صحابۂ کرامؓ کے اقوال و افعال کی شرعی حیثیت
مولانا خالد سیف الله رحمانی (ناظم:المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد)
’’ صحابی ‘‘ کے اصل معنی ’’ ساتھی ‘‘ اور ’’ رفیق ‘‘ کے ہیں ؛ لیکن یہ اسلام کی ایک مستقل اور اہم اصطلاح ہے ، اصطلاحی طورپر صحابی کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنھوں نے بحالت ایمان حضور ﷺ سے ملاقات کی ہو اور ایمان ہی کی حالت میں دنیا سے رُخصت ہوئے ہوں ، حدیث نبوی ﷺ :
طوبی لمن رآنی ولمن رآی من رآنی ۔ (۱ )
خوشخبری ہو اس شخص کے لئے جس نے مجھ کو دیکھا اور اس کے لئے جس نے مجھے دیکھنے والوں کو دیکھا ۔
سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ صحابیت کے لئے ملاقات کافی ہے ، یہ ضروری نہیںکہ رسول اللہ ﷺ کی طویل صحبت حاصل ہو یا اس نے حضور ﷺ سے کوئی روایت بھی نقل کی ہو ، جیساکہ بعض اہل علم کی رائے ہے ؛ بلکہ سعید بن مسیبؒکے نزدیک تو صحابی ہونے کے لئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سال دو سال رہنا اور ایک دو غزوات میں شرکت کرنا بھی ضروری ہے ۔ (۲ )
اسی لئے اصحمہ نجاشی کا شمار صحابہ میں نہیں ہوگا،یوںکہ آپ ﷺ سے ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوسکا اور جو لوگ ملاقات سے مشرف ہوئے ، گو کم عمر رہے ہوں ، صحابہ کہلائیںگے ، جیسے حضرات حسنین رضی اللہ عنہما اور حضرت محمود بن ربیعؓ وغیرہ ، سعید بن مسیب ؒکی طرف مذکورہ قول کی نسبت ابن صلاح ؒنے کی ہے ؛ لیکن علامہ زید الدین عراقی ؒنے اس پر نقد کیا ہے اور اس نسبت کو غلط قرار دیا ہے ؛ کیوںکہ سعید بن مسیبؒ کا یہ قول محمد بن عمر واقدی سے منقول ہے اورواقدی ؒکا حدیث میں ضعیف و نامعتبر ہونا محتاج بیان نہیں ۔ (۳ )
صحابیت کا ثبوت
صحابیت کا ثبوت چار طریقوں سے ہوسکتا ہے :
(۱) تواتر کے ذریعہ ، جیسے : حضرات خلفاء راشدین اور عشرۂ مبشرہ وغیرہ ۔
(۲) تواتر سے کم تر درجہ شہرت کے ذریعہ ، جیسے حضرت ضمام بن ثعلبہ ؓاور عکاشہ بن محصنؓ وغیرہ ۔
(۳) کوئی معروف صحابی کسی شخص کے بارے میں صحابی ہونے کی اطلاع دے ، جیساکہ حضرت ابو موسی اشعری ؓنے حممۃ بن ابو حممہ الدوسیؓ کی بابت صحابی ہونے کی خبردی ۔
(۴) کوئی ایسا شخص جس کا عادل و معتبر ہونا معلوم ہو ، اور زمانی اعتبار سے اس کا صحابی ہونا ممکن بھی ہو ، اگر اپنے صحابی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کو قبول کرلیا جائے گا ، اس سلسلہ میں علماء کا خیال ہے کہ ۱۱۰ھ کے بعد اگر کوئی شخص صحابیت کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ غیر معتبر ہے ، اسی بنا پر جعفر بن نشطور رومی اور رتن ہندی وغیرہ کے دعوئ صحابیت کو غیر معتبر ماناگیا ہے ؛ کیوںکہ آپ ﷺ نے ۱۰ ھ میں ارشا د فرمایا تھا :
ما من نفس منفوسۃ الیوم یأتي علیہا مائۃ سنۃ وھی حیۃ یومئذ ۔ (۴)
آج کوئی متنفس نہیں کہ سو سال گذرنے کے بعد بھی وہ زندہ رہے ۔
پس ان چار طریقوں سے کسی کا صحابی ہونا تسلیم کیا جاتا ہے ۔ (۵)
تمام صحابہ عادل ہیں !
اہل سنت والجماعت کے نزدیک تمام ہی صحابہ عادل و معتبر ہیں ؛ خواہ وہ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت اوراس کے بعد وقوع پذیر ہونے والے فتنہ میں شریک رہے ہوں یا نہیں ۔ (۶ )
صحابہ میں فرق مراتب
اہل سنت والجماعت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضرت ابو بکرؓ اور آپ کے بعد حضرت عمرؓ تمام اُمت میں افضل ہیں ، حضرت عمر ؓ کے بعد حضرت عثمان ؓو علی ؓکا درجہ ہے ، جمہور نے حضرت عثمان ؓ کو افضل قرار دیا ہے اور علماء کوفہ نے حضرت علی ؓکو ، (۷)امام ابو حنیفہؒ کا رجحان بھی اسی طرف بتایا جاتا ہے ؛ اسی لئے آپ نے اہل سنت والجماعت کی علامات میں حضرات شیخین کی فضیلت اور حضرت عثمان ؓوعلی ؓکی محبت کو شمار کیا ہے ، (۸ ) امام مالکؒ سے اس سلسلہ میں توقف منقول ہے ، نیز مشہور محدث محمد بن اسحاق بن خزیمہؒ اور خطابیؒ نے بھی حضرت علیؓ کو افضل ماناہے ۔
خلفاء اربعہ کے بعد پھر ان چھ صحابہ کا درجہ ہے ، جو عشرۂ مبشرہ میں ہیں ، ا ن کے بعد اصحابِ بدر ، ان کے بعد اصحاب اُحد اور ان کے بعد حدیبیہ میں بیعت رضوان کے شرکاء کا شمار ہے ، آخری درجہ فتح مکہ اور اس کے بعد ہونے والے مسلمانوں کا ہے ، جن میں حضرت ابوسفیانؓ اور حضرت معاویہ ؓ وغیرہ ہیں ۔
امام ابو حاکم نیشاپوریؒ نے صحابہ کے بارہ طبقات بیان کئے ہیں :
(۱) مکہ میں ابتداء ً اسلام قبول کرنے والے جن میں خلفاء اربعہ بھی داخل ہیں ۔
(۲) دار الندوہ کے اصحاب ، یعنی جب حضرت عمر ؓ اسلام لائے اور اپنے اسلام کا عام اعلان واظہار کیا تو وہ آپ ﷺ کو دار الندوہ لے گئے ، جہاں اہل مکہ کی ایک جماعت نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ، ان حضرات کو ’اصحاب دار الندوہ ‘ کہتے ہیں ۔
(۳) حبش ہجرت کرنے والے صحابہ ۔
(۴) بیعت عقبہ اول میں شریک رہنے والے صحابہ ۔
(۵) بیعت عقبہ ثانی میں شریک رہنے والے صحابہ ۔
(۶) وہ مہاجرین جو آپ کے قباء میں رہتے ہوئے پہنچ چکے تھے ۔
(۷) غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ ۔
(۸) غزوۂ بدر ، صلح حدیبیہ کے درمیان ہجرت کرنے والے صحابہ ۔
(۹) وہ صحابہ جو بیعت رضوان میں شریک رہے ، جن کے بارے میں قرآن مجید میں آیت نازل ہوئی :
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَـکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَأَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا ۔ (۹)
مسلمان جب درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے تو اللہ ان سے خوش ہوئے اور ان کے دلوں میں جو ( جذبات ) ہیں ، اللہ نے انھیں جان لیا ، پھر ان کو اطمینانِ قلب عطا فرمایا اور ان کو ایک قریبی فتح کے انعام سے نوازا
(۱۰) صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان ہجرت کرنے والے صحابہ ، ان ہی میں حضرت خالد بن ولید ؓ، حضرت عمرو بن العاص ؓاور حضرت ابو ہریرہ ؓوغیرہ ہیں ۔
(۱۱)جو لوگ فتح مکہ کے دن ایمان لائے ۔
(۱۲)وہ کم سن صحابہ جنھوں نے فتح مکہ اور حجۃ الوداع وغیرہ کے موقع سے آپ کی زیارت کی ہے ، حضرت سائب بن یزید ؓ، عبد اللہ بن ثعلبہ ؓ، ابو الطفیلؓ ، عامر بن واصلہ ؓ اورحضرت ابو جحیفہ ؓوغیرہ کا شمار اسی طبقہ میں ہے ۔ (۱۰)
روایت کے اعتبار سے درجات
باعتبار روایت حدیث کے صحابہ کے تین درجات کئے گئے ہیں ، اول : مکثرین ، جن کی روایات ہزار سے اوپرہوں ، دوسرے : مقسطین ، جن کی روایات ہزار سے کم اور سو سے زیادہ ہوں ، تیسرے : مقلین ، جن سے سو سے کم حدیثیں منقول ہیں ، مقسطین اور مقلین کی تعداد تو بہت ہے ؛ البتہ مکثرین سات ہیں ، اور ان کے نام اور مرویات کی تعداد اس طرح ہے :
= حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ : ۵۳۷۴
= حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما : ۲۶۳۰
= حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما : ۲۲۸۶
= حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا : ۲۲۱۰
= حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما : ۱۶۶۰
= حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما : ۱۵۴۰
= حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ : ۱۱۷۰
فقہی اعتبار سے بھی بعض صحابہ مکثرین شمار کئے گئے ہیں ، تاہم مسروق ؒسے منقول ہے کہ حضور ﷺ کے صحابہ کا علم چھ صحابہ میں جمع ہوگیا ہے ، حضرت عمرؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت ابی بن کعب ؓ ، حضرت زید بن ثابت ؓ ، حضرت ابو الدرداء ؓ ، اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ، بعض نے حضرت ابو الدرداء ؓکی جگہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓکا ذکر کیا ہے ، اور پھر ان چھ کا علم دو میں جمع ہوگیا : حضرت علی ؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ، امام شعبی ؒسے مروی ہے کہ ان میں حضرت عمر ؓ ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ اور حضرت ابی بن کعبؓ کی آراء میں زیادہ موافقت پائی جاتی تھی ۔ (۱۱)
صحابہ کے بارے میں احتیاط
اُمت میں حضرات صحابہ کرام ؓ کا ایک خاص درجہ و مقام ہے ؛ کیوںکہ ان ہی کے ذریعہ دین ہم تک پہنچا ہے اور ان ہی کی قربانیوں اور جاں نثاریوں سے اسلام کا شجر طوبی پر واں چڑھا ہے ؛ اسی لئے آپ ﷺ نے ان کو اُمت کا سب سے بہتر گروہ قراردیا ہے ؛ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایاکہ میرے عہد کے مسلمان بہترین مسلمان ہیں ، پھر ان کے بعد آنے والے اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں :
’’ خیر القرون قرني ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ‘‘ ۔ (۱۲)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو ، اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کروتو وہ ان کے ایک مُد ؛بلکہ ا س کے نصف خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہوسکتا ۔ (۱۳)
ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
لوگو ! میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ ، جس نے ان سے محبت کی ، اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی ، اور جس نے ان سے بغض رکھا ، اس نے درحقیقت مجھ سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ، جس نے ان کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو پکڑلے ۔
اس لئے حضرات صحابہ کے بارے میں بہت احتیاط چاہئے اور ہمیشہ سوئِ کلام اور سوئِ گمان سے بچنا چاہئے ؛ چنانچہ اگر کوئی شخص صحابہ کی شان میں بد گوئی کرے تو اس کے فاسق العقیدہ ہونے میں تو کوئی کلام ہی نہیں ؛ لیکن تکفیر میں اختلاف ہے ، فقہاء احناف میں علامہ عبدالرشید طاہر البخاریؒ نے لکھا ہے کہ ’ ’ اگر کوئی شخص رافضی شیخین کی شان میں گستاخی کرے اورلعنت بھیجے تو وہ کافر ہے ‘‘ (۱۴ )ملا علی قاریؒ نے بھی مشائخ سے اس طرح کی بات نقل کی ہے ؛ لیکن اس کو از روئے قواعد مشکل قرار دیا ہے، (دیکھئے : شرح فقہ اکبر : ۲۲۹ )
فقہاء مالکیہ میں علامہ دردیر ؒنے ایسے شخص کو کافر تو قرار نہیں دیا ہے ؛ لیکن صحابہ اور اہل بیت کی تنقیص کرنے والوں کو شدید تعزیز کا مستحق قرار دیا ہے ۔ (۱۵ )
علامہ صاوی مالکیؒ نے نقل کیا ہے کہ قول معتمد یہ ہے کہ خلفاء اربعہ کی اہانت یا تکفیر کی وجہ سے کفر کا فتویٰ تو نہیں لگایا جائے گا ؛ البتہ تعزیر کی جائے گی ؛ لیکن سحنون مالکیؒ نے خلفاء اربعہ کو کافر کہنے والوں کو مرتد قرار دیا ہے ، نیز صاوی ؒنے یہ بھی لکھا ہے کہ جو تمام صحابہ کی تکفیر کرے ، وہ بالاتفاق کافر ہے ۔ (۱۶ )
غرض صحابہ کے معاملہ میں بے حد احتیاط مطلوب ہے ؛ اسی لئے سلف نے مشاجرات صحابہ پر گفتگو کرنے سے بھی منع کیا ہے ، افسوس کہ گذشتہ نصف صدی میں بعض ایسی کتابیں منظر عام آئی ہیں ، جن میں ناحق صحابہ کے اختلاف کو زیر بحث لایاگیا ہے اور آخر یہ بحث کہیں تو ناصبیت کے درجہ کو پہنچ گئی ہے اور کہیں اس کی سرحد تشیع سے جاملی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا عمل خدمت نہیں ؛ بلکہ بدخدمتی ہے ، اور ایک ایسی راہ پر بے احتیاطی سے قدم رکھنا ہے ، جو شیشہ سے زیادہ نازک اوربال سے زیادہ باریک ہے ۔
آثار صحابہ
صحابہ نے جس طرح اسلام کی تبلیغ واشاعت اور دین حق کی صیانت وحفاظت میں رسول اللہ ﷺ کی بھر پور نصرت و حمایت کی اور آپ ﷺ کی رفاقت کا حق ادا فرمایا ، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی صحبت بافیض سے گہری بصیرت ، دین کا فہم صحیح اور عمیق علم بھی حاصل کیا اور اس اعتبار سے بھی ان کا درجہ و مقام بعد میں آنے والی امت سے بدرجہا بلند و بالا ہے ، اسی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوا کہ صحابہ کے فتاوی اور اقوال و افعال کی قانونی حیثیت کیا ہے ؟
شافعی نقطۂ نظر
اس سلسلہ میں فقہاء کے جو مذاہب نقل کئے گئے ہیں ، ان کی تفصیل اس طرح ہے :
۱- کہا جاتا ہے کہ امام شافعیؒ کے قول جدید کے مطابق قول صحابی حجت نہیں :
’’الشافعی فی الجدید أنہ لا یجوز مطلقاً ‘‘ (۱۷)
لیکن حقیقت یہ ہے کہ امام شافعیؒ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں معلوم ہوتی ، علامہ ابن قیم ؒنے بھی امام شافعیؒ کی طرف اس نسبت کو نا درست قرار دیا ہے ۔ (۱۸ )
مصادر شریعت میں ایک آثار صحابہ بھی ہے ، صحابہ کے ایسے فتاوی جو قیاس کے قبیل کے نہ ہوں ، غالب گمان یہ ہے کہ وہ کسی سنت ہی پر مبنی ہوںگے ؛ اس لئے فقہاء کے درمیان آثارِ صحابہ کے حجت ہونے اور نہ ہونے کے سلسلہ میں اختلاف پیدا ہوگیا ، امام شافعیؒ کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ ابتداء ًآثار صحابہ کو حجت مانتے تھے ؛ لیکن بعد میں آپ کی رائے بدل گئی تھی اور آپ اس کو حجت تسلیم نہ کرتے تھے ، امام نووی ؒنے امام شافعی ؒکے نقطۂ نظر کو وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے ، فرماتے ہیں :
جب صحابی کا کوئی رائے ہو ، دوسرے صحابہ سے اختلاف منقول نہ ہو اور صحابی کا وہ قول مشہور نہ ہوا ہو تو یہ اجماع نہیں ؛ لیکن کیا وہ حجت بھی ہے ؟ اس سلسلہ میں امام شافعیؒ سے دو رائیں منقول ہیں ، صحیح اورجدید قول یہ ہے کہ حجت بھی نہیں ، قول قدیم کے مطابق حجت ہے ، پس اگر ہم صحابہ کے ایسے اقوال کو حجت مان لیں تو وہ قیاس پر مقدم ہوگا … اگر صحابہ کے درمیان اختلاف رائے ہو تو قول قدیم کے مطابق دونوں اقوال متعارض دلیل سمجھے جائیںگے اورایک کو دوسرے پر اس بنیاد پر ترجیح دی جائے گی کہ صحابہ کی زیادہ تعداد کس رائے کی حامی ہے ؟ (۱۹ )
اس عاجز کا خیال ہے کہ یہ بات جو امام نووی ؒنے کہی ہے اور عام طور پر علماء اُصول کے درمیان معروف ہے ، محل نظر ہے اور خود امام شافعیؒ کی تحریروں سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی ، امام شافعیؒ الرسالہ میں فرماتے ہیں :
میں کہتاہوں کہ ایک صحابی کے قول کی بھی اتباع کی جائے گی ، بشرطیکہ کتاب اللہ ، سنت ِرسول ، اجماع اور اس کے ہم درجہ حکم کا ماخذ یا قیاس نہ پایا جائے ؛ لیکن ایسا کم ہوتا ہے کہ کسی صحابی سے ایسی رائے منقول ہو کہ دوسرے صحابی نے اس سے اختلاف نہ کیا ہو ۔ (۲۰ )
امام شافعیؒ کی’’ کتاب الام ‘‘جس کو ان کے قول جدید کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے ، اس میں ایسے بہت سے احکام موجود ہیں ، جن میں امام شافعیؒ نے محض آثار صحابہ سے استدلال کیا ہے ، مثلاً : ان کے نزدیک یمین لغو کا مصداق وہ قسمیہ کلمات ہیں ، جو بے ساختہ زبان پر آجائیں اوراس کے لئے دلیل صرف حضرت عائشہ ؓکا فتوی ہے :
’’ أما الذي نذھب إلیہ فہو ما قالت عائشۃ‘‘ (۲۱ )
بڑھاپے کی وجہ سے جو شخص روزہ نہ رکھ سکے ، امام شافعیؒ اس پر فدیہ واجب قرار دیتے ہیں اور اس پر حضرت انس ؓ کے عمل سے استدلال کرتے ہیں ۔ (۲۲ )
اس لئے امام شافعیؒ کی طرف آثار صحابہ کو حجت نہ ماننے کی نسبت صحیح نظر نہیں آتی ، اصل یہ ہے کہ امام شافعیؒ کسی حدیث نبوی کی موجودگی میں آثار صحابہ کو حجت نہیں سمجھتے :
إن کان یرویٰ عمّن دون رسول اللّٰه حدیث یخالفہ لم التفت إلیٰ ما خالفہ وحدیث رسول اللّٰه أولیٰ أن یؤخذ بہ ۔
دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ امام شافعی ؒکو جن دو جماعت فقہاء — حنفیہ اورمالکیہ — سے سابقہ پیش آیا ، وہ دونوں ہی بعض حالات میں آثار صحابہ کو خبر واحد پر ترجیح دے دیا کرتے تھے ، امام شافعیؒ کو اس طریقۂ ترجیح سے سخت اختلاف تھا اور انھوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس پر شدید نقد کیا ہے ، مثلاً حدیث میں ہے کہ پانچ وسق سے کم مقدار غلہ میں عشر واجب نہیں ، احناف اس پر عامل نہیں ہیں اور اپنے موقف پر کتاب و سنت کے عموم اوربعض صحابہ کے آثار سے استدلال کرتے ہیں ، امام شافعیؒ نے اس پر نقد کیا ہے۔ (۲۳ )
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بلی کا جھوٹا ناپاک نہیں ہے ، حنفیہ حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کے اثر سے استدلال کرتے ہیں کہ بلی کے جھوٹے سے وضو مکروہ ہے ، امام شافعی ؒ نے اس کو حدیث کی مخالفت قرار دیا ہے ۔ (۲۴ )
اسی طرح کی تنقیدیں آپ نے مالکیہ پر بھی کی ہیں ؛ بلکہ مالکیہ کے یہاں چوںکہ آثار صحابہ سے استدلال زیادہ ہے ؛ اس لئے ان پر آپ کی تنقید کا لب و لہجہ بھی ذرا تیکھا ہے ، فرماتے ہیں :
عن ابن عمر أنہ کان إذا اغتسل من الجنابۃ نضح في عینیہ الماء ، قال مالک : لیس علیہ العمل ، قال الشافعي : ھذا مما ترکتم علی ابن عمر ولم ترووا عن أحد خلافہ ، فإذا وسعکم الترک علی ابن عمر لغیر قول مثلہ لم یجز لکم أن تقولوا قولہ حجۃ علی مثلہ ۔ (۲۵ )
ابن عمر ؓسے مروی ہے کہ جب غسل جنابت فرماتے تو آنکھوں میں بھی پانی بہاتے ، امام مالکؒ کہتے ہیں کہ ابن عمرؓ کی اس رائے پر عمل نہیں ہے ، امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ یہ اس بات کی مثال ہے کہ تم لوگ ابن عمر ؓکی رائے کو چھوڑتے ہو ؛ حالاںکہ کسی صحابی سے اس کی مخالف رائے بھی تم نے نقل نہیں کی ہے ، تو جب تم ابن عمرؓ کی رائے کسی صحابی کے اختلاف کے بغیر ترک کرسکتے ہو تو پھر دوسرے صحابی کے مقابلہ ان کی رائے کو کیوںکر حجت قرار دے سکتے ہیں ؟
اس لئے اس عاجز کا خیال ہے کہ آثار صحابہ امام شافعیؒ کے نزدیک بھی حجت ہیں ؛ البتہ یہ اس کو خبر واحد پر ترجیح نہیں دی جاسکتی، واللہ اعلم ۔
۲- دوسری رائے یہ ہے کہ اگر صحابی کی یہ رائے اس کے عہد میں مشہور ہوگئی ہو ، تب وہ حجت ہوگی ، ورنہ نہیں ، امام غزالی ؒ، علامہ آمدی ؒاور رازی وغیرہ نے امام شافعی ؒکا یہ قول نقل کیا ہے ۔ (۲۶ )
مالکی و حنبلی نقطۂ نظر
۳- فقہاء حنابلہ سے اس سلسلہ میں مختلف اقوال منقول ہیں ، قول راجح یہ ہے کہ صحابہ کا قول حجت ہے اور اس کی تقلید واجب ہے ؛ چنانچہ علامہ نجم الدین طوفی حنبلی فرماتے ہیں :
الثاني : قول صحابي لم یظہر لہ مخالف حجۃ یقدم علی القیاس ویخص بہ العام ، وھو قول مالک وبعض الحنفیۃ خلافا لأبي الخطاب وجدید الشافعي وعامۃ المتکلمین ۔ (۲۷ )
طوفی کی صراحت سے معلوم ہوا کہ یہی حضرات مالکیہ کی بھی رائے ہے ؛ چنانچہ اکثراہل علم نے مالکیہ سے نقل کیا ہے کہ صحابی کے اقوال قیاس پر مقدم ہیں ، یہی نقطۂ نظر حنفیہ میں ابوبکر جصاص رازی ؒاور ابو سعید بردعی ؒوغیرہ کا ہے ، (۲۸)رازی نے بواسطہ کرخی نقل کیا ہے کہ میں امام ابویوسف ؒکو بعض مسائل کے بارے میں دیکھتا ہوں کہ کہتے ہیں : قیاس تو یہ ہے ؛ لیکن میں نے اس کو قول صحابی کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے :
القیاس کذا إلا أني ترکتہ للأثر وذٰلک الأثر قول واحد من الصحابۃ ۔ (۲۹)
حنفیہ کا نقطۂ نظر
۴- حنفیہ کی رائے میں کچھ تفصیل ہے :
(الف) جن مسائل میں قیاس و اجتہاد کی گنجائش نہیں ، ان میں صحابی کا قول بالاتفاق حجت ہے ؛ کیوںکہ جب اس مسئلہ میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے تو ضرور صحابی نے یہ رائے کسی نص کی بنیادپر قائم کی ہوگی ؛ چنانچہ امام سرخسیؒ فرماتے ہیں :
ولا خلاف بین أصحابنا المتقدمین والمتأخرین أن قول الواحد من الصحابۃ حجۃ فیما لا مدخل للقیاس في معرفۃ الحکم فیہ ۔ (۳۰ )
امام سرخسیؒ نے اس کی بہت سی مثالیں نقل کی ہیں ، جیسے مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم کا ہونا ، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جسے ہم نے لیا ہے ، حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہوگی ، اس میں حضرت انس ؓ کا قول لیا گیا ہے ، نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہوگی ، اس میں حنفیہ نے عثمان بن ابی العاص ؓ کے قول کو لیا ہے ، اپنی فروخت کی ہوئی چیز کو قیمت کی ادائیگی سے پہلے ہی خریدار سے کم قیمت پر خرید کرنا جائز نہیں ،یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے اور حنفیہ نے اسے اختیار کیا ہے ، کوئی شخص اپنی اولاد کو ذبح کرنے کی نذر مان لے تو اس کی جگہ اس کو بکرا ذبح کرنا چاہئے ، یہ عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے ، جس پر احناف کا عمل ہے ۔ (۳۱)
(ب) جو مسائل قیاسی و اجتہادی ہوں تو اس میں صحابہ کے قول کی کیا حیثیت ہوگی ؟ اس سلسلہ میں اختلاف ہے ، امام کرخی کی رائے ہے کہ ان مسائل میں صحابی کا قول حجت نہیں ؛ کیوںکہ ممکن ہے کہ صحابی نے یہ بات اپنے اجتہاد سے کہی ہو ، اور ابو سعید بردعی ؒکے نزدیک ایسے مسائل میں بھی صحابی کا قول حجت ہے ، اور وہ قیاس سے مقدم ہوگا ۔
عام طور پر حنفیہ کا عمل ابو سعید بردعی ؒکے قول پر ہے ، سرخسی ؒنے اس کی بہت سی مثالیں نقل کی ہیں ، قیاس کا تقاضہ یہ تھا کہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا ، غسل جنابت اور وضو دونوں میں سنت ہو ؛لیکن احناف نے عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کی بنیاد پر ان کو غسل میں واجب اوروضو میں سنت قرار دیا ، قیاس کا تقاضا ہے کہ خون زخم کے اوپر نکل آئے او ر نہ بہہ پائے تو بھی وہ ناقض وضو ہو ؛ لیکن عبد اللہ بن عباس ؓکے قول کی وجہ سے قیاس کو چھوڑتے ہوئے اس کو ناقض وضوء نہیں قرار دیا ، مرضِ وفات میں وارث کے لئے دَین کا اقرار کیا جائے تو قیاس کا تقاضا ہے کہ جائز ہو ؛ لیکن عبد اللہ بن عمر ؓ کے قول کی بناء پر اس اقرار کو نامعتبر قرار دیا گیا ، اگر اس طرح خرید وفروخت کا معاملہ طے پائے کہ اگر خریدار نے تین دنوں تک قیمت ادا نہیں کی ، تو معاملہ ختم ہوجائے گا تو قیاس کا تقاضہ ہے کہ یہ صورت جائز نہ ہو ؛ لیکن امام ابو حنیفہ ؒاو ر امام ابویوسفؒ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر ؓ کے قول کی بناء پر ہم نے اس معاملہ کو درست قرار دیا ہے ۔ (۳۲ )
حقیقت یہ ہے کہ خود امام ابو حنیفہؒ سے ان کے طریقۂ اجتہاد کی جو تفصیل منقول ہے ، اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب کتاب و سنت کے بعد صحابہ کے فتاوی کو مطلقاً حجت مانتے تھے اور ایک مستقل دلیل شرعی کی حیثیت سے اس کو پیش نظر رکھتے تھے؛ چنانچہ فرماتے ہیں :
میں اولاً کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتاہوں ، اس میں نہ ملے تو حدیث کی طرف ، دونوں میں نہ ملے تو صحابہ کے اقوال سے اخذ کرتا ہوں ، ان میں سے جن کی رائے چاہتاہوں قبول کرتاہوں ، اور جسے چاہتاہوں چھوڑ دیتاہوں ، اور ان کے اقوال سے کسی دوسرے کی طرف رجوع نہیں کرتا ، پھر جب معاملہ ابراہیم نخعی ، شعبی ، ابن سیرین ، حسن ، عطاء اور سعید بن مسیب تک پہنچتا ہے ، تو وہ بھی اجتہاد کرتے تھے ، اور میں بھی اجتہاد کرتاہوں ۔ (۳۳ )
اسی سے ایک دوسرا مسئلہ یہ متعلق ہے کہ اگر کوئی حدیث عام ہو تو کیا صحابی کے قول وفعل سے اس میں تخصیص ہوسکتی ہے ، یعنی بعض افراد کا اس حکم سے استثناء کیا جاسکتا ہے ، اس سلسلہ میں دو نقاط نظر ہیں ، ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ چوںکہ قول صحابی بھی حجت و دلیل ہے ؛ اس لئے اس کی وجہ سے حدیث کے عمومی حکم میں تخصیص کی جاسکتی ہے ، دوسری رائے اس کے برخلاف ہے ، (۳۴) دوسرا قول امام شافعیؒ وغیرہ کا ہے اور پہلا احناف او ر حنابلہ کا ، (۳۵ ) امام مالکؒ کے طریقۂ اجتہاد سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ قول صحابی کی بناء پر حدیث کے عمومی مفہوم میں تخصیص کو درست سمجھتے تھے ، یہ ایک بنیادی اور اہم مسئلہ ہے اور اس سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے کم علم لوگوں کو ائمہ مجتہدین کے بارے میں غلط فہمی ہوتی ہے ، اور صحابہ کے اقوال و فتاویٰ پر نظر نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان کی رائے کو خود رائی پر مبنی تصور کرنے لگتے ہیں ، اگر یہ پہلو ذہن میں رہے کہ صحابہ نے براہ راست رسول اللہ ﷺ سے دین کو حاصل کیا ہے اوروہ ورع و تقویٰ اورخشیت الٰہی میں پوری اُمت پر فائق ہیں ؛ اس لئے اگر کسی حکم شرعی سے واقف ہونے کے باوجود ان کا فتویٰ یا عمل بظاہر اس کے خلاف جاتا ہو تو ضرور ہے کہ انھوں نے حضور ﷺسے سیکھ کر اور آگہی حاصل کرکے ہی یہ عمل کیا ہوگا ، تو وہ بدگمانی پیدا نہ ہو ، جس میں آج کل مسلمانوں کا ایک کم علم گروہ مبتلا ہے ۔
مثلاً : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب نماز کھڑی ہوجائے تو اس فرض کے سوا کوئی اور نماز نہ پڑھی جائے ؛ لیکن حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ، حضرت ابو الدرداء ؓ ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ کے بارے میں صحیح حدیثیں موجود ہیں کہ انھوں نے مسجد کے دروازہ پر یا مسجد کے کسی گوشے میں یا صفوں سے ہٹ کر نماز ادا فرمائی ، پھر جماعت میں شریک ہوئے ؛ (۳۶ ) چنانچہ حنفیہ اور بعض دوسرے فقہاء نے ان صحابہ کے آثار کی بنیاد پر یہ رائے قائم فرمائی کہ اگر جماعت کے بالکلیہ فوت ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو تو جماعت کی جگہ سے ہٹ کر سنت ِفجر کا ادا کرلینا بہتر ہے ۔
اسی طرح حدیث میں جمعہ کی فرضیت کا حکم عام ہے ؛ لیکن حضرت علیؓ کا فتوی موجود ہے کہ جمعہ و عیدین شہر سے متعلق عبادتیں ہیں ؛ چنانچہ حنفیہ نے اسی بنیاد پر نماز جمعہ کے لئے شہر کی شرط لگائی ہے ، یہ حدیث کے مقابلہ رائے پر عمل کرنا نہیں ہے ؛ بلکہ قول صحابی —جو خود بھی حدیث کے درجہ میں ہے — کی بنیاد پر حدیث کے ایک عمومی حکم میں تخصیص ہے اور یہ اس حسن ظن کی بنیاد پر ہے کہ یہ جماعت ِصحابہ ؓ براہ راست رسول اللہ ﷺ کی تربیت یافتہ ہے ؛ اس لئے ان کے اقوال وافعال منشا ٔ نبوی ﷺ کے ہی ترجمان ہیں ’’ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ورضوا عنہ ‘‘ ۔
= = =
حواشی:
۱۔مجمع الزوائد : ۱۰؍۲۰
۲۔مقدمہ ابن صلاح : ۱۲۵ ، النوع التاسع والثلاثون ، الفیۃ مصطلح الحدیث للعراقی : ۱۷۴
۳۔التقید والایضاح : ۲۸۳
۴۔صحیح مسلم ،کتاب فضائل الصحابۃ ، حدیث نمبر : ۲۵۳۸
۵۔مقدمہ ابن الصلاح : ۱۲۵ ، علوم الحدیث ومصطلحہ للدکتور صجی المحمصانی : ۵۳ ۳- ۳۵۲
۶۔الفیۃ العراقی : ۱۷۴
۷۔مقدمہ ابن الصلاح : ۱۲۸
۸۔خلاصۃ الفتاویٰ : ۴؍۳۸۱
۹۔الفتح : ۱۸
۱۰۔معرفۃ علوم الحدیث : ۲۹ – ۳۱
۱۱۔مقدمہ ابن صلاح : ۱۲۷
۱۲۔مجمع الزوائد : ۱۰ ؍ ۲۰ ، مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ
۱۳۔صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۲۵۴۰ ، بخاری ، حدیث نمبر : ۳۶۷۳
۱۴۔خلاصۃ الفتاویٰ : ۴؍۳۸۱
۱۵۔الشرح الصغیر : ۴؍۴۴۴
۱۶۔حاشیہ صاوی علی الشرح الصغیر : ۴؍۴۴۴ – ۴۴۳
۱۷۔نہایۃ السول للا ٔسنوی : ۳۶۷
۱۸۔دیکھئے : اعلام الموقعین : ۴؍ ۱۲۰ – ۱۲۱
۱۹۔شرح مہذب : ۱؍۵۸
۲۰۔الرسالۃ : ۵۹۸
۲۱۔الام : ۷؍۲۴۲
۲۲۔الأم : ۷؍۲۴۵
۲۳۔الأم : ۷؍۱۹۴- ۱۹۵
۲۴۔الأم : ۷؍۱۴۷
۲۵۔الرسالۃ : ۵۰۷
۲۶۔نہایۃ السول : ۳۶۷
۲۷۔شرح مختصر الروضۃ : ۳؍۱۸۵ ، نیز دیکھئے : الواضح فی اصول الفقہ لابن عقیل حنبلی : ۲؍۳۸
۲۸۔الأحکام للآمدی : ۴؍۲۰۱
۲۹۔أصول السرخسی : ۲؍۱۰۵
۳۰۔أصول السرخسی : ؍۱۱۰
۳۱۔أصول السرخسی : ؍۱۱۰
۳۲۔أصول السرخسی : ؍۱۰۶
۳۳۔تاریخ بغداد : ۱۳؍ ۳۶۸
۳۴۔الواضح فی اصول الفقہ : ۲؍۴۱
۳۵۔الاحکام فی أصول الأحکام : ۲؍۳۵۸
۳۶۔دیکھئے : آثار السنن ، باب من قال یصلی سنۃ الفجر عند اشتغال الامام بالفریضۃ خارج المسجد