یتیم پوتے کی میراث
مولانامحمد ظفر عالم ندوی
استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
مذہب اسلام نے انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ایسے اصول اور قوانین عطا کیےہیں جو عدل، حکمت، توازن اور فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں، انہی اصولوںاور قوانین میںایک اہم قانون نظام میراث ہے، دنیا کے اکثر قوانین میں وراثت کے اصول انسانی عقل، معاشرتی تجربات یا وقتی ضرورتوں کے تحت مرتب کیے گئے، لیکن اسلام نے اس مسئلے کے اصول براہ راست وحی الہی کے ذریعے مقرر فرمائے ہیں، قرآن کریم نے میراث کا حصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: "فریضۃ من اللہ ” یعنی یہ تقسیم اللہ تعالی کی مقرر کردہ ہے۔
اسی لیے اسلامی قانون میراث میں انسانی خواہشات، وقتی جذبات اور معاشرتی دباؤ کو اصل بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ جب جدید دور میں یتیم پوتے کی میراث کا مسئلہ شدت سے اٹھایا گیا تو فقہائے اسلام نے اسے محض جذباتی مسئلہ قرار دینے کے بجائے اصولِ شریعت، نصوص قطعیہ، تعامل صحابہ اور قواعد فقہیہ کی روشنی میں دیکھا، لیکن بعض جدید قانونی نظریات کے حامل حضرات نے اس مسئلے میں نیابت وراثت کے تصور کو اختیار کیا ہے، جن کا مقصد قرآن کریم کے قطعی فیصلے کے خلاف بیٹے کی موجودگی میں یتیم پوتے کی وراثت کو ثابت کرنا ہے۔ لیکن تین باتیں اس میں اصل ہیںجن کونظر انداز نہیں کیا جاسکتابلکہ اس موضوع پر گفتگو کرنے کے لئے ان کو سامنے رکھنا ضروری ہے ۔
میراث کے شرعی اصول :
پہلی اصل :
پہلی اصل یہ ہے کہ اسلام بلکہ ہر مذہب و ملت میں میراث کی تقسیم کا معیار ضرورت و حاجت اور خدمت یا لیاقت یا قائم مقامی یا یتیم اور قابل رحم ہونے پر نہیں بلکہ قرابت پرہے، ورنہ اگر ضرورت و حاجت پر مدار ہوتا تو ہر مالدار کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے، پوتے، باپ، دادا، بھائی، بہن جو فقیر نہ ہوں سب محروم رہتے اور بستی کے فقراء و مساکین اور یتیم وارث بنتے، نیز وصی بھی قائم مقام ہونے کی وجہ سے وارث ہوتا، یہ اصل مسلمّات عقلیہ میں داخل ہے، اور اجماعی اور جملہ مذاہب میں متفق علیہ ہونے کے ساتھ قرآن مجید کی صریح نصوص سے بھی ثابت ہے۔تفصیلات آگے آرہی ہیں ۔
دوسری اصل:
دوسری اصل أقرب فالأقرب کی ہے کیونکہ جب وراثت کا مدارقرابت پر ہے تو ساری دنیا اولاد آدم ہونے کی وجہ سے آپس میں قرابت کا تعلق رکھتی ہے، اب اگر قرب و بعد کو معیار قرار دے کرأ قرب کے ہوتے ہوئے أبعدکو محروم نہ کریں تو ہر انسان کی وراثت میں ساری دنیا کے انسان داخل ہو جاتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ اس طرح مرنے والوں کے ترکے تقسیم ہوا کریں تو کسی کو بھی کسی کے ترکے سے کوئی قابل انتفا ع حصہ نہیں ملے گا، بلکہ بڑا سرمایہ بھی کوڑیوں میں بکھر کر ضائع ہو جائے گا، اس طرح ساری دنیا کو حق وراثت کا دلانا نہ ہی عقلا ممکن ہے اور نہ ہی کسی مذہب میں اسے قابل عمل سمجھا گیا ہے، اس لیے عقلاًاور شرعاً ضروری ہے کہ قرب وبعد رشتے کو مدار کار ٹھہرا کر قریب کے ہوتے ہوئے بعید کو محروم قرار دیا جائے ۔ارشاد ربانی ہے :
"للرجال نصیب مما ترک الوالدان والأقربون "(۱)
دوسری آیت ہے :
"ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدان والأقربون "(۲)
ان دونوں آیات کریمہ میں لفظ ’’الأقربون‘‘ میں میراث کی علت کی تصریح ہے، پہلی آیت کی تفسیر میں امام قرطبی ؒلکھتے ہیں :
قال علماءنا:فی ھذہ الآیۃ فوائد ثلاث، احداھا :” بیان علۃ المیراث وھی القرابۃ”(۳)
مذکورہ آیت میں جہاں وراثت کا مدار قرابت کو بتایا گیا وہیں ’’أقرب فالأقرب‘‘کا قانون بھی واضح کردیا گیا ہے، اور قرب و بعد کے اصول کو انسانی عقل پر نہیں چھوڑا گیا، کیونکہ انسان کی کوتاہ نظری اس میں غلطی کر سکتی تھی تو اللہ تعالی نے وضاحت سے فرمادیا:
"اٰباؤکم و أبناؤکم لَاتَدرُونَ أیُّھم أقربُ لکم نفعا”(۴)
قرآن کریم میں جن رشتہ داروں کے حصے مقرر کردئیے گئے ہیں ان کو ذوی الفروض کہا جاتا ہے، ان سے بچنے والامال جن میں تقسیم ہوگا ان کو عصبات کہا جاتا ہے، اس تقسیم میں اس اصول کا لحاظ ہے کہ جو رشتہ دار جتنا قریب ہوگا وہ پہلے مستحق ہوگا، اسی لئے ارشاد نبوی کے ذریعہ اس کی قطعیت کے ساتھ اصول بیان کیا گیا ہے۔ بخاری کی روایت ہے :
عن ابن عباس رضی اللہ عنھما عن النبی ﷺ قال : "ألحقوا الفرائضَ بأھلھا فما بقی فھو لأَولٰی رجلٍ ذکرٍ”(۵)
اس حدیث کے مفہوم پر امت کا اجماع ہے، اسی پر امت کا عمل بھی ہے، اکثر کتب حدیث میں یہ روایت موجود ہے ۔ (۶)
حافظ ابن حجرؒ امام نوویؒ کے حوالہ سے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
قال النوویؒ : اجمعوا علی أن الذی یبقی بعد الفروض للعصبۃ یقدم لأقرب فالأقرب فلا یرث عاصب بعید مع عاصب قریب، (۷)
اس دوسری اصل کے ضمن میں وراثت میں’’حجب ‘‘ کا قانون آتا ہے، حجب کا مفہوم یہ ہے کہ قریب رشتہ دار کی موجودگی میں بعید رشتہ دار محروم ہوتے ہیں، جس کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ ہے کہ کسی رشتہ دار کی وجہ سے دوسرے رشتہ دار کا حصہ کم ہوجائے، جس کو ’’حجب نقصان‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ ایک رشتہ دار کی وجہ سے دوسرا رشتہ دار بالکلیہ محروم ہوجائے، اس کو ’’حجب حرمان‘‘ کہا جاتا ہے، حجب کا قاعدہ کتاب و سنت کی صریح نصوص سے ثابت ہے، آیات المواریث میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے، اور فقہاء کرام نے اپنے اپنے انداز میں اس کے احکام مرتب کئے ہیں۔
علامہ علاء الدین الحصکفی صاحب الدر المختار بیان کرتے ہیں :
ثم شرع فی الحجب فقال(ولایحرم ستۃ )من الورثۃ (بحال)البتۃ (الأب والأم،والابن والبنت) ای الأبوان والوالدان (والزوجان) وفریق یرثون بحال ویحجبون حجب الحرمان بحال أخری وھم غیر ھوٓلاء الستۃ سواء کانوا عصبات أو ذوی فروض وھو مبنی علی أصلین: أحدھما (أنہ یحجب الأقرب ممن سواھم الأبعد ) لما مر أنہ یقدم الأقرب فالأقرب اتحد فی السبب أم لا، والثانی : أن من أدلی بشخص لایرث معہ، (۸)
قانون حجب کی رو سے جہاں بیٹے کی موجودگی میں پوتے محجوب (محروم) ہوتے ہیں، وہیں دیگر رشتہ دار بھی دوسرے قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں محروم ہوتے ہیں۔ جن میں چند مثالیں حسب ذیل ہیں:
۱)ماںکی موجودگی میں جدات (دادی ، نانی)بالاتفاق محجوب ہوتی ہیں۔
۲)باپ کی وجہ سے بھائی اور بہنیں محجوب ہوتی ہیں۔
۳)بیٹے ، پوتے اور والد کی وجہ سے سگے بھائی محجوب ہو جاتے ہیں۔
۴)اخیافی بھائی اولاد ، پوتوں، نواسوں، والد اور دادا کے ساتھ بالاتفاق محجوب ہوجاتے ہیں۔ (۹)
خلاصہ یہ کہ نصوص شرعیہ سے یہ ثابت ہے کہ احکام میراث کا مدار أقربیت پر ہے، اور اس میں حجب حرمان و حجب نقصان کا اصول جاری ہے،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قریب کی موجودگی میں بعید محروم ہوتا ہے، یہی اصول ذوی الارحام میں بھی جاری ہوتا ہے اور ان میں بھی قرب و بعد کا لحاظ ضروری ہے۔ ارشاد باری ہے :
وأولوالأرحام بعضھم أولٰی ببعض فی کتاب اللہ ۔( ۱۰)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
"للرجال نصیب مما ترک الوالدان والأقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدان والأقربون” (۱۱)
ترمذی اور نسائی کی روایت میں ہے :
"الخال وارث من لاوارث لہ”(۱۲)
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے قول کے مطابق ذوی الفروض اور عصبات کے موجود نہ ہونے کی صورت میںذوی الارحام وارث بنتے ہیں، صحابہ کرامؓ اور تابعین کی ایک جماعت اور فقہاء میں ائمہ احناف نے اسی قول کو اختیار کیا ہے، اسکی بنیاد سورۃالانفال کی مذکورہ آیت ہے۔
فتاوی صحابہ میں پوتے کی میراث :
اقربیت اور حجب کے قاعدہ پر مبنی پوتے کی میراث کی صراحت فتاوی صحابہ میں موجود ہے ، جس کو امام بخاری نے نقل کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں :
باب میراث ابن الابن اذا لم یکن ابن وقال زید: ولد الابناء بمنزلۃ الولد اذا لم یکن دونھم ولد ذکرھُم کذکَرِھم، وأبنائھم کأبنائھم، یرثون کما یرثون، ویحجبون کما یحجبون، ولایرث ولد الابن مع الابن۔ (۱۳)
حضرت زید بن ثابتؓ کے اس فتوی کی بنیاد کتاب وسنت کی صریح نصوص پر ہے، اور اس فتوی پر پوری امت کا اجماع ہے، صحابہ کرامؓ میں سے کسی کا اختلاف منقول نہیں ہے، جمہور ائمہ مجتہدین نے یہی مسلک اختیار کیا ہے، میراث کے احکام میں حضرت زید بن ثابتؓ کے فتوی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:أفرضُکم زید (تم میں سب سے زیادہ علم فرائض جاننے والےزید بن ثابت ہیں)۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع تھا کہ فرائض میں زید بن ثابتؓ امام ہیں، اور عملا بھی جب کسی مسئلہ میں اختلاف یا اشتباہ ہوتا توزید بن ثابتؓ ہی کا قول قول فیصل ہوتا۔
ابو اسحاق شیرازی شافعی طبقات فقہاء میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ فتوی، علم الفرائض اور قراءۃ میں حضرت زید بن ثابتؓ کے بالمقابل کسی کو آگے نہیں کرتے:
” کان عمر وعثمان لایقد مان علی زید احداًفی الفتوی والفرائض والقراءۃ”۔
آگے لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے مقام جابیۃمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ جو فرائض میں کچھ معلوم کرنا چاہے وہ زید بن ثابتؓ سے دریافت کرے:
"من أراد أن یسأل عن الفرائض فلیأت زید بن ثابتؓ ۔( ۱۴)
اس سے صاف ہو جاتا ہے کہ امت کا اس پر اجماع ہے کہ بیٹے کی موجودگی میں پوتا محجوب (محروم) ہوتا ہے، اور اگر ذوی الفروض نہ ہوں تو عصبہ ہونے کی حیثیت سے سارا مال بیٹے کو ملے گا، اور اگر ذوی الفروض ہوں تو باقی ماندہ مال بیٹے ہی کو ملے گا۔ ابوالولید الباحی امام مالک کا مسلک نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
انہ لامیراث لابن الابن مع الابن لأنہ أقرب سبباً منذ الی میت وھما یُدلیان بالبنوۃ ولان ابن الابن یُدلی بالابن ومن یُدلی بعاصب فانہ لایرث معہ،وعلی ھذا جمہور الفقہاء من الصحابۃ والتابعین ۔(۱۵)
فقہاء حنفیہ نے یہی قول اختیار کیا ہے ۔ ابن عابدینؒ صراحت کرتے ہیں :
والثانی (أن من أدلی بشخص لایرث معہ)کابن الابن لایرث مع الابن ۔(۱۶)
علامہ قرافی نے مالکیہ کے مسلک کی صراحت ان الفاظ میں کی ہے:
"فنقول لایحجب ابن الابن الا الابن "۔(۱۷)
ابو الحسن احمد بن محمد المحاملی الشافعیؒ نےالباب فی الفقہ الشافعی میںاپنے مسلک کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے:
والحجب عشرۃ لایرثون مع العشرۃ، ابن الابن لایرث مع الابن ۔ ( ۱۸)
امام ابن تیمیہؒ نے المحر رفی الفقہ علی مذھب الامام احمد بن حنبل میں فقہ حنبلی کی صراحت اس طرح کی ہے:
"ولایرث ولد الابن مع الابن بحال”(۱۹)
(پوتا کسی حالت میں بیٹے کے ساتھ وارث نہیں ہوتا)
خلاصہ یہ کہ آیات قرآنی، احادیث نبوی، فتاوی صحابہ، میں یہ صراحت موجود ہے کہ بیٹے کی موجودگی میں پوتا محجوب(محروم) ہوتا ہے، اور فقہاء کرام نے بالاتفاق اس مسئلہ کو اختیار کیا ہے جس پر امت کا اجماع ہے۔
تیسری اصل :
تیسری اصل یہ ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کی زندگی میں اس کا وارث نہیں ہو سکتا، بلکہ مرنے کے بعد ہی وراثت کا استحقاق ہوتا ہے، آیات قرآنی میں مما ترک ، مما ترکن ، مما ترکتم کے الفاظ بار بار آئے ہیں ۔یعنی قانون وراثت کی بحث کا موضوع ہی تقسیم ترکہ ہے، نہ کوئی مال کسی کی زندگی میں ترکہ ہو سکتا ہے اور نہ اس مال میں بحیثیت وارث کسی کا حق پیدا ہو سکتا ہے، اور ترکے میں حق وراثت صرف زندہ وارثوں کا ہوتا ہے مور ث سے پہلے مر جانے والے ورثاء کو سرے سے شمارہی نہیں کیا جاتا، قرآن کی صراحت ہے:
"وان کان رجل یُورَث کلالۃ أو امرءاۃ ولہ أخ اوأخت”(۲۰)
کلالہ اسے کہتے ہیں جس کا نہ باپ زندہ ہو نہ بیٹا، تو کیا یہاں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص بے باپ کے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح پیدا ہوا ہو، ظاہر ہے کہ باپ تھا اور مر گیا،لہذااسکے وارث ہونےکا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا، اسی طرح ابوداؤد و نسائی کی حدیث بروایت بریدۃؓ موجودہے:
أن النبی ﷺ جعل للجدۃِ السدسَ اذا لم تکن دونھا أمٌ (۲۱)
اس حدیث میں "اذا لم تکن دونھا أم "سے کیا یہ مراد لیا جا سکتا ہے کہ سرے سے ماںہی نہیں ہے، یا صاف صاف یہ مطلب ہوگا کہ ماں تو تھی لیکن مورث سے پہلے مر گئی۔
اگر قریبی رشتہ دار کو مرنے کے بعد بھی مستحق وراثت سمجھا جائے تو چاہیے کہ دنیا میں کوئی شخص بھی کسی کا وارث نہ ہو، کیونکہ مرنے کے بعد مورث کا نفس اس کی طرف سب سے زیادہ اقرب ہے، لہذا مورث خود اپنے مال کا مستحق ہوگا۔
پس اس معاملے میں پوری امت متفق ہے کہ وراثت کے حق کی بحث کا تعلق صرف ان ورثاء سے ہے جو مورث کی موت کے وقت زندہ ہوں، مورث سے پہلے مرنے والوں کا کسی قسم کا استحقاق شریعت اسلامی کے نظام قانون میں نہیں پایا جا تا۔(۲۲)
ان تین بنیادی اصولوں کو بیان کرنے کے بعد اب ہم ان نظریات کا تجزیہ کرتے ہیں جو یتیم پوتے کو حصہ دلوانے کے لیے پیش کئے جاتے ہیں۔
پہلا نظریہ:
پوتےزیادہ صاحب ضرورت اور حاجت مند وقابل رحم ہیں، اور بعض دفعہ چچا کی بنسبت زیادہ خدمت گزار ہوا کرتے ہیں، یہ نظریہ اصل اول سے ٹکراتاہے، یعنی وراثت کا استحقاق ضرورت، حاجت اور قابل رحم ہونے یا خدمت و لیاقت پر مبنی نہیں، بلکہ اس کا معیار قرابت داری پر ہے، لیکن بعض لوگ کسی خاص صورت میں جذبہ رحم کی وجہ سے قرآن کے قطعی اصل کو ٹھکرا دینا چاہتے ہیں، تفصیلی جزیات میں بہت سے مواقع رحم پائے جاتے ہیں ۔ مثلا: زوجہ مفقود، منکوحہ صغیر اور مطلقہ ثلاث وغیرہ صورتوں میں بعض دفعہ عورت غریب و مسکین ہوتی ہے اور اس کا کوئی رشتہ دار یا کفیل بھی موجود نہیں رہتا، اور اسی طرح اولاد نرینہ( خواہ پوتا ہی ہو) کی وجہ سے حقیقی بہن محروم ہو جاتی ہے، خصوصا جبکہ یہ بہن بیوہ ہو اورعیال رکھتی ہو، اس کے خاوند نے کوئی ترکہ نہ چھوڑاہو، ایسے ہی وہ نواسی جس کی والدہ اپنے والد کی زندگی میں فوت ہو گئی ہو۔ لہذا اگر جذبہ رحم کو بنیاد بنایا جائے تو قانون وراثت کے بنیادی اصول باقی نہیں رہ سکیں گے۔
دوسرانظریہ:
یہ بیان کیا جاتا ہے کہ قانون میراث میں تقدم و تاخر کا ضابطہ ہی ختم کر دیا جائے تو یتیم پوتے بیٹوں کے ساتھ شامل ہو کر میراث پالیں گے ، یہ نظریہ اصل دوم یعنی الأقرب فالأقرب کے قانون سے ٹکراتا ہے، کیونکہ ایک میت کے مرنے سے اس کے تمام زندہ رشتہ دار بیک وقت وارث ہوجائیں گے، خواہ درجۂ قرابت میں کتنا ہی تفاوت ہو، اس صورت کے اختیار کرنے میں اجماع کے ساتھ نصوص کی صریح مخالفت لازم آئے گی۔
تیسرا نظریہ:
متجددین تیسرانظریہ یہ پیش کرتے ہیں کہ آیت کریمہ :
یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین (۲۳)
اس میں لفظ اولاد کے تحت بیٹوں، پوتوں، پڑ پوتوں سب کو جمع کر دیا جائے اور سب کو ایک ہی درجے میں لاکر ان پر مساویانہ تقسیم کی جائے، یہ اجتہادی تجویز بھی اصل دوم الأقرب فالأقرب سے ٹکراتی ہے ۔
اس طرح "یوصیکم اللہ فی ألادکم ” میں دو احتمال پیدا ہو گئے، ایک یہ کہ بلاواسطہ اولاد مراد ہو، دوسرے یہ کہ عام معنی مراد ہوں جس میں اولاد کی اولاد یعنی پوتے بلکہ نواسے بھی شامل ہوں، اب اگر آیت مذکورہ میں دوسرے معنی مراد لیے جائیں تو معنی یہ ہوں گے کہ صلبی بیٹے، پوتے اور نواسے خواہ ان کے باپ زندہ ہوں یا وفات پا گئے ہوں سب کے سب اس حکم میں شامل ہوںگے اور بیٹوں کے ساتھ برابر کا حصہ پائیں گے،اس مفہوم کے لینے سے آیت کا اصل حکم ختم ہو جائے گا اور نئی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی ۔(۲۴)
لہذا اولاد کو عام معنی میں لینا نہ اصولی طور پر معقول ہے کہ قریب و بعید کو یکساں حصہ ملے اور نہ ہی عہد رسالت و خلفائے راشدین اور نہ ہی بعد کے ادوار میں کہیں ایسا عمل ہوا، اور نہ پوری امت محمدیہ میں کوئی اس کا قائل ہے، جب یہ اصول مسلم ہے کہ والد کی موجودگی میں پوتا اپنے دادا کا وارث نہیں ہے کیونکہ اقرب الی المیت اس پوتے کا والد ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ پوتے کو ولد کے وسیع مفہوم میں داخل کرنا مجازاً ہے، اور حقیقت کی موجودگی میں مجاز کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا، اگر ولد کے مفہوم میں پوتا حقیقتاً داخل ہے تو باپ کی موجودگی میں بھی پوتے کو ضرور حصہ ملنا چاہیے۔(۲۵)
چوتھا نظریہ:
یہ پیش کرتے ہیں کہ ذوی الفروض کی طرح بیٹے اور پوتے میں بھی قرب وبعد کا لحاظ رکھتے ہوئے بیٹے کو زیادہ حصہ دیا جائے اور پوتے کو کم، یہ صورت بھی اصل دوم سے ٹکراتی ہے کہ عصبات میں حجب نقصان ممکن نہیں، بلکہ ان کا حصہ معین نہ ہونے کی وجہ سے ان میں الأقرب فالأقرب کا قانون جاری کرنے کی صرف یہ صورت ہے کہ قریب کی موجودگی میں بعید بالکل محروم رہے، اگر کوئی بلحاظ قرب وبعد کے بیٹے اور پوتے کو کم و بیش حصہ دینا چاہے تو اس کمی بیشی کا معیار کیا ہوگا؟ اگر اپنی طرف سے کوئی معیار مقرر کر لیا جائے، مثلا: بیٹے کو دو بٹا تین اور پوتے کو ایک بٹا تین دیا جائے تو کیا یہ قرآن پر زیادتی نہیں ہوگی؟
الغرض یتیم پوتے پر رحم کھا کر قانون شرعی میں ترمیم کرنا بہت سے لوگوں پر بے رحمی کا سبب بنے گا، اور احکم الحاکمین اور اس کے رسول امین ﷺ کےا ٹل قانون میں مداخلت لازم آئے گی ۔
پانچواں نظریہ :
معترضین پانچواں نظریہ قائم مقامی کا پیش کرتے ہیں، یعنی جو تعلق بالواسطہ ہونے کی وجہ سے مرتبہ ثانی پر ہوتا ہے وہ واسطے کے بیچ میں سے ہٹ جانے پر مرتبہ اول پر آ جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ فقہائے متقدمین نے خود قائم مقامی کا نظریہ اختیار کیا ہے، جیسے حضرت ابوبکر صدیق اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قول” الجدُ ابٌ” کے تحت باب کا حصہ دادا کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، جب باپ کی خالی جگہ کو دادا پر کر سکتا ہے تو بیٹے کی خالی جگہ کو پوتا کیوں نہیں پر کر سکتا، یہ صورت بھی اصل دوم سے ٹکراتی ہے، اور پوتے کو دادا پر قیاس کرنا باطل ہے، چچا کی موجودگی میں پوتے کو بیٹے کا قائم مقام کر کے چچا کے برابر کر دینے سے الأقرب فالأقرب کا قانون ٹوٹ جاتا ہے، اورباپ کی غیر موجودگی میں دادا کو باپ کے قائم مقام کرناالأقرب فالأقرب کے خلاف نہیں ہے ،حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص کے متعدد بیٹے ہو سکتے ہیں مگر باپ متعدد نہیں ہو سکتے۔
الأقرب فالأقرب کے قانون کا حاصل یہ ہے کہ درجۂ اول میں سے جب تک کوئی فرد موجود ہو درجۂ دوم کا کوئی فرد بھی وارث نہ ہوگا، درجۂ اول میں سے اگر کوئی موجود نہیں تو درجۂ دوم کے افراد درجۂ اول کے قائم مقام ہوں گے، یہی قانون اصول اور فروع میں دونوں طرف جاری ہوتا ہے، لہذا جب تک کوئی بیٹا موجود ہوگا پوتا وارث نہیں ہو سکے گا، اور باپ چونکہ ایک ہی ہو سکتا ہے اس لیے اس کی عدم موجودگی میں درجۂ اول خالی ہونے کی وجہ سے درجۂ دوم میں سے دادا کو اس کا قائم مقام کر کے میراث دلائی جاتی ہے۔
غرض کہ باپ کے مرنے پر دادا کو اس کا قائم مقام اس لیے کیا جاتا ہے کہ درجۂ اول خالی ہے اور چچا کی موجودگی میں پوتے کو بیٹے کا قائم مقام اس لیے نہیں کیا جاتا کہ درجۂ اول خالی نہیں بلکہ اس میں چچا( میت کا بیٹا) موجود ہے،اگر چچا نہ ہو تو پوتا بھی بیٹے کے قائم مقام ہوگا البتہ اہل عقل کا اجماع ہے کہ واسطہ مر جانے سے ابعد اقرب نہیں ہوتا۔
چھٹا نظریہ :
اسی طرح چھٹا نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ یتیم پوتا اگرچہ بذات خود وارث نہیں ہے لیکن وہ اپنے باپ کا حصہ دادا سے لینے کا حقدار ہے، یہ صورت میراث کی تیسری اصل سے ٹکراتی ہے، یعنی اس تصور کو قبول کرنے کے لیے ہمیں شریعت کا یہ بنیادی اصول ختم کرنا پڑے گا کہ کسی شخص کی زندگی میں اس کے مال پر کسی کا حق میراث نہیں لگ سکتا، اور یہ اصول بھی ختم کرنا ہوگا کہ تقسیم ترکہ کے وقت زندہ وارثوں کے ساتھ کسی مردہ وارث کو مستحق نہیں بنایا جا سکتا، اگر اس اصول سے آزاد رہ کر قانون سازی کی جائے تو صرف پوتے کے لیے ہی اس کے مردہ باپ کو زندہ نہ رکھنا ہوگا بلکہ ہر ترکہ تقسیم کرتے وقت جملہ ممکن وارثوں کو زندہ فرض کرنا پڑے گا اور اس طریقے سے جو رشتہ دار بھی فوت ہو گئے ہوں ان میں ہر ایک کو حصہ دینا ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ قرآن میں تو پوتوں کا ذکر نہیں اور اجماعی فیصلے میں یتیم اور غیر یتیم ہر قسم کے پوتے ایک ہی حکم میں ہیں، اب یتیم پوتے کو دوسرے پوتوں سے ممتاز کر کے دادا کی وراثت دینا نصوص قرآنی اوراحادیث نبوی کے خلاف ہے ،جو کسی صورت میں باجماع امت قابل قبول نہیں ہے۔
حواشی:
۱۔سورۃ النساء:۷
۲۔سورۃ النساء : ۳۲
۳۔القرطبی : أبو عبداللہ محمد بن احمد ، الجامع لأحکام القرآن، دارالکتب المصریۃ القاھرۃ : ۱۳۸۴ھ ، جلد ۵ /ص ۴۶
۴۔سورۃ النساء : ۱۱
۵۔ الجامع الصحیح للبخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من أبیہ وأمہ ،مطبع دار طوق النجاۃ ،۱۴۲۲ھ /حدیث نمبر ۶۷۳۲
۶۔الجامع الصحیح لمسلم :حدیث نمبر۱۶۱۵، جامع الترمذی : حدیث نمبر۲۰۹۸
۷۔فتح الباری لابن حجر عسقلانیؒ ۱۲/۱۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱۳۷۹ھ
۸۔الدر المختار مع رد المحتار ۶ / ۷۸۰، دارالفکر بیروت ۱۴۱۲ھ
۹۔المبسوط للسرخسی جلد ۲۹/ص۱۶۹، دارالفکر بیروت ۱۴۱۴ھ
۱۰۔سورۃ الأنفال : ۷۵
۱۱۔سورۃ النساء : ۷
۱۲۔السنن الترمذی :حدیث نمبر ۲۱۰۴، السنن النسائی: ۶۳۱۸
۱۳۔ الجامع الصحیح للبخاری کتاب الفرائض باب میراث ابن الابن ۔۔۔ ، حدیث نمبر ۶۷۳۲، دارطوق النجاۃ ۱۴۲۲ھ
۱۴۔طبقات الفقھاء لابی اسحاق الشیرازی الشافعی، ص۴۶، تحقیق وتقدیم: الدکتور احسان عباس، مطبع: دارالرائد العربی ، بیروت، لبنان۱۹۷۰ء
۱۵۔المنتقی شرح المؤطا ۶ / ۲۲۶ للباحی ابوالولید سلیمان بن خلف ، مطبع السعادۃ مصر ۱۳۳۲ھ
۱۶۔رد المحتار ۶/۷۷۹ ، دارالفکر بیروت۱۴۱۲ھ
۱۷۔الذخیرۃ للقرافی ابو العباس أحمد بن ادریس المالکی ، جلد ۱۳/ص ۴۲، دارالغرب الاسلامی بیروت ۱۹۹۴ء
۱۸۔الباب فی الفقہ الشافعی :ص۲۷۳، دارالبخاری ، المدینہ السعودیۃ۱۴۱۶ھ
۱۹۔المحرر فی الفقہ علی مذھب الامام احمد بن حنبل لابن تیمیہ : ابوالبرکات عبدالسلام الحرانی ، جلد ۱/ص۳۹۶، مکتبہ المعارف ، الریاض ۱۴۰۴ھ
۲۰۔النساء :۱۲
۲۱۔سنن ابی داؤد :۲۸۹۵، والنسائی:۶۳۰۴
۲۲۔ماخوذ از:احسن الفتاوی جلد ۱/صفحہ نمبر ۱۶۱-۱۶۶
۲۳۔النساء : ۱۱
۲۴۔ جواہر الفقہ جلد ۷/ صفحہ ۱۳۰
۲۵۔ماخوذ از: احسن الفتاوی : جلد ۱/ص ۱۶۸