مسلمانوں میں سوانح وتذکرہ نگاری کی تاریخ پر ایک نظر

مسلمانوں میں سوانح وتذکرہ نگاری کی تاریخ پر ایک نظر

                                                                   مولاناطلحہ نعمت ندوی

                                                                   (استھاواں ،بہارشریف)

انسانی تاریخ میں ایام گذشتہ کی یاد اور بزرگان پیشیں کے ناموں اور کاموں کے تذکرہ کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے،بالخصوص جب کوئی شخصیت مذہبی یا سیاسی ہو تو پھر ا س کے حالات وواقعات کو جاننے اور آئندہ نسلوں کو سنانے کا شوق مزید بڑھ جاتا ہے ،قرآن کریم نے بھی انبیاء کے ذکر و توصیف میںوترکنا علیہ ذکر اً فی الآخرین جیسی چند آیات ذکر کی ہیں ۔

ماقبل عہد تاریخ کے رجال واہل کمال کے جو حالات ہمارے سفینہ علم میں ہیں وہ زیادہ تر مذہبی نوشتوں اور صحیفوں کے رہین منت ہیں ،اور زیادہ تر مذہبی شخصیات اور انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے حالات ہیں ۔اسلامی تاریخ ونظریہ کے مطابق ماقبل تاریخ کا دور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کا دور قرار دیا جاسکتا ہے جس کے حالات جو کچھ معلوم ہیں وہ عہد براہیمی کے بعد کے آسمانی صحیفوں کی یادگار ہیں ۔سیاسی مشاہیر ،سلاطین وحکام کے حالات بھی ہمیں بیشتر انہیں نوشتوں کے ذریعہ معلوم ہوتے ہیں ،کچھ برآمد شدہ آثار سے ان میں اضافہ ضرور کیا گیا ہے لیکن ان میں بڑی تعداد کی حیثیت ظن وقیاس سے زیادہ نہیں ۔

عہد براہیمی کے بہت بعد کا کچھ تاریخی سرمایہ ہمارے ہاتھوں میں ہے جن میں یونان وروما کے عہد عروج کی داستانیں اور کچھ ان کے باکمالوں کے حالات ہیں ،جو پانچ چھ صدی قبل مسیح سے آگے نہیں بڑھتے ۔تقریبا پانچویں صدی قبل مسیح میں یونانی مورخ ہیرودٹس نے اپنی کتاب لکھی جو تاریخ کی پہلی کتاب تسلیم کی جاتی ہے اور اس کو ابوالتاریخ کے لقب سے یادکیا جاتا ہے۔اس کے بعد پھر بادشاہوں کی سوانح عمریاں لکھی جاتی رہیں ،چنانچہ تیسری صدی میںیونانی مصنف پلوٹارک (موت:۱۲۰ء)نے متوازی زندگیاں لکھی ،جس میں یونا ن وروما کے بہت سے اہل کمال کا ذکر ہے،اس کی مشاہیر یونان وروما کئی جلدوں میں ہے ۔اس کے بعد یا اسی کے قریب تیسری ہی صدی عیسوی میں طبقات الفلاسفہ لکھی گئی جس کا مصنف دیوجانس لیرتیوس تھا(۱) ۔اس کے علاوہ وہاں کے اہل کمال کے تذکرہ میں اور بھی کتابیں لکھی گئیں جن کا ذکر ابن الندیم کے یہاں ملتا ہے۔

اسی دور میں ہندوستان میں بدھ مذہب کو فروغ ہوا ،اور ساتھ ساتھ یہاں تہذیبی ترقی بھی ہوئی لیکن گیارہویں صدی عیسوی (پانچویں صدی ہجری )سے قبل نہ یہاں کے باکمالوں کی کوئی تاریخ ملتی ہے ،نہ ہی کسی حکومت کا باضابطہ ذکر ہے ،بعد میں جو تاریخیں مرتب کی گئیں ان کے بنیادی مآخذ مذہبی کتب ،ادبی کتابوں کے ضمنی اشارات اور کھدائی سے برآمد آثار ہیں ،اور کچھ بیرونی سیاحوں کے بیانات ہیں۔ہندوستان کے برہمنوں کی تاریخ میں بھی کوئی قدیم تحریری سرمایہ دستیاب نہیں ۔

اسلام کا آفتاب جب طلوع ہوا تو ایک مدت تک بیرونی دنیا کے اثرات سے محفوظ رہا اور اس دوران یہاں تاریخ وتذکرہ کا آغاز ہوچکا تھا ،اگرچہ عام مورخین کا کہنا ہے کہ عرب میں تعلیم کا رواج نہیں تھا اس لئے تاریخ نگاری کا تو کہیں امکان ہی نہیں ہوسکتا تھا ،لیکن ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تحقیق ہے کہ مکہ میں تاریخ نگاری کا پورا شعبہ موجود تھاجس طرح وہاں ایک شہر ی نظام قائم تھا ،اور یہ نظام دارالندوہ کے تحت تھا ۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ،’’سیندھش من لا یعرف تراثہ اذا ذکرت لہ ،فی مکۃ قبل الاسلام کانت وزاۃ خاصۃ للمسائل التاریخیۃ ‘‘(۲)یعنی جو لوگ اپنی تاریخی روایات اور علمی ورثہ سے ناواقف ہیں ان کومیرا یہ انکشاف سن کر حیرت ہوگی کہ مکہ میں اسلام سے قبل تاریخ نگاری کا پورا محکمہ موجود تھا ‘‘۔ڈاکٹر صاحب اس طرح کی اطلاعات کے لئے عام طور پر ابن حبیب کی المحبر کا حوالہ دیتے ہیں جو قریش کے ابتدائی دور کے حالات کا بہت ہی مستند ماخذ ہے،اور ڈاکٹر صاحب نے ہی اسے اپنی تحقیق سے شائع کیا ہے۔

اسلام کے آغاز کے ساتھ ہی قرآن پاک نے گذشتہ انبیاء اور مومنین کے واقعات سنانے کا آغاز کیا ،اور رسول پاک علیہ السلام نے بھی الہامات ربانی سے بہت سے واقعات بتائے جو آج تاریخ کا سب سے مستند سرمایہ ہیں ،کیوں کہ قرآن پاک کے تاریخی اعتبار سے دنیا کی صحیح ترین کتاب ہونے کا اعتراف اس کے مخالفین کو بھی ہے ،نیز احادیث نبوی پر جو محنت ہوئی اس کا بھی سب کو اقرار ہے ۔مولانا سید مناظر احسن گیلانی کا یہ جملہ بالکل بجا ہے کہ حدیث تمام تاریخی سرمایہ میں سب سے صحیح ترین سرمایہ ہے۔لہذا باضابطہ تذکرہ نگاری اور سوانح نگاری اسلام ہی کی دین ہے۔ڈاکٹرمحمد حمید اللہ نے اس کے بعداپنی مذکورہ تحریر میں مسلمانوں کی تاریخ نگاری کے امیازات ذکر کئے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ تاریخ نگاری کے لئے مسلمانوں نے شواہد کو لازمی قرار دیا جب کہ اس سے قبل یہ تصور نہیں تھا۔ (۳)

رسول پا ک علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے حالات وواقعات اور تعلیمات کو محفوظ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوا ،پھر ان کے اصحاب کے حالات کو محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا گیا ،تاکہ صحیح وغلط کی پرکھ ہوسکے ،پھر جن لوگوں نے یہ روایتیں بیان کیں ان سب کے حالات زندگی کی تحقیق کی گئی ،اس طرح لاکھوں لوگوں کے حالات زندگی محفوظ ہوگئے ،جن کے اعتماد واستناد میں آج کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔یہ مسلمانوں کی ایک دینی ضرورت بھی تھی ،چنانچہ ابتدائی دور سے اہل اسلام کے حالات کو جاننے اور محفوظ رکھنے کے لئے جو فن وجود میں آیا وہ اسماء الرجال کے نام سے معروف ہوا ۔اس دور میں تاریخ کے نام سے جو کتابیں مرتب ہوئیں ان میں ہر فرد کے متعلق اس کی تاریخ وفات اور تاریخ ولادت قلمبندکی گئی ،اس کے ساتھ رسول پاک علیہ السلام کی زیارت یا عدم زیارت کا بھی تذکر ہ کیا گیا ،اوراس کے عادات واخلاق بھی تحقیق کرکے محفوظ کئے گئے ،اس طرح اس میں وسعت پیدا ہوتی رہی ،مزید معلومات بھی محفوظ کی جانے لگیں پھر ،صحابہ کے تذکرہ پر مستقل کتابیں لکھی گئیں،چنانچہ پہلے التاریخ یا التاریخ الکبیر جیسے عناوین سے اسی طرح کے مباحبث کو قلمبند کیا گیا اس کے بعد طبقات کے عنوان سے کتابوں کا آغاز ہوااور اس طرح اسلام میں تذکرہ نگاری کی ایسی شاندار روایت وجود میں آئی جو دنیا کی کسی قوم کی تاریخ میں نہیں تھی ،اور ایک دیڑھ صدی کے اندر اس فن میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ،جب کہ اس وقت تک کسی یونانی کتاب کا ترجمہ بھی نہیں ہوا تھا ۔

احادیث کی تدوین کے ساتھ سیرت نبوی کی تدوین کا کام بھی بالکل ابتدائی دور میں ہی شروع ہوچکا تھا جس کے لئے اس وقت مغازی کی اصطلاح رائج تھی اور ایک مستقل فن کی حیثیت سے اس کا درس بھی ہوتا تھا ۔چنانچہ ایک روایت کے مطابق مشہور تابعی حضرت عروہ ابن زبیر نے مغازی اور سیرت پر سب سے پہلی کتاب لکھی تھی ،لیکن علامہ سہیلی کے مطابق امام زہری اس فن کے سب سے پہلے مصنف ہیں ۔پھرمعمر بن راشد(م ۱۵۳ھ) ،اور وہب بن منبہّ(۱۱۰ھ) ،اس فن کے ابتدائی مصنفین میں ہیں ،پھرابن اسحاق ،موسی بن عقبہ اوران کے بعد واقدی کے نام اس حوالے سے اہم ہیں۔(۴)

اسی کے ساتھ تاریخ نگاری کا کام بھی بالکل ابتدائی دور میںشروع ہوچکا تھا چنانچہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے گذشتہ ملوک وسلاطین یمن کے واقعات قلمبند کرائے اور پابندی کے ساتھ ان کو سننے کا اہتمام کیا ،چنانچہ عبید بن شریہ (م ۶۸ھ)نے ان کے حکم سے کتاب لملوک واخبار الماضین لکھی ۔اسی کے ساتھ اسی دور میں ان حضرات کے حالات بھی قلمبند ہوئے ،چنانہ عوانہ بن الحکم الکلبی (۱۴۷ھ)نے سیرۃ معاویۃ وبنی امیہ لکھی ،ابن اسحاق (۱۵۱ھ)کی کتاب الخلفاء وجود میں آئی ،اس کے علاوہ ابن اسحاق نے اور بھی کتابیں لکھیں ،جن میں آغاز عالم کی تاریخ پر ان کی کتاب المبتدا والمغازی مشہور ہے ،۔ابن الندیم نے ان مذکورہ بالا لوگوں کے علاوہ اور بھی لوگوں کا ذکر کیا ہے ،چنانچہ ابتدائی دور کے مصنفین تاریخ میں اس نے ابوالفضل نصر بن مزاحم اور اسحاق بن بشر کاذکر کیا ہے ،اور ابو محنف لوط بن یحییٰ (۱۵۷ھ)کی بہت سی کتابوں کا ذکر کیا ہے جو عہد خلافت اور عہد اموی کے ہر ہر جزو پر تھیں ۔(۵) شاید ان کتابوں کو عہد اسلا می میں سوانح نگاری کی اولین کوشش قراد دے سکتے ہیں لیکن اب وہ محفوظ نہیں ہیں بلکہ طبقات ورجال کی کتابوںمیں ضم ہوگئیں۔وہب بن منبہ نے بھی سلاطین حمیر کے حالات میں ایک کتا ب لکھی تھی ۔ (۶) امیر معاویہ کے بعد ہشام نے بھی تاریخ کی ایک فارسی کتاب کا عربی میں ترجمہ کروایا تھا (۷)۔اس کے علاوہ بھی عرب کی تاریخ کے بہت سے اہم پہلؤوں پر دو تین صدیوں میں بڑا سرمایہ منظر عام پر آیا،جس میں تذکرہ کے ساتھ انساب بھی پیش نظر تھے ،انساب کے ماہرین میں ابن سیرین ،سعید بن المسیب اور محمد بن سائب کلبی کے نام اہم ہیں ،خاص طور پر کلبی نے بہت سے اہم مباحث پر کتابیں لکھیں ،ان کی تفصیل ابن الندیم کی الفہرست(جلد دوم المقالۃ الثالثہ) میںدیکھی جاسکتی ہے۔

علاقوں کی تاریخ کا کام بھی اسی کے ساتھ شروع ہوا،چنانچہ دینی ضرورت اور حضور پاک علیہ الصلاۃ والسلام سے تعلق کے پیش نظر مکہ اورمدینہ کے احکام کے ساتھ ان کی تاریخ جاننے کا بھی شوق پیدا ہوا اور شہروں کی تاریخ میں سب سے پہلے انہی دونوں شہروں کی تاریخ لکھی گئی ، سب سے پہلے مدینہ منورہ کی تاریخ لکھی گئی ،امام مالک کے ایک شاگرد محمد بن الحسین بن زبالہ نے تاریخ مدینہ ۱۹۹ھ میں مکمل کرلی تھی ،اور ایک مدت تک باقی رہی لیکن اب اس کا سراغ نہیں ملتا ۔(۸)

اسی طرح ابوالولید احمد بن محمد بن الولید غسانی (متوفیٰ ۲۱۹ھ) نے مکہ کی تاریخ پر مواد جمع کیا ،لیکن اس میں ہر طرح کی قدیم باتیں اور رطب ویابس شامل ہوگئی تھیں ،اور زیادہ تر ماقبل اسلام سے متعلق زبانی روایات تھیں ،ان کے پوتے ابوالولید محمد بن عبداللہ ازرقی (م بعد ۲۴۴ھ) اس کتاب کی ترتیب وتہذیب کی ،پھر بعد میں اس پر کام ہوتا رہا ۔(۹)

اس طرح تاریخ وتذکرہ نگاری کا کام ساتھ چلتا رہا ،یہاں ہمیں صرف تذکرہ وسوانح کی کتابوں پر روشنی ڈالنی ہے اس لئے تاریخ کی کتابوں کا ذکر قلم اندازکرتے ہیں ۔

راویان حدیث پر جو کتابیں منظر عام پر آئیں ،وہی تذکرہ نگاری کا اولین نقش کہی جاسکتی ہیں ،لیکن ان میں علم حدیث کے متعلقہ مباحث پر زیادہ توجہ مرکوز تھی ،لیکن اس کے ساتھ جلد ہی کتب طبقات پھر کتب وفیات کا سلسلہ شروع ہوگیا ،اس کے بعد علاقائی تاریخیں لکھی گئیں ۔مغازی وسیر کے عنوان سے جو کتابیں منظر عام پرآئیں ان کو سیرت وسوانح نگاری کا اولین سرمایہ کہہ سکتے ہیں ،جن میں ابن اسحاق ،واقدی اور ابن عقبہ کی مغازی بہت ہی اہم ہے۔اس کے ساتھ ہی انساب کے ذیل میں بہت سے لوگوں کے حالات بھی لکھے گئے اور ان کے ذریعہ سے بھی سوانح نگاری کو فروغ ملا ،جن میں بلاذری کی انساب الاشراف کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی ۔

اولین کوشش کی تعیین عام طور پر مصنف کے سنہ وفات ہی سے کی گئی ہے ،کیوں کہ اس دور میں تصانیف میں تاریخ تصنیف یا تاریخ اشاعت درج کرنے کا معمول نہیں تھا ،نہ مصنفین اپنی تصانیف کا زیادہ ذکر کرتے تھے اس لئے بعد کے مورخین نے تاریخ وفات کے ذریعہ ہی عہد کی تعیین کی ہے ۔۱۹۸۰ میں مصر کے دارالمعارف سے محمد عبدالغنی حسن کی تصنیف التراجم والسیر شائع ہوئی تھی جس میں کتب تذکرہ وسوانح اور تراجم کا تعارف کرایا گیا ہے ،اس کے مطابق اس موضوع کی یہ اولین کوشش ہے جس میں عربی میں کتب تذکرہ وتراجم اور سوانح نگاری کا جائزہ لیا گیا ہے جب کہ عربی زبان میں اس موضوع پر جتنا وسیع سرمایہ ہے کسی اور زبان میں مشکل سے ملے گا ،اور مسلمانوں کے مقابلہ میں اس فن میں اہل مغرب کی کوششیں بہت معمولی ہیں ۔ ان کے یہاں یہ کوشش حال ہی میں شروع ہوئی ہے لیکن پھر بھی ان کے یہاں اس کی تاریخ بھی مرتب ہوگئی ،اور ابھی اس پر بہت زیادہ توجہ بھی ہے ۔

ان کے بقول تراجم کی سب سے اولین کتاب امام بخاری (م۲۵۶ھ)کی التاریخ ہے ،لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس سے پہلے بہت سی کتابیں منظر عام پر آچکی تھیں ،لیکن ان میں سے بیشتر محفوظ نہیں رہیں ،چنانچہ اسی دور میں لیث بن سعد (م۱۷۹ھ)کی التاریخ ،عبداللہ بن المبارک (م ۱۸۱ھ)کی التاریخ ،ضمرہ بن ربیعہ (م۲۰۲ھ)،فضل بن دکین (م۲۱۸ھ)،کی اسی عنوان کی کتابیں ،طبقات واقدی (م۲۰۷ھ)،طبقات من روی عن النبی ﷺ ہیثم بن عدی (م ۲۰۷ھ)ابوعبیدہ معمر بن المثنی کی تصنیف(م ۲۰۸ھ)،ا ور ابن سلام جمحی (م ۲۱۳ھ)کی طبقات الشعراء ، طبقات ابن سعد(م ۲۳۰ھ) کے علاوہ علی بن المدینی (م ۲۳۳ھ)،یحیٰ بن معین (۲۳۳ھ)ابن ابی شیبہ (م۲۳۵ھ )،سلیما ن بن داود شاذکونی (م۲۳۴ھ)خلیفہ بن خیاط (۲۴۰ھ)احمد بن حنبل (م۲۴۱ھ)کی تصانیف بھی منظر عام پر آچکی تھیں ،اسی دور میں ابوزرعہ دمشقی(م۲۲۸ھ) نے بھی تاریخی مواد میں بہت اہم اضافہ کیا ،چنانچہ ان کی کتاب الطبقات کا بھی ذکر ملتا ہے اور کتاب التاریخ کا بھی ،ممکن ہے کہ دونوں کتابیں ایک ہی ہوں ۔(۱۰)

یہ صرف امام بخاری  سے پہلے تک کی کتب رجال کا ذکر تھا ،جن میں اسانید کے ساتھ مختلف پہلؤوں سے رجال پر بحث کی گئی ہے ،لیکن ان کے بعد پانچویں چھٹی صدی تک جو کتب رجال مرتب ہوتی رہیں اور اس کے بعد سے اب تک سوانح اور تذکرہ نگاری کا جو سلسلہ چل رہا ہے اس کی اجمالی تاریخ کے لئے بھی مستقل کتاب کی ضرورت ہے ۔

اسی دور میں شیعہ علم الرجال پر بھی کئی کتابیں منظر عام پر آئیں ،چنانچہ ،عبداللہ بن جبلہ بن الحر الکنانی (م ۲۱۹ھ) کی کتاب الرجال ،الحسن بن علی بن فضال (م ۲۲۴ھ) کی کتاب الرجال ،احمد بن محمد ابوجعفر البرقی (م ۲۷۴ھ) کی کتاب الطبقات ،علی بن احمد العلوی (موجود ۲۹۸ھ) کی کتاب الرجال،احمد بن علی بن محمد العلوی العقیقی (؟؟)کی کتاب تاریخ الرجال ،سعد بن عبداللہ اشعری قمی (م۳۰۱ھ) کی کتاب مناقب رواۃ الحدیث ،اور کتاب مثالب رواۃ الحدیث ،حمد بن زیاد ابوالقاسم الدھقان (م ۳۱۰ھ ) کی کتاب الرجال اور کتاب من روی عن الصادق منظر عام پر آئیں ،اس کے بعد چوتھی صدی کے اخیر تک مزید بیسیوں کتابیں رجال شیعہ پر وجود میں آئیں جن کی تفصیل کے لئے دکتور اکرم ضیا عمر ی کی بحوث فی تاریخ السنہ المشرفہ (ص۱۶۱)(۱۱) ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔          

مذکورہ بالا کتب میں اصل تو علم الرجال پیش نظر تھا جن میں ابتدا میں ان کی ابتدائی معلومات کے ساتھ ان کی سچائی ودیانت داری کو زیر بحث لایا جاتا تھا ،لیکن آگے چل کر اسی فن نے تذکرہ نگاری کے لئے راہ ہموار کی ،بلکہ طبقات ابن سعد ،واقدی ، خلیفہ ابن خیاط اور دیگر مصنفین کی کتابوں میں تو صحابہ اور تابعین کے مفصل حالات کئی کئی صفحات میں ہیں جن میں ان کی زندگی کے تمام پہلؤوں کا احاطہ کیا گیا ہے اور بعد کے سوانح نگاروں کے لئے یہی کتابیں ماخذ بنیں ،آٹھویں نویں صدی کے بعد اسماء الرجال کی کوئی خاص ضرورت نہیں رہی تو اس موضوع پر تصنیف کا سلسلہ رک گیا، البتہ تذکرہ نگاری کی شاندار روایت قائم رہی اور اب بھی قائم ہے ۔

کتب وفیات کا سلسلہ بھی انہی ایام میں شروع ہوا اور وہ بھی تذکرہ نگاری ہی کی ایک صورت تھی ،اور وفات کی تفصیل قلمبندکرنا  محدثین کی ایک ضرورت تھی،چنانچہ ایک محدث کی تاریخ وفات کے ذریعہ یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ فلاں شخص کی وفات کب ہوئی ہے ،جس کی بنیاد پر کسی دروغ کی روایت کو رد کیا جاسکتا تھا ،چنانچہ محدثین نے محدثین وعلماء کی تاریخ وفات کا التزام کیا، ساتھ ہی ان کے حالات بھی شامل کتاب کئے ،اس طرح وفیات پر بھی تصانیف کا سلسلہ شروع ہوگیا جو بہت بعد تک جاری رہا ،بلکہ بعد میں اس عنوان میں توسع پیدا ہوگیا اور تذکرہ کی کتابیں بھی اسی عنوان سے لکھی جانے لگیں ،اس کی واضح مثال مشہور کتاب وفیات الاعیان ابن خلکان ہے ۔

کہیں وفیات میں یعقوب بن سفیان الفسوی (۲۷۷ھ) اور ابویعلیٰ الموصلی( ۳۰۷ھ)کی کتابوں کا ذکر بھی نظر سے گذرا ہے، لیکن عام مورخین کے یہاں ان کاذکر نہیں ملتا۔

امام نسائی( ۳۰۳ھ)نے وفاۃ رسول اللہ ﷺ کے عنوان سے حضور پاک علیہ السلام کا وفات نامہ قلمبند کیا تھا ،شاید اس کو وفیات کے سلسلہ کی اولین کوشش کہا جاسکتا ہے ۔اس کے بعد ابوالقاسم البغوی (م۲۱۳ھ) کی تاریخ وفاۃ الشیوخ قابل ذکر ہے۔اس کے بعد حسب ذیل کتابیں منظر عام پرآئیں ۔

عبدالباقی بن قانع البغدادی (۳۵۱ھ) کی الوفیات، اس میں ۳۴۶ھ تک کی وفیات ہیں ۔محمد بن عبداللہ بن زبر الربعی الدمشقی ،(۳۷۹ھ)کی تاریخ موالد العلماء ووفیاتھم۔ اس میں ۳۳۸ھ تک کا تذکرہ ہے ۔خطیب بغدادی (۴۶۳ھ)،السابق واللاحق فی تباعد ما بین وفاۃ الراویین عن شیخ واحد ۔ابومحمد عبدالعزیز بن احمد الکنانی ،(۴۶۶ھ)کی الذیل علی وفیات ابن زبر ۔کتاب الوفیات ابن مندہ(۴۷۰ھ)۔جامع الوفیات ،ابومحمد ہبۃ اللہ بن احمد الاکفانی (۵۲۴ھ)(۱۱)

علاقائی تواریخ کا سلسلہ بھی بالکل ابتدائی دور ہی میں شروع ہوگیا تھا ،اور یہ بھی تذکرہ نگاری کی ایک صورت تھی ،جس کا آغاز رجال ہی کے عنوان اور ضرورت سے ہوا تھا ،مشہور محقق ومورخ الدکتور ضیاء العمری نے علاقائی تواریخ اور اس کی تصنیف کے عوامل کا بہت ہی عالمانہ جائزہ لیا ہے اور بہت تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے ۔ان کی اطلاع کے مطابق علاقائی تاریخ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ،ایک وہ جس میں کسی شہر یا بستی کی تاریخی اور جغرافیائی تفصیل ہو ،وہاں کے آثار کاذکر ہو ،دوسرے وہ جس میں وہاں کے علماء کا تذکرہ ہو ،جو تذکرہ نگاری میں شامل ہے ۔موصوف نے زیادہ تر دوسری قسم کی تاریخوں کا ذکر کیا ہے ۔چنانچہ اس سلسلہ میں معروف تاریخوں میں سعید بن کثیر بن عفیر مصری (۲۲۶ھ ) کی تاریخ (جس کا نام انہوں نے ذکر نہیں کیا ہے)،التاریخ فی رجال المحدثین بمرو ،ابوعلی بن حمزہ الفراھینانی ،(۲۴۷ھ) ،اخبار مرو از ابوالحسن مروزی (۲۶۸ھ) ،تاریخ قزوین ،ابن ماجہ (۲۳۷ھ) اور تاریخ واسط از بحشل واسطی (۲۸۸ھ) اہم ہیں ۔(۱۲)

ان میں ان کی اطلاع کے مطابق تاریخ واسط ہی محفوظ ہے بقیہ اس سے پہلے کی کتابیں نہیں ملتیں ۔

ان کے بعد کی کتابوں میں تاریخ بلخ ابوعلی بلخی (۳۹۴ھ) تاریخ الحمصیین (حمص ،شام )از احمد بن عیسیٰ بغدادی ،(تیسری صدی) ،تاریخ المراوزۃ از ابو رجاء محمد الھورقانی (۳۰۶ھ) ،تاریخ بلخی ،محمد بن عقیل الازھر (۳۱۶ھ) ابو عروبہ حرانی (۳۱۸ھ) کی تین کتابین تاریخ حران ،کتاب الجزیرہ ،اور کتاب الرقہ ۔تاریخ نیسابور عبداللہ بن الجارود نیساپوری ،(۳۲۰ھ)طبقات علماء بلخ علی بن الفضل بن طاہر البلخی ،(۳۲۳ھ) طبقات علماء بلخ از ابوعبداللہ الوراق الجویباری (معاصرسابق مصنف )،طبقات علماء بلخ ،ابواسحاق المستملی ،(معاصر مصنف سابق ) منظر عام پر آئی ۔اسی کے قریب مزید حسب ذیل کتابیں بھی منظر عام پر آئیں

تاریخ حمص ،عبدالصمد بن سعید الحمصی ،(۳۲۴ھ)

طبقات علماء افریقیہ وتونس ،ابوالعرب محمد بن احمد بن تمیم القیروانی ،(۳۳۳ھ)

تاریخ الرقہ ،محمد بن سعید القشیری ،(۳۳۴ھ)

تاریخ ہراۃ ابو اسحاق الحداد الھروی ،(۳۳۴ھ)

طبقات العلماء والمحدثین من اھل الموصل ابو زکریا الازدی ،(۳۳۴ھ)

تاریخ مکہ

تاریخ البصرہ (ہر دو از ) ابن الاعرابی (۳۴۰ھ)

تاریخ مصر ،ابو سعید عبدالرحمن المصری (۳۴۷ھ)

کتاب فی محدثی بغداد

تاریخ الموصل ،(ہر دو) ابن الجعابی ،(۳۵۵ھ)

تاریخ اصبہان حمزۃ بن الحسین الاصبھانی (قبل ۳۶۰ھ)

طبقات المحدثین باصبھان والواردین علیھا ،ابوالشیخ الانصاری ،(۳۶۹ھ)

تاریخ داریا،ابوعبداللہ الخولانی ،(۳۷۰ھ)

طبقات الھمدانیین صالح بن احمد التمیمی (۳۷۴ھ)

تاریخ المزاورۃ احمد بن سعید بن ابی معدن (۳۷۵ھ)

تاریخ الری ابن بابویہ (۳۸۱ھ)

تاریخ استراد باد

تاریخ سمرقند (ہر دو) ابوسعید عبدالرحمن الادریسی (۴۰۵ھ)

تاریخ اصبھان ابن مردویہ (۴۱۰ھ)

تاریخ بخاری(بخارا)محمد بن احمد الغنجار (۴۱۲ھ)

الذیل علی تاریخ مصر (۴۱۶ھ)

تاریخ المغاربہ ومصرمحمد بن عبداللہ المسبحی (۴۲۰ھ)

تاریخ جرجان ابوالقاسم حمزۃ السہمی (۴۲۷ھ)

ذکر اخبار اصبھان ابونعیم الاصبھانی (۴۳۰ھ)

تاریخ نسف

تاریخ کش (ہر دو)جعفر بن محمد المستغفری (۴۳۲ھ)

الذیل علی تاریخ بخارالغنجار احمد بن محمد مامانی (۴۳۶ھ)

تاریخ بغداد از خطیب بغدادی (۴۶۳ھ)

تاریخ اصبھان ابوالقاسم ابن مندہ (۴۷۰ھ)

تاریخ مرو ابو صالح النیساپوری الموذن (۴۷۰ھ)

تاریخ اصبھان ابوزکریا ابن مندۃ (۵۱۱ھ)

اس کے بعد پھر علاقائی تواریخ کا سلسلہ چلتا رہا جو کسی تفصیلی مضمون کا متقاضی ہے ۔

اکر م ضیاء عمری کے بقول علاقائی تذکروں میں ایک علاقہ کے لوگوں کا تذکرہ جس تفصیل سے مل جاتا ہے وہ بین الاقوامی سطح پر لکھی کتابوں میں نہیں نظر آتا اور آج بھی علاقائی تذکرہ کا یہ سب سے بڑا فائدہ ہے ۔

باضابطہ اور مستقل سوانح نگاری میں تیسری صدی کے اواخر میں احمد بن یوسف کی سیرت احمد ابن طولون کو اولیت حاصل ہے ،گرچہ اسی دور میں یعنی ۳۰۰ھ میں مناقب امیر المومنین علی بن ابی طالب کی بھی تکمیل ہوئی جس کے مصنف ابوجعفر محمد بن سلیمان کوفی ہیں ۔(۱۳)لیکن اس سے قبل ابی محمد عبداللہ الحکم (م ۲۱۴ھ) کی سیرت عمر بن عبدالعزیز(سیرۃ عمر بن عبدالعزیز علی مارواہ الامام مالک واصحابہ )بھی منظر عام پر آچکی تھی۔عوانہ ابن الحکم الکلبی(م ۱۴۷ھ) کی سیرت معاویۃ والخلفاء کا ذکر گذرچکا ہے ،کچھ لوگوں نے اس کو سیرت معاویہ لکھا ہے ، اگر ایسا ہے تو شاید اس کو سوانح نگاری کی سب سے اولین کوشش کہا جاسکتا ہے ۔اس طرح مستقل سوانح نگاری کا آغاز بھی بالکل ابتدائی دور ہی میں ہوگیا تھا ،البتہ اس کی حیثیت زیادہ تر رسالہ یا روایات کے مجموعہ کی ہوتی تھی ۔اگر ابن سعد اور دیگر مصنفین کی کتب طبقات سے صحابۂ کرام کا ذکر الگ کیا جائے تو بہت سے بزرگوں کے حالات مستقل رسالہ کی صورت میں شائع ہوسکتے ہیں ۔اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت تک سوانح نگاری اور تذکرہ نگاری کے خط وخال میں بہت زیادہ فرق نہیں آیا تھا۔

عربی میں بعد میں جو کتابیں منظر عام پر آئیں ان میں سے مزید چند اہم کتابوں کے نام ذیل میں درج ہیں :

تاریخ العلماء والرواۃ للعلم بالاندلس عبداللہ بن محمد الفرضی،(م۴۰۳ھ) ۔ذیل الروضتین لابی شامۃ المقدسی( م ۶۶۵ھ) ۔ذکر رجال القرنین السادس والسابع ۔عنوان الدرایہ فی من عرف من العلماء ببجایۃ لاحمد الغبرینی۔الغصون الیانعۃ فی محاسن شعراء المائۃ السابعۃ لابن سعد علی بن موسیٰ(م ۶۸۵ھ)۔نظم الدرر الناصعۃ فی اعیان المائۃ الثامنۃ عبداالرزاق الفوطی ۔(۷۲۳ھ)

ابتدائی تین صدیوں تک پورے عالم اسلام کی زبان عربی رہی ،اس لیے جو کچھ تصنیف وتالیف کا کام ہوا اسی زبان میں ہوا، لہذا اس دور تک کسی اور زبان میں اسلامیات کی کوئی قابل ذکر کتاب نہیں لکھی گئی ،فارس کی فتح کے بعد وہاں بھی تقریبا عربی زبان ہی رائج ہوگئی تھی ،یہاں تک کہ لوگ قدیم پہلوی زبان کو بھول گئے تھے ،لیکن چوتھی صدی کے آغاز میں عربی رسم الخط میں اس کو دوبارہ زندگی ملی اور اس میں تصنیف وتالیف کا کام بھی شروع ہوا ،اس لئے دنیائے اسلام میں عربی کے بعد اگر کسی زبان نے جگہ بنائی تو وہ فارسی تھی ،چنانچہ اس زبان میں تاریخ وتذکرہ کی اولین کتاب شاہنامہ ابومنصوری تسلیم کی جاتی ہے جو ۳۴۶ھ ؁میں لکھی گئی تھی ،اس کے بعد متعدد تاریخیں لکھی گئیں جن میں ضمناً شخصیات کا بھی تذکرہ تھا ،لیکن اب تک کے سرمایہ میں جو اولین تذکرہ محفوظ ہے وہ شیخ فرید الدین عطار کی تذکرۃ الاولیاء ہے ۔اس کے بعد متعدد کتب تصنیف ہوئیں۔(۱۴)

اسی کے قریب برصغیر میں بھی فارسی میں تصنیف وتالیف کا کام شروع ہوا ،اور ملفوظات کے پہلو بہ پہلو تذکرے بھی لکھے جانے لگے ۔جن میں شعرا اور صوفیہ دونوں کے تذکرے شامل ہیں ،اس کے ساتھ ہی بادشاہوں کی تاریخ پرجو کتابیں لکھی گئیں ان میں ان کا ذکر موجود ہے۔(۱۵)

فارسی کے بعد عالم اسلام میں اردو ہی ایسی زبان تھی جس میں کثرت سے تصنیفات کا سلسلہ شروع ہوا، اگرچہ ترکی بھی اس وقت تک ترقی کرچکی تھی لیکن اس کا اسلامی سرمایہ آج بھی اردو کے مقابلہ میں کم ہے ۔اس کے علاوہ کوئی علاقائی یا بین الاقوامی زبان مسلمانوں کے لئے اس وقت تک تصنیف وتالیف کی زبان نہیں بنی تھی ۔

پھر بھی ترکی زبان پانچویں صدی ہجری(گیارہویں صدی عیسوی) سے اسلامی زبان بن کر عربی وفارسی رسم الخط میں لکھی جانے لگی تھی ،اور جلد ہی تذکرہ وسوانح پر اس میں بھی کتابیں وجود میں آگئی تھیں ،چنانچہ اس دور کی اولین ترکی کتابوں میں قرہ خانی سلطان صاتوق بغرا خاں کے حالات وکمالات میں مناقب دینیہ قابل ذکر ہے ۔(۱۶)

اردو نے تصنیف وتالیف کی طرف قدم بڑھایا تو اس میں سوانح وسیر کی طرف توجہ ہوئی ،پہلے عام زبانوں کے اصول کے مطابق مثنوی اور اشعار میں لوگوں کے حالات بیان کئے گئے ،پھر نثر میںتصنیف کا سلسلہ شروع ہوا ،پھر ترجموں کے ذریعہ یہ سلسلہ جاری رہا۔ ،فورٹ ولیم کالج سے سلاطین وحکام سے متعلق بہت سی کتابوں کے فارسی سے اردو میںترجمے ہوئے ،ایک دو ترجمے عربی سے بھی ہوئے۔اردو میں تذکرہ نگاری کا باضابطہ آغاز شعرا کے تذکروں ہی سے ہوا ،چنانچہ مولانا امام بخش صہبائی کی کتاب انتخاب دواوین کو اردو زبان میں لکھا ہوا پہلا تذکرہ قرار دیا جاسکتا ہے ،باضابطہ سوانح کے اعتبار سے شاید اولین کوشش سرسید نے کی ،گرچہ اسی دور میں متعدد صوفیہ کے حالات پر بھی کتابیں ملتی ہیں لیکن ان کی زبان کا معیار اتنا بلند نہیں تھا کہ انہیں علمی دنیا میں پذیرائی ملتی ۔آب حیات از حسین آزاد ،آثار الصنادید اورکریم الدین پانی پتی کے طبقات شعرا کو اولین تذکرہ کہاجاسکتا ہے ،لیکن یہ سب شعرا ہی کے تذکرے تھے دیگر اہل کمال کے نہیں۔

اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ رجال مسلمانوں کی تاریخ ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے جس کی تاریخ دیگر قوموں میں نہیں ملتی ،لیکن ابتدائی دور میں اس میں تحقیق کی جوگہرائی نظر آتی ہے بعد کے دور میں وہ مفقود ہوگئی ،اگر صرف عربی کتابوں کا ہی ذکر کیا جائے تو اس کے لئے مستقل تحقیق کی ضرورت ہے ،گرچہ عربی میں ایک دو کتابیں آچکی ہیں ،فارسی اور اردو میں تذکرہ نگاری سے مراد عام طورپر شعرا ہی کے تذکرے ہوتے ہیں ،دیگر اہل کمال کے تذکروں کو وہ حیثیت حاصل نہیں ہے اس لئے تذکرۂ شعراکی تاریخ پر کچھ مواد تو سامنے آیا ہے لیکن صوفیہ وعلما اور دیگر اہل کمال کے حالات پر اب تک کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا ہے ۔

حواشی:

(۱)امریکن انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں اس کی اور اس کے ترجموں کی تفصیل درج ہے۔

(۲)ڈاکٹر محمد حمید اللہ ،سیرت ابن اسحاق ،مقدمہ(طبع اول فاس،مراکش)

(۳)حوالہ سابق

(۴)تاریخ اسلام مولانا شاہ معین الدین ندوی ،دوم ص ۳۴۹

(۵)الفہرست  ابن الندیم،ص۲۹۱

(۶) شذرات الذہب بحوالہ تاریخ اسلام محولہ بالا

(۷)حوالہ سابق

(۸)تاریخ الادب العربی ،بروکلمان ۳؍۲۳

(۹)حوالہ سابق

(۱۰)تاریخ الادب العربی ،بروکلمان ،۳؍۲۱۔

(۱۱)بحوث فی تاریخ السنہ المشرفہ،ص ۱۴۲ از ڈاکٹر اکرم ضیاء عمری،۱۴۰۵ھ

(۱۲)حوالہ سابق،ص۱۴۳

(۱۳)تاریخ الادب العربی بروکلمان ۳؍۲۱

(۱۴) اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے ،تاریخ تذکرھای فارسی ،دو جلدیں ،از احمد گلچین معانی ،تہران ،نیز تذکرہ نویسی فارسی در ھندو پاکستان ،دکتر سید علی رضا نقوی، تہران۔

(۱۵)دیکھئے مضمون اسلامی تہذیب کی ترقی میں برصغیر کی مساعی ،از عارف نوشاہی ،معارف دسمبر ۲۰۱۸ء۔

(۱۶)تاریخ الادب الترکی ،محمد فواد کوپریلی ،عربی ترجمہ عبداللہ احمد ابراہیم الغرب ،ص ۵۲۵،قاہرہ ۲۰۱۰ء۔

Tags

Share this post: