غم گسار، تقویٰ، طہارت ،حلم ، مروت اور شرافت کے پیکر ، علم و عمل کے مرد میدان ، کیا نہ تھے سیدسلیمان ندویؒ۔

جس طرح انہوں نے اپنے استاد علامہ شبلی کی سوانح ’’حیات شبلی‘‘ لکھی تھی، ٹھیک اسی طرح ان کے شاگرد مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی مرحوم و مغفور نے’’ حیات سلیمان‘‘ لکھ دی ہے، اس پر کوئی اضافہ آسان نہیں ہے، البتہ علامہ کے علمی کارناموں پر ابھی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔

میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ وہ صرف ریاست بہار کے لعل شب چراغ نہ تھے، بلکہ پورے ملک کے گوہرنایاب تھے، میرے نزدیک ’’خطبات مدراس‘‘ بھی ان کا ایک ایسا علمی کارنامہ ہے، جسے بلا مبالغہ کوزے میں دریا کہا جا سکتا ہے، میں اس کتاب سے اس وقت واقف ہوا جب مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ کے درجۂ فاضل میں تعلیم حاصل کر رہا تھا ، اس وقت سے سات آٹھ سال تک یہ کتاب میرا اوڑھنا بچھونا سی رہی ہے،اس کی متعدد عبارتیں میں نے زبانی یاد کرلی تھیں اور جب میں کسی سیر ت کے جلسےمیں اپنی تقریر کے درمیان انہیں دہراتا تھا تو تقریر میں جان آجاتی تھی، جب مجھے اس سہ روزہ مذاکرے میں شرکت کا دعوت نامہ ملا اور تعارف و تبصرہ کی کتابوں میں’’ خطبات مدراس‘‘ کا نام بھی نظر سے گزرا تو یہ مختصر کتاب میری نگاہوں کے سامنے آکھڑی ہوئی اور میں نے ارادہ کر لیا کہ اسی پر اپنے تأثرات مرتب کروں گا ۔ (۵)

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خطبات مدراس مرتب کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے علامہ کے دل و دماغ میں ایک خاص روشنی اور ان کے قلم میں ایک خاص تاثیر عطا کردی تھی، کہ سرسری طور پر لکھے ہوئے یہ خطبات تحقیقی طور پر لکھے گئے بہت سے خطبات پر بازی لے گئے۔(۶)

آٹھوں خطبات کے موضوعات لکھنے کے بعد قادری صاحب رقمطراز ہیں:

یہ آٹھ تقریریں دراصل آٹھ کتابیں ہیں، خطبات مدراس میرے نزدیک صنعت ایجازکا ایک نادر نمونہ ہے، اگر انھیں صنعت اطناب میں منتقل کیا جائے تو ہر خطبہ ایک کتاب بن سکتا ہے۔

ان تمام خطبوں کو پڑھنے کے بعد ان میں صاف طور پر ایک منطقی ربط محسوس ہوتا ہے، اگرچہ یہ خطبات علامہ نے سرسری طور پر مرتب کئے تھے، لیکن سوچ سمجھ کر اور غوروفکر کے بعد مرتب کئے تھے، ورنہ ان کے درمیان منطقی ربط و موجود نہ ہوتا۔(۷)

تقریباً ایک صفحہ خطبات کے درمیان پائے جانے والےمنطقی ربط کی وضاحت کرنے کے بعد مولانا عروج قادری مرحوم لکھتے ہیں:

بلاشبہ سیرت النبی کی جلدیں اپنا ایک مستقل مقام رکھتی ہیں، اور وہ علوم شریعت کا ایک خزانہ ہیں، لیکن ’’خطبات مدراس‘‘ ایک دوسری ہی چیزہے، تقریباً دوسو صفحات کی مختصرکتاب میں دل نشیں دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ محمد عربی کا دامن تھامے بغیر نہ انسانیت کی تکمیل ہوسکتی ہے، اور نہ اسے سکون مل سکتا ہے، صرف  پیغمبر اسلام کا پیغام ہی فلاح دارین کا مژدہ سناتا ہے اور صرف اسی پر عمل دنیااورآخرت میں کامیابی کا واحد وسیلہ ہے۔(۸)

حضرت مولانا سعید اکبر آبادی معارف سید سلیمان نمبر میں سید صاحب کا مقام و مرتبہ واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

بہرحال اس گذارش کا مقصد یہ ہے کہ مولانا علماً و عملاً، صورۃً و شکلاً ، ظاہراً وباطناً ایک عالم دین تھے، انھوں نے جو کچھ کیا اسی حیثیت سے کیا، اور اپنے عالمانہ وقار کو ہر جگہ اور ہر موقع پر برقرار رکھا، اس بنا پر طبقۂ علماء کو ان کا خاص طور پر ممنون اورشکر گذار ہونا چاہئے کہ ان کے ایک فرد فریدنے یونیورسٹیوں کی علمی مجلسوں ہسٹارنکل کانگریس کے اجلاسوںاور ادبی و تحقیقاتی اداروں کے جلسوں کی صدارت کرکے اور اسلامی علوم وفنون کے علاوہ دوسرے علمی و ادبی تاریخی اور سیاسی مسائل ومباحث پر محققانہ تصنیفات و مقالات لکھ کر صرف اپنے آپ کو سرفراز و سربلند نہیں کیا، بلکہ تعلیم جدید کے حضرات کے دل و ودماغ پر پورے طبقۂ علماء اور مدارس عربیہ کی علمی و تحقیق سیادت کا نقش ثبت کردیا۔(۹)

خطبات مدارس کا پس منظر

بہترہے کہ خطبات مدراس کے اجمالی پس منظر کو خود صاحب خطبات علامہ سید سلیمان ندویؒ کے قلم سے پڑھ لیا جائے، علامہ سید سلیمان ندویؒنے خطبات مدارس کے دیباچۂ طبع اول میں اس کے پس منظر اور محرکات پر روشنی ڈالی ہے، اسے یہاں نقل کیا جاتا ہے:

آئندہ صفحات میں سیرت نبوی کے مختلف پہلوؤں پر چند خطبات (لکچرز) ہیں جو جنوبی ہند کی اسلامی تعلیمی انجمن کی فرمائش سے اکتوبر اور نومبر ۱۹۲۵؁ میں دئے گئے تھے، مدراس میں کچھ برسوں سے ایک امریکن عیسائی کی فیاضی سے مدراس یونیورسٹی کے طلبہ کے سامنے کوئی نہ کوئی ممتاز عیسائی فاضل حضرت مسیح علیہ السلام کی سوانح اور مسیحی مذہب کے متعلق چند عالمانہ خطبے دیتاہے، یہ خطبے سال بہ سال ہوتے ہیں، اور نہایت دلچسپی سے سنے جاتےہیں، یہ دیکھ کر مدراس کے چند مخلص تعلیمی کار فرمامسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال آیا کہ یہاں کے انگریزی مدارس کے مسلمان طالب علموںکے لئے بھی مسلمانوں کی طرف سے اسی قسم کی کوشش کی جائے، یعنی سال بہ سال کسی مسلمان فاضل کی خدمات حاصل کی جائیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ پر طلبہ سےانگریزی کے ذوق اور موجودہ رنگ کے مطابق خطبات دے سکے۔

خو ش قسمتی سے اس کا م کے مالی پہلو کی کفالت کے لئے مدراس میں ایک ایسی ہستی مل گئی جس نے ہر طرح اس کی ضمانت کرلی، یہ سیٹھ ایم جمال محمد صاحب کی ذات تھی، جن کی فیاضی سے مدراس کی متعدد تعلیمی درسگاہیں سیراب ہورہی ہیں، اور امید ہے کہ موصوف کا اسلامی درد اس سلسلہ کو تادیر قائم رکھنے کی تدبیرمیں آئندہ بھی مصروف رہے گا اور خطبات اسلامیہ مدراس کا یہ سلسلہ یورپ کے مشہور خطبات کے سلسلوں کی طرح بہت مفید اور شہرت پذیر ہوگا۔(۱۰)

ان خطبات کی ترویج وا شاعت ، اورتمام طبقوں تک انھیںپہنچانے کے لئے میزبانوں نے جوجدوجہد اور کاوشیں کیں اور مدراس کے اردو اور انگریزی اخبارات نے جو اہتمام کیا اس کا تذکرہ بھی علامہ سید سلیمان ندوی نے بڑی احسان شناسی اور ممنونیت کے ساتھ کیا ہے، انھوں نے لکھا ہے:

یہ میری سعادت ہے کہ اس اہم اور مقدس کام کے لئے سب سے پہلے میری حقیر ذات کا انتخاب عمل میں آیا، اور اس طرح مجھے موقع ملا کہ میں اس عظیم الشان سلسلہ کی پہلی کڑی بن سکوں، یہ خطبے مدراس کے لالی ہال میں بعد مغرب ہر ہفتہ اور بعض ہفتہ میں دو دفعہ دئے گئے اور اسی طرح یہ آٹھ خطبے اکتوبر ۱۹۲۵؁ء کے پہلے ہفتہ سے شروع ہوکر نومبر ۱۹۲۵؁ء کے اخیرہفتہ میں ختم ہوئے،سیٹھ حمید حسن صاحب ناظم مجلس کا شکر گذار ہوں کہ ان خطبات کے لئے ہر قسم کا اہتمام ، اعلان اور ان کے انگریزی ترجمہ کا کام انھوںنے انجام دیا، مدراس کی مسلمان پبلک کا ممنون ہوں کہ اس خشک بیان کو جو کبھی دو دو اور تین تین گھنٹے تک جاری رہا، انھوں نے صبر و تحمل سے سنا اور اس کی قدر کی، غیر مسلم اصحاب بھی شکریہ کے مستحق ہیںجنھوںنے باوجود اردو آسانی سے نہ سمجھ سکنے کے حقیقت کی جستجوکے لئے جلسوں میں شرکت کی۔

مدراس کے اردو اور انگریزی اخبارات کا بھی شکرگزار ہوں جنھوں نے ہر ہفتہ ان خطبوں کا خلاصہ اپنے کالموں میں شائع کیا، اخبار ہندو اور ڈیلی اکسپریس مدارس خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں، جنھوں نے فیاضی کے ساتھ اپنے کالم خطبوں کی انگریزی تلخیص کی اشاعت کے لئے وقف کئے۔

آخر میں ان خطبات کو اوراق کی شکل میں ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہوئے درگاہ الٰہی میں سربہ سجود ہوں کہ وہ اس عقیدت کے نذرانہ کو قبول فرمائے اور اخلاص و توفیق کی نعمت سے ان کے محر ر کو مالا مال کرے۔(۱۱)

سیرت نبوی کے موضوع پر علامہ سید سلیمان کے مطالعہ و تحقیق کی گہرائی اور وسعت

علامہ سید سلیمان ندویؒ کی ابتدائی تعلیم وتربیت اگرچہ صوبۂ بہار کے مدارس میں ہوئی، انھوں نے خانقاہ مجیبیہ بہار کے مدرسہ میں اور مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں عربی کے ابتدئی درجات کی تعلیم حاصل کی، ’’حیات سلیمان‘‘ میں ان کے اس دور کی تفصیلات موجود ہیں، ۱۹۰۱؁ء میں حضرت سید صاحبؒ نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا، اور یہاں کے نامور اساتذہ سے تعلیم حاصل کی، ان کے نامور اساتذہ میں مولانا فاروق چریاکوٹیؒ بھی تھے جو علامہ شبلی نعمانی کے بھی استاذ تھے، ۱۹۰۴؁ءمیں علامہ شبلی نعمانی دارالعلوم ندوۃ العلماء تشریف لائے، اور دارالعلوم کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں مشغول ہوگئے، فروری ۱۹۰۵؁ء میں حیدرآباد کی ملازمت سے استعفیٰ دے کر مستقل طور پر ندوۃ العلماء اوردارالعلوم ندوۃ العلماء کی خدمات انجام دینے کا فیصلہ کرلیا، اس وقت علامہ سید سلیمان ندوی تعلیم کی تکمیل کررہے تھے، اور دارالعلوم کے ہونہار اور ممتاز طلبہ میں شمار کئے جاتے تھے، علامہ شبلی کے ندوۃ العلماء آنے بعد سید صاحب ان کے دامن علم و فضل سے وابستہ ہوگئے اور علامہ شبلی کی تربیت اور فیض صحبت نے ان کی صلاحیتوں کو نکھارا اور چمکایا، استاذ گرامی نے اپنے اس لائق شاگرد کی حوصلہ افزائی اور اصلاح و تربیت میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اور ان کے لئے بہتر سے بہتر مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی۔

سیرۃ النبی ﷺکی تصنیف کا عظیم منصوبہ علامہ شبلیؒ کے علمی کاموں کاآخری پڑاؤتھا، انھوں نے عزم کیا تھا کہ سیرت نگاری کے روایتی انداز سے ہٹ کر سیرت نبوی پر ایک ایسی کتاب تیار کی جائے جس میں سیرت کے واقعات اور روایات کی پوری فنی تحقیق ہو، رطب و یابس روایتوں کوان میں جگہ نہ دی جائے، اور مستشرقین نے خاتم االانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺکی سیرت و کردار اور آپ کی تعلیمات پر جو اعتراضات کئے ہیں اور پروپیگنڈہ کی جو مہم چلائی ہے ان کا بھی اطمینان بخش علمی اور تحقیقی جواب دیا جائے تاکہ سیرت خیر الانبیاء ﷺ سے پوری کائنات معطر ہو، اور شبہات اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔

علامہ شبلی نعمانیؒ نے نومبر ۱۹۱۴  ؁ء میں وفات پائی،وہ سیرت النبی کی دو جلدوں کا کام بڑی حد تک مکمل کرچکے تھے، لیکن ان کے منصوبہ کے مطابق کام ابھی بہت باقی تھا، اور ابتدائی دو جلدویں بھی مکمل طور پر تیارنہیں ہوئی تھیں، اس وقت علامہ سید سلیمان ندوی ؒ پونہ کالج میں استاذ تھے، استاذ کی شدید علالت کی خبر پاکر اعظم گڑھ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ،علامہ شبلی کی زندگی کے آخری لمحات تھے، سید صاحب لکھتے ہیں:

معاہدہ کے طور پر میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: ’’سیرت میری تمام عمر کی کمائی ہے، سب کام چھوڑ کر سیرت تمام کرو‘‘، میں نے بھرّائی ہوئی آواز میں کہا: ضرور بالضرور۔

واقعہ یہ ہے کہ علامہ سید سلیمان ندویؒ سیرت کے کام میں استاذ کی زندگی میں بھی ان کے شریک اور معاون تھے، لیکن ان کی وفات کے بعد استاذ گرامی کے لگائے ہوئے گلستان ’’دارالمصنفین‘‘ کو خاص طور سے سیرت النبی کے موضوع پر ان کے عظیم منصوبہ کو اپنا مقصد زندگی بنالیا، اور پوری وفاداری اور استقامت کے ساتھ سیرۃ النبی کے کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور سیرت نبوی کے سمندر میں غوطہ لگاکر خاتم الانبیاء محمد مصفطیٰ ﷺ کی سیرت، تعلیمات و ہدایات کا ایسا بے مثال مجموعہ تیار کیا جو کتب سیرت میں نمایاں ترین مقام رکھتا ہے۔

علامہ شبلی نعمانی ؒ کے منصوبہ کے مطابق بلکہ اس سے بڑھ کر انھوں نے سیرت اور اس سے متعلق علوم و فنون کا بڑی وسعت اور گہرائی سے مطالعہ کیا، سیرت نبوی کے حوالہ سے جو بھی اعتراضات اور اشکالات اور بہتان تراشیاں مستشرقین اور ان کے شاگردوں کی طرف سے کی جارہی تھیں، ان کا تنقیدی بصیرت کے ساتھ جائزہ لیا اور سب کے اطمینان بخش جوابات تحریر فرمائے۔

سیرۃ النبی کی ساتویں جلد نامکمل رہی، اور اسی حالت میں بہت بعد میں شائع ہوئی، اگر سید سلیمان ندویؒ کے قلم سے اس کی تکمیل ہوجاتی تو سیرت نبوی کے سیاسی پہلو اور اسلام کے نظام حکمرانی پر ایک جامع کتاب ہوتی ، لیکن سید صاحبؒ جلد ہفتم میں جتنا کچھ بھی لکھ سکے ہیں وہ اپنے موضوع پر بہت فکر انگیز اور راہنما تحریر ہے، کاش کہ کوئی صاحب نظر اس کی تکمیل کرتا اور سیرت نبوی کے اس گوشہ کو مزید نکھارتا۔

علامہ سیدسلیمان ندوی سے جب یہ فرمائش کی گئی کہ وہ مدراس میں یونیورسٹیزاور کالجز کے مسلم نوجوانوں اور تعلیم یافتہ نومسلموں کے لئے سیرت نبوی پر لکچر (خطبات) تیار کریں، جو سیرت نبوی کے نقوش اور روشن پیغام کو نمایاں کریں جن سے سیرت نبوی پر کئے جانے والے اعتراضات کا جواب اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہو تو سید صاحب نے سیرت نبوی پر اپنے وسیع مطالعہ اور تصنیفی کام کی روشنی میں ایسے آٹھ خطبات تیار کئے جو ان کے مطالعۂ سیرت کا خلاصہ اور حاصل ہیں، اور انھوں نے بلاشبہ سیرت نبوی کے سمندر کو خطبات کے کوزے میں پیش کرنے کی بڑی کامیاب کوشش کی۔

خطبات مدراس مختصر ہونے کے باوجود علامہ سید سلیمان ندوی کی شاہکار تصنیف ہے، ان خطبات کا اسلوب بھی سید صاحب کی دیگر تصانیف سےکافی مختلف ہے، ان میں آورد کے بجائے آمد ہے اور عجیب قسم کا البیلا پن اور دلکشی ہے، اس کی سطر سطر سے حب نبوی ، غیرت دینی، حمیت اسلامی ، قوتِ استدلال، اور ژرف نگاہی ہویدا ہے، اللہ کی خصوصی مدد اور تائید سے یہ خطبات لکھے گئے ہیں، سیرت نبوی کے لٹریچر میں ایسی تحریریں بہت کم ملیں گی، جن میں اس قدر تاثیر، دل گدازی اور رعنائی ہو، ایسی تحریروں اور کتابوں کا فیض ہر دور میں جاری رہتا ہے اور انسانیت ان سے فائدہ اٹھاتی ہے۔

علامہ سید سلیمان ندویؒ کے یہ خطبات آٹھ خطبوں کا مجموعہ ہے، آٹھ خطبات کے موضوعات درج ذیل ہیں:

پہلا خطبہ :

 انسانیت کی تکمیل صرف انبیاء کی سیرتوں سے ہو سکتی ہے

دوسرا خطبہ:

 عالمگیر اور دائمی نمونۂ عمل صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہے

تیسرا خطبہ:

 سیرت محمدی ﷺ کا تاریخی پہلو

چو تھا خطبہ:

 سیرت محمدی ﷺکا تکمیلی پہلو

پانچواں خطبہ :

 سیرت محمدی ﷺ کی جامعیت

چھٹا خطبہ:

 سیرت محمدیﷺ کی عملیت یا عملی پہلو

ساتوں خطبہ:

 پیغمبر اسلام علیہ السلام کا پیغام

 آٹھواں خطبہ:

پیغامِ محمدی ﷺ

خطبات مدراس کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی مقبولیت سے نوازا، ۱۹۲۶؁ء جو اس کی اشاعت کا پہلا سال تھا، دارالمصنفین اعظم گڑھ سے اس کے تین ایڈیشن شائع ہوئے اور ہاتھوں ہاتھ نکل گئے۔

دیباچۂ طبع سوم کے اخیر میں علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

یہ خطبات پہلے پہل ۱۹۲۶؁ء میں میری غیر حاضری میں جبکہ میں حجاز میں تھا میرے کٹے پٹے مسودہ سے چھپے، دوسری دفعہ بھی یہی ہوا، اب اس تیسرے ایڈیشن میں موقع ملا کہ اس پر نظر ثانی کی جائے، اس پر بھی یہ دعویٰ نہیں کیاجاسکتا کہ ایک عاجز انسان کی ہر جنبش قلم، اعتراض اور حرف گیری سے پاک ہوسکتی ہے، ربنا لاتؤاخذنا ان نسینا او أخطأنا۔

                                                                          خاکسار 

                                                                   سید سلیمان ندوی

                                                                   ۲۷؍شعبان ۱۳ھ

                                                                   ۱۴؍نومبر۱۹۲۶ء  (۱۲)

خطبات مدراس سے چند اقتباسات

خطبات مدراس کا ہر پیراگراف اعجاز علمی وادبی کا بہترین نمونہ ہے، تمام خطبات اس معیار کے ہیں کہ انھیں بار بار فکر و تدبر کے ساتھ پڑھا جائے اور دل و دماغ میں انھیں بسالیا جائے، چند اقتباسات بطور نمونہ پیش خدمت ہیں:

ایک نکتہ کی طرف آپ کی توجہ کو اور ملتفت کرنا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو لوگ ابتداءً ایمان لائے وہ دریا کے کنارے کے ماہی گیرنہ تھے، وہ مصر کی محکوم اور غلام قوم کے افراد نہ تھے،بلکہ ایک ایسی آزاد قوم کے افراد تھے جو اپنی عقل و دانش کے لحاظ سے ممتاز تھی اور جس نے ابتدائے آفرینش سے آج تک کبھی کسی کی اطاعت نہیں کی تھی، وہ لوگ تھے جن کے تجارتی کا روبا رایران، شام، مصر اور ایشائے کو چک تک پھیلے ہوئے تھے، ان میں وہ لوگ تھے جن کی دقیقہ سنجی، نکتہ رسی اور عقل و ذہانت کے ثبوت، مسائل اور احکام کی صورت میں آج بھی موجود ہیں، ان میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے بڑی بڑی فوجوں کا فاتحانہ مقابلہ کیا اور دنیا کے مشہور سپہ سالاروں میں داخل ہیں ، ان میں وہ لوگ بھی تھےجنہوں نے ملکوں پر فرمانروائیاں کیں اور حکومت کے نظم ونسق کی بہترین قابلیت کا اظہار کیا۔

کیا ایک لمحہ کے لئے بھی کوئی یہ تصور کر سکتا ہے کہ ایسے پر زور ، قوی بازو اور دانایان روزگار سےآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حال چھپارہ سکتا تھا اور وہ دھوکا کھا سکتے تھے؟ بلکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک جنبش کی نقل کی ہے اور جو آپ کے ایک ایک نقش قدم پر چلنااپنی سعادت سمجھتے تھے، یہ آپ کی کاملیت کی ناقابل تردید دلیل ہے۔

(خطبات مدراس ۸۴و۸۵ تیسرا ایڈیشن)

’’جامعیت‘‘ کے خطبے میں لکھتے ہیں:

غرض ایک ایسی شخصی زندگی جو ہر طائفہ انسانی اور ہر حالت انسانی کے مختلف مظاہر اور ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو، صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے، اگر دولت مند ہو تو مکہ کے تاجر اور بحرین کے خرینہ دار کی تقلید کرو، اگر تغریب ہو تو شعب ابی طالب کے قیدی اور مدینہ کے مہمان کی کیفیت سنو، اگر تم بادشاہ ہو تو سلطان عرب کا حال پڑھو، اگر رعایا ہو تو قریش کے محکوم کو ایک نظر دیکھو ،اگر فاتح ہو تو بدر وحنین کے سپہ سالار پر نظر کرو، اگر تم نے شکست کھائی ہے تو معرکۂ احد سے عبرت حاصل کرو، اگر تم استاد اور معلم ہو تو صفہ کی درس گاہ کے معلم قدس کو دیکھو،اگر شاگرد ہو تو روح الامین کے سامنے بیٹھنے والے پر نظر جماؤ، اگر واعظ اور ناصح ہو تو مسجد مدینہ کے ممبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو، اگرتنہائی اوربے کسی کے عالم میں حق کے منادی کا فرض انجام دینا چاہتے ہو تو مکہ کے بے یار و مددگار نبی کا اسوہ حسنہ تمہارے سامنے ہے، اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اوراپنے مخالفوں کو کمزور بنا چکے ہو توفاتح مکہ کا نظارہ کرو، اگر تم اپنے کاروبار اور دنیاوی جد و جہد کے نظم ونسق کو درست کرنا چاہتے ہو تو بنی نضیر، خیبر اورفدک کی زمینوں کے مالک کے کاروبار اور نظم و نسق کو دیکھو،اگر تم یتیم ہو تو عبداللہ اور آمنہ کے جگر گوشہ کو نہ بھولو، اگر بچے ہو تو حلیمہ سعدیہ کے لاڈلے بچے کو دیکھو،اگر تم جوان ہو تو مکہ کے چرواہے کی سیرت پڑھو، اگر سفری کا روبار میں ہو توبصری کے کارواں سالار کی مثالیں ڈھونڈو، اگر عدالت کے قاضی اور پنچائتوں کے ثالث ہو تو کعبہ میں نور آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو، جو حجر اسود کو کعبہ کے ایک گوشہ میں کھڑا کر رہا ہے، مدینہ کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو جس کی نظر انصاف میں شاہ و گدا اور امیر و غریب برابر تھے،اگر تم بیویوں کے شوہر ہو توخدیجہؓ اور عائشہؓ کے مقدس شوہر کی حیات پاک کا مطالعہ کرو،اگر اولاد والے ہو تو فاطمہ ؓکے باپ اور حسنؓ اور حسینؓ کے نانا کا حال پوچھو، غرض تم جو کوئی بھی ہو اور کسی حال میں بھی ہو، تمہاری زندگی کے لئے نمونۂ ،تمہاری سیرت کی درستی و اصلاح کے لئے سامان، تمہارے ظلمت خانے کے لئے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کانورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامعیت کبریٰ کے خزانے میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے۔(خطبات مدراس ۹۶،۹۷،تیسرا ایڈیشن)

آخری خطبے کی ایک عبارت تمام مسلمانوں خصوصا نوجوانوں کے لئے پیغام جہد وعمل ہے:

نوجوانو! مجھے صفائی کے ساتھ یہ کہنے دو کہ خاموشی ، سکون، خلوت نشینی اور منفر دانہ زندگی اسلام نہیں ہے ، اسلام جد و جہد،سعی و عمل اور سرگرمی ہے، وہ موت نہیں حیات ہے، اس کا فرمان:

لیس للانسان إلا ما سعی (نجم)

ترجمہ: انسان کے لئے وہی ہے جو کوشش کرے۔

 اور

 کل نفس بما کسبت رہينۃ (مدثر)

ترجمہ:ہر جان اپنے کام کے ہاتھوں گروی ہے۔

اسلام سرتاپا جہاد اور مجاہدہ ہے، لیکن خلوت میں بیٹھ کر نہیں بلکہ میدان میں نکل کر،محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے سامنے ہے، خلفائے راشد ینؓ کی زندگی تمہارے سامنے ہے، عام صحابہؓ کی زندگی تمہارے سامنے ہے، وہی تمہارے لئے نمونہ ہے اور اسی میں تمہاری نجات ہے اور و ہی تمہارا ذریعۂ فلاح ہے اور وہی ترقی اور سعادت کی راہ ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام بودھ کے پیغام کی طرح ترکِ خواہش نہیں ہے، بلکہ تصحیح خواہش ہے، پیغام محمدی حضرت مسیح کے پیغام کی طرح دولت اور قوت کی تحقیر اور ممانعت نہیں ہے، بلکہ ان کے حصول اور صرف کے طریقوں کی درستی اور اس کے صحیح استعمال اور مصرف کا تعین ہے۔

دوستو! ایمان اور اس کے مطابق عمل صالح یہی اسلام ہے ، اسلام عمل ہے ترکِ عمل نہیں ، ادائے واجبات ہے ترک واجبات نہیں ، ادائے فرض ہے ترک فرض نہیں، اس عمل اور ان کے واجبات و فرائض کی تشریح تمہارے پیغمبر کی زندگی اورسیرت میں ملے گی، صحابہؓ کی زندگی اور سیرت میں ملے گی، جس کا نقشہ یہ ہے: محمد رسول اللہ والدین معہ أشداء علی الکفار رحماء بينھم تراہم رکعا سجدا ًيبتغون فضلاً من الله ورضوانا. (الفتح۲۴) (خطبات مدراس ۱۹۹،۲۰۰،تیسرا ایڈیشن)

سید صاحب کی خطبات انگریزی زبان میں پیش کرنے کی خواہش

علامہ سید سلیمان ندوی نےمدراس میںسیرت پر اپنا پہلاخطبہ پیش کرتے ہوئے سیرت نبوی پر اپنے محاضرات کے موضوعات کا تعارف کرانے کے بعد اپنا پہلا خطبہ پیش کرنے سے پہلے جس کا موضوع تھا ’’انسانیت کی تکمیل صرف انبیاء کرام کی سیرتوں سے ہو سکتی ہے‘‘ فرمایا تھا:

’’حضرات میں اس وقت آپ کے سامنے اردو میں تقریر کر رہا ہوں، گو اردو زبان نے ہندوستان میں اس درجہ ترقی کرلی ہے کہ وہ ملک کے ہر گوشہ میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، تاہم میں محسوس کرتا ہوں کہ مدر اس کے لئے یہ مناسب تھا کہ یہ لکچر انگریزی میں ہوتے تاکہ ان کے فائدہ کا دائرہ زیادہ وسیع ہوتا، اور وہ بھی اس میں شریک ہو سکتے اور دلچسپی لے سکتے ، جو اردو بالکل نہیں سمجھتے یا پوری طرح نہیں سمجھتے ، اسی سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ علما ءپر آج انگریزی کا جا ننا بھی فرض ہو گیا ہے، خدا کرے وہ دن آئے جب ہمارے علماء خدا کے پیغام کو خدا کی ہر بنائی ہوئی زبان میں دنیا کو پہنچا سکیں۔(۱۳)

علامہ سید سلیمان ندوی نے اپنے پہلے خطبۂ سیرت کی تمہید میں انگریزی زبان کے حوالہ سے جس ضرورت اور تأثر کا اظہار کیا ہے اور اس کے اخیرمیں جو دعا کی ہے:

’’ خدا کرے کہ وہ دن آئے جب ہمارے علماء خدا کے پیغام کو خدا کی ہر بنائی ہوئی زبان میں دنیا کو پہنچا سکیں‘‘

یہ تأثر اور دعا آج بھی تشنۂ تکمیل ہے، اورعلماء پر دین کی تبلیغ و دعوت اور دینی حقائق کی ترجمانی کے لئے عالمی، ملکی اور علاقائی زبانوں کو سیکھنے اور ان میں مہارت پیدا کرنے کی جس ضرورت اور فرضیت کا احساس علامہ سید سلیمان ندویؒ اور ان کے بعض معاصر علماء کو شدت سے تھا کاش کہ اس سلسلہ میں ہمارے مدارس اور دینی ادارے توجہ کرتے ،اور جن ممالک اور خطّوں میں علماء سےخدمت دین اور دفاع دین کا کام لینا ہے وہاں کی زبانوں، وہاں کی تاریخ اور نفسیات سے علماء کو نہ صرف واقف کرنے بلکہ ان میں مہارت پیدا کرانے کی کوشش کی جاتی، جس وقت علامہ سید سلیمان ندوی نے مدراس میں یہ خطبے پیش کئے تھے اس وقت ان کی عمرچالیس سال سے متجاوز تھی، و فد خلافت میں شریک ہو کر جب انہوں نے مختلف ملکوں کا سفر کیا اس وقت ان کی عمر تقریبا ۳۵سال تھی ، دورانِ سفر انہوں نے اپنے دوستوں اور بعض بزرگوں کو جو خطوط لکھے جن کا مجموعہ ’’برید فرنگ‘‘کے نام سے شائع ہوا ان خطوط میں جگہ جگہ یہ تأثر بہت شدت سے جھلکتا ہے کہ کاش ہمیں انگریزی زبان پر قدرت ہوتی تو براہ راست فرانس اور برطانیہ کے مفکرین اور سیاست دانوں سے ان کی زبان میں بات کرتے۔

مولانا مسعود علی رحمہ اللہ علیہ کے نام ایک مفصل خط میں جو یکم اپریل ۱۹۲۰؁ء کولکھا گیا،لندن میں ہونے والے ایک مباحثے کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ میری حالت ایسے موقعہ پر دیکھنے کے لائق ہوتی ہے، اگر انگریزی نہ سمجھتا تو کچھ الجھن نہ ہوتی، لیکن ماشاء اللہ انگریزی اب بول لیتا ہوں سمجھ لیتا ہوں، لیکن تقریر پر قدرت نہیں رکھتا، اس لئے طبیعت میں اس قدرالجھن ہوتی ہے کہ حدبیان سے باہر ہے، کبھی تقدیر کو کوستا ہوں کبھی اپنی گذشتہ کوتاہیوں پر ماتم کرتا ہوں کہ کیوں طالب علمی میں انگریزی میں محنت نہ کی۔‘‘(۱۴)

انگریزی زبان کی تعلیم اور اس میں مہارت کے حوالے سے مختلف بڑے علماء کو بار بار خیال آیا اور اس کی ضرورت کا احساس شدت سے ہوا، چنانچہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کے مایۂ ناز شاگرد اور علماء کے سرخیل تھے انھیں بھی شدت سے اس کا احساس ہوا، انہوں نے اپنے ایک رفیق درس اور دوست حضرت مولانامحمد امین صاحب ( بانی مدرسہ امینیہ ،دہلی) کے نام اپنے ایک خط میں بڑے درد اور شدت احساس کے ساتھ اس کا ذکر کیا، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

 اب وہ وقت ہے کہ ہمارے علماء نیند سے جاگیں اور قوم کو جگائیں اوربٹھائیں اور اٹھائیں اور چلتا کریں ورنہ سب کا خون ان کی گردن پر ہوگا۔۔۔۔ نظربحالت زمانۂ اول مہتم مجھ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ علماء زبان انگریزی سے ضرور واقف ہوں، اور جب تک یہ اس زبان سے واقف نہ ہوں گے اس باب میں کام نہیں لے سکتے ۔

میری اگر کوئی سنتا تو مدرسہ اسلامیہ میں اول اس ضرورت کو پورا کرنا چاہیئے تھا تاکہ طلبہ اس سے محروم نہ رہے ہوتے اور پھر ان سے کچھ دینی اور قومی خدمتوں کی توقع ہوئی، مگر نقار خانہ میںطوطی کی صداپہنچتی نہیں۔

کشمیر میں بعض اسلامی مدارس میں اس بات کی رعایت ہو گئی ہے ، آئندہ میں اللہ تعالیٰ وہ کرے جس سے خیرمتعدی ہو، میں خود چاہ رہا ہوں کہ اس زبان کو سیکھوں مگر موقع نہیں ملتا۔(۱۵)

افسوس ہے کہ ہمارے مدارس کو اس اہم میدان کی جانب حسب ضرورت خاطر خواہ توجہ نہیں ہے،ہمارے بہت سے مدارس میں انگریزی زبان کو شامل نصاب کیا گیا، لیکن اس کی حیثیت ثانوی مضمون کی ہے، طلبہ اس کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے اور ذمہ داران مدارس ایسی تدابیر اختیار نہیں کرتے کہ طلبہ اس عالمی زبان کو اہمیت کے ساتھ پڑھیں ، اس میں محنت کریں اور کمال پیدا کریں ۔

بہت سی دینی ، دعوتی، اسلامی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لیے اور ہر زمانے کے مسائل و سوالات کا تحقیق و تجزیہ کرنے کے لیے انگریزی زبان جو عالمی زبان ہے، اس میں مہارت اور عبور ضروری ہے، اسی طرح دنیا کی اور وہ زبانیں جو متعددممالک اور براعظموں میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں، یا ان میں علوم وفنون کا بڑاذ خیرہ ہے، ان میں مہارت پیدا کرنا اور اسلامی افکار و خیالات، عقائد و احکام کو ان میںمنتقل کرناہماری بہت بڑی ضرورت ہے،اس کی طرف پوری توجہ نہیں دی جا سکی، پوری منصوبہ بندی اور فکر مندی کے ساتھ اس کام کی انجام دہی ہمارا دینی، ملی اور انسانی فریضہ ہے، اسلام کے پیغام کو اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو مؤثر انداز میں تمام ممالک اور تمام زبانوں میں پیش کرنا امت مسلمہ خصوصاً علما ء کرام کی ذمہ داری ہے، مسئلہ صرف انگریزی زبان تک محدود نہیں ہے،دنیا میں بولی جانے والی تمام زبانیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے، اور مختلف اقوام کے لوگ اور مختلف ملکوں کے لوگ الگ الگ زبانوں میں بات کرتے ہیں اور اپنے مافی الضمر کو اداکرتے ہیں اور ان سے مانوس ہوتے ہیں، ان تمام عالمی، ملکی اور علاقائی زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی فراہمی، دعوتی کاموں کی انجام دہی اور اسلامی علوم وفنون کی منتقلی اور پیش کش ہماری ذمہ داری ہے، جسے امت مسلمہ کو ادا کرنا ہے۔

ایک بیرونی سفر میںجدہ ایرپورٹ پر جہاز کے انتظار میں تھا ، ایک صاحب میرے قریب آکربیٹھے، سلام کیا ، باہم تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ ہمارے پڑوسی ملک کے باشندہ ہیں، اچھے سرجن ہیں، ایک مدت سے پیرس میں سروس کر رہے ہیں، دینی فکر و مزاج کے حامل شخص تھے، میں نے ان سے فرانس کے مسلمانوں کے حالات دریافت کئے، تو باتوں باتوں میں وہ کہنے لگے کہ ہمارے علماء کو اگر کسی غیر ملکی زبان کو سیکھنے اور وہاں دعوتی کاموں کا خیال وجذبہ پیدا ہوتا ہے تو وہ صرف انگریزی زبان ہے، بلا شبہ انگریزی زبان کا دائرہ کافی وسیع ہے، لیکن یہ سمجھنا غلط فہمی ہے کہ تنہا یہی زبان پوری دنیا میں دینی اور دعوتی کاموں کی انجام دہی کے لیے کافی ہے، اب بھی دنیا کے بہت سے ایسے ملک ہیںجہاں یہ زباں عام طورسے نہیں سمجھی جاتی،بلکہ بعض ممالک میں اس زبان سے نفرت کی جاتی ہے،آپ فرانس یا جرمنی چلے جائیں ، اسی طرح اور بھی بعض یورپی ممالک میں تو وہاں انگریزی زبان بولنے اور سمجھنے والے خال خال ہی ملیں گے، بلکہ فرانس اور جرمنی والوں کو انگریزی زبان سے نفرت ہے ، کوئی اگر ان سے انگریزی میں بات کرناچاہتا ہے ، تو اگر وہ انگریزی سے کچھ واقف بھی ہوں توبھی اس میں بات کرنا پسند نہیں کرتے، انہیں اپنے ملک کی زبان میں بات کرنے کی چاہت اور خواہش ہوتی ہے، اسی لیے دینی کام کرنے والوں خصوصاً علماء کی ذمہ داری ہے کہ جس ملک میں دینی اور دعوتی کام کرنا ہووہاں کی زبان میں مہارت پیدا کر یں، وہاں کی تاریخ، جغرافیہ اور نفسیات کامطالعہ کریں۔

اس بات کا انکار نہیںکیا جا سکتا کہ ہمارے کچھ مدا رس اوراداروں نے علماء کو اور دینی و دعوتی کام کرنے والوں کو انگریزی زبان سکھا نے اور اس میں مہارت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، یہ کوششیں قابل قدرا ور لائق ستائش ہیں، لیکن واقعہ ہے کہ جس سطح پر اور جس معیار کے ساتھ یہ کام ہونا چاہیے ، اس سے ہم کافی دور ہیں، اس کے لیے منظم جدوجہد، منصوبہ بندی اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے، اس سلسلہ میں ہم بطور مثال ڈاکٹر حمیداللہ صاحب مرحوم کا نام لے سکتے ہیں، جنہوں نے پوری زندگی اسلام کی دعوت اور خدمت میں لگائی، انگریزی،عربی اور فارسی کے علاوہ انہوں نے جرمن، فرنچ اور ترکی زبان نیز بعض اور دوسری زبانوں میں مہارت پیدا کی ، بلا شبہ وہ بلادیورپ میں اسلام کے سفیر تھے، انہوں نے مختلف زمانوں میں تصنیف و تحقیق کی خدمات انجام دینے کے ساتھ ترجمۂ قرآن اور سیرت نگاری کے میدان میں بے شمار خدمات انجام دیں، فرانس میں ان کے ہا تھوں ہزاروں افراد نے اسلام قبول کیا ۔

بات یہاں سے شروع ہوئی تھی کے علامہ سید سلیمان ندوی نے مدراس میں اپنے پہلے خطبہ کے آغاز میں اپنے اس تأثر کا اظہار کیا تھا کہ:

’’ میں محسوس کرتا ہوں کہ مدر اس کے لیے یہ مناسب تھا کہ یہ لکچر انگریزی میں ہوتے تاکہ ان کے فائدے کا دائرہ زیادہ وسیع ہوتا اور وہ بھی اس میں شریک ہوسکتے اور دلچسپی لے سکتے، جوار دو بالکل نہیں سمجھتے یا پوری طرح نہیں سمجھتے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ علماء پر آج انگریزی کا جاننا بھی فرض ہو گیا۔‘‘

اور انہوںنے اپنی گفتگو اس دعا کے ساتھ ختم کی ہے :

 ’’خدا کرے وہ دن آئے جب ہمارے علماء خداکے پیغام کوخدا کی ہر بنائی ہوئی زبان میں دنیا کو پہنچا سکے ۔‘‘ (۱۶)

خطبات مدراس کے تراجم

دنیا کی بے شمار زبانوں میں اس کے ترجمے شائع ہوئے اور خوب پڑھے گئے، عربی زبان میں اس کا ترجمہ حضرت مولانا محمد ناظم ندویؒ نے الرسالۃ المحمدیۃ کے نام سے کیا جو بہت مقبول ہوا، چند سال قبل مولانا ڈاکٹر رحمت اللہ ندوی نے نیا عربی ترجمہ کیا جو بلاد عربیہ میں شائع ہوا، انگریزی زبان میں اس کتاب کے تراجم ہوئے جو علمی حلقوں میں مقبول ہوئے، اردو کی بہت کم کتابوں کو خطبات مدراس جیسی مقبولیت حاصل ہوئی۔

سید صاحب کی سیرۃ النبی اور خطبات مدارس کے برصغیرہندوپاک پر اثرات

علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ(متوفیٰ۱۹۱۴؁ء)اور علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے سیرت النبی کی شکل میں جو عظیم کارنامہ انجام دیا، اور سیرت نگاری کے میدان میں تحقیق و جستجو کی جونئی طرح ڈالی ، اسی طرح علامہ سید سلیمان ندوی نے موجودہ حالات و ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے خطبات مدراس لکھ کر سیرت نبوی کے سمندر کو مختصر سے کوزہ میں پیش کرنے کا جو کارنامہ انجام دیا ان سب کی گونج نہ صرف بر صغیر میں بلکہ پورے عالم اسلام میں اور اس سے آگے بڑھ کر مشرق و مغرب کے تحقیقی اداروں تک پہنچی ، علامہ شبلی نعمانی اور علامہ سید سلیمان ندوی نے اپنی کتب سیرت میں جو افکار و نظریات پیش کئے ہیں ان میں سے بعض افکار و تحقیقات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور کیا بھی گیا ہے ،لیکن سیرت کے میدان میں ان کے عالمی اثرات سے کوئی بھی انصاف پسند شخص انکار نہیں کر سکتا ، مستشرقین کی جانب سے اور ان کے خوشہ چیں مسلمان اہل قلم کی طرف سے سیرت نبوی پر جو بھی اعتراضات کئے گئے تھے اور اور جس طرح کی تنقیدیں اور نکتہ چینیاں سامنے آچکی تھیں اور ان سب کا بہت محققانہ اور منصفانہ جائزہ علامہ شبلی نعمانی اور علامہ سید سلیمان ندوی کی کتب سیرت میں موجود ہے ، اگر کوئی شخص تعصب کی عینک ہٹاکر انصاف پسندی اور معروضیت کے ساتھ ان دونوں بزرگوں کی تحریروں کا مطالعہ کر ےگا تو اسے اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ اس وقت تک سیرت نبوی کے حوالہ سے جواعتراضات پیش کئے جا رہے تھے اور جوسوالات پیش کئے جا رہے تھے ان کاسنجیدہ اور تحقیقی جواب ان دونوں بزرگوں کی تصانیف اور مضامین میں موجود ہے۔

اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دبستان شبلی کی جانب سے سیرت نبوی پران گر انقدر کاموں کایہ اثر ہوا کہ پورے برصغیر میں دور حاضر کی ضروریات کے مطابق سیرت نبوی پر تیزی کے ساتھ بیش قیمت لیٹریچر سامنے آتا گیا، ان تحقیقی اور تجزیاتی کتابوں کی فہرست سازی ایک طویل کام ہے،جو علامہ شبلی نعمانی اور علامہ سید سلیمان ندوی کی تحریک سیرت نگاری سےکلا یا جزءاً متاثر ہو کر وجود میں آئیں ، اور انہوں نے سیرت نبوی ﷺ کے مختلف گوشوں کو روشن کیا، بطور مثال چند کتابوں کا نام لیا جا سکتا ہے ، حضرت مولانا عبد الرؤوف دانا پوری کی ’’اصح السیر‘‘ قاضی محمد سلیمان منصورپوری کی ’’رحمۃ للعالمین‘‘ مولانا ادر یس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی’’سیرۃ المصطفیٰ‘‘،مولانامناظر احسن گیلانی کی سیرت نبوی پر البیلی کتاب’’النبی الخاتم‘‘، ڈاکٹر حمید الله حیدر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت نبوی پر مختلف کتابیں،اسی سلسلہ کی اہم ترین کڑیاں مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’نبی رحمت‘‘ اور حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندویؒ کی ’’رہبر انسانیت‘‘ بھی ہیں،جنھیں ہم علامہ شبلی نعمانی اور علامہ سید سلیمان ندوی کے ذریعہ شروع کردہ سیرت نگاری کا امتدادقرار دے سکتے ہیں۔

 ماہنامہ نقوش لاہور لاھور کارسول نمبر، جو ایک عظیم انسائیکلوپیڈیاکی حیثیت رکھتا ہے جو تیرہ جلدوں پر مشتمل ہے ، سیرت نبوی کے مختلف موضوعات پر ڈاکٹریٰسین مظہر صدیقی ندوی مرحوم کی تصنیفات اسی زمرہ میں شامل ہیں،اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ۱۹۸۲؁ء میںدار المصنفین اعظم گڑھ میں منعقد ہونے والا ’’استشراق اور مستشرقین‘‘ پرسیمینارتھاجس کا ایک اہم ترین موضوع سیرت نبوی پر مستشر قین کی تنقیدات واعتراضات کا جائزہ تھا ، اس سیمینار میں پیش ہونے والے تمام مقالات کتابی صورت میں دارالمصنفین اعظم گڑھ سے کئی جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں،اور ان کا عربی ترجمہ بھی بلاد عربیہ سے شائع ہو چکا ہے۔

اہم اور ضروری کام

علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے جس ماحول اور پس منظر میں اورجن مقاصد کے لئے خطبات مدراس پیش کئے تھے ان کا ذکر پہلے آچکا ہے، اس بات کی اہم ضرورت تھی اور ہے کہ اس طرح کے خطبات نہ صرف ایک بار اور ایک ہی بڑے شہر میں پیش کئے جاتے اور ان کا اہتمام ہوتا بلکہ ضرورت اس کی تھی کہ اہم اور بڑے شہروں میں بلکہ متوسط شہروں اور قصبات میں بھی کم از کم سال بہ سال ایسے مؤثر اور فکر انگیر خطبات مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے پیش کئے جاتے، جن میں سیرت نبوی کے صحیح خدو خال لوگوں کے سا منے آتے اور رسول اللہ ﷺ کا پیغام تمام انسانوںتک پہنچتا اور معاندین اسلام رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ زندگی اور منصفانہ تعلیمات کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں اور جو شکوک و شبہات مسلمانوں یا غیر مسلموں کے دل ودماغ میں پیدا کر رہے ہیں، انہیں سنجیدگی، متانت اور تحقیق کے ساتھ دور کیاجائے ،اسلوب مناظرانہ نہ ہو، بلکہ داعیانہ اور حکیما نہ ہو جیسا کہ خطبات مدراس میں نظر آتا ہے، اگر یہ کام مختلف شہروں اور علاقوں میں انجام دیا جاتا تو اس کے بڑے مثبت اثرات نظر آتے، اسلام کا صحیح پیغام لوگوں تک پہنچتا ، اور سیرت نبوی کے راستے سے ہدایت کی راہیں روشن ہوتیں، اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں نفرت و عناد کا ماحول ختم ہوتا ، اور عقیدۂ توحید غیر مسلموں کے دلوں میں بھی دستک دیتا ۔

ہندوستان کے موجودہ حالات

اس کلیدی خطبہ کو ختم کرنے سے پہلے میں ہندوستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی حالات سے آنکھیں بند نہیں کرسکتا، خصوصا پورے ملک میں اقلیتیں خصوصا مسلمان اور عیسائی، دلت اور آدی واسی جن حالات سےگذر رہے ہیں، ان کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں، سیاسی مفادات اور مقاصد کے لئے دستور ہند میں دئے گئے بنیادی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے، مسلمانوں کے خلاف منافرت اور تشدد کو فروغ دیا جارہا ہے، ہمارا عدالتی نطام بھی عدل و انصاف قائم کرنے اور دستوری حقوق کی نگہبانی میں کوتاہی کررہا ہے، یہ صورت حال ملک ہندوستان اور ہندوستانی قوم کے لئے انتہائی تشویشناک ہے، حالات کو درست کرنے اور اس جمہوری اور دستوری ملک کی گاڑی کو پٹری پر لانے کے لئے عظیم جد وجہد اور قربانی کی ضرورت ہے۔

ملک کی آزادی سے پہلے جب آزادی کی جد وجہد شباب پر تھی ملک کے مختلف حصوں میں ہندو مسلم منافرت کا ماحول پیدا کردیا گیا تھا، فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہورہے تھے تو گاندھی جی نے اس کے خلاف دہلی میںبرت رکھا ہے اس موقع پر دہلی میں ستمبر ،اکتوبر ۱۹۲۴؁ء میںتقریباً ایک ہفتہ کی ’’اتحاد کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس میں ہندؤوں اور مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی قیادت نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور طویل مذاکرات کے بعداس وقت کے حالات سے متعلق اتفاق رائے سے تجاویز منظور ہوئیں،اس کے بعد گاندھی جی نے اپنا برت توڑا، اس کانفرنس میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب، اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی وغیرہم کے ساتھ حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ بھی شریک تھے، انھوں نے اس اتحاد کانفرنس کے بعد ماہنامہ معارف اعظم گڑھ کے شذرات میں لکھا:

ہندو مسلم اتحاد

ستمبر کے آخر میں ہفتہ میں دہلی میں جو مجلس اتحاد منعقد ہوئی اس نے اپنے جانتے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو نزاعی امور پیدا ہیں،ان پر پوری طرح غور کیا اور ان کے متعلق فیصلے صادر کیے، لیکن ہم نے جلسہ کے اندر اور باہر بھی جہاں تک غور کیا ، تمام رہنمایان ملک کے خیالات ان نزاعات کے صرف ظاہری اور سطحی اسباب پرمشتمل پائے،شاید اس لیے کہ زخم میں زیادہ گہرانشتر نہ دیا جائے، جو تکلیف کا موجب ہو، صرف او پر کی جلد کا صاف کر دینا کافی سمجھا گیا، لیکن یہ خیال نہیں کیا گیا کہ اوپر سے زخم اس طرح مندمل بھی ہو جائے گا، تو ڈر ہے کہ اندر اندر موجودہ محدود زخم آئندہ تمام جسم کو اپنے زہر سے پر مواد نہ کر دے۔

ہمارے نزدیک ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی نزاعات اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتے، جب تک کہ دونوں قو میں ۱۸۵۷؁ء کے خاتمہ پر اپنے فاتحانہ اور مفتوحانہ جذبات،سز ا وانتقام کوختم نہ کر دیں اور اپنی تاریخ کا نیا دور نہ شروع کر دیں، جس میں گذشتہ آٹھ صدیوں کے تلخ واقعات کی یا د قطعاً موقوف کر دی جائے اور مستقبل کی اصلاح و درستی کی خاطر حال کو ماضی کی تکرار میں برباد نہ کیا جائے۔

 ہر قوم کی حکومت کی تاریخ میں اچھے اور برے، منصفانہ اور ظالمانہ دونوں قسم کے واقعات ملتے ہیں، اس کلیہ سے ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کی تاریخ بھی خالی نہیں، مگر ملک کی بھلائی اس میں نہیں ہے کہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسلمانوں کی حکومتوں کی کچھ واقعی برائیاں اور کچھ گھڑ کر مفروضہ افسانے یکجا کیے جائیں، اور وہ انجمنوں کے جلسوں میں، لڑکوں کے مدرسوں میں، مطالعہ کی کتابوں میں، اخبارات کے کالموں میں، روزمرہ کی گفتگوؤں میں کھیل کود اور تماشے کے ناٹکوں میں اس طرح بار بار دہرائے جائیں کہ وہ بچہ بچہ کی زبان پر چڑھ جائیں، دونوں قوموں کے درمیان ایک غیر مختتم تلخی اور ناگواری اور بدگمانی اور عداوت راسخ ہو جائے۔

واقعات کی حیثیت سے نظر کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ہندو اکابر نے اپنی قوم کو جنبش اور حرکت میں لانے کے لیے یہ ضروری سمجھا کہ قوم کی نفرت اور عداوت کے جذبات کو مشتعل کیا جائے اور اس کے لیے مسلمانوں کو منتخب کیا، ان کا فاتحانہ جرم اقدام اس کے لیے بہترین مسالہ پیدا کر سکتا تھا، اس طرح مذہبی اور سیاسی دونوں حیثیتوں سے مواد یکجا کیا گیا اور اس کو تمام ملک میں ہندوؤں کے درمیان پھیلایاگیا، مذہبی حیثیت سے سوامی دیانند جی نے اور سیاسی حیثیت سے تلک مہاراج نے مسلمانوں کے خلاف ایک جہاد عظیم کا سامان فراہم کیا، تمام ملک میں دیانند جی کی ستیارتھ پرکاش کی تبلیغ کی گئی، جس میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر ممکن دلیل سے ہندو قوم کو آمادۂ جنگ کیا گیا ہے، بڑے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے چھوٹے قریوں تک میں آریہ سماج کا جال پھیلایا گیا، ان کے ہفتہ وار، ماہوار اور سالانہ جلسوں میں مقررین کا بہترین موضوع اسلام اور مسلمانوں کو برا بھلا کہنا، مسلمان سلاطین کے جھوٹے مظالم گنانا، اور مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے جذبات کو بھڑ کا نا قرار دیا گیا، ان کے اخبارات، رسائل اور کتابوں میں با قاعدہ اسلام، بزرگان اسلام، انبیائے اسلام اور سلاطین اسلام کے خلاف سب وشتم کا سلسلہ قائم کیا گیا اور اس طرح ملک کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف ایک وسیع تنظیم کھڑی کی گئی۔

تلک مہاراج نے عام ہندوؤں اور خصوصاً مہاراشٹر کے بہادروں کے مردہ جذبات میں نئی امنگ پیدا کرنے کے لیے شیوا جی اور عالمگیر کی مری ہوئی ہڈیوں کو اکھاڑنا شروع کیا، شیواجی کوقومی ہیرو بنایا گیا، اس کے مقابل میں عالمگیر کو ہرظلم اور برائی کا مصدر ٹھہرایا گیا، واقعات گھڑے گئے، تاریخیں بنائی گئیں، جعلی تحریریں بنانے کے کارخانے قائم کیے گئے، جھوٹے افسانے، ناٹک اور ناول لکھے گئے، ان کے دارالاشاعت قائم ہوئے، تھیڑوں اور تماشا گاہوں میں ان کی نقلیں دکھائی گئیں اور یہ سلسلہ مرہٹی سے شروع ہو کر گجراتی و بنگالی تک میں پھیل گیا اور اس زہریلے لٹریچر نے تمام ہندو نو جوانوں کے دل و دماغ کو مسموم کر دیا، اور اس طرح ملک میں اب تک یہ نظام عمل پوری طرح قائم اور جاری ہے۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ بڑے بڑے ہندو اہل قلم نے قصداً ایسی کتا ہیں اور تحریریں لکھیں اور اب تک لکھ رہے ہیں، اور اس کام میں انگریز اہل قلم نے بھی ان کی پوری مدد کی، بلکہ رہنمائی کی، جن میں مسلمانوں کے عہد حکومت کو ہر طرح بد نام کرنے کی کوشش کی اور مسلمان سلاطین پر غلط الزامات قائم کیے اور ہندوؤں پر ان کے ان گنت مظالم کو سلیقہ کے ساتھ اوراق میں ترتیب دے کر ان کو مدارس کے نصاب تعلیم میں داخل کیا گیا ہے، جس کے ذریعہ سے تعلیم یافتہ ہندونو جوانوں کے خیالات مسلمانوں کی طرف سے تاریخی طور سے ہمیشہ کے لیے برے کر دیے گئے۔

ہندوستان کی ان دونوں قوموں میں نفاق ڈالنے کی کوشش گوتیسری قوم کی طرف سے شروع کی گئی، مگر بہت جلد دوسری قوم نے اس کو اپنا کام بنالیا اور اس طرح اے، بی ،سی، ڈی کے آغاز سے آخر تعلیم تک ایک ہندو نوجوان کو مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کے خلاف ایسی باقاعدہ تعلیم دی گئی ہے، جس سے پاک وصاف رہ کر اگر اب بھی کچھ تعلیم یافتہ ہندو مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کے خواہاں ہیں، تو یہ صرف فطری صلاحیت کی پکار ہے۔ ورنہ ماحول کا یہ اقتضا تو ہر گز نہیں۔

اب ہمارا سوال ہے کہ ان حالات میں جب مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کی اشاعت اور تبلیغ کے لیے آریہ سماج کا پورا نظام قائم ہے اور اس قسم کے لٹریچر کی کم از کم تیس چالیس برس سے عام اشاعت ہے، ناٹکوں اور افسانوں، سنجیدہ مضامین اور مصنفین کی کتابوں کے ذریعہ سے ان کی تبلیغ ہے، کیا مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسا نظام سلسلۂ کتب، دارالاشاعت، مقررین کا گروہ ہے، انجمنوں کی تنظیم، اہل قلم کی کوششیں، ناٹک اور افسانے ، مدارس و مکاتب کے نصاب تعلیم کوئی چیز ایسی موجود ہے، جس کا مقصد مسلمانوں میں ہندوؤں کی طرف سے نفرت اور عداوت کے جذبات کی باقاعدہ پرورش اور نشو و نما ہو، مسلمانوں کی طرف سے جو کچھ ہے مدافعانہ ہے۔

فروری ۱۹۲۰؁ء میں جب وفد خلافت یورپ جارہا تھا، تو اتفاق سے پہلے جنم کے مشہور آریہ سماجی لیڈر لالہ لاجپت رائے چھ سات برس کے بعد امریکہ سے ہندوستان آرہے تھے، مصوع کے افریقی بندرگاہ میں ہم دونوں کا اجتماع ہوا، اور ہندوستان کی موجودہ صورت حال یعنی ہندو مسلمانوں کے روز افزوں اتحاد کا ذکر آیا، میں نے کہا کہ اب ہندوستان میں آریہ سماجی تحریک کی گذشتہ روش (پالیسی) میں انقلاب کی ضرورت ہے، تاکہ ہندوؤں میں مسلمانوں کی طرف سے نفرت اور عداوت پھیلانے کی سرگرمیوں کی جگہ مصالحت اور اتحاد کی اشاعت ہو سکے، لالہ جی نے اس خیال کی تائید کی مگر اخیر اکتوبر کی مجلس اتحاد میں جب مالوی جی کے اشارہ سے لالہ جی نے اپنی مشہور ترمیم متعلق اعلان حقوق (یعنی ہر شخص کو مذہبی آزادی ہو، مسلمان جس جانور کو جہاں چاہیں ذبح کر سکیں وغیرہ) کو تعویق میں ڈالنے کی غرض سے پیش کی ، تو اس وقت ان کا وہ خیال جو مصوع میں ظاہر کیا گیا تھا، معلوم ہوتا تھا کہ ان کے ساتھ سمندر پار سے ہندوستان نہ آسکا۔

اس تفصیل سے اب یہ واضح ہو گیا ہوگا کہ اگر ہم ہندو مسلمانوں کے نزاعات کا واقعی خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور اس بد نصیب ملک میں خون کی ندیوں کے بدلے جوئے محبت بہانا چاہتے ہیں، تو اس کا اصلی علاج یہ ہے کہ آریہ سماجی روش میں تبدیلی کی جائے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو تبلیغ اور پروپیگنڈا پورے نظام کے ساتھ تقریروں، تحریروں، کتابوں، رسالوں، اخباروں ، تماشوں، ناٹکوں، افسانوں اور تاریخوں کے ذریعہ پھیلایا جا رہا ہے، ان کو یک قلم بند کیا جائے، اس کے ساتھ لازما مسلمانوں کی مدافعانہ کوششیں بھی خود بخود بند ہو جائیں گی، آریہ سماجی مقررین اور محررین، اپنے بیانوں اور گفتگو کا موضوع اپنے مذہب کی خوبیوں اور اچھائیوں کا اظہار قرار دیں، دوسرے مذاہب کو سب وشتم نہیں اور اسی طرح ہندو اور مسلمان اہل قلم تاریخ ہند کے اسلامی دور کے وہ واقعات تلاش اوریکجا کریں، جن سے دونوں میں مصالحانہ روح کی ترقی ہو۔(۱۷)

اس خطبہ کو میں حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کے خطبۂ صدارت اجلاس کانگریس رام گڑھ ۱۹۴۰  ء؁ کے ایک وقیع اور فکر انگیز اقتباس پر ختم کرتا ہوں، مولانا آزاد لکھتے ہیں:

میں مسلمان ہوں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کی تیرہ سو برس کی شان دار روایتیں میرے ورثے میں آئی ہیں، میں تیار نہیں کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم ، اسلام کی تاریخ ، اسلام کے علوم وفنون ، اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں ، بحیثیت مسلمان ہونے کے مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی ایک خاص ہستی رکھتا ہوں اور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے، لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتا ہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا ہے، اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی، وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے، میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندستانی ہوں، میں ہندستان کی ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں، میں اس متحدہ قومیت کا ایک اہم عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے، میں اس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل Factor ہوں، میں اپنے اس دعوی سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔

ہندستان کے لیے قدرت کا یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اس کی سرزمین انسان کی مختلف نسلوں، مختلف تہذیبوں اور مختلف مذہبوں کے قافلوں کی منزل ہو، ابھی تاریخ کی صبح نمودار بھی نہیں ہوئی تھی کہ ان قافلوں کی آمد شروع ہوگئی اور پھر یکے بعد دیگرے سلسلہ جاری رہا، اس کی وسیع سرزمین سب کا استقبال کرتی رہی اور اس کی فیاض گود نے سب کے لیے جگہ نکالی، ان ہی قافلوں میں آخری قافلہ ہم پیروان اسلام کا بھی تھا، یہ بھی پچھلے قافلوں کے نشان راہ پر چلتا ہوا یہاں پہنچا اور ہمیشہ کے لیے بس گیا،یہ دنیاکی دو مختلف قوموں اور تہذیبوں کے دھاروں کا ملان تھا، یہ گنگا اور جمنا کے دھاروں کی طرح پہلے ایک دوسرے سے الگ بہتے رہے، لیکن پھر جیسا کہ قدرت کا اٹل قانون ہے دونوں کو ایک شکم میں مل جانا پڑا، ان دونوں کا میل تاریخ کا ایک عظیم واقعہ تھا، جس دن یہ واقعہ ظہور میں آیا اس دن سے قدرت کے مخفی ہاتھوں نے پرانے ہندستان کی جگہ ایک نئے ہندستان کے ڈھالنے کا کام شروع کر دیا، ہم اپنے ساتھ اپنا ذخیرہ لائے تھے اور یہ سرزمین بھی اپنے ذخیروں سے مالا مال تھی، ہم نے اپنی دولت اس کے حوالے کردی اور اس نے اپنے خزانوں کے دروازے ہم پر کھول دیے، ہم نے اسے اسلام کے ذخیرہ کی سب سے زیادہ قیمتی چیز دے دی جس کی اسے سب سے زیادہ احتیاج تھی، ہم نے اسے جمہوریت اور انسانی مساوات کا پیغام پہنچا دیا۔

تاریخ کی پوری گیارہ صدیاں اس واقعہ پر گزرچکی ہیں، اب اسلام بھی اس سرزمین پر ویسا ہی دعویٰ رکھتا ہے جیسا دعوی ہندو مذہب کا ہے، اگر ہندو مذہب کئی ہزار برس سے اس کے باشندوں کا مذہب رہا ہے تو اسلام بھی ایک ہزار برس سے اس کے باشندوں کا مذہب چلا آتا ہے، جس طرح آج ایک ہند و فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ وہ ہندستانی ہے اور ہندو مذہب کا پیرو ہے، ٹھیک اسی طرح ہم بھی فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہندستانی ہیں اور مذہب اسلام کے پیرو ہیں، میں اس دائرہ کواس سے زیادہ وسیع کروں گا، میں ہندستانی مسیحی کا بھی یہ حق تسلیم کروں گا کہ وہ آج سر اٹھا کے کہہ سکتا ہے کہ میں ہندستانی ہوں اور باشندگان ہند کے ایک مذہب یعنی مسیحیت کاپیرو ہوں۔(۱۸)

حواشی:

۱۔افکار سلیمانی ۳۸۹ – ۳۸۲

۲۔مطالعۂ سلیمانی ص۱۵

۳۔معارف سید سلیمان نمبر،ص۱۸۵

۴۔ معارف سید سلیمان نمبر ۱۹۰

۵۔مطالعۂ سلیمانی صفحہ ۳۲۰

۶۔مطالعۂ سلیمانی ص ۳۲۱

۷۔مطالعۂ سلیمانی ص ۳۲۲

۸۔مطالعۂ سلیمانی ص ۳۲۳

۹۔مضمون :مولانا سید سلیمان ندوی میری نظر میں،، معارف علامہ سید سلیمان ندوی نمبر مئی ۱۹۵۵

۱۰۔خطبات مدراس طبع سوم، ص ۴-۵

۱۱۔خطبات مدراس ، صفحہ ۵-۶، طبع سوم

۱۲۔خطبات مدراس تیسرا ایڈیشن ص۳

۱۳۔ خطبات مدراس ،ص ۲و۳

۱۴۔ برید فرنگ،ص :۵۸

۱۵۔مقالہ مولانا مفتی ذکاوت حسین استاذمدرسہ امینیہ دہلی، بعنوان:مدرسہ امینیہ دہلی کے اولین صدرالمدرسین حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کا قیام دہلی اور تدریسی خدمات، ص ۳۶و۳۷

۱۶۔ خطبات مدراس، صفحہ ۳، تیسرا ایڈیشن

۱۷۔معارف ،خصوصی شمارہ  بعنوان: ہندوستانی مسلمان شذرات معارف کے آئینہ میں، حصہ اول، ص ۳۵ تا ۳۸ ، دارالمصنفین، اعظم گڑھ

۱۸۔خطبات آزاد حصہ اول( قبل آزادی کانگریس کے صدارتی خطبات ) ص ۵۲۴و۵۲۵، شائع کردہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی

Tags

Share this post: