مصنوعی ذہانت کااستعمال:شرعی حدود اور اخلاقیات

مصنوعی ذہانت کااستعمال:شرعی حدود اور اخلاقیات

                                                                   مولانامنورسلطان ندوی

                                                                رفیق علمی مجلس تحقیقات شرعیہ،ندوۃ العلماء

جدیدسائنسی تحقیقات کے نتیجہ میں دنیاہردن نئے اکتشافات سے ہمکنارہورہی ہے،موجودہ صدی کی سب سے بڑی سائنسی تحقیق مصنوعی ذہانت ہے،جس کا استعمال عام ہوچکاہے،زندگی اور سماج کے متعددگوشے ایسے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت سے بہت فائدہ اٹھایاجارہاہے،اس تحریرمیںمصنوعی ذہانت کے حوالے سے شرعی حدوداوراس کی اخلاقیات کوواضح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے:

مصنوعی ذہانت کی تعریف

مصنوعی ذہانت کوعربی میں الذکاء الاصطناعی کہاجاتاہے،اورانگریزی میںاس کے لئےArtificial entellengenceکالفظ استعمال ہوتاہے، ذکاء کی تعریف اس طرح کی گئی ہے:

‌الذكاء: سرعة الإدراك. وحدة الفهم، ذكره ابن الكمال وقال العضد: هو سرعة اقتراح النتائج۔(۱)

جودۃ الفہم ۔(۲)

اصطناع کااصل مادہ صنع ہے،جس کے معنی بنانے کے ہیں،مقاییس اللغۃ میں ہے:

وَهُوَ عَمَلُ الشَّيْءِ صُنْعًا۔(۳)

اصطلاحی تعریف

ذکاءاور اصطناعی دونوں کے معانی واضح ہیں،البتہ دونوں مل کرجب یہ مرکب بنتاہے تواس میں نئے مفاہیم درآتے ہیں،۱۹۵۵ ؁ء میں مصنوعی ذہانت کاوجودہوا،اور عصرحاضرمیںیہ ٹکنالوجی معروف ومروج ہوئی ہے،اب تک اس کی متعددتعریفیں کی گئی ہیں،لیکن کسی ایک تعریف پرماہرین کااتفاق نہیں ہے۔

جون میکرثی جسے مصنوعی ذہانت کا باوآدم کہاجاتاہے،انہوں نے اس طرح تعریف کی ہے:

"The science and engineering of making intelligent machines, especially intelligent computer programs. (4)

 جیری کیپلان (Jerry Kaplan)نےاس طرح تعریف کی ہے:

a collection of computer programs and machines designed to behave in ways that would be considered intelligent if demonstrated by humans ۔(5)

ڈاکٹرمعتزباللہ سعیدالذکاء الاصطناعی کی تعریف اس طرح کرتے ہیں:

ہوالعلم الذی یشتغل بابتکار وتطویر خوارزمات مفیدۃ تسہم فی المحاکاۃ الآلیۃ لقدرات الدماغ البشری من ادراک البیئۃ المحیطۃ والاستجابۃ المناسبۃ لمثیراتہا وتعلم وتخطیط وایجاد لحوللمسائل المستجدۃ والتواصل اللغوی وادارۃ للتراکم المعرفی ۔(۶)

یہ ایساعلم ہے جو ایسے مفید الگورتھمز ایجاد کرنے اور انہیں ترقی دینے کا کام کرتا ہے، جو انسانی دماغ کی صلاحیتوں کی مشینی مشابہت پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں؛ جیسے اردگرد کے ماحول کا ادراک کرنا، اس کے محرکات پر مناسب ردِّ عمل ظاہر کرنا، سیکھنا، منصوبہ بندی کرنا، نئے پیش آنے والے مسائل کے حل تلاش کرنا، لسانی رابطہ قائم کرنا، اور علمی ذخیرے کا انتظام کرنا۔

مجمع الفقہ الدولی کی تجاویز میں اس طرح تعریف کی گئی ہے:

تقنیۃ حدیثۃ تقوم علی برامج وآلات تحاکی الذکاء البشری ویحقق کثیرا من المصالح ولا یخلو من مفاسد۔(۷)

یہ ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جو ایسے پروگراموں اور مشینوں پر قائم ہے جو انسانی ذہانت کی مشابہت اختیار کرتے ہیں، اور جو بہت سے فوائد و مصالح حاصل کرتی ہے، اگرچہ یہ بعض مفاسد سے خالی نہیں۔

مبادی اخلاقیات الذکاء الاصطناعی میں ہے:

ہو مجموعۃ من التقنیات التی تمکن آلۃ او نطاقا من التعلیم والفہم والتصرف والاحساس۔ (۸)

یہ ایسی ٹیکنالوجیز کا مجموعہ ہے جو کسی مشین یا نظام کو سیکھنے، سمجھنے، عمل کرنے اور احساس کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت کاارتقاء

مصنوعی ذہانت مختلف اتقائی مراحل سے گزرکریہاں تک پہونچاہے،۱۹۵۰؁ میںAlan Turing  نے مقالہComputing Machinery and Intelligenceکے عنوان سے ایک تحقیقی مقالہ لکھا،اوراسی مقالہ میں Turing Testکانظریہ پیش کیا گیا، جس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ کیا مشین انسان جیسی ذہانت ظاہر کرسکتی ہے۔

1956 میں امریکہ کے Dartmouth College میں ایک علمی کانفرنس ہوئی۔اسی کانفرنس میں پہلی مرتبہArtificial Intelligenceکی اصطلاح استعمال کی گئی۔

ابتدائی دورمیں سائنس دانوں کو امیدتھی کہ چنددہائیوں میں انسان جیسی ذہین مشنین تیار ہوسکتی ہے، لیکن ۱۹۷۰؁ سے ۱۹۸۰؁ کے درمیان تحقیق کے متوقع نتائج نہ نکلنے کی بناء پراس تحقیق کی رفتارسست پڑگئی،۱۹۸۰؁ کی دہائی میں اس میں پھرتیزی آئی،اور سائنس داں ایسے پروگرام بنانے میں کامیاب ہوگئے جوانسان کی طرح فیصلہ کرسکے۔

1990ء کے بعد اس میدان میں ایک بڑا انقلاب برپا ہوا۔ اس دور میں مصنوعی ذہانت نے صرف پہلے سے طے شدہ قواعد (Rules) پر انحصار کرنے کے بجائے ڈیٹا سے سیکھنا شروع کیا، اور اسی مرحلے میں مشین لرننگ (Machine Learning) کا فروغ ہوا۔

۲۰۲۰؁ کے بعد اس سلسلہ میں غیرمعمولی ترقی ہوئی،اس دورکی اہم پیش رفتوں میں ایک ڈیپ نیورل نیٹ ورک کی ترقی ہے،جس کے نتیجہ میں تصویرکی شناخت، آوازکو سمجھنے اور خودکارگاڑیوں جیسی ٹکنالوجی کو پیش رفت حاصل ہوئی۔

۲۰۲۰ کے بعد مصنوعی ذہانت ایک غیرمعمولی سائنسی تحقیق کی شکل میں متعارف ہوئی،جوتجزیہ سے آگے بڑھ کر تحریر،آواز،تصویر،ویڈیوکی تخلیق کرسکتا ہے، اسی زمانہ میں ایسے متعددسوفٹ ویئریاچیٹ بوٹ سامنے آئے توانسان کی طرح بات کرسکتاہے،سوالوں کے جوابات دے سکتاہے،اس طرح اکیسویں صدی کو روبوٹکس صدی یامصنوعی ذہانت کی صدی کہاجانے لگا۔(۹)

مصنوعی ذہانت کی اقسام

مختلف اعتبارسے اس کی قسمیں الگ الگ ہیں،صلاحیت کے لحاظ سے مصنوعی ذہانت کی تین قسمیں  ہیں، جو درج ذیل ہیں:

۱۔محدود مصنوعی ذہانت (Narrow AI)،اس کو عربی میں الذكاء الاصطناعي الضيق کہاجاتاہے۔

اس کو کمزورمصنوعی ذہانت بھی کہاجاتاہے،یہ ایک محدوددائرے میں کام انجام دینے کے لئے تیار کیا گیا ہے، یہی موجودہ وقت میں مروج ہے،یہ انسان سے زیادہ تیزی اور درستگی کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت رکھتاہے،اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اپنے محدود دائرہ سے تجاوزنہیں کرسکتا،اس کی مثالوں میں Chat Gpt,Open AI, Alexa وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

۲۔عمومی مصنوعی ذہانت(General AI)اس کو عربی میں الذكاء الاصطناعي العام کہاجاتاہے۔

اسے مضبوط مصنوعی ذہانت بھی کہاجاہے،یہ ابھی نظریاتی تصورکے مرحلہ میں ہے،سائنس دانوں کے مطابق اس قسم کی مصنوعی ذہانت میںیہ صلاحیت ہوگی کہ وہ پہلے سے حاصل شدہ معلومات اور مہارتوں کواستعمال کرتے ہوئے نئے کام انجام دیں،اس صلاحیت کی بنیاد پرمصنوعی ذہانت عمومی طورپروہ فکری کام انجام دے سکےگی جوایک انسان انجام دے سکتاہے۔

۳۔فائق مصنوعی ذہانت (Super AI)اسے عربی میں الذكاء الاصطناعي الفائق کہاجاتاہے۔

یہ بھی مصنوعی ذہانت کی ایک نظریاتی تصورہے، مستقبل میں اگراسے تیارکرلیاگیا تو یہ سوچنے، سیکھنے، فیصلے کرنے اور حالات کا جائزہ لینے میں انسانی صلاحیتوں سے کہیں بڑھ کر ہوگی۔اس کے ممکنہ استعمالات صرف انسانی جذبات اور تجربات کو سمجھنے تک محدود نہیں ہوں گے، بلکہ یہ جذبات محسوس کرنے، اپنی ضروریات رکھنے، اور ذاتی عقائد و خواہشات تشکیل دینے کی صلاحیت بھی رکھ سکتی ہے۔(۱۰)

کارکردگی کے لحاظ سے اقسام

 کارکردگی اور وظائف کے لحاظ سے محدودمصنوعی ذہانت کی دوقسمیں کی جاتی ہیں:

۱۔تفاعلی مصنوعی ذہانت

 مصنوعی ذہانت کے ایسے ماڈلز ہوتے ہیں جن میں یادداشت نہیں ہوتی ہے،انہیں صرف ایک خاص کام کو انجام دینے کے لئے تیارکیاجاتاہے،یہ سابقہ نتائج اور فیصلوں کو یادنہیںرکھتے،بلکہ صرف موجودہ معلومات کی روشنی میں عمل کرتے ہیں،یہ نظام بڑی مقدار میں ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے شماریاتی ریاضی (Statistical Mathematics) پر انحصار کرتے ہیں، اور بظاہر ذہین نتائج پیش کرتے ہیں۔

اس کی مثالوں میں Deep Blue شامل ہے، جس نے شطرنج میں عالمی چیمپئن Garry  Kasparov کو شکست دی۔ اسی طرح Netflix کا سفارشاتی نظام بھی صارف کے مشاہداتی ریکارڈ کا تجزیہ کرکے اس کی دلچسپی کے مطابق تجاویز پیش کرتا ہے۔

۲۔محدود یادداشت والی مصنوعی ذہانت (Limited Memory AI)

اس قسم کی مصنوعی ذہانت سابقہ واقعات اور نتائج کو یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور وقت کے ساتھ مخصوص اشیا یا حالات کا مشاہدہ کرسکتی ہے۔ محدود یادداشت والی مصنوعی ذہانت ماضی اور حال دونوں کے ڈیٹا کو استعمال کرکے مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے کے لیے مناسب راستہ متعین کرتی ہے۔

اس کی مثالوں میں جنریٹیو AI، ورچوئل اسسٹنٹس، چیٹ بوٹس، اور خودکار گاڑیاں شامل ہیں۔

 ChatGPT اور دیگر جنریٹیو AI ٹولز سابقہ ڈیٹا کی بنیاد پر اگلے الفاظ یا تصاویر کی پیش گوئی کرتے ہیں، جبکہ Siri اور Alexa جیسے اسسٹنٹس سوالات کو سمجھ کر مناسب جواب دیتے ہیں۔ اسی طرح خودکار گاڑیاں اردگرد کے ماحول کا تجزیہ کرکے بروقت فیصلے کرتی ہیں۔

انسانی اختیارکے لحاظ سے اقسام

انسانی اختیاراورکنٹرول کے لحاظ سے بھی مصنوعی ذہانت کی تقسیم کی جاتی ہے،اس پہلوسے دوحصوں میں بانٹا جاتا ہے،ایک قسم ایسی مصنوعی ذہانت کی ہے جو انسان کے کنٹرول اور نگرانی میں کام انجام دیتاہے،جیسے چیٹ بوٹس،طبی تشخیص کا نظام،جبکہ دوسری قسم ایسی مصنوعی ذہانت کی ہے جوانسانی مداخلت کے بغیر فیصلہ کرنے اور اپناکام انجام دینے کی صلاحیت رکھتاہے،خودکارگاڑیاں،خودکارروبوٹس اس کی مثالیں ہیں،پہلی صورت میں حتمی فیصلہ کااختیار انسان کے پاس ہوتاہے،جبکہ دوسری صورت میں فیصلہ کااختیارانسان کے پاس نہیں ہوتا۔

مصنوعی ذہانت کے استعمال کے میدان

مصنوعی ذہانت اب روزمرہ کی زندگی میں شامل ہوچکی ہے،تعلیم،صنعت وحرفت، اقتصادیات، زراعت، طب، سائنس،ٹکنالوجی،مالی انوسٹمنٹ، زبان ، ترجمہ جیسے بے شمارمیدان ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کااستعمال بڑے پیمانے پر ہورہاہے،مجموعی طوران کودرج ذیل حصوں بانٹاجاسکتاہے:

۱۔ماہر نظام (Expert Systems)

ایک ایسا مخصوص پروگرام ہےجو کسی مخصوص میدان میں ماہر انسان کی طرح کام کو انجام دینے کے لیے تیار کیاگیاہے،اسے مصنوعی ذہانت کااہم ترین کام سمجھاجاتاہے،مثلاکسی خاص میدان کے ایک یا ایک سے زیادہ ماہرین کی معلومات، تجربات اور طریقۂ کار کو حاصل کیا جاتا ہے۔پھر ان معلومات کوخاص اندازمیں مرتب کرکے ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔اس کے بعد ان اصولوں اور تجربات کو کمپیوٹر نظام میں محفوظ کردیا جاتا ہے۔پھر یہی نظام بعد میں ایسے فیصلے یا مشورے دیتا ہے جیسے کوئی ماہر انسان دے رہا ہو۔(۱۱)

اس طرح زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک ماہرکی حیثیت سے مشورہ اور رہنمائی کاکام لیاجانامعروف ومروج ہے،مثلاماہرطبیب ،ماہرانجینئر،برقیات کاماہر،استثمارکاماہر،فوجی معاملات ومسائل کاماہر،عدالتی نظام کا ماہر، مسائل میراث کاماہر،مسائل زکوۃ کاماہروغیرہ۔(۱۲)

۲۔مشینی تعلّم (Machine Learning)

یہ مصنوعی ذہانت کی ایک شاخ ہے جس میں مشینوں کو یہ صلاحیت دی جاتی ہے کہ وہ انسان کی مستقل پروگرامنگ کے بغیر خود سیکھ سکیں اور فیصلے کرسکیں۔ یہ سابقہ تجربات اور محفوظ شدہ معلومات سے فائدہ اٹھا کر اپنی کارکردگی بہتر بناتی ہیں،اس کی ایک اہم قسم عصبی نیٹ ورک (Neural Networks) ہے،جو ایسا کمپیوٹر نظام ہے جو جاندار مخلوقات کے اعصابی نظام کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے مسائل کا تجزیہ کرتا اور بہترین حل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی اس شاخ کے متعدد استعمالات ہیں، مثلاً: فضول ای میل (Spam) کی درجہ بندی، ڈپریشن کی تشخیص کے پروگرام، تصاویر میں موجود تحریر یا گفتگو کو پہچان کر اسے متن میں تبدیل کرنا، حج کے انتظامی امور میں معاونت، کریڈٹ ریکارڈ کی جانچ، انسانی جینوم کے ڈیٹا کو جمع کرنا، اور مالیاتی ٹیکنالوجی کے مختلف نظام وغیرہ ۔ (۱۳)

۳۔خودکارروبوٹ

موجودہ وقت میں روبوٹکس کے میدان میں غیرمعمولی ترقی ہوئی ہے،یہاں تک کہ یہ ایک مستقل علمی شعبہ کی حیثیت اختیارکرگیاہے،جسے روبوٹکس علم کہا جاتا ہے،یہ علم ایسے مادی آلات کی تیاری اور ڈیزائن سے بحث کرتا ہے جو انسانی منطق کے مطابق کام کرتے ہیں۔ انہیں کمپیوٹر کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے تاکہ وہ مخصوص کام انجام دے سکیں، اور انہیں حالات کے مطابق کچھ حد تک خود فیصلہ کرنے اور عمل کرنے کی آزادی بھی دی جاتی ہے۔یہاں روبوٹ سے مراد خاص طور پر ذہین خود مختار روبوٹ ہیں، جو مصنوعی ذہانت کی تکنیکوں کی مدد سے اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔(۱۴)

اس شاخ میں استعمال کے متعدد میدان ہیں، مثلاً: خودکار ڈرائیونگ والی گاڑیاں، خودکار طیارے، طبی روبوٹ جو پیچیدہ جراحی عمل انجام دیتے ہیں، اور ایسے روبوٹ جو ڈاکٹروں کے کام میں معاونت کرتے ہیں۔ اسی طرح صنعتی روبوٹ جو کارخانوں کی مرمت اور مختلف اشیا کو اٹھانے کا کام کرتے ہیں، فوجی روبوٹ جوبارودی سرنگوں کاپتا لگاتے ہیں، اور تعلیمی روبوٹ جو بچوں کو بولنا سکھانے یا تعلیمی کھیلوں کے ذریعے تعلیم دینے میں مدد کرتے ہیں۔ (۱۵)

۴۔فطری زبان کاتجزیاتی نظام (Natural Language Processing)

یہ بھی مصنوعی ذہانت کی ایک اہم شاخ ہے جو انسانی زبان کو سمجھنے اور اس کی نقل کرنے سے متعلق ہے، خواہ وہ زبان تحریرکی صورت میں ہو یا آوازکی صورت  میں۔اس میدان میں مصنوعی ذہانت کے متعدد استعمالات ہیں، مثلاً:

 مشینی ترجمہ:یہاں مصنوعی ذہانت صرف لفظی ترجمہ نہیں کرتی بلکہ کلام کے سیاق و سباق کو سمجھ کر ترجمہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

 صوتی ترجمہ: ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر کو آواز میں تبدیل کرنا۔

چیٹ بوٹس جیسی ٹیکنالوجی، جو انسانوں سے انسانی انداز میں گفتگو کرتی ہے۔

اسی میدان کی ایک مثال وہ پروگرام بھی ہیں جو تحقیقی مقالات لکھنے، کتابوں کا خلاصہ تیار کرنے، اور معلوماتی مواد مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صوتی شناختی نظام کی تکنیک بھی اسی سے متعلق ہے، جس میں کسی شخص کی آواز کی مخصوص خصوصیات کو محفوظ کیا جاتا ہے، جیسے انگلیوں کے نشانات محفوظ کیے جاتے ہیں۔

مالیاتی اسلامی مصنوعات کے انتظام میں بھی فطری زبان کاتجزیاتی نظام اہم کردار ادا کرسکتاہے، کیونکہ اس کے ذریعے صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جاسکتی ہیں، اسلامی مالیاتی مصنوعات کی تفہیم آسان بنائی جاسکتی ہے، اور سرمایہ کاروں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دی جاسکتی ہے۔

یہ چندمعروف میدان ہیں،ان کے علاوہ اور بھی بہت سے میدان ہیں مثلا کمپوٹروژن،ڈیپ لرننگ،علمی استدلال،انسانی جذبات کو سمجھنے اور اس کے مطابق ردعمل دینے کانظام،خودکارتخلیقی نظام مثلا متن، تصویر، ویڈیو اور آوازتخلیق کرنے والا نظام وغیرہ

مصنوعی ذہانت کے فوائد

مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بہت سے فوائدہیں،یہ فوائد کئی لحاظ سے ممتازہیں۔

۱۔سب سے اہم فائدہ وقت کی بچت ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت بہت سے ایسے کاموں کو آسان اور تیز بنادیتی ہے جو پہلے طویل وقت لیتے تھے، مثلاً معاہدوں کا جائزہ لینا، ان سے مطلوبہ معلومات اخذ کرنا، ڈیٹا کو محفوظ کرنا اور اس کے مصادر کی شناخت کرنا۔

۲۔ مصنوعی ذہانت خطرناک اور دشوار کاموں میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے، جیسے بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کے لیے روبوٹ کا استعمال۔

 ۳۔ایسے کام جن میں انسان کو طویل وقت تک مسلسل مشغول رہنا پڑے، وہاں مشینیں بغیر تھکاوٹ اور اکتاہٹ کے بہتر طریقے سے کام انجام دیتی ہیں۔

۴۔ایک بڑافائدہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی غلطیوں کو کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے، کیونکہ خودکار نظام ایک ہی عمل کو بار بار زیادہ درستگی کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں۔

۵۔مصنوعی ذہانت کاایک فائدہ مختلف شعبوں میں صارفین کو کم خرچ میں مشورے اور خدمات بھی فراہم کرنا بھی ہے۔

۶۔ انسانی زندگی کے متعدد میدانوں میں نفع مثلا: بیماریوں کی تشخیص، ادویات کی تیاری، عسکری اور سیکورٹی شعبے، تعلیم،وغیرہ۔(۱۶)

مصنوعی ذہانت کے نقصانات

مصنوعی ذہانت کے استعمال کے نقصانات بھی بہت ہیں،اوران نقصانات کے بھی بہت سے پہلوہیں۔

۱۔سب سے اہم خطرہ یہ ہے کہ بعض اوقات اس پرکنٹرول ختم ہونے کااندیشہ پیداہوجاتاہےجس کے نتیجہ میں نفیساتی،مادی اور سیکورٹی کے نقصانات سامنے آسکتےہیں۔

۲۔مصنوعی ذہانت میں ڈیٹاکے ہیک ہونے یاغلط استعمال ہونے کاخطرہ باقی رہتاہے،یہ نظام سائبرحملوں کا نشانہ بن سکتاہے۔

۳۔ایک اہم نقصان بیروزگاری میں اضافہ ہے،مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے انسانی ملازمین کی ضرورت کم ہوتی جائے گی۔

۴۔مصنوعی ذہانت کانظام انتہائی مہنگااورکثیرلاگت پرمبنی ہوتاہے۔

۵۔ مصنوعی ذہانت کے نظام میں انسانی اخلاقیات اور اقدار کی پابندی نہیں ہوتی ہے ۔

۶۔ مصنوعی ذہانت کو نقصان دہ مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جیسے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری وغیرہ

۷۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے نقصان کی صورت میں قانونی اور مالی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، یہ مسئلہ ابھی تک پوری طرح واضح نہیں۔

۸۔اس کے ذریعے جھوٹی معلومات، جعلی تصاویر اور ویڈیوز (Deepfake) پھیلانے کا خطرہ بھی بڑھتا جارہاہے۔(۱۷)

کمپیوٹرکی مشہورکمپنی IBMکی طرف سے ۱۰ نقصانات اوران کی تلافی کے طریقے بیان کئے گئے ہیں، خطرات کے عناوین اس طرح ہیں: جانبداری،سائبرسیکورٹی کے خطرات،ڈیٹاکی رازداری کے مسائل،ماحولیاتی نقصانات، انسانی وجودکے ختم ہونے کاخطرہ،شخصی ملکی کے حقوق کی خلاف ورزی،روزگارکاخاتمہ،جواب دہی کا فقدان، شفافیت کی کمی،گمراہ کن معلومات اور فریب کاری۔(۱۸)

مصنوعی ذہانت کے استعمال کاشرعی حکم

مصنوعی ذہانت موجودہ دورکی تحقیق اور ایجادہے،اس لئے اس بارے میں کتاب وسنت اور سلف کے علمی سرمایہ میں کوئی تفصیل موجودنہیں ہے،البتہ قرآن واحادیث ،شریعت کے مقاصداورکلی اصول وقواعدمیں ایسے اشارے موجود ہیں جن کی روشنی میں ہردورکے مسائل کاحل تلاش کیاجائے گا،چنانچہ انہی نصوص کی روشنی میں معاصرفقہاء نے اس مسئلہ پر غورکیاہے،اور اس کاحکم متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔

عمومی حکم

معاصرفقہاء نے عمومامصنوعی ذہانت کے استعمال کو مباح قراردیاہے،اور اس حکم کو چندشرائط کے ساتھ مقیدکیاہے۔

اس حکم کے دلائل اس طرح ہیں:

۱۔اشیاء میں اصل اباحت ہے، دلیل کے بغیر کسی چیزکوممنوع نہیں قراردیاجاسکتاہے۔

وسخرلکم مافی السموات ومافی الارض جمیعامنہ ۔(۱۹)

عن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ ‌أَعْظَمَ ‌المُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ۔(۲۰)

حضرت سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم کرنے والا وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جو حرام نہیں کی گئی تھی، پھر اس کے سوال کرنے کی وجہ سے وہ چیز حرام کردی گئی۔

عن ابنِ عباسِ، قال: كان أهلُ الجاهليّه يأكلُون أشياءَ ويتركُونَ أشياءَ تقذُّراً، فبَعَث الله عزّ وجلّ نبيَّه – صلَّى الله عليه وسلم -، وأنزل كتابَه، وأحَلَّ حلالَه وحَرَّم حرامَه، فما أحَلَّ فهو حَلالٌ، وما حَرَّمَ فهو حَرامٌ، وما سَكَتَ عنه فهو عَفْوٌ، وتلا: {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} ۔(۲۱)

حضرت عبد الله بن عباس فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت کے لوگ بعض چیزیں کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو گھن کی وجہ سے چھوڑ دیتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا، اپنی کتاب نازل فرمائی، اور اپنے حلال کو حلال اور اپنے حرام کو حرام قرار دیا۔ پس جس چیز کو اللہ نے حلال کردیا وہ حلال ہے، اور جس چیز کو حرام کردیا وہ حرام ہے، اور جس چیز کے بارے میں خاموشی اختیار فرمائی وہ معاف ہے۔پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی:“آپ کہہ دیجیے: جو وحی میری طرف کی گئی ہے، اس میں میں کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا…‘‘

فقہی قاعدہ ہے:

ان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ۔(۲۲)

بعض معاصرفقہاء کے قاعدہ عموم البلوی سے بھی استدلال کیاہے،کیونکہ موجودہ وقت میں زندگی کے مختلف گوشوں میں مصنوعی ذہانت کااستعمال ایک ضرورت کی شکل اختیارکرگیاہے۔(۲۳)

مصنوعی ذہانت سے شریعت کے مقاصد خمسہ کاتحفظ بھی ہوتاہے،دکتورعبداللہ عویدمحمد الرشیدی مقاصد شریعت کے تحفظ سے استدلال کرتے ہوئے لکھتےہیں:

ومن امثله حفظ الذكاء الاصطناعي لضرورۃ الدين تطبيقات الرقابه الغذائيه الشرعيه كتطبيق Halal Advisorوتطبيقات القران الكريم وسنۃ النبويۃ وحفظ النفس بالحفاظ على حياه البشر كمثل الروبات الجراحيۃ وحفظ  ضرورۃ المال بالحفاظ على اموال المصارف الاسلاميه من الاخترافات وحفظ العقل من خلال الروبوتات التعليميۃ التي تنمي العقل وحفظ العرض من خلال تقنيات التشخيص الوراثي للمقبلين علی الزواج وتقنيۃ الاجنه المدعومۃ بالذكاء الاصطناعي۔(۲۴)

مصنوعی ذہانت کے ذریعے دین کے تحفظ کی مثالوں میں حلال غذاؤں کی نگرانی کرنے والی ایپس، جیسے Halal Advisor، نیز قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ سے متعلق ایپلی کیشنیں شامل ہیں۔ جان کے تحفظ کے سلسلے میں سرجری کرنے والے روبوٹس جیسے نظام ہیں جو انسانی زندگی بچانے میں مدد دیتے ہیں۔مال کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت اسلامی بینکوں کے مالیاتی نظام کو ہیکنگ اور سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے میں معاون بنتی ہے۔عقل کے تحفظ میں تعلیمی روبوٹس اہم کردار ادا کرتے ہیں جو ذہنی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں۔اسی طرح عزت و نسل کے تحفظ کے لیے شادی سے پہلے جینیاتی تشخیص کی ٹیکنالوجی اور جنین کی نگرانی اور انتخاب کی ٹیکنالوج استعمال کی جاتی ہے۔

انسانی نگرانی میں کام کرنے والی مصنوعی ذہانت

ایسی منصوعی ذہانت جومکمل خودمختارنہ ہو،بلکہ جزوی طورپرمختارہومگرانسان کی نگرانی میں وہ کام کرتاہویااس کے کئے ہوئے فیصلےمیں ترمیم وتبدیلی کا اختیارانسان کے پاس ہو،اس قسم کاحکم یہ ہے کہ اس کووسائل کے درجہ میںرکھاجاناچاہئے،یعنی اس کی حیثیت انسان کے ہاتھ میں آلہ کی ہے،اور آلات ووسائل کے بارے میں فقہاء کایہ اصول ہے کہ انکاحکم مقاصد کے تابع ہوتاہے،جس مقصد کے لئے ان کااستعمال ہوگااسی کے مطابق حکم ہوگا۔

علامہ ابن القیم ؒ تحریرفرماتے ہیں:

لَمَّا كَانَتْ الْمَقَاصِدُ لَا يُتَوَصَّلُ إلَيْهَا إلَّا بِأَسْبَابٍ وَطُرُقٍ تُفْضِي إلَيْهَا كَانَتْ طُرُقُهَا وَأَسْبَابُهَا تَابِعَةً لَهَا مُعْتَبَرَةً بِهَا، فَوَسَائِلُ الْمُحَرَّمَاتِ وَالْمَعَاصِي فِي كَرَاهَتِهَا وَالْمَنْعِ مِنْهَا بِحَسَبِ إفْضَائِهَا إلَى غَايَاتِهَا وَارْتِبَاطَاتِهَا بِهَا، وَوَسَائِلُ الطَّاعَاتِ وَالْقُرُبَاتِ فِي مَحَبَّتِهَا وَالْإِذْنِ فِيهَا بِحَسَبِ إفْضَائِهَا إلَى غَايَتِهَا؛ فَوَسِيلَةُ الْمَقْصُودِ تَابِعَةٌ لِلْمَقْصُودِ، وَكِلَاهُمَا مَقْصُودٌ، لَكِنَّهُ مَقْصُودٌ قَصْدَ الْغَايَاتِ، وَهِيَ مَقْصُودَةٌ قَصْدَ الْوَسَائِلِ۔(۲۵)

جب مقاصد تک رسائی صرف ایسے اسباب اور راستوں کے ذریعے ممکن ہو جو ان تک پہنچاتے ہوں، تو ان کے راستے اور اسباب بھی انہی کے تابع ہوتے ہیں اور انہی کے اعتبار سے ان کا حکم متعین ہوتاہے۔ چنانچہ حرام امور اور گناہوں کے وسائل بھی اپنی کراہت اور ممانعت میں اسی درجے کے ہوتے ہیں جس درجے وہ اپنے مقاصدِ حرام تک پہنچانے والے اور ان سے وابستہ ہوں۔ اسی طرح طاعات اور قربات کے وسائل بھی اپنی محبوبیت اور جواز میں اسی قدر ہوتے ہیں جس قدر وہ اپنے مطلوبہ مقصد تک پہنچانے والے ہوں،لہٰذا مقصد تک پہنچانے والا وسیلہ، خود مقصد کے تابع ہوتا ہے، اور دونوں ہی مقصود ہوتے ہیں؛البتہ مقصد اصل غایت کے طور پر مطلوب ہوتا ہے، جبکہ وسیلہ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے مطلوب ہوتا ہے۔

دکتورعبداللہ عوید اس قسم کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وحكم هذا النوع انه من باب الوسائل فهو كالأداۃ  في يد البشر فقد قرر الفقهاء قاعدۃ في باب الوسائل ان حكمها ياخذ حكم مقاصدها فما كان مقصوده واجبا فوسيلته واجبا مثل روبوتات تفجير الألغام وماكان مقصوده محرما فوسيلته محرما مثل تقنيۃ التزييف العميق في تلفيق التهم للابرياء وماكان مقصوده مندوبا فوسيلته مندوبا وما كان مقصوده مكروها فوسيلته مكروهۃ وما كان مقصوده مباحا فوسيلته مباحۃ مثل استخدام المكنسۃ الآليۃ الذكيۃ۔(۲۶)

اس قسم کی مصنوعی ذہانت کا حکم یہ ہے کہ اسے وسائل کے باب میں شمار کیا جائے گا، کیونکہ یہ انسان کے ہاتھ میں ایک آلے کی حیثیت رکھتی ہے۔ فقہاء نے وسائل کے بارے میں یہ اصول بیان کیا ہے کہ وسائل کا حکم اپنے مقاصد کے تابع ہوتا ہے۔لہٰذا جس چیز کا مقصد واجب ہو، اس کا ذریعہ بھی واجب ہوگا، جیسے بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والے روبوٹس،اور جس چیز کا مقصد حرام ہو، اس کا ذریعہ بھی حرام ہوگا، جیسے بے گناہ لوگوں پر جھوٹے الزامات لگانے کے لیے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال ۔ اسی طرح جس چیز کا مقصد مستحب ہو، اس کا ذریعہ بھی مستحب ہوگا۔اور جس چیز کا مقصد مکروہ ہو،اس کا ذریعہ بھی مکروہ ہوگا۔اور جس چیز کا مقصد مباح ہو، اس کا ذریعہ بھی مباح ہوگا، جیسے خودکار صفائی مشین (اسمارٹ ویکیوم کلینر) کا استعمال۔

خودمختارمصنوعی ذہانت کاحکم

مصنوعی ذہانت کی وہ قسم جوخودمختارہو،یعنی جس میں انسان کادخل بالکل نہ ہو،اس قسم کی دونوعتیں ہوسکتی ہیں:

پہلی نوعیت :ایسی خودمختارمصنوعی ذہانت جوایسے میدانوں میں کام کرے جہاں تکلیف شرعی کی ضرورت نہیں ہے،مثلا طب،تعلیم،صنعت،عسکری میدان۔

اس نوعیت میں چونکہ مصنوعی ذہانت اپنی مہارت اور درستگی ثابت کرچکاہوتاہے،اوراس کاکام ایسے میدان سے متعلق ہوتاہے جس میں شرعی تکلیف کی ضرورت نہیں ہے،اس لئے اس نوعیت کوبھی آلہ ووسیلہ کے درجہ میں  رکھا جاناچاہئے،لہذااگرمصنوعی ذہانت کو بنانے والے نے اگرکسی جائزکام کے لئے بنایاہے تووہ جائزہوگا،اورکسی ناجائزمقصد کے لئے تیارکیاہے تووہ ناجائزہوگا۔

دوسری نوعیت:

خودمختارمصنوعی ذہانت کااستعمال ان میدانوں میں بھی کیاجاسکتاہے جہاں تکلیف شرعی کی ضرورت ہوتی ہے،مثلا اذان،امامت،ذبح،فتوی وغیرہ،اس صورت کاشرعی حکم کیاہوگا؟اس مسئلہ کو درج ذیل مثالوں کی روشنی میں سمجھاجاسکتاہے:

الف:فقہاء نے اذان کے باب میںلکھاہے کہ موذن کے لئےمسلمان ہونااور مردہوناشرط ہے،اسی بنیاد پر ٹیپ ریکارڈ سے اذان دینادرست نہیں ہے، مصنوعی ذہانت میں بھی یہ شرائط نہیں پاجاتی ہیں،اس لئے مصنوعی ذہانت کے ذریعہ اذان دینامعتبرنہیں ہوگا۔

ب:امامت کے مسئلہ میں بھی فقہاء کااتفاق ہے کہ امام کامسلمان ہوناضروری ہے،اسی بنیاد پر ریڈیو،ٹیلی ویژن کے ذریعہ امامت درست نہیں ہوتی ہے،مصنوعی ذہانت میںبھی یہ شرط نہیں پائی جاتی ہے،اس لئے مصنوعی ذہانت کے ذریعہ امامت نہیں ہوسکتی ہے۔

ج:جمعہ کے خطبہ میں یہی حکم ہوگا۔

د۔قضاء،گواہی،اورذبح کے لئے بھی مسلمان کاہوناشرط ہے،اس لئے یہ اعمال مصنوعی ذہانت کے ذریعہ نہیں انجام دئے جاسکتے ہیں۔

ہ۔مصنوعی ذہانت فتوی دسے سکتاہے ہے یانہیں؟یہاںفتوی سے مراد دوسرے مفتیان کرام کے فتاوی کو نقل کرنانہیں ہے بلکہ نئے حالات وواقعات پر احکام شرع کو منطبق کرناہے،جس طرح فقہاء کرتے ہیں،اس مسئلہ میں معاصرعلماء کی رائے دونوں طرح کی ہے:

بعض علماء اس کو حرام کہتے ہیں(۲۷ )،موتمرالدوحۃ العاشرللمال نے اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔ (۲۸)

ان حضرات کے دلائل اس طرح ہیں:

۱۔فاسئلوااہل الذکر ان کتنم لاتعلمون۔(۲۹)

۲۔فتوی کے لئے مفتی کامسلمان ہوناضروری ہے،اس بارے میں فقہاء کااتفاق ہے،امام نووی مفتی کے لئے مطلوبہ شرائط کی تفصیل بیان کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:

شرط المفتى كونه مكلفا مسلما ثقة مأمونا متنزها عن أسباب الفسق وخوارم المرؤة فَقِيهَ النَّفْسِ سَلِيمَ الذِّهْنِ رَصِينَ الْفِكْرِ صَحِيحَ التَّصَرُّفِ وَالِاسْتِنْبَاطِ مُتَيَقِّظًا سَوَاءٌ فِيهِ الْحُرُّ وَالْعَبْدُ وَالْمَرْأَةُ وَالْأَعْمَى وَالْأَخْرَسُ إذَا كَتَبَ أَوْ فُهِمَتْ اشارته۔(۳۰)

مفتی کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ مکلف ہو، مسلمان ہو، ثقہ ہو، امانت دارہو، فسق کے اسباب اور خلافِ مروّت امور سے پاک ہو، فقیہ النفس ہو، درست ذہن کا مالک ہو، پختہ فکر رکھتا ہو، صحیح تصرف اور استنباط کی صلاحیت رکھتا ہو، اور بیدار و ہوشیار ہو۔اور اس معاملے میں آزاد اور غلام، عورت، نابینا، اور گونگا سب برابر ہیں، بشرطیکہ وہ لکھ سکے یا اس کے اشارے کو سمجھ لیا جائے۔

اکثر فقہاء نے یہ بات لکھی ہے کہ عام آدمی کامذہب مفتی کافتوی ہوتاہے،علامہ شامی اس مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے مزیدلکھتے ہیں:

وفي النِّهَايَةِ وَيُشْتَرَطُ ‌أَنْ ‌يَكُونَ ‌الْمُفْتِي مِمَّنْ يُؤْخَذُ مِنْهُ الْفِقْهُ وَيُعْتَمَدُ عَلَى فَتْوَاهُ فِي الْبَلْدَةِ وَحِينَئِذٍ تَصِيرُ فَتْوَاهُ شُبْهَةً وَلَا مُعْتَبَرَ بِغَيْرِهِ۔(۳۱)

النہایہ میں ہے :مفتی کے لئے یہ شرط بھی لگائی گئی ہے کہ وہ ایسا شخص ہو جس سے فقہ حاصل کی جاتی ہو اور شہر میں اس کے فتویٰ پر اعتماد کیا جاتا ہو۔ اس صورت میں اس کے خلاف کسی دوسرے کافتوی معتبر نہیں سمجھاجائے گا ۔

جبکہ بعض معاصرعلماء بعض قیود وشرائط کے ساتھ اس کے جوازکے قائل ہیں ۔(۳۲)

ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ فتوی دئے جانے کے سلسلے میں ممانعت کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے،بشرطیکہ فتوی صحیح ہو،کیونکہ اصل مقصود فتوی کاصحیح ہونااورپیش آمدہ مسئلہ میں اللہ کے حکم کی صحیح تطبیق ہے ۔ (۳۳)

ان حضرات کے دوسری دلیل یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت سے فتوی لئے جانے کو فقہی کتابوں سے فتوی حاصل کرنے پر قیاس کیاجاسکتاہے۔(۳۴)

اس مسئلہ میں قائلین اور مانعین دونوں کے دلائل پر غورکیاجائے تومانعین کے دلائل کی قوت اور قائلین کے دلائل کاضعف واضح طورپرنظرآتاہے۔

معاصرعلماء میں جومصنوعی ذہانت سے فتوی کے جوازکے قائل ہیں،ان کے نزدیک جوازکے لئے درج ذیل شرائط کی قیدرکھی ہے:

۱۔مصنوعی ذہانت کے پروگرام میں معلومات اور مواد داخل کرنے والے افراد شریعت اور ٹیکنالوجی دونوں میدانوں کے ماہرہوں۔

۲۔اس پروگرام میں ایسے مسائل شامل کئے گئے ہوں جوزمانہ،عرف اور نیت کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔

۳۔اس مقصد کے لئے بنایاجانے والاپروگرام فنی لحاظ سے اعلی معیارکاہو۔

۴۔اس سوفٹ یاپروگرام سے حاصل ہونے والے نتائج اوراحکام کی درستگی اور صحت کو اچھی طرح چانچ لیاگیاہو۔

۵۔اس پروگروم کواستعمال کرنے والا اس کے صحیح استعمال سے اچھی طرح واقف ہو۔(۳۵)

مصنوعی ذہانت سے متعلق فقہی اکیڈمیوں کے فیصلے

مصنوعی ذہانت سے استفادہ کے مسئلہ کواب صرف چنداداروں نے بحث وتحقیق کاموضوع بنایاہے،جن میں انٹرنیشل فقہ اکیڈمی جدہ،الموتمرالدولی السادس للمنظمۃ الاسلامیۃ للعلوم الطبیۃ،موتمرالدوحۃ الحادی عشر للمال الاسلامی، دارالافتاءمصر،المنظمۃ الاسلامیۃ للتربیۃ والعلوم والثقافۃ،بیت المشورۃ للاستشارات المالیۃ،اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاشامل ہیں۔

انٹرنیشل فقہ اکیڈمی جدہ، نے اپنے ۲۶ویں فقہی سمینار منعقدہ دوحہ قطر،۴۔۸مئی ۲۰۲۵؁ میں بحث اور اجتماعی غوروخوض کے لئے منتخب کیا،اس اکیڈمی کی طرف سے منظورشدہ تجاویزاس طرح ہیں:

اول:مصنوعی ذہانت ایک جدید ٹیکنالوجی ہے، جو ایسے پروگراموں اور مشینوں پر قائم ہے جو انسانی ذہانت کی مشابہت اختیار کرتے ہیں، اور یہ بہت سے فوائد و مصالح کو حاصل کرتی ہے، اگرچہ یہ بعض مفاسد سے خالی بھی نہیں۔

دوم:مصنوعی ذہانت کی تخلیق اور اس کے استعمالات میں اصل حکم اباحت کا ہے، البتہ اس کی تیاری اور استعمال میں درج ذیل ضوابط کا لحاظ ضروری ہے:

۱۔یہ کہ اس کی تخلیق، استعمال، سرمایہ کاری اور اس کے نتائج و اثرات کا مقصد مشروع اور جائز ہو۔

۲۔یہ کہ اس کے ذریعے مصلحت کا حصول اور فساد و خرابی کا ازالہ مقصود ہو۔

۳۔عقائد، ادیان اور دینی شعائر و مقدسات کے ساتھ کسی قسم کی بے ادبی یا توہین نہ کی جائے۔

۴۔معلومات کے تحفظ اور عام و خاص حقوق و آزادیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

۵۔یہ کہ اس میں کوئی ایسی چیز شامل نہ ہو جو فرد، معاشرہ یا ریاستی امن کے لیے خطرہ بنے۔

۶۔استعمال کے وقت دیانت، مستند توثیق اور شفافیت کی پابندی کی جائے۔

مجلس درج ذیل امور کی سفارش کرتی ہے:

مصنوعی ذہانت کو قانونی و اعتباری شخصیت دینے کے حکم و حیثیت پر مزید علمی تحقیق کی جائے۔

مصنوعی ذہانت، اس کی نئی پیش رفتوں اور اس کے اخلاقی پہلوؤں پر خصوصی سیمینار اور علمی نشستیں منعقد کی جائیں۔(۳۶)

اسلامک فقہ اکیڈمی کافیصلہ

اسلامی فقہ اکیڈمی کے ۳۳ویں فقہی سمینارمیں مصنوعی ذہانت کاموضوع زیربحث آیا،شرکاء کے اتفاق رائے سے اس موضوع پر جوتجاویزمنظورکی گئیں وہ اس طرح ہیں:

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) جدید ایجادات میں سے ہے اور ابھی ارتقائی مراحل میں ہے،یہ کمپیوٹر سائنس کی ایک شاخ ہے، جس کے ذریعہ نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ایسی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں، جن کے لئے انسان کو کافی سوچنا اور تحقیق کرنا ہوتا ہے، جدید ایجادات کے سلسلہ میں اسلام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جو چیز شریعت کے خلاف نہ ہو اور انسان کے لئے مضرت رساںبھی نہ ہو، اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، اور جو چیز شریعت کے خلاف ہو یا انسان کے لئے نقصان دہ ہو اس کا استعمال جائز نہیں، اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے درج ذیل تجاویز منظور کی جاتی ہیں:

۱-       مصنوعی ذہانت کا استعمال فی نفسہ مباح ہے، اگر اسے جائز امور میں استعمال کیا جائے تو کوئی حرج نہیں؛ البتہ شرعی اور قانونی حدود و قیود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

۲-       مصنوعی ذہانت (AI) سے استفادہ کرنے میں درج ذیل شرطوں کا خیال رکھا جائے:

(الف) کسی بھی غلط، فحش اور لایعنی چیز کی اشاعت کے لئے اس کا استعمال نہ ہو۔

(ب) تلبیس وتزویر سے مکمل اجتناب ہو،اور انصاف وسماجی وماحولیاتی فوائد اور انسانی بہبود وترقی میں معاون ہو۔

 (ج) ملحدانہ مواد داخل (Feed) نہ کیا جائے۔

 (د) قتل و قتال اور فساد کا باعث نہ ہو۔

 (ہ) دیانت داری، رازداری کے خلاف نہ ہو۔

۳-اے آئی پر موجود معلومات مشترکہ علمی سرمایہ ہے۔ اس سے استفادہ کرتے ہوئے علمی لیاقت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے میں اے آئی مثلاًChat GPT سے تیار کردہ تحریر اور کتاب پر بہ حیثیت مرتب اپنا نام درج کرنے کی گنجائش ہے؛ نیز اگر کوئی اقتباس بعینہ اس سے نقل کیا گیا ہو تو اس کا حوالہ دینا اور ان معلومات کا حوالہ مذکور ہو تو اس کا تذکرہ کردینا ضروری ہے؛ البتہ اہل علم کو چاہئے کہ خاص طور پر دینی موضوعات پر لکھتے وقت صرف اس پر اعتماد نہ کریں بلکہ اصل مصادر سے رجوع کریں۔

۴-اذان صرف اعلان نہیں؛ بلکہ عبادت بھی ہے اور مشین عبادت کی اہل نہیں؛ اس لئے اذان کے لئے اے آئی کا استعمال جائز نہیں۔

۵-      اے آئی کے ذریعہ فون پر ایک شخص کی اپنی آواز میں اس کی نہ کہی ہوئی بات بھی بولی جاسکتی ہے، اور اسی طرح آڈیو اور ویڈیو میں ایڈیٹنگ بھی کی جاسکتی ہے، لہٰذا فون کی آواز اور ویڈیو ریکارڈنگ کو قرینۂ ظنیہ کے طور پر مانا جائے گا اور اسی کے مطابق احکام مرتب ہوںگے۔

۶-       اگر اساتذہ و علمی کام کرنے والے اور ملازمت پیشہ افراد اے آئی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا فریضہ انجام دیں تو بھی اجرت کے مستحق ہوں گے؛ البتہ اگر اے آئی سے استفادہ نہ کرنے کی شرط لگا دی گئی ہو تو اس سے اجتناب لازم ہوگا۔

مصنوعی ذہانت سے متعلق اخلاقیات

مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق مختلف علمی اداروںکی جانب سے اخلاقیات کی تعیین کی گئی ہے،ان اخلاقیات میں چنداہم اس طرح ہیں:

پہلا اوربنیادی ضابطہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کا مقصد جائز ہو، یہ نظام شریعت کے مخالف نہ ہوں۔

دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے نفع حاصل ہو اور ضرر دور ہو؛ کیونکہ یہ مسلم اصول ہے کہ شریعت منافع کے حصول اور ان کی تکمیل، اور نقصانات کو دور کرنے اور کم کرنے کے لیے آئی ہے۔

تیسرا ضابطہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کی کیفیت، گہرائی، سلامتی اور تاثیر کی جانچ کی جائے۔ لہٰذا اس بات کی تحقیق ضروری ہے کہ یہ نظام بغیر کسی خرابی کے صحیح کارکردگی انجام دے رہاہے یانہیں، نیز عملی طور پر یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ اس میں ایسی خامیاں موجود نہ ہوں جو اسے ہیکنگ اور دراندازی کے خطرے سے دوچار کردیں۔

چوتھا ضابطہ یہ ہے کہ اس نظام میں ڈیٹا داخل کرنے والا شخص اپنے فن کاماہر(متخصص) اور صاحبِ علم ہو۔

پانچواں ضابطہ غیر جانب داری اور تعصب سے پاک ہونا ہے، یعنی مصنوعی ذہانت کی خدمات سب کے لیے یکساں طور پر فراہم کی جائیں۔(ملخص از الذکاء الاصطناعی :حقیقتہ واحکامہ الفقہیۃ،ص:۵۲۲)

مختلف عالمی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اخلاقیات کی تعیین کی گئی ہیں،مثلا یونیسکو،یورپی یونین،آئیسیسکووغیرہ،ان اداروںنے عام طورسے انسانی حقوق، امانت، شفافیت، انسانی نگرانی اور امن عامہ پر زوردیاہے۔(۳۷)

مراجع:

۱۔الذکاء الاصطناعی:حقیقتہ واحکامہ الفقہیۃ،دکتورعبداللہ عویدمحمد الرشیدی،مشمولہ مجلۃ الجمعیۃ الفقہیۃ السعودیۃ، شمارہ نمبر:۷۳

۲۔العربیۃ والذکاء الاصطناعی،دکتور معتزباللہ السعیدوآخرون،مرکزالملک عبداللہ بن عبدالعزیز الدولی لخدمۃ اللغۃ العربیۃ،۲۰۱۹ء

۳۔تقینیا ت الذکاء الاصطناعی بین القدرات البشریۃ والمسئولیۃ الاخلاقیۃ، دکتور العبد بلالی،مشمولہ ملتقی الذکاء الاصطناعی وتطبیقاتہ فی العلوم الاسلامیۃ،کلیۃ العلوم الاسلامیۃ ،جامعۃ الوادی الجزائز،نومبر ۲۰۲۳ء

۴۔الذکاء الاصطناعی والنظم الخبیرۃ،جہادعفیفی،ط:دارامجد للنشروالتوزیع ،عمان اردن،۲۰۱۵ء

۵۔الذکاء الاصطناعی وتعلم الآلۃ،نرمین مجدی،صندوق النقد العربی،ابوظبی ۲۰۲۰ء

۶۔احکام تطبیقات الذکاء الاصطناعی فی القضاء،دکتوراروی عبدالرحمن الجلعود،ط:الجمعیۃ العلمیۃ القضائیۃ السعودیۃ ،۱۴۴۱ھ

۷۔احکام تطبیقات الذکاء الاصطناعی المتعلۃ بالجنایۃ،فاطمۃ عبدالعزیزالرشید،پی ای ڈی کامقالہ،برائے جامعۃ الملک سعود،کلیۃ التربیۃ،ریاض:۱۴۴۲ھ

۸۔الاسس الاسلامیۃ لاخلاقیات الذکاء الاصطناعی ،طلال عقیل الخیری،مجلۃ جامعۃ تبوک للعلوم الانسانیۃ والاجتماعیۃ ،ج۱،شمارہ:۴،دسمبر۲۰۲۱ء

۹۔الذکاء الاصنطاعی :مفہومہ وتطبیقاتہ، عبدالعزیزقاسم محارب،مجلۃ المال والتجارۃ،نادی التجارۃ، شمارہ: ۶۵۲، ۲۰۲۳؁

۱۰۔الروبوتات المستقلۃ الآلات المزدوجۃ باجہزۃ الاحساس الاصطناعی،دراسۃ فقہیۃ مقارنۃ،دکتورفہد سریع النغیمشی،مجلۃ الجمعیۃ الفقہیۃ السعودیۃ ،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،شمارہ:۶۲،۲۰۲۳ء؁

۱۱۔رویۃ مقاصدیۃ فی اخطاروآفاق الذکاء الاصطناعی وتطبیقاتہ، دکتور عبدالنوربریبر،مشمولہ ملتقی الذکاء الاصطناعی فی العلوم الاسلامیۃ،مختبرالدراسات الفقہیۃ والقضائیۃ ،کلیۃ العلوم الاسلامیۃ ،جامعۃ الوادی الجزائز،نومبر ۲۰۲۳ء؁

۱۲۔مقالہ:مخاطرواضرارتطبیقات الذکاء الاصطناعی واثرہافی تحدیدالمسئولیۃ الشرعیۃ والقانونیۃ، دکتور بوبکر مصطفاوی،مشمولہ ملتقی الذکاء الاصطناعی فی العلوم الاسلامیۃ،جامعۃ الوادی الجزائز،نومبر ۲۰۲۳ء؁

۱۳۔مقالہ :مخاطرالذکاء الاصطناعی من منظورمقاصدالشریعۃ الاسلامیۃ الضروریۃ، دکتور الطاہر تامہ، دکتور خریف زتون،مشمولہ ملتقی الذکاء الاصطناعی فی العلوم الاسلامیۃ،جامعۃ الوادی الجزائز،نومبر ۲۰۲۳ء؁

۱۴۔توظیف الذکاء الاصطناعی فی استنباط الاحکام والفتاوی من منظورمقاصدی تاصیلی،دکتورعبداللہ الحبجر،مشمولہ ملتقی الذکاء الصناعی وتطبیقاتہ فی العلوم الاسلامیۃ،جامعۃ الوادی الجزائز،نومبر ۲۰۲۳ء؁

۱۵۔مشروعیۃ الافتاء عبرتقنیۃ الذکاء الاصطناعی ، دکتوراحمد الزیدی،مشمولہ موتمرالدوحۃ العاشرللمال الاسلامی،فروری ۲۰۲۴ء؁

۱۶۔الذکاء الاصطناعی واثرہ فی صناعۃ الفتوی،دکتورعمرابراہیم المحمید،مجلۃ الجمعیۃ الفقہیۃ السعودیۃ ،جامعۃ الامام محمد بن سعودالاسلامیۃ،شمارہ:۵۷،۲۰۲۲ء؁

۱۷۔صناعۃ الفتوی عن طریق الذکاء الاصطناعی ،دکتورمحمد غرطوط،مشمولہ ملتقی الذکاء الاصطناعی وتطبیقاتہ فی العلوم الاسلامیۃ،،مختبرالدراسات الفقہیۃ والقضائیۃ ،کلیۃ العلوم الاسلامیۃ ،جامعۃ الوادی الجزائز،نومبر ۲۰۲۳ء؁

حواشی:

۱۔التوقیف علی مہمات التعریف،ص:۱۷۱

۲۔حاشیۃ القلیوبی،ج۳،ص:۳۲۹

۳۔مقاییس اللغۃ،ج۳،ص:۳۱۳

۴۔Stanford University, 2007

۵۔Oxford Univercity Press

۶۔العربیۃ والذکاء الاصطناعی،ص:۲۹

۷۔قرارمجمع الفقہ الاسلامی الدولی

۸۔مبادی اخلاقیات الذکاء الاصطناعی،ص:۳

۹۔تفصیل کے لئے دیکھیں:تقنیات الذکاء الاصطلاحی بین القدرات البشریۃ والمسئولیۃ الاخلاقیۃ،ص:۴۱،الذکاء الاصطناعی والنظم الخبیرۃ ،جہادعفیفی،ص:۱۸۲

۱۰۔مصنوعی ذہانت کی یہ اقسام کمپوٹرکی مشہور کمپنی IBMکی ویب سائٹ سے اخذ کی گئی ہیں،بعض دیگرمصنفین نے ان تینوں اقسام کے نام الگ الگ بھی بتائے ہیں،مثلا دکتورعبداللہ عویدکے مطابق پہلی قسم الذکاء الاصطناعی ضیق المجال ،دوسری قسم کو الذکاء الاصطناعی الفائق،اور تیسری قسم کو الذکاء الاصطناعی الخارق سے تعبیر کیاہے۔(الذکاء الاصطناعی :حقیقتہ واحکامہ الفقہیۃ،مشمولہ مجلۃ الجمعیۃ الفقہیۃ السعودیۃ، ص: ۴۹۷)

۱۱۔الذکاء الاصطناعی وتعلم الآلۃ،ازنرمین مجدی، ص:۸

۱۲۔تفصیل کے لئے دیکھئے: الذکاء الاصطناعی وتعلم الآلۃ،ازنرمین مجدی،ص:۸،احکام تطبیقات الذکاء الاصطناعی فی القضاء،دکتوراروی جلعود،ص:۴۷،احکام تطبیقات الذکاء الاصطناعی المتعلۃ بالجنایۃ،فاطمۃ الرشید، ص:۴۵، الاسس الاسلامیۃ لاخلاقیات الذکاء الاصطناعی ،طلال الخیری، ص:۱۰،الذکاء الاصنطاعی :مفہومہ وتطبیقاتہ، عبدالعزیز محارب، ص:۱۱،الروبوتات المستقلۃ ،فہد النغیمشی، ص:۱۵

۱۳۔الذکاء االاصطناعی :حقیقہ واحکامہ الفقہیۃ،ص:۵۰۵،التقنیۃ المالیہ ومستقبل صناعۃ المالیۃ ، دکتور معتز ابوجیب، ص:۴

۱۴۔الذکاء االاصطناعی :حقیقہ واحکامہ الفقہیۃ،ص:۵۰۵،الروبوتات المستقلۃ ، فہد النغیمشی، ص: ۱۵

۱۵۔الذکاء االاصطناعی :حقیقہ واحکامہ الفقہیۃ،ص:۵۰۷

۱۶۔تفصیل کے لئے دیکھئے:الذکاء االاصطناعی :حقیقہ واحکامہ الفقہیۃ،ص:۴۹۹،الذکاء الاصطناعی وتعلم الآلۃ،ازنرمین مجدی،ص:۱۹

۱۷۔تفصیل کے لئے دیکھئے:مقالہ:رویۃ مقصدیۃ فی اخطاروآفاق الاذکاء الاصطناعی وتطبیقاتیہ، دکتور عبدالنوربریبر، مشمولہ ملتقی الذکاء الاصطناعی فی العلوم الاسلامیۃ،ص:۶۱،مقالہ:مخاظرواضرارتطبیقات الذکاء الاصطناعی واثرہافی تحدیدالمسئولیۃ الشرعیۃ والقانونیۃ ، دکتور ابوبکر مصطفاوی،مشمولہ ملتقی الذکاء الاصطناعی فی العلوم الاسلامیۃ ص:۲۹۶،مقالہ :مخاطرالذکاء الاصطناعی من منظورمقاصدالشریعۃ الاسلامیۃ الضروریۃ، دکتور الطاہر تامہ، دکتور خریف زتون،مشمولہ ملتقی الذکاء الاصطناعی فی العلوم الاسلامیۃ،ص:۵۸۴

۱۸۔www.ibm.com/sa-ar/think/insights/10-ai-dangers-and-risks-and-how-to-manage-them

۱۹۔سورہ جاثیۃ:۱۳

۲۰۔صحیح البخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب مایکرہ من کثرۃ السوال وتکلف مالا یعنیہ،حدیث نمبر:۷۲۸۹

۲۱۔سنن ابی دائود،کتاب الاطعمۃ،باب مالم یذکر تحریمہ،حدیث نمبر:۳۸۰۰

۲۲۔الاشباہ والنظائر،ص:۵۶

۲۳۔توظیف الذکاء الاصطناعی فی استنباط الاحکام والفتاوی من منظورمقاصدی تاصیلی،دکتورعبداللہ الحبجر،مشمولہ ملتقی الذکاء الصناعی وتطبیقاتہ فی العلوم الاسلامیۃ،ص:۱۳۳

۲۴۔الذکاء الاصطناعی :حقیقتہ وواحکامہ الفقہیۃ،ص:۵۱۱

۲۵۔اعلام الموقعین،ج۳،ص:۱۰۹

۲۶۔الذکاء الاصطناعی :حقیقتہ وواحکامہ الفقہیۃ،ص:۵۱۲

۲۷۔الذکاء الاصطناعی واثرہ فی صناعۃ الفتوی،دکتورعمرالمحیمید،۸۴،صناعۃ الفتوی عن طریق الذکاء الاصطناعی ،دکتورمحمد غرطوط،مشمولہ ملتقی الذکاء الاصطناعی وتطبیقاتہ فی العلوم الاسلامیۃ، ص:۲۹۲

۲۸۔مشروعیۃ الافتاء عبرتقنیۃ الذکاء الاصطناعی ، دکتوراحمد الزبدی،مشمولہ موتمرالدوحۃ العاشرللمال الاسلامی،ص:۳۰

۲۹۔نحل:۴۳

۳۰۔المجموع شرح المہذب، ج۱، ص:۴۱

۳۱۔ردالمحتار،ج۲،ص:۴۱۱

۳۲۔الذکاء الاصطناعی واثرہ فی صناعۃ الفتوی،دکتورعمرالمحیمید،۸۴،صناعۃ الفتوی عن طریق الذکاء الاصطناعی ،دکتورمحمد غرطوط،مشمولہ ملتقی الذکاء الاصطناعی وتطبیقاتہ فی العلوم الاسلامیۃ،ص:۲۹۲

۳۳۔الذکاء الاصطناعی واثرہ فی صناعۃ الفتوی،دکتورعمرالمحیمید،۸۴،الذکاء الاصطناعی :حقیقتہ واحکامہ الفقہیۃ،ص:۵۱۶

۳۴۔الذکاء الاصطناعی واثرہ فی صناعۃ الفتوی،دکتورعمرالمحیمید،۸۴،الذکاء الاصناعی :حقیقتہ واحکامہ الفقہیۃ،ص:۵۱۶

۳۵۔الذکاء الاصناعی : حقیقتہ واحکامہ الفقہیۃ،ص:۵۱۶

۳۶۔)https://iifa-aifi.org/ar/56025.html?utm_source=chatgpt.com(

۳۷۔تفصیلات کے لئے ان اداروں کی ویب سائٹ دیکھی جاتی ہے۔

Tags

Share this post: