’’ریاض الصالحین‘‘پر علمی نقوش و آثار

’’ریاض الصالحین‘‘پر علمی نقوش و آثار

                                                          ڈاکٹر ابو سحبان روح القدس ندوی

                                        شعبہ اختصاص برائے علوم الحدیث دار العلوم ندوۃ العلماء

امام ابو زکریا یحیی بن شرف النووی(۶۳۱۔۶۷۶ھ)اپنی جامعیت، وسعت مطالعہ، اعتدال پسندی، نکتہ سنجی اور استنباط احکام و مسائل اور علمی و تربیتی اور روحانی فوائد و نکات  اجاگر کرنے میں محتاج تعارف نہیں، وہ فقہ و اصول فقہ، حدیث و علوم حدیث اور اسماے رجال کے علاوہ تاریخ و تراجم اور لغت میں فرد فرید ہیں۔

تذکرہ و تراجم کی کتابوں کے علاوہ امام موصوف کی حیات و شخصیت اور علمی مقام و مرتبہ کے لیے دیکھیے:

  • الامام النووی شیخ الاسلام والمسلمین وعمدۃ الفقہاء والمحدثین: عبدالغنی الدقرط دار القلم، دمشق ۱۹۹۴ء
  • الامام النووی وأثرہ فی الحدیث وعلومہ: أحمد بن عبد العزیز قاسم ط.دار البشائر الاسلامیۃ، بیروت ۱۴۱۳ء
  • المنہاج السوی فی ترجمۃ الامام النووی: جلال الدین ابو الفضل عبد الرحمن السیوطی(م۹۱۱ھ)

تحقیق: احمد شفیق دمج ،ناشر: دار ابن حزم، بیروت ۱۹۸۸م

  • تحفۃ الطالبین فی ترجمۃ الامام محی الدین: ابن العطار علاء الدین علی بن إبراہیم بن العطار (م۷۲۴ھ) تحقیق: ابو عبیدہ مشہور بن حسن آل سلمان ،ناشر: دار الصمیعی، ریاض ۱۴۱۴۔
  • تذکرۃ المحدثین (حصہ دوم صفحہ ۳۸۸-۴۱۷): ضیاء الدین اصلاحی ط.دوم ۱۹۹۷ء اعظم گڑھ

نووی کی تصانیف کو ہر دور میں مقبولیت ہوئی، علامہ تاج الدین السبکی(م۷۷۱ھ) کی نظر میں’’امام نووی اور ان کی تصانیف کے ساتھ اللہ تعالی کی خاص عنایت اور توجہ شامل ہے‘‘۔ (۱)

یافعی(م۱۷۶۷ھ) کی نگاہ میں:

’’امام نووی پر خدا کی برکتیں ان کی کتابوں کے ذریعے ہوئیں، چناںچہ ان سب کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی اور ہر ملک میں ان کی شہرت ہوئی اور لوگ ان سے خوب متمتع اور فیض یاب ہوئے‘‘۔(۲)

  لغت و تراجم میں اور فقہ و فتاوی میں امام نووی کی حسب ذیل تصانیف ہیں:

ـ۰  تہذیب الاسماء واللغات: اس میں فقہ شافعی کی حسب ذیل کتابوں میں جو اسما و اعلام اور الفاظ وغیرہ آے ہیں ان کی وضاحت امام موصوف کے پیش نظر ہے۔

مختصر المزنی: اسماعیل بن یحیی المزنی الشافعی (م۲۶۴ھ)۔

المہذب: ابو اسحاق ابراہیم بن محمد الشیرازی (م۴۷۶ھ)

 التنبیہ: ابو اسحاق الشیرازی (سابق الذکر)۔

الوسیط: ابو حامد الغزالی (م۵۰۵ھ)

الوجیز: للغزالی  ایضاً

الروضہ: للنووی اس کا تعارف آئندہ سطور میں ہے۔

’’تہذیب الاسماء واللغات‘‘ دوقسموں میں ہے، پہلی میں اسما اور دوسرے میں الفاظ و اماکن، دونوں قسموں کو حروف معجم پر مرتب کیا گیا ہے، اسماوالفاظ کے حرکات کو ضبط کرنے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے اور جن کتابوں سے مولف نے استفادہ کیا ہے ان کا بھی اشاریہ دے دیا ہے، مصر میں شائع ہوئی تھی۔

ـروضۃ الطالبین:

یہ کتاب فقہی جزئیات پر مشتمل ہے، اس میں رافعی (م۶۲۳ھ) کی ”شرح الوجیز” کی تلخیص وشرح کی گئی ہے، یہ کتاب بڑی اہم اور شوافع میں نہایت مقبول ہے ،”کشف الظنون”(۳) میں اس کی شروح و مختصرات اور حواشی کا ذکر ہے،امام رافعی کی ”شرح الوجیز” کے غریب الفاظ کو احمد بن محمد بن علی الفیومی(م تقریباً ۷۷۰ھ) نے ”المصباح المنیر” میں جمع کر کے اس کی لغوی تشریح کر دی ہے،’’المصباح المنیر” فقہی الفاظ کی لغت میں مشہور و مستند کتاب ہے، فیومی نے اس میں ستر مصادر استعمال کیے ہیں۔ بیروت سے ۲۰۰۰ء میں اس کا طبع دوم شائع ہوا ہے۔

منہاج الطالبین:

 رافعی کی ”المحرر” فروع شافعیہ میں مشہور و مقبول اور بڑی معتبر و مستند کتاب خیال کی جاتی ہے، امام نووی نے ”منہاج” میں اس کا اختصار اور بعض مفید اور اہم مسائل ومباحث کا اضافہ کیا ہے، ”منہاج” کی اہمیت کے پیش نظر اس کی بہت ساری شرحیں اور حواشی لکھے گئے ہیں، جس کا اشاریہ ”کشف الظنون”(۴) میں درج ہے۔

 شرح المہذب المشتہر بالمجموع :

المہذب فی الفروع ابو اسحاق الشیرازی کی مشہور اور مفید کتاب ہے، نووی نے اس کی شرح کا بیڑا اٹھایا، گو ناتمام رہی تاہم احکام و مسائل میں یہ بڑی جامع اور پُر ازمعلومات کتاب ہے، نووی نے اپنی شرح صحیح مسلم میں جابجا اس کا حوالہ دیا ہے، ابن کثیر کا بیان ہے کہ

 مصنف نے اس میں غیر معمولی جدت اور نقد و تحقیق سے کام لیا ہے، غریب الفاظ کی تحقیق، فقہی وحدیثی معلومات اور گونا گوں دوسرے اہم امور و مسائل ایسے جمع کر دیے ہیں جو دوسری کتابوں میں نہیں ملتے۔(۵)

ابن کثیر نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے:

لا أعرف فی کتب الفقہ أحسن منہ۔

  امام نووی نے ایک علا حدہ جز میں اس کی حدیثوں کی تلخیص بھی کر دی ہے جو ”الخلاصۃ فی الحدیث” کے نام سے موسوم ہے،ابن العطار (م۷۲۴ھ) اور ذہبی (م۷۴۸ھ) کی نگاہ میں:

’’امام نووی حدیث، فنون حدیث کے حافظ، متبحر عالم، رجال واسناد اور صحیح وسقیم حدیثوں کی پرکھ کے ماہر تھے‘‘۔(۶)

مولانا ضیاء الدین اصلاحی کا کہنا ہے کہ:

امام نووی کو علم حدیث اور اس کے متعلقات سے غیر معمولی شغف تھا اور وہ اکابر محدثین اور ممتاز شراح حدیث میں شمار کیے جاتے ہیں، علماے طبقات و تراجم نے ان کو حدیث میں ماہر فن اور امام بتایا ہے۔(۷)

حدیث وعلوم حدیث میں امام نووی کی مندرجہ ذیل تصانیف ہیں۔

شرح صحیح البخاری :

نووی نے اپنی شرح صحیح مسلم کے دیباچے میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

”أما صحیح البخاری فقد جمعت فی شرحہ جملا مستکثرات، مشتملۃ علی نفائس من أنواع العلوم بعبارات وجیزات وأنا مشمِر فی شرحہ راجٍ من اللہ الکریم فی تمام المعونات”۔ (۸)

گو امام موصوف کی شرح صحیح البخاری ”کتاب الایمان” تک محدود ہے تاہم ان کی شرح کا انداز انوکھا اور مفید ہے، طرز نگارش میں جدت اور دقیقہ رسی سے کام لیا ہے۔

شرح سنن ابی داوود:

 ترجمہ نگاروں نے نووی کی سنن کی ناتمام شرح کا ذکر کیا ہے جو صرف چند ابواب کی شرح تک پہنچ سکی، چونکہ امام ابو داوود کی ”السنن” احادیث احکام کی جامع ہے اور نووی کو معرفۃ الفقہ والحدیث دونوں میں ید طولی  ہے، لہذا اگر وہ سنن ابی داوود کی شرح مکمل کرتے تو ان کی شرح کو انفرادی مقام اور امتیاز حاصل ہوتا۔

المنہاج فی شرح صحیح مسلم بن الحجاج:

شرح النووی علی صحیح مسلم کے نام سے بھی متداول ہے، ان کی یہ شرح نہ مطول ومفصل ہے اور نہ بہت مختصر و مجمل، بلکہ متوسط ہے، اس کے شروع میں ایک مقدمہ بھی ہے، اس میں صحیحین خصوصاً صحیح مسلم کی اہمیت وخصوصیت اور امام مسلم کی حدیث میں عظمت و بلندی، غیر معمولی احتیاط و کاوش اور دقت نظر وغیرہ کے علاوہ اصول روایت اور فن حدیث کے مباحث و مصطلحات تحریر کیے گئے ہیں۔(۹)

  مولانا اصلاحی نے امام نووی کی شرح صحیح مسلم کی نو خصوصیات کا ذکر اپنے ایک مقالہ ”امام نووی کی شرح مسلم پر ایک نظر” میں کیا ہے جو ماہ نامہ معارف اعظم گڑھ (جنوری، فروری ۱۹۷۴ء) کے دو شمارے میں شائع ہوا، پھر مولانا نے اس مقالے کا اختصار ”تذکرۃ المحدثین” (۲:۴۱۲تا ۴۱۷) میں تحریر کیا ہے، راقم نے اس اختصار کا اختصار اپنی کتاب  ”علمی مقدمے” (ص ۹۸،۹۹) میں کر دیا ہے۔

  امام نووی کے بحث کا طریقہ اور شرح کا انداز یہ ہے کہ پہلے وہ زیر بحث ابواب کی روایتوں کے مختلف وجوہ و طرق نقل کر کے ان کے اور متن کے فرق واختلاف کی تصریح، رجال اور روایت پر گفتگو، مشکل اسما و لغات کے ضبط و تحقیق، راویوں کے مختصر حالات اور فن حدیث میں ان کا درجہ و مرتبہ واضح کرتے ہیں اور حدیث کے اہم نکات اور اس سے مستنبط ہونے والے احکام و آداب وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں، جن امور ومسائل میں اہل فن اور ائمہ فقہ و حدیث کا نقطہ نظر مختلف ہوتا ہے ان کے متعلق اختلافات ذکر کر کے دلائل و شواہد سے مختار و مرجح قول و مسلک کی نشان دہی کرتے ہیں۔(۱۰)

  فن حدیث کے علاوہ اس میں اصول و شروح میں حدیث وفقہ، احکام، تفسیر وتاریخ، کلام و عقائد، سیر وتراجم، رجال وانساب، لغت وادب، صرف ونحو، اعراب وامالی اور قرأت وتجوید کے مسائل بھی تحریر کیے گئے ہیں اور ان میں سے ہر فن کی کتابوں کے حوالے دیے گئے ہیں، فنی مباحث سے قطع نظر دوسرے امور و مسائل پر بھی نووی کی بحثیں محققانہ اور پُرمغز ہوتی ہیں۔(۱۱)

الاربعین فی مبانی الاسلام وقواعد الاحکام المعروف بالاربعین النوویہ:

 علما نے مختلف اغراض و مقاصد کے تحت اربعینات مرتب کیے ہیں، بعض نے توحید و صفات الہی کی چالیس حدیثوں کو جمع کیا ہے، بعض نے اصول ومہمات دین کی روایت اکٹھا کی ہیں، بعض نے جہاد کی اور بعض نے زہد و مواعظ اوربعض نے آداب واخلاق اور فضائل اعمال وغیرہ کے متعلق چالیس حدیثیں جمع کی ہیں، امام نووی نے اپنی اربعین میں ان سب امور کا لحاظ رکھا ہے اس لیے ان کا مجموعۂ اربعین ان گونا گوں اغراض و مقاصد کا جامع ہے، نووی کا خود بیان ہے:

وہی أربعون حدیثا، مشتملۃ علی جمیع ذلک، وکل حدیث فیہا قاعدۃ عظیمۃ من قواعد الدین۔(۱۲)

امام نووی نے اپنی اربعین میں صحیح حدیثوں کے جمع کرنے کا التزام کیا ہے، ان کی اکثر روایات صحیح البخاری ومسلم سے ماخوذ ہیں، اختصار کے خیال سے سندیں حذف کر دی ہیں اور چالیس کے بجائے بیالیس حدیثوں پر مشتمل ہے۔ (۱۳)

 امام نووی نے بھی اس کی مختصر شرح لکھی ہے جو اربعین کے بعض اڈیشن میں شامل ہے، نووی کے مجموعہ اربعین کی جامعیت اور اہمیت کے پیش نظر ہر دور میں اس کی شرح وتحشی کا اہتمام کیا گیا ہے، چناں چہ تیس سے زائد اس کی شرح لکھی گئی ہیں، ابن دقیق العید(م ۷۰۲ھ) کی شرح بھی چھپ گئی ہے، حافظ ابن رجب الحنبلی(م ۷۹۵ھ)نے اپنی شرح میں آٹھ حدیثوں کا اضافہ کیا ہے، ’’جامع العلوم والحکم فی شرح خمسین حدیثاً من جوامع الکلم‘‘کے نام سے بارہا چھپی ہے اور ایک اڈیشن دو جلدوں میں محقَّق و مخرَّج ہے، ابن رجب کی شرح علوم حدیث کا گنج گراںمایہ ہے، عصر حاضر کی شرحوں میں ”الوافی” بہت مفید ہے، اس میں جدید طرز نگارش اور منہج تالیف کی رعایت کی گئی ہے، اس کے مولف ڈاکٹر مصطفی دیب البغا اور ڈاکٹر محی الدین مستو ہیں، صالح اللُّحیدان کی بھی ایک شرح ہے۔

حافظ ابن حجر(م۸۵۲ھ) نے اربعین کی تخریج کر دی ہے، متقدمین کی شروح اربعین میں ملا علی قاری (۱۰۴۴ھ) کی دو شرحوں کا ذکر حاجی خلیفہ نے کیا ہے۔(۱۴)

حلیۃ الاابرار وشعائر الااخیار فی تلخیص الدعوات والاذکار المعروف بہ الاذکار :

امام نووی کی مشہور کتابوں میں ہے، یہ ایک جلد میں ساڑھے تین سو سے زیادہ ابواب پر مشتمل ہے، اس میں حدیث کی کتابوں سے شب و روز کے اشغال و اذکار اور دعائیں نقل کی گئی ہیں، ابتدا میں چند اہم اور ضروری فضیلت ہے، ان میں اخلاص عمل اور حسن نیت کی اہمیت کا تذکرہ اور بطور تمہید اذکار کے عام اور مطلق فضائل بیان کیے گئے ہیں، پھر اصل کتاب اور خاتمہ پر استغفار کا بیان ہے، سب سے اخر میں تیس حدیثیں درج ہیں۔(۱۵)

  امام نووی نے احادیث و روایات سے اذکار و ادعیہ نقل کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا ہے، بلکہ ان سے متعلق آیتیں اور متقدمین کے اقوال بھی نقل کیے ہیں۔(۱۶)

نووی کے پیش رو علما کی کتابوں میں جو تکرار و طوالت در آئی تھی نووی نے ان سے احتراز کیا ہے اور اپنی کتاب کو آسان و سہل بنایا ہے نووی کا مقصد تالیف بھی یہی ہے تاکہ اس سے استفادہ آسان ہو۔

اختصار و سہولت کے خیال سے عموما ًسندیں حذف کر دی گئی ہیں اور حدیثوں کے حسن، ضعیف اور منکر ہونے کی نشان دہی کر دی گئی ہے، نیز علم حدیث کے عمدہ مسائل، فقہی مباحث اور اہم اصول و آداب وغیرہ واضح انداز میں لکھے گئے ہیں۔(۱۷)

  اس کی زیادہ حدیثیں صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داود اور ترمذی و نسائی سے ماخوذ ہیں، موطا امام مالک، مسند احمد، سنن ابن ماجہ اور دار قطنی، بیہقی کی حدیثیں بھی کہیں کہیں نقل کی گئی ہیں، ضعیف روایتیں بھی شاذ ونادر آگئی ہیں، مگر ضعف کی تصریح کے ساتھ، اس لیے صحت، وثوق اور اعتبار وغیرہ کی حیثیت سے کتاب الاذکار کا پایہ بلند ہے۔(۱۸)

حافظ ابن حجر نے اپنی مجالس املا میں’’اذکار‘‘ کی حدیثوں کی تخریج کر دی ہے اور اسے اپنی ایک کتاب ”نتائج الافکار فی تخریج احادیث الاذکار” میں جمع کر دیا ہے اور ہر حدیث کا درجہ بتا دیا ہے۔ لیکن ان کی امالی ”باب الاستئذان” ہی تک پہنچ پائی۔ حافظ کا یہ کام ان کی دیگر تصانیف کی طرح بحث وتحقیق اور احاطہ وشمول کی عکاسی کرتا ہے۔

  خلاصۃ الاحکام من مہمات السنن وقواعد الاسلام:

 کاتب چلپی نے ”کشف الظنون” (۱۹) میں کتاب کی نسبت امام نووی کی طرف ذکر کرنے پر ہی اکتفا کیا ہے اور مزید معلومات فراہم کرنے سے خاموش ہیں۔ خلاصۃ الاحکام کا موضوع احادیث احکام جمع کرنا ہے، نووی نے اس میں صحیح اور حسن درجہ کی احادیث سے استدلال کیا ہے، البتہ ہر باب میں ضعیف حدیث کی بھی نشان دہی کر دی ہے تاکہ اس سے استدلال نہ کیا جائے۔

  نووی نے ”خلاصہ” میں جامع ترمذی کی احادیث پر نقد و استدراک کیا ہے جن کی تعداد بیس ہے، ڈاکٹر مصطفی محمد سعید ابراہیم نے اپنے ایک مقالہ ”تعقبات الامام النووی علی الترمذی فی خلاصۃ الاحکام دراسۃ نقدیۃ” میں جمع کر دیا ہے اور ”مجلہ کلیۃ الدراسات الاسلامیۃ والعربیۃ” جامعۃ الازھر مصر کے عدد:۱۰سنہ ۲۰۲۳ء کے شمارے میں شائع کیا ہے، صاحب مقالہ نے بڑی عرق ریزی سے تعقبات نووی کا محاکمہ کیا ہے، دس حدیثوں میں نووی کے تعقبات کی تائید کی ہے اور بقیہ دس میں امام ترمذی کے ہم نوا ہیں، یہ بحث بڑی دلچسپ اور لائق مطالعہ ہے۔

  حسین اسماعیل الجمل نے نووی کے خلاصۃ کی تحقیق اور احادیث کی تخریج کر کے مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت سے۱۹۵۷ء میں اس کا پہلا اڈیشن دو جز میں چھاپا ہے، فاضل محقق نے خلاصہ کی تعریف و توصیف میں اہل علم کے اقوال بھی جمع کر دیے ہیں اور جن مولفین نے اپنی تصانیف میں خلاصۃ سے استفادہ کیا ہے ان کا بھی ذکر کر دیا ہے خاص طور پر حافظ ابن حجر کی’’ فتح الباری‘‘ اور ”التلخیص الحبیر” ،امام زیلعی (م ۷۶۲ھ) کی ”نصب الرایۃ” میں خلاصۃ کے نقول اور نووی کے اقوال اور احادیث پر حکم کی جھلکیاں دکھانے کی سعی بلیغ کی ہے۔

ارشاد طلاب الحقائق الی معرفۃ سنن الخلائق:

 ابن الصلاح الشہرزوری (م ۶۴۳ھ) کی علوم حدیث میں مشہور ومتداول کتاب ’’معرفۃ علوم الحدیث ‘‘ المعروف بہ مقدمہ ابن صلاح” کا خلاصہ ہے۔ ڈاکٹر نورالدین عتر کی تحقیق و تعلیق سے آراستہ اس کا پہلا اڈیشن ۱۹۸۸ء میں اور چوتھا اڈیشن دمشق سے ۲۰۰۲ء میں منظرعام پر آیا۔

التقریب والتیسیر فی معرفۃ سنن البشیر النذیر:

سابق الذکر ”الارشاد” کا اختصار ہے، اس کی افادیت کے پیش نظر حافظ جلال الدین سیوطی نے اس کی گراں قدر شرح تدریب الراوی کے نام سے کی ہے، جو عالم عربی کی یونیورسٹیوں اور ہندوستان کے مدارس میں کافی رائج ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے شعبہ اختصاص فی علوم الحدیث کی نصاب میں داخل ہے،تقریب کی ایک شرح حافظ شمس الدین السخاوی(م۹۰۲ھ) کی بھی ہے عمان(اردن) سے۲۰۰۸ ء میں علی بن احمدا لکندی المرر کی تحقیق سے شائع ہوئی ہے۔

ریاض الصالحین من کلام سید المرسلین:

مجموعہ احادیث میں امام نووی کی شہرہ آفاق کتاب شمار ہوتی ہے، نووی سے قبل اور ان کے بعد زہد و رقاق، تہذیب اخلاق، تزکیہ نفس اوراسلامی آداب کے موضوع پر علمی آثار کا اشاریہ محمدبن جعفر الکتانی(۱۳۴۵ھ) نے ”الرسالۃ المستطرفۃ لبیان مشہور کتب السنۃ المشرفۃ” (ط۔کراچی ۱۹۶۰ء) میں ص۴۳ تا ۵۱ درج کر دیا ہے،راقم کی ”روائع الأعلاق” کے ابتدائیہ میں بھی اخلاقیات پر محدثین کے سرمائے کی ایک فہرست کتب ہے ،کتانی کے اشاریہ میں فضائل اعمال پر لکھی گئی کتابوں کو وہ شہرت اور مقبولیت نہیں ہوئی جو نووی کی ”ریاض الصالحین” کو ملی ،اخلاص و حسن نیت تو سبھی علما کے یہاں پایا جاتا ہے اس سے انکار نہیں، البتہ ریاض الصالحین حسن ترتیب، جودت تألیف، دقت نظر، ہمہ گیریت، حسن انتخاب اور فقہ التراجم ولأبواب وغیرہ میں ممتاز اور بے نظیر انتخاب ہے۔ نووی نے مقدمہ میں اپنی کتاب کی وجہ تالیف و طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔ حاجی خلیفہ نے کشف الظنون (۲۰) میں ریاض الصالحین کا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے:

”وہو مختصر جمعہ من الأحادیث الصحیحۃ مشتملا علی ما یکون طریقاً لصاحبہ إلی الآخرۃ جامعاً للترغیب والترہیب وریاضات النفوس، والتزم فیہ أن لا یذکر إلا حدیثاً صحیحا، وصدّر الأبواب من القرآن ووشَّح ما یحتاج إلی ضبط أو شرح وجعلہ علی مائتی باب وخمس وستین باباً،فرغ منہ یوم الإثنین رابع عشر رمضان سنۃ ۶۷۰ھ‘‘۔

  حدیث نمبر (۶۸۵)تک کتاب کے مشمولات ابواب پر ہیں، حدیث نمبر (۶۸۶)سے آخر تک کتب کے ماتحت ابواب درج ہیں ،کل ابواب کی تعداد (۳۷۳) ہے’’ کشف الظنون ‘‘ (۱:۹۳۶)میں(۲۶۵) مذکور ہے جو درست نہیں،مولانا ابو الحسن علی ندوی کے پیش نظر جو اڈیشن ہے احادیث کی تعداد (۱۹۰۳)ہے،جب کہ تمام متعدد اڈیشنوں میں احادیث کی تعداد (۱۹۰۵) ہے اور یہی تعدادا صحیح ہے۔

  علامہ سید سلیمان ندوی نے زاد سفر (ترجمہ ریاض الصالحین) کے مقدمہ میں(۲۱) ریاض الصالحین کو اعمال و اخلاق کے فضائل میں بہترین کتاب قرار دیا ہے اور اس کی ایک بڑی خوبی یہ بتائی ہے کہ :

اس کے مطالعہ کرنے والے کی قوت عمل میں تحریک ہوتی ہے اور حسنات کے حصول اور سیئات سے احتراز کا شوق بڑھتا ہے‘‘۔

 سید صاحب نے اپنے مقدمہ میں بڑی قیمتی بات فرمائی ہے کہ

صالحین کی تالیف اور مقبولین کی تصنیف کا یہ کھلا ہوا ثمرہ اور بدیہی نتیجہ ہے۔

”کنوز ریاض الصالحین” کے تحقیقی بورڈ نے ”ریاض الصالحین” کے مشمولات کا تجزیہ کر کے اس کے اصل ماخذ کا پہلی بار انکشاف کیا ہے جو مندرجہ ذیل دو کتابیں ہیں۔

۱- الجمع بین  الصحیحین: للحافظ محمد بن فتوح الحمیدی(م۴۸۸ھ)

۲- الترغیب والترھیب: للحافظ عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری (م۶۵۶ھ)

 ۰   شرح ریاض الصالحین :ابن کمال پاشا الرومی(م۹۴۰ھ)

  تحقیق و دراسۃ :محقیقین کی ایک ٹیم نے نور الدین طالب کے زیر نگرزنی تیار کیا ہے حکومت قطر کے ادارہ  برائے اسلامی امور نے ۲۰۱۴ میں ۷جلدوں میںشائع کیا ہے ۔

حاجی خلیفہ کی تحقیق کے مطابق (۲۲) ”ریاض الصالحین” کی شرح علامہ محمد بن علی بن محمد العلان الشافعی (م۱۰۵۷ھ) نے کی ہے جو ”دلیل الفالحین” کے نام سے مشہور متداول ہے اور ریاض الصالحین کی تمام شرحوں کا مأخذ ہے، ابن علان کی شرح چار ضخیم جلدوں میں ۱۹۲۸ء میں منظر عام پر آئی اور عصر حاضر میں اہل علم کی توجہ کا مرکز قرار پائی اور مندرجہ ذیل شروح و حواشی وجود میں ائیں۔

 ۰  نزھۃ المحققین شرح ریاض الصالحین: تالیف ڈاکٹر مصطفی سعید الخن، ڈاکٹر مصطفی البغا، محی الدین مستو، علی الشربجی اور محمد امین لطفی۔

یہ شرح دو جز میں ہے، آیات کی ترقیم اور احادیث کی مختصر تخریج، مفردات حدیث کی لغوی تشریح اور ہر حدیث کے آخر میں مختصر فوائد کا ذکر کرنے کا اہتمام کیا ہے۔

  ۰   منہل الواردین شرح ریاض الصالحین: ڈاکٹر صبحی الصالح (ایک جلد) اس میں حدیث کی لغوی اور ادبی پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔

  ۰   دلیل الراغبین إلی ریاض الصالحین: ڈاکٹر فاروق حمادہ (ایک جلد) اس میں نہایت اختصار کے ساتھ شرح الفاظ آسان اور سلیس زبان میں پیش کیا گیا ہے عام مطالعہ کرنے والوں کے لیے بہت مفید ہیں۔

  ۰  بہجۃ الناظرین شرح ریاض الصالحین: سلیم بن عید الہلالی تین جلدوں میں ہے اور مفید شروح میں اس کا شمار ہوتا ہے، اس میں نص حدیث کی تحقیق و توثیق اس کے مظان سے کی گئی ہے، غریب الفاظ کی شرح اور فقہ الحدیث کا مختصر ذکر اور فوائد حدیث کے ذکر کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

 ۰  شرح ریاض صالحین: ڈاکٹر الحسینی عبدالمجید ہاشم کی شرح  وتحقیق کے ساتھ مفردات حدیث کے معنی و مطالب اور ہر حدیث سے مستنبط فوائد بتائے گئے ہیں۔

 ۰  شرح ریاض الصالحین من کلام سید المرسلین: علامہ محمد بن صالح العثیمین کی ناقص شرح ہے، موصوف نے اس کی شرح املا کرانی شروع کی تھی لیکن نا تمام رہی ،اہل علم کی ایک ٹیم نے ریاض الصالحین کی احادیث کی تحقیق و تخریج کی ہے اور یہ ریاض الصالحین کی عمدہ شرحوں میں شمار ہوتی ہے اور جن احادیث کی شرح کی ہے اس میں سیر حاصل گفتگو کی ہے اور بہت سے علمی گوشوں کو زیر بحث لائے ہیں۔

  ۰  تطریز ریاض الصالحین: فیصل بن عبدالعزیز آل مبارک، شارح نے ہر حدیث کے اجمالی فوائد کے ذکر کرنے کا التزام کیا ہے۔

  • ریاض الصالحین کا ایک اڈیشن علامہ محمد ناصر الدین البانی کے تحقیق و تخریج احادیث سے شائع ہوا ہے،علامہ البانی کی تحقیق کے مطابق ۶۵ حدیثیں ضعیف قرار پائی ہیں، مکررات کو حذف کردیا جائے اور جن احادیث پر ضعف کے حکم سے شیخ البانی نے رجوع کیا ہے تو اب ان کی تعداد ۵۵ رہ جاتی ہے اور شیخ سلیم الہلالی کی تحقیق کے مطابق ضعیف احادیث کی تعداد ۵۵ ہی ہے، البتہ شعیب الأرناؤوط کے نزدیک ریاض الصالحین میں ضعیف حدیث کی تعداد ۴۶ ہے، علامہ البانی نے اپنے مقدمے میں امام نووی کی تصحیح احادیث کے طریقہ کار پر فنی گفتگو کی ہے جو لائق مطالعہ ہے۔

۰   ریاض الصالحین کا ایک اور اڈیشن محمد النحاس کا تحقیق کردہ ہے ،جو دار الفجرللتراث  ، قاہرہ سے ۲۰۱۶ء میں شائع ہوا ہے ،محقق نے تخریج و تصحیح احادیث میں علامہ البانی کے اڈیشن کی پیروی کی ہے ۔

بہرحال! ریاض الصالحین کی ضعیف احادیث کی تعداد خواہ ۵۵ قرار دی جائے یا ۶۴ کتاب کی قدر و قیمت اس سے متاثر نہیں ہوتی۔

  ۰  ریاض الصالحین کی ایک شرح محمد علی الصابونی کی ہے۔

 ۰  ریاض الصالحین کا ایک اڈیشن موسسۃ المختار قاہرہ سے ۲۰۰۲ ء (طبع سوم) میں ڈاکٹر السید الجمیلی کی تقدیم و شرح اور تعلیق سے آراستہ منظر عام پر آیا ہے ۔

  ۰  کنوز ریاض الصالحین: سواہل علم کی ٹیم نے اس حدیثی پروجیکٹ کو انجام دیا ہے جو ۲۲ جلدوں پر مشتمل ہے اور ان مجلدات کے صفحات کی تعداد تیرہ ہزار (۱۳۰۰۰) ہے اور اس کی شرح میں مصادر و مراجع کی تعداد ۱۰۰ ہے اور اس ٹیم میں مندرجہ ذیل ممالک کے اہل علم شامل ہیں:مملکت سعودی عرب، مصر، فلسطین، العراق، الاردن، الیمن، انڈونیشیا، بورکینیا فاسو، لیبریا، یوغنڈا، ایتھوپیا، افغانستان، ہندوستان اور سوڈان۔

  باحثین کی ٹیم میں راقم کے مدینہ یونیورسٹی میں ایک ہم سبق ڈاکٹر حکمت بشیر یاسین (پروفیسر مدینہ یونیورسٹی) بھی شریک ہیں۔زادہ اللہ شرفاً و توفیقاً لخدمۃ الحدیث۔

شرح حدیث میں حسب ذیل طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔

۱-المحور العقدی     ۲- المحور الحدیثی          ۳- المحور الفقہی

 ۴- المحور الادبی     ۵- المحور التربوی           ۶ – المحور الدعوی

ہر حدیث کی شرح میں ان امور کا لحاظ کیا گیا ہے:

   ۱  – راوی الحدیث کا بھرپور تعارف۔

 ۲- مشکل و نادر الفاظ کی شرح۔

۳- حدیث کے ادبی پہلو کی وضاحت۔

۴- دعوتی اور تربیتی گوشوں کا استنباط۔

۵- حدیث سے مستنبط احکام و فوائد وغیرہ کی نشان دہی۔

  اس حدیثی پروجیکٹ کے عمومی نگراں: پروفیسر ڈاکٹر حمد بن ناصر بن عبدالرحمن العمار ہیں۔

پیش لفظ کے کلمات: ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید، ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی، ڈاکٹر ابراہیم بن عبداللہ العید اور ڈاکٹر محمد سعید طنطاوی (شیخ الازہر) شامل ہیں۔

مقدمہ: پروفیسر ڈاکٹر حمد بن ناصر بن عبدالرحمن العمار کا تحریر کردہ ہے،یہ پروجیکٹ ۱۴۳۰ھ مطابق ۲۰۰۹ء میں دار کنوز اشبیلیا للنشر والتوزیع (ریاض، سعودی عرب) سے بائیس جلدوں میں منظر عام پر آیا،یہ موسوعی پروجیکٹ آل سعود کے ایک فرد عزت مآب بندر بن عبدالعزیز کے مالی تعاون سے شائع ہوا،جزاہ اللہ خیراً۔

  ریاض الصالحین کاایک اڈیشن ڈاکٹر عبد المعطی قلعجی کا تیار کردہ ہے شہزادہ ولید بن طلال آل سعود کے تعاون سے دار عالم الکتب ریاض  نے ۱۹۹۷ٗ میں شائع کیا ہے۔

  ڈاکٹر قلعجی نے احادیث کی تخریج،نصوص کو ضبط اور غریب الفاظ کی تشریح کی ہے۔

  ریاض الصالحین :کاانگریزی ترجمہ s.m.madni Abbasi  نے کیا ہے الدار العلمیۃ ریاض سے دو جلدوں میں عربی متن کے ساتھ شائع ہوا ہے۔

ریاض الصالحین کے اردو ترجمے اور شروح ایک نظر میں:

ٌٌٌٌریاض الصالحین کا پہلا اردو ترجمہ کس نے کیا؟اس سوال کا جواب دو اہل قلم ایک مولاناابوالحسن علی ندوی  ؒ (م: ۱۹۹۹ء) اور دوسرے برصغیر کی علمی و ثقافتی تاریخ کے ماہر محمد اسحاق بھٹی(م۲۰۱۵ء) کی تحریر میں ملتا ہے۔

 مولانا ابو الحسن علی ندوی اپنی بہن امۃ اللہ تسنیم(م۱۳۹۶ھ) کے ترجمہ زاد سفر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ

زاد سفر کا پہلا اڈیشن ۱۹۴۵ء کے وسط میں نکلا،(۲۳) اس وقت تک اس کا (ریاض الصالحین) اردو ترجمہ نہیںہوا تھا ۔(۲۴)

  علامہ محمد اسحاق بھٹی لکھتے ہیں:

 حضرت سید عبداللہ غزنوی کے حکم سے پہلی دفعہ لاہور سے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب ریاض الصالحین شائع ہوئی اور اس کا اردو ترجمہ حضرت ممدوح کے ایک ارادت مند عالم دین مولوی احمد الدین کوموی نے کیا ہے جو موضع کوم کلاں (ضلع لدھیانہ، مشرقی پنجاب )کے رہنے والے تھے اور یہ اس کتاب کا پہلا اردو ترجمہ ہے۔(۲۵)

اور یہی درست ہے۔

  مولانا احمد الدین کا ترجمہ اسلامیہ اسٹیم پریس لاہور سے بہ اہتمام شیخ الہی بخش اور محمد جلال دوبارہ شائع ہوا، لیکن ان اڈیشنوں پر سنہ طباعت درج نہیں ہے اور اس ترجمہ کا نام ”ریاحین العابدین” ہے،  مترجم کے قلم سے حدیث کے فوائد بھی درج ہیں اور مولانا عبدالأول غزنوی(م۱۳۳۱ھ) کا مختصر مفید حاشیہ بھی ہے۔ایک تیسرا اڈیشن بہ اہتمام ابو ادریس عبدالغفور غزنوی(م۱۹۳۵ء) مکتبہ فاروقی سے شائع ہوا اور تاریخ طباعت اس اڈیشن پر بھی نہیں ہے، اس اڈیشن پر کہیں کہیں نہایت مختصر حواشی بقلم ابو ادریس عبدالغفور غزنوی موجود ہیں، بظاہر مولانا محمد مستقیم سلفی کو اشتباہ ہوا اور انہوں نے اپنی کتاب ”جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات”(مطبوعہ ۱۹۹۲)صفحہ ۷۳ پر ”ریاض الصالحین” کے مترجم و محشی نسخہ کی نسبت عبدالغفور غزنوی کی طرف کر دی ہے، یہ تینوںاڈیشن کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی ندوۃ العلماء لکھنؤ میں موجود ہیں۔

  ذیل میں ریاض الصالحین کے اردو ترجمے اور شروح وحواشی پیش ہیں۔

 ۰  زاد سفر (دو حصے)ترجمہ نگار: امۃ اللہ تسنیم بنت سید عبدالحی حسنی (ولادت: ۱۸ جون ۱۹۰۸ء وفات:۲۸ جنوری ۱۹۷۶ء)۔ ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنی (م۱۹۶۱ء) نے اپنی ہمشیرہ امۃ اللہ تسنیم کو مشورہ دیا کہ مشہور محدث امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور اور سراپا برکت کتاب ریاض الصالحین کو اردو میں منتقل کریں، یہ کتاب ڈاکٹر صاحب کو بہت عزیز تھی اور انہیں کی تحریک سے وہ پہلی مرتبہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے نصاب میں شامل کی گئی اور اب وہ بلاد عربیہ کے دینی و دعوتی حلقوں کی بڑی مقبول ترین کتاب ہے، اس وقت تک اس کا اردو ترجمہ نہیں ہوا تھا لیکن کام آسان نہ تھا اصل کتاب متوسط سائز کے باریک مصری ٹائپ میں ساڑھے چار سو صفحات سے زیادہ میں آتی ہے۔ اس میں احادیث کی تعداد ایک ہزار نو سو تین (۱۹۰۳) ہے، جس میں سے وہ احادیث بھی ہیں جن کی شرح میں بڑے بڑے مشکل مقامات آتے ہیں اور چوٹی کے علما نے اس کی تشریح میں درجنوں اور بیسوں صفحات رنگین کیے ہیں۔(۲۶)اللہ نے ان کو ہمت دی اور انہوں نے ”زاد سفر” کے نام سے اس کا ترجمہ ذیلی اور تشریحی نوٹس کے ساتھ مکمل کر لیا، یہ ترجمہ جس کا چوتھا اڈیشن دو حصوں اور آٹھ سو صفحات میں آیا ہے۔(۲۷)

 مولانا شاہ حلیم عطا (م۱۹۵۵ء) نے اس مسودے پر نظر ثانی کی اور مفید مشورے دیے اور فاضل یگانہ اور محقق زمانہ مولانا سید سلیمان ندوی نے اس پر مقدمہ لکھا، انہوں نے اپنے مقدمہ میں تحریر فرمایا ہے:

مترجمہ موصوفہ نے ترجمہ میں زبان کی سلاست اور روانی کا لحاظ رکھا ہے، جگہ جگہ حاشیہ بڑھائے ہیں اور حدیث کا عنوان قائم کیا ہے جن سے حدیث کے مغز سخن تک پہنچنے میں ناظرین کتاب کو بڑی آسانی ہو جاتی ہے۔(۲۸)

”زاد سفر کا پہلا اڈیشن ۱۹۴۵ء کے وسط میں نکلا،….. شاید وہ پہلی ہندوستانی خاتون ہیں جن کی تصنیف جدہ کے سعودی ریڈیو اسٹیشن سے بالاقساط اردو کے پروگراموں میں نشر ہوئی اور رابطہ عالم اسلامی نے اس کے کئی سو نسخے خرید کر اردو بولنے اور سمجھنے والے ملکوں میں بھیج(۲۹)

اس کتاب کے پہلے حصہ کا ہندی اڈیشن بھی شائع ہو گیا ہے یہ اڈیشن لکھنو کے ایک ہندو فاضل جناب نند کمار اوستھی نے خود شائع کیا ہے جن کا ہندی میں ترجمہ قرآن عرصہ ہوا چھپ کر پھیل گیا ہے۔(۳۰)

مولانا احمد الدین اور محترمہ امۃ اللہ تسنیم کے بعد جن علماے کرام نے ریاض الصالحین کے اردو ترجمہ وتشریح اور ذکر فوائد کی طرف توجہ کی ان کے اسماے گرامی یہ ہیں:

  • مترجم: ابو حمزہ مفتی ظفر جبار چشتی ،شارح ‘ مولانا ناصر حسین قادری عطاری۔
  • مترجم: مولانا محمد صادق خلیل ،ناشر: نعمانی کتب خانہ لاہور۔
  • رفیق السالکین فی شرح ریاض الصالحین ،مترجم: علامہ محمد اقبال قادری،شارح: ابو أحمد محمد مقیم قادری رضوی ، ناشر: اکبر بک سیلز۔
  • خیر الصالحین اردو شرح ریاض الصالحین ،تالیف: مولانا محمد ادریس میرٹھی
  • ریاض الصالحین عربی – اردو ،ترجمہ وفوائد: مولانا عابد الرحمن صدیقی
  • ایک ترجمہ: ابو العلاء محمد محی الدین جہانگر
  • دلیل الفالحین شرح اردو ریاض الصالحین ،تالیف: مولانا شمس الدین
  • ریاض الصالحین عربی اردو مختصر شرح وحل لغات ،تالیف: مولانا خلیل الرحمن نعمانی۔
  • نزہۃ المحققین اردو شرح ریاض الصالحین ،ترجمہ وفوائد: مولانا شمس الدین ،نظر ثانی: حافظ محبوب احمد خان۔
  • ریاض الصالحین ترجمہ وشرح (دو حصے)،بقلم: محمد اسحاق بھٹی ۔

۰ ریاض الصالحین: ترجمہ وفوائد تحقیق و تخریج ،تحریر کردہ: حافظ صلاح الدین یوسف۔

شائع کردہ: دارالسلام (ریاض) مکتبہ فہیم مئو نے بھی چھاپ دیا ہے۔

  حافظ صلاح الدین یوسف نے ترجمہ کے ساتھ مختصر تشریح اور فوائد کا ذکر کرنے کا التزام کیا ہے، اور تخریج کے عنوان سے ہر حدیث کا مکمل حوالہ نقل کر دیا ہے اور سنن اربعہ موطا امام مالک، مستدرک للحاکم اور بیہقی وغیرہ کی جو ضعیف روایات ریاض الصالحین میں آگئی ہیں ان کے ضعف کو واضح کر دیا ہے اور اس میں زیادہ تر اعتماد شیخ البانی کی تحقیق پر کیا ہے۔ سابقہ

 ترجمہ کے مقابلے میں حافظ صلاح الدین نے اپنے ترجمے کو زیادہ معیاری اور بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، فاضل مترجم نے اپنی شرح اور فوائد میں ”دلیل الفالحین” ”نزہۃ المحققین” ”فتح الباری” کے علاوہ اور بھی متعدد کتب اور شروحات سے استفادہ کیا ہے، حافظ صلاح الدین کے اس ترجمہ اور فوائد کے محرک اور ناشر جناب عبدالمالک مجاہد مدیر مکتبہ دارالسلام (ریاض) کی ذات گرامی ہے اور ترجمہ وفوائد پر نظر ثانی کا فریضہ حافظ عبدالسلام بھٹوی نے انجام دیا ہے۔ فلہم الشکر الجزیل۔

  ’’ رواۃریاض الصالحین‘‘      :

عبد الرحمن ملی ندوی نے شروح ریاض الصالحین اور تراجم کی کتابوں سے استفادہ کرکے ۲۲۱رواۃکا مختصر تعارف کرایا ہے ،۱۰۴، صفحات پر مشتمل کتاب ۲۰۱۳ء میں اکل کوا مہاراشٹر سے شائع ہوئی ہے اور اپنے موضوع پر منفردہے، اس کے عربی اڈیشن کی افادیت عالم گیر ہوگی ۔

٭٭٭

حوالہ جات:

(۱) طبقات الشافعیہ: ۵: ۱۶۸ ط. دارالمعارف، بیروت۔

(۲) مرآۃ الحنان:۴: ۱۸۵ دائرۃ المعارف العثمانیۃ ۱۳۳۹ھ۔

(۳) ۱: ۹۲۹ تا ۹۳۰۔                

(۴) ۲: ۱۸۷۳ تا ۱۸۷۶۔

(۵)   البدایۃ و النہایہ              

(۶) تحفۃ الطالبین کی تراجم الامام محی الدین ص: ۶۴۔

(۷) تذکرۃ المحدثین ۲: ۳۸۹۔            

  (۸) مقدمہ شرح صحیح مسلم۔

(۹) تذکرۃ المحدثین ۲: ۴۳۶۔             

 (۱۰) مصدر سابق۲: ۴۳۸۔

(۱۱) ایضا: ۴۳۹۔              

 (۱۲) مقدمہ اربعین۔

(۱۳) تذکرۃ المحدثین۲:۴۲۹ ۔

  (۱۴) کشف الظنون ۱: ۶۰۔

(۱۵) تذکرۃ المحدثین ۲: ۴۲۹۔           

  (۱۶) مصدر سابق۔

(۱۷) مصدر سابق۲: ۴۳۲۔                

(۱۸) ایضا ۔

(۱۹) کشف الظنون ۱: ۷۱۷۔

(۲۰) کشف الظنون ۱: ۹۳۶۔

(۲۱) ص ۴ ۔

(۲۲) کشف الظنون ۱: ۹۳۶۔

(۲۳) پرانے چراغ ۲: ۳۱۲۔

(۲۴) مصدر سابق ۲: ۳۱۱۔

(۲۵) گلستان حدیث ص ۱۲۸۔            

 (۲۶) پرانے چراغ ۲: ۳۱۰-۳۱۱۔

(۲۷) مصدر سابق ۲: ۳۱۱۔                

(۲۸) مقدمہ زاد سفر۔

(۲۹) پرانے چراغ ۲: ۳۱۲ ۔

 (۳۰) مصدر سابق۔

Tags

Share this post: