اکیسویں صدی میں مغربی استشراقی مطالعات

اکیسویں صدی میں مغربی استشراقی مطالعات

ایک تنقیدی جائزہ

                                                                                   ڈاکٹر محمد فہیم اخترندوی

                                                                   پروفیسر اسلامک اسٹڈیز، مانو، حیدر آباد

۱۔استشراق کا منظر نامہ

تاریخ استشراق کو جن اہل علم نے پانچ ادوار میں تقسیم کیا ہے ان کی رُو سے استشراق کا پانچواں مرحلہ بیسویں صدی کے آخری دہے سے شروع ہوتا ہے جو ابھی جاری ہے۔یہ دور دنیا کے یک قطبی نظام کا ہے ، اور اس میں امریکہ بنیادی طور پر استشراق کا مرکز ہے۔(Samuel P. Huntington 1927-2008) کے نظریہ’ تہذیبوں کے تصادم‘ کے بعد اب’ اسلامی خطرہ‘ یا ’اسلاموفوبیا‘ مرکزی حیثیت میں ہے۔ اس دور میں استشراق کے اسالیب میں گراوٹ آئی ہوئی ہے، چنانچہ سطحیت، اشتعال انگیزی، کذب وافتراء، اور اہانت آمیزی اب اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ اس دور میں پروپیگنڈہ کا زور ہے، اور اسلام مخالف کتابوں اور مقالات کی بہتات آئی ہوئی ہے۔(۱)         

تاریخ استشراق کے مطابق مغربی ممالک میں اسلام کا مطالعہ اٹھارویں صدی سے با ضابطہ طور پر شروع ہوا ، اور استعمار کے ساتھ اس میں مضبوطی آتی گئی۔ پھر یکے بعد دیگرے ایسے ادارے قائم کئے گئے جہاں اسلام کے عقیدہ وشریعت، تاریخ ومصادر اور اسلامی علوم پر مطالعہ کا اہتمام کیا گیا۔ علمی حلقوں میں مغرب کے اسلامی مطالعات کو استشراق کے نام سے جانا گیا، اور استشراقی مطالعات کا ایک وسیع اور ہمہ گیر ذخیرہ تیار ہوا۔ یورپ کے مختلف ملکوں بالخصوص برطانیہ، فرانس، جرمنی ، ہالینڈ، اور امریکہ وغیرہ میں بڑے بڑے مستشرقین پیدا ہوئے اور یورپ کی مختلف زبانوں خصوصیت کے ساتھ جرمن، فرنچ اور انگریزی میں اسلامی مصادر پر وسیع علمی لائبریری تیار ہوئی۔

۲۔  استشراقی کاموں کا جائزہ

 مغرب کے اسلامی مطالعات یا استشراقی مطالعات کے نتائج جب سامنے آئے تو اندازہ ہوا کہ اس کے کچھ مثبت پہلوؤں کے ساتھ بہت زیادہ منفی نتائج ہیں۔ چنانچہ مسلم دنیا میں اس کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ان کا علمی اور تحقیقی جائزہ لیا جائے، اور اس طرح استشراقی مطالعات کے علمی جائزہ کے لئے وسیع پیمانہ پر کام کیا جانے لگا۔ یہ کام مسلم دنیا یعنی عالم عرب اور عالم اسلام میں انجام دیا گیا، اور خود مغرب میں بیٹھ کر بھی کچھ اہل علم نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔ اس طرح بحمد اللہ استشراقی مطالعات کے تنقیدی جائزہ پر مشتمل وقیع علمی ذخیرہ تیار ہوا اور وہ دنیا کی مختلف زبانوں میںدستیاب کیا گیا۔

اس اہم علمی فریضہ کی انجام دہی کے ضمن میں حضرت مولانا علی میاں ندوی کے زیر اہتمام دار المصنفین اعظم گڑھ کے اندر فروری  1982 میں منعقد ہونے والا ’ اسلام اور مستشرقین ‘ سمینار بہت اہمیت کا حامل ہے جس کی روداد اور مقالات ’اسلام اور مستشرقین‘ کے نام سے سات جلدوں میں دار المصنفین اعظم گڑھ سے طبع ہوئے ہیں۔ دیگر کاموں میں مولانا علی میاں ندوی کی کتاب ’ اسلامیات اور مغربی مستشرقین ومسلمان مصنفین‘ مطبوعہ مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ 1982 ، ڈاکٹر مصطفی السباعی(المستشرقون ما لہم وما علیہم، اور السنۃ ومکانتہا فی التشریع الاسلامی)، ڈاکٹر مصطفی الاعظمی(دراسات فی الحدیث النبوی و تدوینہ)، ڈاکٹر مہر علی(The Qurna and the Orientalists: An Examination of their main theories and Assumptions)، ڈاکٹر محمد حسین صغیر (المستشرقون والدراسات القرآنیۃ)، ڈاکٹر محمد دسوقی (الاستشراق والفقہ الاسلامی)، ڈاکٹر عجیل جاسم النشمی(المستشرقون ومصادر التشریع الاسلامی)، ڈاکٹر عماد الدین خلیل (المستشرقون والسیرۃ النبویۃ)، ڈاکٹر محمد بہاء الدین (المستشرقون والحدیث النبوي)، ڈاکٹر ابراہیم عوض(المستشرقون والقرآن)، ڈاکٹر حسن بن ادریس (دراسات فی الاستشراق ومناہجہ)، ڈاکٹر سعد مرصفی (المستشرقون والسنۃ)، ڈاکٹر عبد العظیم الدیب (المستشرقون والتراث)، ڈاکٹر محمد البہی (المبشرون والمستشرقون)، انجنئیر زکریا ہاشم (المستشرقون والاسلام)، ڈاکٹر عبد الرحمن بداوی (موسوعۃ المستشرقین)، اور ڈاکٹر نجیب عقیقی (المستشرقون) وغیرہ کتابیں اہمیت کی حامل ہیں۔ اردو تحریروں میں علامہ شبلی (سیرت النبی) پیر کرم شاہ ازہری (ضیاء النبیؐ)، ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی (قرآن کریم کے انگریزی ترجموں کا تنقیدی مطالعہ)، پروفیسر عبد الرحیم قدوائی (اسلام اہل مغرب کی نظر میں)، ڈاکٹر زبیر احمد (اسلام اور مستشرقین)، اور پروفیسر علیم اشرف جائسی (تفہیم استشراق) جیسے متعدد کام قابل ذکر ہیں۔

 استشراقی مطالعات کے جائزہ سے یہ بات ثابت ہوتی گئی کہ مستشرقین کی علمی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ منفی کاموں پر مشتمل ہے، اور انھوں نے بد نیتی کے ساتھ، اور علمی خیانت کرتے ہوئے اسلام کے بارے میں جھوٹ پھیلایا ہے، اسلامی مصادر کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، اسلام کی نمائندہ شخصیات بلکہ آگے بڑھ کر خود صاحب رسالت مآب حضور احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر جھوٹے الزامات لگائے اور بہتان طرازیاں کی ہیں۔ مسلم اہل علم اور مصنفین نے مستشرقین کی ان بہتان طرازیوں، علمی خیانتوں، بد نیتی کی خباثتوں اور اسلام دشمنیوں کا پورے ثبوتوں اور دلائل کے ساتھ پردہ فاش کردیا، اور ان کے غلط اعتراضات کے مدلل جوابات فراہم کر دیئے ‘ کہ اس کے بعد اب کسی بھی حق پسند اور انصاف آراستہ شخص سے حق وصداقت مخفی نہیں رہ گئی ہے۔

معروف محقق ڈاکٹر عبد القدوس ہاشمی نے درست لکھا ہے کہ:

 ’’یورپ کے طالبان علم کا تعلق اور عیسائی ویہودی پیشوایان مذہب کی اسلام کے خلاف علم فلسفہ اور تحقیقات کے نام سے مساعی بالکل ابتدائی دور اسلامی ہی سے جاری تھیں اور آج تک جاری ہیں۔ البتہ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کے طریقے بدلتے رہے، مقاصد میں اگرچہ کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ہوئی، لیکن کلیسا کا زور ٹوٹنے کے بعد سے کچھ ایسے مستشرقین ضرور پیدا ہوئے جنہوں نے جرأت کے ساتھ اپنے ہی اساتذہ کی پھیلائی ہوئی بہت سی باتوں کو غلط قرار دیا اور پوری قوت کے ساتھ ان کی تردید کی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس تردید سے ان کا مقصد سچ کو سچ کر کے دکھانا تھا یا خود اپنی طرف سے پیدا کئے ہوئے شکوک کو قابل قبول قرار دینا تھا۔ اس لئے کہ ان کی تردید کرنے والوں میں سے اکثر نے جہاں اپنے پیش رو کے کذب وافترا کی پوری قوت کے ساتھ تردید فرمائی ہے، وہاں اپنی طرف سے کچھ نہ کچھ نئے شبہات بھی پیدا کر دیئے ہیں، اور اتنی معصومیت کے ساتھ دبی زبان میں کوئی نہ کوئی بات کہہ گئے ہیں کہ پڑھنے والوں کو ان کی نیت پر کوئی شبہ بھی پیدا نہ ہو سکے۔‘‘ (۲)

اسی مضمون میں وہ آگے لکھتے ہیں:

’’اب تحریروں کے انداز اور مستشرقین کے تحقیقات اسلامی کا طریقہ کسی نہ کسی قدر بدلا ہوا نظر آتا ہے، اگرچہ اب بھی مقاصد میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں دکھائی دیتی ہے۔ پادری زویر کی تحقیقات اسلامی اور ڈاکٹر کینٹویل اسمتھ کی تحقیقات میں مقاصد کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ملتا۔ دونوں کی تحقیقات کو دیکھ لیجئے، مقصد وہی استعماریت کی تائید اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی سعی ہے۔‘‘ (۳)

گذشتہ صدی کی آخری دہائیوں میں حضرت مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمہ نے بھی مستشرقین کے کاموں کا منصفانہ علمی جائزہ لینے کے بعد یہی بات کہی تھی ، وہ لکھتے ہیں:

’’افسوس کی بات ہے کہ ہم بہت سے مستشرقین کو یہی کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنی ساری کد وکاوش تاریخ اسلام، اسلامی معاشرہ، تہذیب وتمدن اور ادب وثقافت میں جھول اور کمزوریوں کی تلاش ونشاندہی میں صرف کرتے ہیں۔ پھر ہولناک اور ڈرامائی انداز میں ان کو پیش کرتے ہیں۔ وہ خوردبین سے ان کا پتہ لگا کر اپنے قارئین کے سامنے ذرہ کو پہاڑ اور قطرہ کو دریا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کی ذہانت وطباعی کا پورا مظاہرہ چہرہ اسلام کو بد نما دکھانے میں ہوتا ہے، اور اس طرح اسلامی ممالک کے زعماء وقائدین کے ‘جنھوں نے یورپ کی بڑی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی، یا اسلام کا مطالعہ یورپین زبانوں میں کیا ہے‘ دل ودماغ میں اسلام اور اسلامی قانون وتہذیب کے سرچشموں کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں، اور اسلام کے مستقبل سے نا امیدی، حال سے بیزاری اور ماضی سے بد گمانی اس طرح پیدا کر دیتے ہیں کہ ان کا سارا جوش وخروش دین کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے (Modernision) اور اسلامی قانون میں اصلاح وترمیم کی مہم چلانے میں منحصر ہو کر رہ جاتا ہے‘‘۔  (۴)

مستشرقین کی یہی غیر علمی روش اور بد دیانتانہ منہج ہے جس کی وجہ سے وہ خود آپس میں ایک دوسرے سے کافی اختلاف رائے کرتے ہیں، اور شاید ہی کسی اسلام مخالف اور منفی بات پر وہ سب باہم متفق ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر مصطفی سباعی نے فرانسیسی مستشرق ناصر الدین دینیہ کا یہ تجزیہ نقل کیا ہے کہ :

 ’’تمام مستشرقین آپس میں بے حد متضاد ہیں اور کسی ایک نتیجہ پر متفق نہیں ہیں۔‘‘  (۵)

۳۔  اکیسویں صدی کے مغربی مستشرقین

حقیقت یہ ہے کہ استشراق نے اپنا جو راستہ منتخب کیا تھا، اکیسویں صدی میں داخل ہونے کے بعد بھی اس راستہ کے بنیادی سفر میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یوں تو رواں صدی کے آغاز میں امریکہ میں پیش آنے والے نائن الیون حادثہ کے بعد اسلام کے مطالعہ کا رجحان بہت زیادہ  بڑھا ہے، اور اس کے نتیجہ میں اسلام قبول کرنے کے رجحانات میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اکیسویں صدی میں مغرب اسلام سے زیادہ خوفزدہ ہے اور اسلاموفوبیا کے مظاہر میں زیادہ شدت آئی ہے۔

مغرب میں 9/11 کے بعد اسلامی موضوعات پر تصنیفات اور تالیفات کی باڑھ سی آ ئی ہوئی ہے،اور اسلامی موضوعات کی کتابیں سب سے زیادہ فروخت ہو رہی ہیں۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ نئی نئی کتابیں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق کسی موضوع پر منظر عام پر آتی ہیں ۔ ان تصنیفات میں ایک بڑا حصہ اسلام کے بنیادی مصادر کے موضوعات پر ہوتا ہے؛ چنانچہ قرآن وتفسیر قرآن، حدیث نبوی وسنت، سیرت نبوی اور اسلامی تاریخ کے موضوعات کو زیادہ مرکز توجہ بنایا جاتا ہے، اسلامی تصوف اور اسلامی تحریکات کے موضوعات پر بھی تصنیفات کثرت سے تیار کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ امر واقعی حیرتناک اور افسوسناک ہے کہ ان موضوعات پر طبع ہونے والی مغربی مصنفین کی بیشتر کتابیں اور بالخصوص تفسیر وحدیث اور سیرت نبوی پر کتابیں انتہائی اشتعال انگیز، جانبدارانہ اور منفی ذہنیت کی حامل ہیں(۶)۔

 اس سے واضح ہوتا ہے کہ استشراق کے اسلام مخالف مقصد میں اب بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس دور کے نمایاں مستشرقین اور اسلامی موضوعات پر لکھنے والے مغربی مصنفین کی تحریروں میں اسلام پر وہی بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں اور وہی اعتراضات دہرائے جا رہے ہیں جو ان کے سابقین نے پیش کئے تھے اور جن کے مدلل جوابات مسلم مصنفین نے پیش کردیئے تھے۔ اس سے زیادہ افسوسناک ان مستشرقین کا یہ غیر علمی منہج ہے کہ اکیسویں صدی کے ان مغربی اسکالرز نے اپنے پیش نظر انہی کتابوں کو رکھا ہے‘ جو ان کے پیشروؤں نے اسلام پر تیار کر رکھی ہیں اور جو غلط بیانیوں، غلط فہمیوں اور بہتان طرازیوں سے بھری ہیں اور جن کی غلطیاں اور افتراپردازیاں پوری طرح واضح ہو چکی ہیں۔ علمی دیانت اور تحقیقی منہج کا لازمی تقاضا تھا کہ جدید دور کے مصنفین اسلامی موضوعات پر لکھنے سے پہلے اسلام کے اصل مصادر اور معتبر ومستند مراجع کا مطالعہ کرتے ، نیز اپنے پیشرو مصنفین کی غلطیوں سے اجتناب کرتے؛ لیکن تحقیق کے ان دونوں تقاضوں کا خون کرتے ہوئے جدید مستشرقین نے بھی استشراق کی قدیم معاندانہ روش کو برقرار رکھا ہے۔

اکیسویں صدی میں مغرب میں اسلام کے بنیادی مصادر پر تصنیفات کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام کی اولین بنیاد یعنی قرآن کریم کے حوالے سے اکیسویں صدی کے مستشرقین کا غالب رجحان وہی معاندانہ اور استہزائی ہے۔ متعدد مستشرقین نے قرآن کی بابت وہی قدیم اعتراضات، باطل خیالات اور اسلام دشمن تصورات کو پیش کیا ہے۔

دراصل بیسویں صدی کے آخر میں مستشرقین کا ایک نیا مکتب فکر وجود میں آیا تھا، یہ مکتب فکر’ ترمیم پسند دانشور‘  ( Revisionist School of Thought   )  کے نام سے مشہور ہوا تھا۔ مستشرقین کے کاموں پر گہری نظر رکھنے والے معاصر محقق پروفیسر عبد الرحیم قدوائی نے اس مکتب فکر کے نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ مکتب فکر مسلم مآخذ اور مصادر کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا ہے ، بلکہ ان کو درکنار کرتا ہے۔ اس مکتب فکر کے فضلاء کے نزدیک مسلم مآخذ کے مصنفین مشکوک اور غیر معتبر ہیں، قرآن اور احادیث بھی غیر مستند ہیں، ان کے نزدیک اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ توحید کے اصل اصول پر ایک مذہبی تحریک برپا ہوئی تھی جس میں یہودی اور مسلمان برابر کے شریک تھے، لیکن اموی سلطنت کے دور میں اس تحریک کو صرف مسلمانوں اور عربوں سے منسوب اور محدود کر دیا گیا، اور اس مقصد کے حصول کے لئے اسلام، قرآن مجید، رسول اکرمؐ اور احادیث کے افسانے محض تخیل کی بنیاد پر تراشے گئے، اسلام کے ابتدائی دور میں توریت اور انجیل سے استفادہ بلکہ ان پر انحصار عام تھا، اسلام کے فروغ میں یہودی پیش پیش تھے، ان کو صادق مومنین کا درجہ حاصل تھا، یہود مخالف آیات قرآنی، احادیث بنو قریظہ اور دیگر یہودی قبائل کا قتل اور جلا وطنی کی فرضی روایات بہت بعد میں داخل کی گئیں، مسلمانوں کی جنگوں اور فتوحات کے پس پشت کوئی دینی پہلو نہ تھا؛ بلکہ یہ عام معمول کے تصادم تھے، اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اس مذہبی تحریک کو خالص اسلامی ر نگ دیا،  پھر عباسی دور میں تحریری شکل میں اسلام کا اختراع کیا گیا، قرآن مجید وضع کیا گیا، اور محمد رسول اللہؐ کا تصور تراشا گیا، اصلاً قرآن مجید پر عربی زبان سے زیادہ سریانی زبان کا اثر تھا جو بعد کی صدیوں میں حذف کر دیا گیا، مذہبی پیشوا اور علماء اور بعد میں وجود میں آئے۔  (۷)

اس مکتب فکر کے بنیاد گذاروں میں ہنگری کے یہودی مستشرق گولڈ زیہر پیش پیش تھے، پھر جوزف شاخت نے اس تصور کو فروغ دیا، اس مکتب فکر کے نمائندہ فضلاء میں نارمن کالڈر Norman Colder، جی آر ہاٹنگ G. R. Hawting ، مائیکل کک Michall Cook(پ: 1940)، پیٹریشیا کرون Patricia Crome (1945-2015)،گنٹر لولنگ Guntor Luling،(1928-2014)، یہودا ڈی نیو Yehuda D. Nevo (1932-1992)، اور کرسٹوف لکثرن برگ Christoph Luxenburg ہیں۔ (۸)

 اس مکتب فکر کی بابت معروف محقق ڈاکٹر مہر علی لکھتے ہیں:

          During the last quarter of the twentieth century however, a new trend has appeared among certain orientalists who have come forward with the suggestion that not only is the Qur’an a work by human hand but that it came into being through a process of evolution and growth over the first two centuries of Islam. These group of orientalists are generally known as the “revisionists”. Foremost among the proponents of these views are J. Wansbrough, Patricia Crone, Michael Cook and Yahuda De Nevo. Their views are summarized and publicized by others like Andrew Rippin, Ibn Warraq, Toby Lester and others. (۹)

اسی مکتب فکر سے وابستہ مستشرق جان وانسبرا ‘ جو لندن یونیورسٹی کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز کے شعبہ اسلامیات کے صدررہا ہے ‘ اس نظریہ کا قائل ہے کہ اسلام، قرآن مجید، رسول اکرم  ﷺ، ذخیرہ احادیث، صحابہ کرام، غزوات، مکہ میں اسلام کا ظہور، مدینہ کی اسلامی ریاست، تابعین وغیرہ سب محض افسانے ہیں، ان کا سرے سے کوئی تاریخی وجود ہی نہیں تھا۔ تیسری صدی ہجری میں مسلمانوں نے یہ سب اختراع کیا ہے۔ (۱۰)

۴۔  اکیسویں صدی کے مغرب کا اسلامی سرمایہ

اس مکتب فکر کے مستشرقین موجودہ اکیسویں صدی میں اس نہج پر کثرت سے قرآن کریم کے تراجم، مضامین ومقالات اور تبصرے شائع کر رہے ہیں۔ چنانچہ 2012 میں رٹلج لندن سے چار جلدوں پر مشتمل 81 مقالات کا ایک مجموعہ   Tafseer: Interpreting the Quran  کے نام سے شائع ہوا ہے، جو تفسیر کے مختلف پہلوؤں پر محیط ہے ، اس میں وہ مقالات شامل ہیں جو 1967 سے 2012 تک مغربی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔  پروفیسر عبد الرحیم قدوائی نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ:

’’زیادہ تر مقالات گذشتہ انیسویں اور بیسویں صدی کے معروف اسلام دشمن مستشرقین مثلاً اگناز گولڈ زیہر، تھیوڈور نولدیکی، جان وانسبرا، جین ڈیمن میکالف، اور اینڈ ریورپن کے مغالطہ آمیز بلکہ باطل نظریات کی تکرار، توضیح وتوسیع سے عبارت ہیں۔‘‘ (۱۱) 

 ’انسائیکلوپیڈیا آف قرآن‘ پانچ ضخیم جلدوں میں 2001 تا 2006 کے دوران شائع ہوا ہے۔ اس کی ایڈیٹر جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر Jane D. Mc Auliffe ہیں۔ ان کی بابت ڈاکٹر قدوائی لکھتے ہیں کہ:

 ’’موصوفہ عرصہ سے قرآنیات کی مسخ اور متعصبانہ تصویر کشی میں منہمک ہیں۔ اس قاموس میں قرآنیات کے ہر پہلو کا احاطہ ہے؛ لیکن مقصود قرآن مجید کی حقانیت اور اس کے جملہ امتیازات کو کسی نہ کسی طرح مجروح کرنا ہے۔(۱۲)

نوجوان اسکالر ڈاکٹر مجتبیٰ فاروق نے اپنی تحقیق کے مقالہ میں انسائیکلوپیڈیا آف قرآن کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس انسائیکلوپیڈیا کے لئے مقالات لکھنے والے کل 277 اسکالرز میں سے صرف 54 مسلم ہیں، اور وہ بھی جو قرآنیات کے اصل ماہر نہیں ہیں، جبکہ 223 غیر مسلم اسکالرز ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا کے مضامین یا مقالہ نگاروں نے بڑے پیمانہ پر قرآن مجید کے بارے میں ابہام اور غلط فہمیوں کو جنم دیا ہے۔ (۱۳)

اسی طرح آکسفورڈ یونیورسٹی میں عربی کے استاذ پروفیسر Alan Jones کا  انگریزی ترجمہ قرآن بعنوان The Quran Translated into English ‘  2007 میں شائع ہوا ہے۔ پروفیسر قدوائی کے بقول ’’اس کتاب کا ہر صفحہ ان تعصبات اور منفی تصویر کشی سے عبارت ہے جو صدیوں سے اسلام کے خلاف مغرب کے دل ودماغ میں موجزن ہیں‘‘۔پروفیسر ایلن جانزکا دعوی ہے کہ قرآن کی کوئی اصلیت نہیں ہے، وہ محض بائبل کا چربہ ہے ، اور وہ بھی ناقص اور غلطیوں سے پر۔ قرآن ایک گنجلک کتاب ہے،جس میں کوئی ترتیب نہیں ہے، وہ یہودیت اور عیسائیت کے خلاف شمشیر برہنہ اور مناظرہ بازی پر مشتمل ہے (۱۴)۔ 

پروفیسر ایلن جانز نے قرآن مجید کے اسلوب اور محاورہ بیان پر اعتراضات کی طویل فہرست بنائی ہے۔

مثال کے طورپر پروفیسر ایلن جانز لکھتا ہے:

          The Most commonly accepted view is that Muhammad received most of his information about Biblical and Post-Biblical stories through informants who talked to him; that his material was digested and meditated on; and that eventually meditation induced Muhammad to recite. It should be added that there is some corroboration in Hadith that Muhammad received stories and information from various individuals, including Jews and Christians, and that the material he received from them found its way into the Qur’anic text. (۱۵)

(Alan Jones, The Koran; with a parallel Arabic text, 2. London, New York and USA: Penguin Books: 1997)

اسی طرح شکاگو یونیورسٹی کے شعبہ الٰہیات کے استاذ A. J. Droge کا ترجمہ قرآن The Quran: A New Annotated Translation کے نام سے  2014میں شائع ہوا ہے۔ ان موصوف کے مطابق بھی

 ’’قرآن ایک مبہم کتاب اور غلطیوں سے بھری ہے، اس کی تدوین میں اضافے کئے جاتے رہے ہیں، اس کی آیات بے موقع درج ہیں اور اس کے متن میں کثرت سے اختلافات ہیں‘‘(۱۶)

اسی سلسلہ کی کڑی امریکہ کی نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے استاذ G. S. Reynolds کا انگریزی ترجمہ قرآن 2018 میں The Quran and the Bible کے نام سے آیا ہے۔ انھوں نے اگرچہ قرآن کو حضورؐ کی تصنیف تو نہیں قرار دیا گیا ہے؛ لیکن وہ اسے اللہ کا کلام بھی تسلیم نہیں کرتے ہیں، ان کی کوشش بھی قرآن کو بائبل کا چربہ قرار دینے کی ہے (۱۷)

اس منظر نامہ پر پروفیسر عبد الرحیم قدوائی کا یہ احساس بہت فکر انگیز ہے کہ:

’’یہ امر باعث تاسف بھی ہے اور تشویش بھی کہ آج بھی ان مغربی فضلاء کے ذہنی سانچے اور موقف قرون وسطیٰ کے متعصبات اور مزعومات کے اسیر ہیں، اور بالخصوص تراجم قرآن مجید کے حوالہ سے قارئین کو اسلام سے متنفر کرنے کی صدیوں قدیم روایت‘  معروضیت اور مفاہمت کے بلند بانگ دعوی کے باوصف اب بھی بدستور منفی ہے‘‘۔  (۱۸)

اس تاریک منظر نامہ میں کچھ خوشگوار استثناء بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں ہی ایک امریکی مستشرق ٹامس کلیری Thomas Cleary (پ 1949) ہیں، انھوں نے کئی کتابیں لکھیں اور قرآن کریم کا ترجمہ کیا ہے۔ ان کتابیں ہیں:

   The Quran: A New Translation,

   The Essential Koran

اور

       The Wisdom of the Prophet

موصوف کا ترجمہ قرآن بقول پروفیسر قدوائی مستشرقین کے بغض وعناد والی روش سے یکسر مبرا ہے۔ایسی ہی منصفانہ مثالوں میں پروفیسر بروس لارینس کی تحریریں بھی شامل کی جاسکتی ہیں ۔

۵۔  کچھ مثبت تبدیلیاں

پروفیسر عبد الرحیم قدوائی صاحب کا خیال ہے کہ اکیسویں صدی میں مغرب کے اسلامی مطالعات کے اندر سیرت نبوی کے حوالہ سے ایک خوش گوار تبدیلی پیدا ہوئی ہے، یہ مثبت تبدیلی ہے جس میں سیرت نبوی کے ساتھ قدیم معاندانہ اور منافقانہ روش سے گریز نظر آتا ہے۔ نوجوان محقق ڈاکٹر توصیف پرے نے اپنے مضمون 21st Century Western Works on Islamic History،  مطبوعہ گریٹر کشمیر 24 ستمبر 2025 میں اس کی مثال دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پروفیسر کارل ڈبلیو ارنسٹ (نارتھ کرولینا ہلس، امریکہ) کی سیرت نبوی پر کتاب ’’Following Mohammad Re thinking Islam in Contemporery World (2023)‘‘ حال میں 2023 طبع ہوئی ہے ، اس کتاب میں مصنف نے  رسول کریم ﷺ کی بابت لکھا ہے کہ:

          While the Quran as divine revelation may be the most important resource of the Islamic tradition, we would not have it in its present form without the Prophet Muhammad (PBUH.. He has served as an ongoing model for ethics, law, family life, politics, and spirituality in ways that were not anticipated 1400 years ago. There are few people in history who have had a greater impact on humanity, and it is through the historical elaboration of tradition that we must seek to understand that impact.

پروفیسر تمارا سان (Tamara Sonn) (جارج ٹاؤن یونیورسٹی امریکہ) اپنی کتاب ’’Islam: A Brief History‘‘ مطبوعہ 2016 میں لکھتی ہیں:

Prophet Muhammad’s PBUH role extends beyond the task of delivering revelation for his life is a role "model for humanity of how to live every moment, and make every choice, in accordance with God’s will. The way he lived his life is described by the Quran as the best example of Islam” (Q. 33: 21) and together with the Quran, his example (Sunnah "comprise the guidance Muslims need in their collective responsibility to establish justice(۱۹(

 اسی طرح مشہور مستشرق پروفیسر جان ایل اسپوزیٹو (John L. Esposito) (جارج ٹاؤن یونیورسٹی امریکہ) اپنی کتاب مطبوعہ 2011 ’’What Everyone needs to know about Islam‘‘  میں لکھتے ہیں:

"In contrast to the often-spiritualized Christian view of Jesus [Prophet ‘Isa (AS Muslims look upon Muhammad [(PBUH)] as both a prophet and a very human figure, one who had great political as well as spiritual insights. Thus, Muslims look to Muhammad’s [(PBUH)] example for guidance in all aspects of life: how to treat friends as well as enemies, what to eat and drink, how to mourn and celebrate. … [Prophet] Muhammad’s [(PBUH)] life translated the guidance revealed in the Quran into action; he lived the revelation, giving concrete form to the laws that God revealed for the various conditions of ordinary human life. For Islam, no aspect of life is outside the realm of religion”‘

اسی طرح کی مثبت بات پروفیسر ولیم ای شیفرڈ (William E. Shepard) (یونیورسٹی آف Canterbury، نیوزی لینڈ) نے اپنی 2014 میں مطبوعہ کتاب ’’Introducing Islam‘‘ میں سیرت الرسول پر ایک باب قائم کر کے یوں لکھی ہے:

‘‘If the Quran is the book of God, ’’Muhammad is the Person thorugh whom that book come to humanity and his words and deeds are the first and most important comoneutary on it…..’’

ابھی حال ہی میں پروفیسر Alexander knysh (یونیورسٹی آف مشی گن امریکہ)  نے اپنی  2025 میں مطبوعہ کتاب ’’Islam in Historical Perspective‘‘ میں سیرت رسولؐ کے تعلق سے ایسے ہی مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے۔ (۲۰)

اس خوشگوار تبدیلی کی جڑ تلاش کرتے ہوئے پروفیسر عبد الرحیم قدوائی بتاتے ہیں کہ 8؍ مئی 1840 کو مشہور انگریز اسکارٹ فلسفی ٹامس کارلائل (1881-1795) نے بطل جلیل بحیثیت پیغمبرؐ پر اپنا مشہور خطبہ دیا تھا جس میں اس کی حق پرستی اور نئے زاویہ سے سیرت طیبہ پر مطالعہ نے سامعین کو مسحور کر دیا تھا۔ اس کے اس خطبہ کا خاطر خواہ اثر ہوا۔

پروفیسر قدوائی لکھتے ہیں:

’’کار لائل کی یہ تصنیف اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اور اہم ہے کہ اس کے زیر اثر بالخصوص بیسویں اور اکیسویں صدی میں ایسے مغربی فضلاء کی درجنوں تصانیف بڑے آب وتاب سے شائع ہوئی ہیں جن میں رسول اکرمؐ کی عظمت ورفعت کا کما حقہ اعتراف کیا گیا ہے، اور افسوسناک حقیقت پر اظہار تاسف بھی کہ اس سے قبل آپؐ کے مقام عالی کی تفہیم سے دانائے مغرب قاصر رہے۔‘‘ (۲۱)

پروفیسر عبد الرحیم قدوائی نے اس کے اثرات کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا ہے کہ Normal Daniel کی تصنیف Islam and the West  (1961ء) ایک خزینہ معلومات ہے جس میں قرآن اور سیرت طیبہ کے بارے میں مغربی تصانیف پر معروضی محاکمہ ہے۔ فرانسیسی مصنف Rodinson Moxione (1971) کی تصنیف Mahomet بڑی حد تک منصفانہ ہے، برطانوی ماہر الہیات پروفیسر Karen Armstrong کی سیرت طیبہ پر تصنیف Muhammad: A Prophet of Our time (2006) نہایت خوش کن ہے، Frederick Quinn امریکی یونیورسٹی Utah کی استاذ تاریخ کی تصنیف The Sum of All Heresies (2008) اسلام کی حقانیت کا اثبات، اور اسلام کو عیسائیت کا چربہ یا زندقہ (Heresy) قرار دینے کی تردید بھی ہے۔ John Aadir کی تصنیف The Leadership of Muhammad (2010) میں رسول کریمؐ کو قیادت کے ہر معیار پر بے نظیر بتایا گیا ہے۔برطانوی جامعہ میں انگریزی ادب کے استاذ Mathew Dimmock کی تصنیف The Mythologies of the Prophet Muhammad in Early Modern English Culture (2013) میں نام کے ساتھ ہی پیغمبر کا لاحقہ لگانا مغربی علمی دنیا میں ایک انقلابی قدم ہے۔ اسی طرح فرانس کی جامعہ Nantes  کی ممتاز مؤرخ John Tolan کی شاہکار تصنیف Faces of Muhammad (2019) مغرب میں سیرت طیبہ کی کردار کشی کو بے نقاب کرنے والی کتاب ہے، ماہر عمرانیات Craig Considine کی دو لائق تصنیفات The Humanity of Muhammad: A Christian View (2020)  اور People of the Book: Prophet Muhammad’s Encountors with Christians میں سیرت کے قابل رشک پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ (قدوائی ، حوالہ سابق، ص: 175-176) (۲۲)

پروفیسر قدوائی نے اسی رجحان کی مثالوں میں مشہور مستشرق پروفیسر John Esposito کو بھی رکھا ہے، کہ انھوں نے آکسفورڈ انسائیکلوپیڈیا آف دی ماڈرن اسلامک ورلڈ میں رسول اکرمؐ کے خلاف منفی تاثرات کی مسکت تردید کی ہے اور اسلامی تعلیمات کا اظہار کیا ہے۔ (حوالہ سابق ،ص: 181)۔ اسی طرح جرمن مصنفہ انا میری شمل اپنی وقیع نگارشات کے ذریعہ سیرت طیبہ کی بہتر قدر شناسی میں معاون رہی ہیں، ان کی تصنیف Muhammad and his Messages میں آپؐ کی مرکزی اور کلیدی مقام کو نمایاں کیا گیا ہے۔ (۲۳)

۶۔  چند قابل توجہ پہلو

آخر میں چند اہم امور پر توجہ ضروری محسوس ہوتا ہے ۔

الف ۔  استشراقی علمی کاموں کی حقیقت:

یہ بات بہت زور و شور سے کہی جاتی ہے کہ مستشرقین نے علوم اسلامیہ کی اہم خدمات انجام دی ہیں، اور اگر انھوں نے اسلامی علوم کی بازیافت کے لئے اپنی جانفشانی نہ پیش کی ہوتی تو اسلامی سرمایہ کے نادر خزانے ناپید ہوگئے ہوتے۔ یہ ضرور ہے کہ مستشرقین کی خدمات کا کھلے دلوں کے ساتھ مسلم مصنفین اور اہل قلم نے اعتراف کیا ہے ، اور اس میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا ہے ، بلکہ سچائی یہ کہ ان کے اعتراف فضل میں مبالغہ کی حدتک مدح و سرائی کی ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ مستشرقین کی مثبت خدمات پر بھی منصفانہ نظر ڈالی جائے ، اور یہ دیکھا جائے کہ ان کی حقیقت کیا ہے؟

تفہیم استشراق کے مصنف ڈاکٹر علیم اشرف جائسی نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر انور الجندی کی یہ بات نقل کی ہے کہ:

’’یہ کہنا صحیح ہے کہ استشراق نے مسلمانوں کی علمی میراث پر توجہ دی ہے؛ لیکن اس توجہ کا بیشتر حصہ ایک مخصوص قسم کی میراث پر مرکوز رہا ہے۔‘‘

ڈاکٹر جائسی اس کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہ نا قابل تردید حقیقت ہے کہ مستشرقین نے اسلامی میراث کے سلبی اور تاریک پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں دلچسپی لی، ان پہلوؤں پر کام کیا جنھیں سلبی بنا کر پیش کیا جا سکتا تھا۔ … یہ بات بھی نہیں تھی کہ مسلمانوں کی علمی میراث کا روشن اور ایجابی پہلو مستشرقین کی نگاہوں سے اوجھل یا ان کی دسترس سے باہر رہا ہو، اس کا بڑا حصہ آج بھی مغربی کتب خانوں میں محفوظ ہے، … لہٰذا یہ کہنا کہ مستشرقین نے اسلامی میراث کی کوئی خدمت انجام دی ہے‘ غلط اور بے بنیاد ہے؛ البتہ انھوں نے کچھ کام ضرور کیا ہے، لیکن ان کے طرز عمل اور مقاصد کے پیش نظر اسے کسی طرح بھی خدمت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ (۲۴)

پھر ایک قدرے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وہ لکھتے ہیں:

’’اس مختصر سے جائزے کے بعد یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ مسلمانوں کی علمی میراث کے سلسلے میں مستشرقین کے کام کی نسبت بہت معمولی ہے اور اس ضمن میں ان کا طرز عمل نہ صرف قابل اعتراض بلکہ لائق مذمت ہے، اور اگر اس میں خدمت کا کوئی پہلو ہے تو اسلامی میراث کی خدمت کم اور کلیسائی مقاصد اور استعماری خواہشات اور رغبات کی خدمت زیادہ ہے۔‘‘  (۲۵)

ب۔  مستشرقین کی مجبوری اور بے چارگی

مستشرقین ‘ ایک شدید قسم کی ذہنی مجبوری اور نفسیاتی گرہ کا شکار رہتے ہیں، ایک تو وہ اسلامی عقائد اور مصادر کا مطالعہ کرتے وقت مسیحی اور یہودی مذہبی روایات و مصادر کے غیر محفوظ اور باطل آمیز ہونے کے تصور کے اپنے ذہنی فریم ورک سے نکل نہیں پاتے ہیں، اور اسلامی تعلیمات و مصادر کو بھی اپنے اسی ناقص تصور اور غلط چشمہ سے پڑھتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ مستشرقین کے نزدیک ‘ ان کی صف کے چند افراد ایسے باکمال ہوئے ہیں کہ ان کی تحقیق کو وہ حرف آخر اور کسی بھی نقد سے بالا تر تصور کرتے ہیں۔دوسری طرف وہ اسلام کے مستند اور معتبر مصادر کا مطالعہ ہی نہیں کرتے ہیں ، یا پڑھ کر ان سے تجاہل برتتے ہیں، مستشرقین کا عام مبلغ علم یہ ہے کہ وہ اپنے پیش روؤں کے اقتباسات نقل کرنا ہی اپنا معراج علم باور کرتے ہیں، اس لئے وہ اپنی تحریروں میں‘ اپنے ہی سابقین کے افکار سے استدلال کرتے ہیں، اور ان سابقین کی کھلی تحریفات اور واضح اغلاط سے بھی سبق نہیں لیتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ مستشرقین کا یہ منہج علم ‘ نہ صرف علم و تحقیق کے سراسر خلاف ہے ، بلکہ ہٹ دھرمی اور جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اسی طرح مستشرقین کا یہ عام وطیرہ ہے کہ وہ کوئی زہریلی بات کہنے سے پہلے اسلام اور وابستگان اسلام کی تعریف کرتے ہیں، اور مثبت پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں، اوراس طرح قاری کے دل میں اپنی ہمدردی جگا کر دبے لفظوں میں اسلام کے خلاف کوئی بہت خطرناک بات قاری کے ذہن میں ڈال دیتے ہیں، جس کی طرف عام قاری کی توجہ نہیں ہوپاتی ہے۔ 

ڈاکٹر التہامی نقرہ (صدر شعبہ قرآن و حدیث ، تیونس یونیورسٹی) لکھتے ہیں:

’’ مستشرقین کی مشترک تکنیک ہے کہ وہ قرآن ، رسول ، رسالت کے بارے میں اپنے زہریلے خیالات سے پہلے معروضی انداز تحقیق اور انصاف پسندی کا تاثر قارئین پر چھوڑ جاتے ہیں، اور قارئین کو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ قرآن، نبوت اور وحی کے بارے میں اس کے خیالات پرانی استشراقی روح اور رنگ ہی کے حامل ہیں‘‘ (۲۶)

مثال کے طور پر گستاؤلی بان اپنی متوازن تحریر کے لئے مشہور ہے، لیکن وہ نبوت کو نعو ذ باللہ ’ وارفتگی مزاج اور مرگی و جنون ‘ قرار دیتا ہے ، اور نبی ﷺ کی ازدواجی زندگی کو ’ خواہش نفس کہتا ہے، قرآن کا اسلوب اس کے نزدیک طفلانہ ہے ۔ (۲۷)

مشہور مستشرق جان ایل ایسیوزیٹو کی تحریروں اور افکار کی تعریفیں کی گئی ہیں ، لیکن انھوں نے اپنی متعدد تصنیفات میں اسلامی تحریکات کو نشانہ بنایا اور دنیائے مغرب کو ان سے متنبہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ (۲۸)

مشہور مصنفہ کیرن آرم اسٹرانگ کی کتابوں میں بھی اسی نوع کی باتیں پائی جاتی ہیں۔ (۲۹)

ڈاکٹر مجتبیٰ فاروق نے بھی مستشرقین کی اس بے راہ روی کے اسباب کی تلاش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے یہاں بنیادی مصادر کا فقدان، غیر مستند احادیث سے استدلال، اپنے ما قبل مستشرقین کی تحقیقات پر انحصار، اور مداہنت کے بھیس والے اسلوب کو اپنانے کی روش  پائی جاتی ہے۔ (۳۰)

ج۔   ہماری ذمہ داریاںاور نوجوان اسکالرز کے کام

 یہ حقیقت ہے کہ مغربی دنیا اور مغربی زبانوں میں اسلام کا سچا پیغام نہیں پہنچ سکا ہے۔ اور مغربی اسکالرز نے اسلام کے خلاف جھوٹا  اورزہریلا مواد بڑی مقدار میں پھیلا رکھا ہے ۔اس پس منظر میں ہمارے سامنے چند ترجیحی کام ہونے چاہئے:

۱۔ مغرب میں اسلام پر ہونے والے کاموں کا سنجیدہ علمی جائزہ بڑے پیمانہ پر لیا جائے ، ہمارے تعلیمی ادارے اور تحقیقی مراکز اپنے علمی منصوبوں میں اس کام کو اہمیت کے ساتھ شامل کریں۔

۲۔ مغرب کے علمی کاموں کے جائزہ کے لئے عربی زبان اور بنیادی اسلامی مصادر سے کما حقہ واقفیت ضروری ہے ۔ اسی روشنی میں علمی جائزہ کا کام انجام دیا جاسکتا ہے۔

۳۔ علمی تجزیہ کرنے میں یہ فرق بنیادی اور لازمی رکھا جائے کہ مسلم علماء کا اختلاف رائے الگ چیز ہے ، یہ اختلاف دین کے بنیادی عقائد اور احکام میں قطعا نہیں ہے ، جبکہ دین کی بنیادوں کو سرے سے نکار دینا ‘ مثلا وحی، نبوت، قرآن کے کلام الہی ہونے ، رسول کریم ﷺ کی رسالت ، اور قرآن وحدیث کے مصدر شریعت ہونے جیسے امور تسلیم نہ کرنا بالکل الگ چیز ہے ۔ ہم مسلم علماء کے اختلاف رائے کو منکرین وحی ونبوت و رسالت کے ساتھ ایک صف میں نہیں لاسکتے ۔ان امور کے انکار و استہزا والی گفتگو اسلام کی علمی خدمت کبھی نہیں قرار دی جاسکتی ہے۔اسی طرح کذب و افتراء، علمی خیانت اور بد دیانتی کرنے والے افراد ہرگز علمی مقام کے مستحق نہیں ہوسکتے۔

۴۔ اسلام کا وہی تعارف اور ترجمانی معتبر قرار دی جائے گی جو وحی و نبوت اور قرآن و رسالت کو تسلیم کرنے والے افراد پیش کریں گے۔ ان امور کے منکرین کی گفتگو اسلام کی ترجمانی نہیں ہے ، بلکہ وہ ان کی ذاتی آراء ہیں جو اسلامی کسوٹی پر پوری اترنے کے بعد ہی اعتبار حاصل کرسکتی ہیں۔اسلام کا یہ موقف پوری وضاحت اور قوت کے ساتھ مغرب کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔

حواشی و حوالہ جات

۱۔       تفصیل کے لئے دیکھئے : جائسی ، علیم اشرف ، تفہیم استشراق، 2018: امیٹھی، دار العلوم جائس

۲۔      ہاشمی ، عبد القدوس، مستشرقین اور تحقیقات اسلامی، مطبوعہ مجلہ الواقعہ ، کراچی ،فروری 2013 ، شمارہ 10،ص: 3

۳۔      ہاشمی، عبد القدوس ، حوالہ سابق،ص: 4

۴۔      ندوی ، ابوالحسن علی ، اسلامیات اور مغربی مستشرقین و مسلمان مصنفین،1982 : لکھنؤ، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام،ص: 14

۵۔      سباعی ، مصطفی ، استشراق اور مستشرقین، اردو ترجمہ : نور الحسن خاں ازہری ، 2017 : لاہور، کتاب محل ، اردو بازار ، ص: 69        

۶۔ پرے، توصیف احمد،21st Century Western Works on Islamic History ، مضمون مطبوعہ گریٹر کشمیر، 24ستمبر 2025 ۔جائسی ، علیم اشرف، تفہیم استشراق، حوالہ سابق

۷۔      قدوائی ، عبد الرحیم ، اسلام اہل مغرب کی نظر میں،2023 : علی گڑھ، ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی، ص: 89-90

۸۔      قدوائی ، حوالہ سابق ،ص: 90۔

۹۔             Mohammad Mohar Ali, The Quran and the Orientalists: An examination of their main theories and assumptions, 14, U.K., Nor wih: Jamiat Ihyaa Minhaj Al Sunnah, 2004

۱۰۔     قدوائی ، حوالہ سابق ،ص: 89

۱۱۔      قدوائی ، حوالہ سابق ، ص: 88

۱۲۔     قدوائی ، حوالہ سابق، ص: 31

۱۳۔ مجتبیٰ فاروق، مستشرقین کے قرآنی افکار، تحقیقی مقالہ غیر مطبوعہ، ص: 278-279

۱۴۔قدوائی ، عبد الرحیم ، اسلام اہل مغرب کی نظر میں، ص:14-15

۱۵۔         Alan Jones, The Koran; with a parallel Arabic text, 2. London, New York and USA: Penguin Books: 1997

۱۶۔     قدوائی ، عبد الرحیم ، حوالہ سابق ،ص: 19        

۱۷۔قدوائی ، حوالہ سابق ، ص: 31

۱۸۔قدوائی ، حوالہ سابق ، ص: 40

۱۹۔      پرے ، توصیف احمد،   21st Century Western Works on Islamic History، مضمون ، مطبوعہ گریٹر کشمیر 24 ستمبر 2025

۲۰۔ان حوالوں کے لئے دیکھئے : پرے، توصیف، حوالہ سابق

۲۱۔     قدوائی ، عبد الرحیم ، اسلام اہل مغرب کی نظر میں، حوالہ سابق ، ص: 175

۲۲۔ قدوائی ، حوالہ سابق، ص: 175-176

۲۳۔قدوائی ، حوالہ سابق ، ص: 183

۲۴۔جائسی ، علیم اشرف ، تفہیم استشراق، ص: 228-229

۲۵۔جائسی ، حوالہ سابق ، ص: 231

۲۶۔ نقرہ، التہامی، مستشرقین اور قرآن، ترجمہ ثناء اللہ ندوی، مشمولہ علوم اسلامیہ اور مستشرقین، نشریات لاہور، 2009 ، صفحہ 19

۲۷۔ایضا ، صفحہ 19-20

۲۸۔سمیع اللہ فراز، اسلامی تحریکیں اور مغربی تحقیقات ،مضمون مشمولہ ماہنامہ الشریعہ، جون 2006

۲۹۔دیکھئے کتاب ’ استشراقی فریب ، کیرن آرم اسٹرانگ کی کتاب کا تحقیقی جائزہ، اسلامک ریسرچ سوسائٹی ، کراچی

۳۰۔ مجتبی فاروق، مستشرقین کے قرآنی افکار- ایک جائزہ، ص: 119-124

Tags

Share this post: